باصرسلطان کاظمی کی غزلیں
مقبول عام بحروں کی شناخت کرنے کابھی رواج رہا ہے۔ آزاد نظموں نے آہنگ کی سطح پر بہت سنجیدگی سے موسیقیت کو قائم رکھا۔ نثری نظموں کے لیے متعدد اصطلاحیں گڑھی گئیں اور انھیں اب تک دل سے قبول کرنے کاکوئی خوش دلانہ منظرنامہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں رہتے ہوئے کس شاعر کی یہ مجال کہ وہ نثرکی دھنیں لے کر شعر میں انھیں پیوست کر کے غزل بنالے۔
باصر سلطان کاظمی کو یہ آسانی اس وجہ سے میسر آئی کہ وہ اردو کے روایتی معاشرے سے ذرا دور رہے اور انھوں نے جہاں بود و باش اختیار کر رکھی تھی، اس میں موسیقیت کے اضافی زیوروں کی محتاجی نہیں تھی۔ ان کی ذہنی تربیت بھی پاکستان سے لے کر برطانیہ تک کچھ اس طرح ہوتی چلی گئی جس میں روایت سے گریز کا کوئی خاص خوف نہیں تھا اور نئی معاشرت یا نئے شعری رویوں کی طرف زیادہ فطری اندازمیں اور ہموار طریقے سے انھیں جا نے میں کوئی دشواری نہیں ہوسکتی تھی۔
اسی لیے اس بات کے امکانات پیدا ہوئے کہ وہ اردو کے بہت سارے روایتی اور کلاسیکی لوازم سے نکل کر نئے طلسمات شعر کی تلاش میں سرگرداں ہوں اور خاص طور سے شعر میں نثر کے امکانات یا غزلوں میں ایک ظریفانہ کیفیت کی شمولیت کو آزما کر واقعتا ہمارے شعری سرمائے میں کچھ نئے اور انوکھے اضافوں کی گنجائشیں پیدا کرسکیں۔ انھوں نے اگر ایک مضمون کی حیثیت سے اردو کا مطالعہ کیا ہوتا یا پاکستان یا ہندستان کے اردو معاشرے میں ڈھل گئے ہوتے تو ان کا ایسا ذہن کبھی مرتب نہیں ہو سکتا تھا۔ اس پورے تناظر کو سمجھے بغیر باصر کے ایجاد پسند مزاج کو پہچاننا تقریباً نا ممکن ہے اور اس سے بھی مشکل وہ مرحلہ ہے جب اس انداز کے شعروں کی قدر شناسی میں ہم ان کے کمال یا جادو کو پرانے ادبی رویوں کی رہنمائی میں ہر گزہرگز نہیں سمجھ سکتے۔
اردو کے شعری مزاج میں تو سیع یا نئے رویوں کی شمولیت کے پہلو سے باصر سلطان کاظمی کی شاعری کا ایک خاص رنگ ہمیں مزید متوجہ کرتا ہے۔ انسانی زندگی اور بالخصوص شاعری میں رومانی کیفیات اور عاشقانہ واردات کے لیے پورا دفتر موجود رہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ آدمی کے نازک تر جذبوں کی ترجمانی کے لیے شاعری سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ایسی کیفیت کی وجہ سے غالباً یہ صورت حال قائم ہوئی کہ نزاکت، نرمی اور ملائمیت کوہی شعر کا خاصا سمجھا گیا۔
بعض مضامین کو ادب باہر اس لیے بھی تسلیم کیا گیا کہ ان کا تعلق ان روایتی مضامین سے کم کم تھا۔ یوں توزندگی اور کائنات کو متقابل جفتوں ( Binary Oppositions )میں دیکھنے کا عام طریقہ رہا ہے اور ہماری شاعری نے بھی اکثر و بیشتر زند گی کو اسی طرح پیش کیا۔ غم کے ساتھ خوشی، حیات کے ساتھ موت اور رات کے ساتھ دن پر کون شاعر اعتراض کرے گا اور کون سا ایسا شعری نمونہ ہوگا جس میں زندگی کے یہ متخالف رنگ موجود نہ ہوں مگر جیسے ہی ہماری شاعری کو چہ ¿ عشق میں داخل ہوتی ہے، اس وقت اس کا متخالف جوڑا پیدا ہی نہیں ہوتا۔
رومان کے سامنے غیررومانی ا ندا زفکر یا کیفیت کاداخلہ ہماری شاعری کے لیے غالباً ممنوع ہے۔ ہمارے یہاں رومان کا تقابل سید ہے موت سے ہے۔ باصر سلطان کاظمی کو اردو سے دور معاشرے میں رہنے کی وجہ سے اور دوسری زبانوں کے علمی اور سماجی ماحول میں شیرو شکر ہونے کی وجہ سے زندگی کی یہ کیفیت سمجھ میں آگئی۔ ان کی شاعری میں بار بار غیر رومانی طریقہ کار سے ہمارا واسطہ ہوتا ہے۔ زندگی اور محبت کے سلسلے سے یہ انداز پڑھنے والے کو نہ صرف یہ کہ استعجاب میں ڈالتا ہے بلکہ پڑھنے والے کو زیر لب مسکرانے پر بھی مجبور کر دیتا ہے۔
منطق کی سطح پر کبھی کبھی باصر ایسی باتیں پیش کردیتے ہیں کہ یہ سمجھنا دشوار ہو جاتا ہے کہ یہ شخص شعر و ادب کے کوچے میں آخر کیوں کرآیا؟ زندگی کی ایک غیرجذباتی لے اس طرح سے شاعر کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے کہ ایک لحظے میں رومان کافور ہو جاتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ غور کریں تومحسوس ہوتاہے کہ کس معقول انداز میں یہ باتیں پیش کی گئی ہیں۔ کثیر تہذیبی نئی معاشرت کے بالکل مختلف تجربات میں تپتے ہوئے آدمی میں ہی یہ کیفیت نظر آسکتی ہے۔ یگانہ کے غیر رومانی طریقہ ¿ کار یا آتش کے مردانہ آہنگ یا اینٹی غزل کے کھیل تماشے سے باصر کے اس سرمایہ شعر کا موازنہ کیجیے تو اندھیرے اور اجالے کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ باصر واقعتاً اردو غزل کی روایت میں ان نئے شعروں سے اپنے حصے کا اضافہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے سے چند اشعار ملاحظہ ہوں :
اتنی خوشبو تھی کہ سر دکھنے لگا
مجھ سے بیٹھا نہ گیا پھولوں میں
خون جلایا ساری رات
پائے مٹھی بھر آنسو
مجھ سے ہر بات کی توقع رکھ
آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں
باصر دل ضدی کو تو سمجھانا ہے آخر
نرمی سے نہ مانے تو ذرا ڈانٹ ڈپٹ کر
تھے تیرے پاس قطع تعلق کے سو جواز
ہم نے بھی ترک عشق کسی بات پر کیا
مختصر ہیں وصال کی گھڑیاں
اور لمبی خیال کی گھڑیاں
تم نے ہم کو کیا دیا او ر ہمسے تم کو کیا ملا
مل گئی فرصت کبھی تو یہ بھی کر لیں گے حساب
اٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں
میں نے کہا کہ دل سہی، اس نے کہا دماغ
موج میں آئے تو میٹھا بھی بہت ہے لیکن
طیش میں ہو تو مرا یا ر بہت زہری ہے
درد دل کا بھی کوئی ٹھیک نہیں
خود بہ خود کم زیادہ ہوتا ہے
قیس پر ظلم تو ہوا باصر
پھر بھی ماتم زیادہ ہوتا ہے
میں بھی دنیا میں دل لگاتا ہوں
بھول جا تو بھی آج تک جو ہوا
آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں
تو نہ ملتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے
اتنی جلدی نہ بنا رائے مرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گزارا کم ہے
کھلتے ہی نہیں کسی صورت
وہ ہونٹ بھی سرخ فیتے ہیں
یوں بھی کم تھی اس کے آنے کی امید
اب تو ویسے بھی اندھیرا ہو گیا
اس بحث میں یہ بات روشن ہو گئی کہ باصر سلطان کاظمی نے اپنی شعری شخصیت کی تعمیرو تشکیل میں اپنی مہجریت اور نئی بودوباش کو بنیادی محرک کے طور پر استعمال کیا۔ اگر وطن سے دور نئے وطن میں بسنا ذہن کی تشکیل میں اس قدر اساسی اہمیت کا حامل ہے تو اس کیفیت کو بہ غور ان کے شعروں میں تلاش کرنا لازم معلوم ہوتا ہے۔ باصر کے یہاں یہ مضمون باربار الگ الگ انداز سے ہماری توجہ کھینچتا ہے۔ اس موضوع کے نئے نئے مفاہیم اور بیان کے مختلف زاویے ان کے ا شعارمیں نظر آتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

