باصرسلطان کاظمی کی غزلیں


میر، نظیر جیسے شعرا نے اپنی روایت سے یکسر الگ ہو کر اپنے زمانے میں جب شعر بنائے، اس وقت بھی ایسے ہی مسائل پیدا ہوئے ہوں گے، آج جیسا باصر کاظمی کے نئے انداز شعر سے پیدا ہو رہے ہیں۔  ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں جہاں شاعر سہل ممتنع سے آگے بڑھ کر سیدھی نثر پیش کرتا ہے مگر ہم مجبور ہیں کہ انھیں شعر سمجھیں اور ان کیفیات پر نثار ہوں۔  شاعرکی حیثیت سے باصر سلطان کاظمی کا یہ عجیب و غریب اجتہاد ہے :

کم لکھا ہے لیکن جتنا لکھا ہے

جیسا لکھنا چاہا ویسا لکھا ہے

جو کان میں رہ گیا سو پتھر

جو ہاتھ میں آ گیا وہ ہیرا

لڑتے کسی اور بات پر ہیں

غصہ کسی اور بات کا ہے

بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی

ملے اگر چہ بہ ظاہر بنی بنائی جگہ

تو کچھ اپنا خیال کر باصر

اس نے جاتے ہوئے کہا بھی تھا

جو ہاتھ قلم اٹھاتے تھے

یہی ہات وہ بم بناتے ہیں

کسی کو شعلہ خورشید نے جلا ڈالا

کسی کو سا یہ اشجار نے ہلاک کیا

اس چمن کو بنانے والے نے

کیا بنایا تھا، بن گیا کیا ہے

تم ہی بدل جاؤ باصر

کیوں بدلیں دنیا کے اصول

جلرہے ہیں مکان دھڑ دھڑ دھڑ

گولیاں چل رہی ہیں تڑ تڑ تڑ

ایک نئے تہذیبی حلقے میں پہنچ کر اپنی مخصوص روایت سے بے ارادہ ہی سہی فن کار کس طرح الگ ہوتا جا رہا ہے، باصر سلطان کاظمی کی شاعری کے ایک نئے حصے میں یہ بات سامنے آتی ہے جہاں وہ ایک ظریفانہ خو اختیار کرتے ہیں۔  یہ مضمون، اسلوب، محاورات اور کبھی کبھی لطف بیان کے لیے ان کی شاعری میں بکھرا پڑا ہے۔  ہماری شاعری میں سنجیدہ اور ظریفانہ شاعری کے لیے الگ الگ خانے بنے ہوئے ہیں۔  یہاں تک کہ ان شعرا نے بھی اس ضابطے سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جن کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ ظرافت نگار ہیں۔

سودا کی ظرافت ان کی ہجویات سے باہر نہیں اور جب قصیدے کا آپ اہتمام دیکھے ں تو کبھی یہ یاد بھی نہیں آتا کہ یہ شخص اپنے وقت کا سب سے بڑا ظرافت نگار ہے۔  اکبرا لہٰ آبادی کی سنجیدہ شاعری کا ایک مکمل خانہ ہمارے سامنے ہے اور انھیں ایک خاص غزل گو کی طرح سے سمجھنے کوشش کی جاتی ہے۔  غالب کو حالی نے حیوان ظریف کہا مگر دیوان غالب میں غالب کے سو رنگ معلوم ہوں گے مگر کا ہے کو ان کی طبیعت کا ظریفانہ آہنگ ابھر کر توانا حیثیت اختیار کرے۔  مشکل سے دو چار غزلیہ اشعار یا قطعات میں ظریفانہ کیفیت نظر آتی ہے۔  ایسے شعرا جنھوں نے ظریفانہ اور غیر ظریفانہ دونوں طرح کی شاعری کی اور ہر دو جگہ مقدار کے اعتبار سے اچھی خاصی چیزیں پیش کیں مگر جب مجموعہ تیار کرنے کا موقع آیا تو انھیں الگ الگ جلدوں میں پیش کرنے میں ہی انھیں عافیت نظر آئی۔

باصر سلطان کاظمی کے مجموعوں میں غزل کا روایتی سلسلہ چلتے چلتے اچانک کوئی مکمل ظریفانہ شعر اپنے آپ چلا آتا ہے۔  ہر دو چار غزل کے بعد ایسے اشعار الگ سے نظر آتے ہیں۔  کبھی کوئی ایسی ردیف منتخب کر لی جس سے ایک ظریفانہ انداز پیدا ہونے لگتا ہے۔  کبھی شعر میں ایسی منطق ڈالی کہ اپنے آپ پھل جھڑی پیدا ہو جاتی ہے۔  یہ انداز ان کے رومانی اشعار میں بھی قائم رہتا ہے اور اچھے بھلے عاشقانہ لحظوں میں بھی ظریفانہ طور ظاہر ہو جاتا ہے۔

باصر سلطان کاظمی نے اپنے مجموعوں اور کلیات میں کلام کی ترتیب میں خاصا اہتمام کیا ہے۔  غزلیں، نظمیں اور متفرق اشعار کی خانہ بندی کی گئی ہے۔  تاریخوں کا تو یہ حال ہے کہ ایک ایک شعرپراسے درج کیا گیا مگر ایسا شاعر ”بانگ درا“ کی طرح ظریفانہ شاعری کے لیے الگ خانہ نہیں بناتا اور انھیں اپنی فطری جگہ پر ٹھیک اسی طرح رکھتا ہے جس انداز سے ان کا ورود ہوا ہے۔  اپنی روایت سے واضح طور پر گریز کرتے ہوئے اور ظرافت کو اپنی سنجیدہ شاعری میں حل کر کے باصر نے واقعتاً ایک نئے انداز پیش کش کو رواج دینے میں کامیابی پائی ہے۔  یہ ادبی شناخت کے لیے بڑا خطرہ تھا اور اپنی پہچان کے ملیامیٹ ہونے یا شعری سر ماے کے غارت ہو جانے تک کے مسئلے پیدا ہوسکتے تھے مگر شاعر نے پورے اعتبار اوراستحکام کے ساتھ ایک ظریفانہ خوقائم کی اور ایسے ایسے شعر بنائے جن کے سنتے ہی ہم چو نک جاتے ہیں۔  باصر کے چند ایسے اشعار ملاحظہ ہوں :

ہر شخص کی کرتا ہے شکایت جو تو اے شیخ

ایسا نہ ہو پڑ جائے ترا نام شکایت

کہانی قیس کی سننے سے پہلے وہ بولے

مجھے تو لگتا ہے یہ شخص نام سے فارغ

ہم سے باصر کبھی پڑھی نہ گئی

جو ہوئی شامل نصاب کتاب

نہیں ہے سہل کوئی جانشین قیس ملے

پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ

ہر بار تم کو اس کا کہا ماننا پڑے

باصر یہ دوستی تو نہیں نوکری ہوئی

مجنوں سے کہو کٹ چکی اک عمر جنوں میں

باقی کسی معقول طریقے سے گزارے

تجھ سے کرنی ہے اک ضروری بات

عام سی بات ہے، خدا سے ڈر

میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اتنا

سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں

ایک خط لکھ کر سمجھنا فرض پورا ہو گیا

واہ باصر جی تمھارا بھی نہیں کوئی جواب

اس نثری رویے اور ظریفانہ خو کو اپنی شاعری میں اختیار کرنے میں باصر سلطان کاظمی نے جو کامیابی پائی، اس کا واضح سبب مہاجرت اور نئی بستی میں فروکشی کو سمجھنا چاہیے۔ سوال اپنے آپ قائم ہو تا ہے کہ یہ مہجریت نئی نہیں تھی اور یہ سچ ہے کہ باصر سے پہلے بھی بہت سارے فن کاروں نے نئی آبادیوں میں بس کر فکر و فن کے گیسو سنوارے ہیں۔  مگر باصر پر ہی یہ کیفیت کیوں کر طاری ہوئی کہ وہ اردو کی شعری روایت کی درج بالا توسیع میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں باصر کے اکتساب علمی کی طرف ہماراذہن جاتا ہے۔ باصر اردو زبان کے باضابطہ طالب علم نہیں رہے۔  انھوں نے انگریزی شعر و ادب کو مضمون کی حیثیت سے پڑھاہے۔ انگریزی کی تعلیم بھی انھوں نے پاکستان کے اردو انگریزی دانوں تک ہی محدود نہیں رکھی بلکہ مغرب کے چراغوں سے براہ راست فیضان حاصل کر کے انھوں نے اپنی لیاقت بڑھائی۔ اردو کی روایت شعر سے گریز کرنے میں انھیں آسانیاں اس طرح سے حاصل ہو گئیں کہ وہ کلاسیکی انداز میں ارد وکے ہر اصول پر آمنا و صدقنا کہنے کو ضروری نہیں سمجھ سکتے تھے۔

پھر انگریزی زبان اور مغرب کے رواج شعر بھی ان کے لیے نہ اجنبی تھے اور نہ ہی انھیں آزمانے میں کوئی عار محسوس ہو سکتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی رہی ہو گی کہ اردو کی کلاسیکیت سے گریز کر کے مغرب کے نئے اور مختلف رویوں سے اثر لینا ان کے لیے زیادہ موزوں، مناسب اورعین فطری تھا۔ انگریزی یا پورے یوروپی معاشرے میں شاعری کے لیے نام نہاد موسیقیت کو لازم شے کی طرح سے کون مانتا ہے؟ قافیے کے ساتھ ردیفوں نے ہماری شاعری میں موسیقیت کے ٹھوس اوزار شامل کیے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10