باصرسلطان کاظمی کی غزلیں


باصر Abstract کی تفصیل میں زیادہ نہیں جاتے مگر بیان میں کوئی ایسی منطق یا کیفیت ضرور شامل کردیتے ہیں جہاں آدمی چونک جائے اور یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ یہ بات پہلی بار ہمارے سامنے آرہی ہے۔  یہاں مناظر فطرت اور مظاہر قدرت کی شناخت اور ان کا زندگی نامہ کچھ اس انداز سے مرتب ہوا ہے کہ باصر کاظمی کی ریاضت اور ذہن کی دراکی کے ثبوت اپنے آپ ملنے لگتے ہیں۔  ذیل کے اشعار اس کے لیے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں :

چاندنی چھوڑ گئی تھی خوشبو

دھوپ نے رنگ بھرا پھولوں میں

افق کی آنکھ میں پھیلی ہوئی ہے لالی سی

یہ آسمان کہاں ساری رات جاگا ہے

بلا رہا ہے وہ خوابوں کے چاند سے مجھ کو

ردائے تیرگی ہٹ ’سامنے سے رستا دے

غم برگد کا گھنا درخت

خوشیاں ننھے ننھے پھول

پھر آج زمین کے ستارے

مہمان ہو ئے ہیں چاندنی کے

تو اور آئنے میں ترا عکس رو برو

نظارہ ایک وقت میں خورشید و ماہ کا

پھول خوشبو سے بھر گئے باصر

چاند چمکا ہے رات بھر پورا

گزر نسیم سحر اس چمن سے آہستہ

کہ پتا پتا بہاروں کے دل کا ٹکڑا ہے

خیال کی انجانی دنیاؤں کی سیر کرنے والے شاعر سے کیسے یہ ممکن ہوگا کہ وہ زندگی کے رومانی پہلوؤں سے گریز کا انداز اختیار کرے۔  باصر کی شاعری کے غیر رومانی آہنگ کو پہچاننے کے لیے ہم نے گذشتہ صفحات میں توجہ کی ہے مگر ایک مکمل شاعر زندگی کے اس پہلو سے کیوں کر علاحدگی رکھ سکتا ہے۔  باصر کی غزلوں میں عشق اور رومان کے تجربات ان کے مختلف اسلوب کا حصہ بن کر بڑے سلیقے کے ساتھ ہماری توجہ میں آتے ہیں۔  رومان کی اس کیفیت میں باصر کی انفرادیت تو جھلکتی ہی ہے مگر کئی بار ناصر کاظمی کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں مگر اس پر وہ اکتفا نہیں کرتے۔

اس میں کلاسیکی مفاہیم بھی شامل ہیں اور بالکل نئے اور انوکھے کیف بھی۔ زندگی کے مختلف اور تہذیب و ثقافت کے جن اجنبی ذائقوں سے باصر سلطان کاظمی کی نئی بود و باش عبارت ہوئی، اس سے بیان کے دوچار اور دریچے بھی وا ہوئے۔  باصر کے رومانی اور عاشقانہ اشعار کو پڑھتے ہوئے ان پر بہت مشکل سے روایتی ٹھپا لگایا جا سکتا ہے۔  بہ ظاہر غیر رومانی منطق کے سہارے چلنے والے اس شاعر کے جسم و جان میں ایک خوب خوب رومانی زندگی اپنے جلوے لٹاتی رہتی ہے، اسے جاننے اور سمجھنے کے لیے ذیل کے اشعار ہماری توجہ کا مرکز بنیں تو لطف آسکتا ہے :

نئے ساتھیوں کی دھن میں تری دوستی کو چھوڑا

کوئی تجھ سا بھی نہ پایا ترے شہر سے نکل کے

ہم ہی اسے آواز نہ دے پائے وگرنہ

اس نے تو بڑے پیار سے دیکھا تھا پلٹ کر

شکوہ کیا نہ ہم نے، پوچھا نہ حال تم نے

ڈرتے رہے ہیں شاید ہم ایک دوسرے سے

اب چاہے در بہ در ہی پھریں ہم تمام عمر

کافی ہے یہ کہ دل میں تمھارے کبھی رہے

ہم ابھی کچھ نہیں کہتے کہ جدائی ہے نئی

بھول جانا تجھے آسان بھی ہے مشکل بھی

گلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی

وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ

ملنے کے جتن کیے تھے جتنے

اسباب وہی جدائی کے تھے

فائدہ یہ ہے بچھڑنے کا کہ دل میں وہ مرے

ہے حسیں اتنا ہی جتنا کہ بچھڑتے ہوئے تھا

رومان کے یہ عام مناظر نہیں کہے جاسکتے۔  تجربات اور مضامین نئے ہیں جن میں نئی تہذیبی فضا اور ثقافت کی مختلف بنیادیں آسانی سے اپنا کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔  اس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ باصر کے یہاں عشق زندگی کے اگلے سفر تک ہمیں نہیں لے جاتا۔ یہ بھی سوچنا غلط ہوگا کہ دیوانگی کی جو بنیادیں مشرق میں ہیں، شاعر اس گہرائی تک مغرب میں رہتے ہوئے کیسے پہنچ سکتا ہے؟ ہمیں یہ غلط فہمی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ پروانہ وار عشق کا راگ مغرب والوں کو کہاں میسر ہے؟ ذیل کے اشعارمیں باصر کی شاعری کے اس رنگ کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے :

شریک سازش دل ایسا کون تھا باصر

تو جس کا نام بھی ہم کو بتا نہیں سکتا

مرے سفر میں کئی منزلیں پڑیں لیکن

تری گلی میں عجب طرح دل دھڑکتا ہے

مجھ کو جلنا ہی تھا تو پھر اے دوست

میں تری رات کا دیا ہوتا

آؤ کہ گن سکوں گا نہ شامیں فراق کی

یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں

ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تل ہم نے بھی

ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے

کسی کی جان گئی دیکھ کر ترا جلوہ

کسی کو حسرت دیدار نے ہلاک کیا

لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں

گویا کہ اس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر

اب دیکھ لو ایک بار ہم کو

پھر دیکھو گے بار بار تصویر

یہ سوچ کر کہ ملے گا ضرور اب کے جواب

نہ جانے لکھے ہیں خط کتنی بار اپنے نام

باصر محبت کے دیوانہ وار حوصلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔  محبت میں جب جینا اور مرنا ایک ہوجائے اور خواب یا حقیقت کا فرق مٹ جائے تو اسے عشق کی معراج مانتے ہیں۔  یہ بات صرف میر اور میر حسن کی شاعری کے لیے مخصوص نہیں۔  یہ بھی نہیں کہ صرف پچھلے عہد میں ایسا ہوا ہے۔  زندگی ہے تو اس کی ہزار شیوگی بھی رہے گی اور جب تب اسے ہم دیکھ پائیں گے۔  باصر کے ذیل کے اشعار میں زندگی کا یہ رنگ اور عشق کا وارفتہ وار ڈوبنا ابھرنا بڑی آسانی سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے :

چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس

پھر کیا ہوا چمن میں، مجھ کو خبر نہیں

یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر

کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں

یا تو مجنوں کی سی وحشت ہی دکھائی ہوتی

زندگی ورنہ قرینے سے بتائی ہوتی

نہ اب ہے شعلہ مرے اختیار میں نہ ہوا

یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے، تو ہی بجھا

یہیں زندگی ساز سے سوز کی آنچ تک پہنچتی ہے۔  باصر ظاہری طور پر باطنی کیفیات میں مبتلا زندگی کا پیکر نہیں معلوم ہوتے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ زندگی کے عاشقانہ طور کر (کو) سنبھالنے کے بعد شاعر اس انسانی سوز تک نہیں پہنچے جس کے بغیر شعر کو ادب عالیہ کا حصہبناناممکن نہیں۔  کائنات، زندگی اور انسان کے کس گیت کے بارے میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ لافانی ہے؟ یہ تو کھلی حقیقت ہی ہے کہ ہمارے سب سے سریلے بول سب سے غمگین کیفیت کی ترجمانی میں خلق ہوئے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10