باصرسلطان کاظمی کی غزلیں


باصر اپنے عہد کے مسئلوں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے سیاست دانوں کے اعمال تک پہنچتے ہیں۔  دنیا واقعتا ایک سیاسی بساط ہے اور لوگ باگ کی حیثیت شطرنج کے مہروں سے زیادہ نہیں۔  ایوان اقتدار میں چال چلتے ہیں اور پیادہ سے لے کر وزیروں تک موقع بہ موقع اوندھے منھ گرتے ہیں۔  بس شہ کو مات نہیں ہے۔  اقتدار کی طاقت دنیا میں روز بہ روز بڑھتی ہی گئی۔ جمہوریت کی آمدکے باوجودمزاج میں بادشاہت کچھ اس طرح سے رواں دواں ہے کہ عام انسان کی شکست اور اس کے بکھراوکے علاوہ کوئی اور خوش کن بات نظر نہیں آتی۔ باصر شاید اسی لیے اپنی شاعری میں ایوان سیاست پر سخت ضرب لگاتے ہیں۔  وہ زندگی اورکائنات کے ہر موڑ پر گراوٹوں کے اسباب کی تلاش میں اصحاب اقتدار کو بجا طور پر طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔  باصر کے یہاں اس کی مختلف سطحیں ہیں۔  پہلی سطح اصولیات کی ہے۔  چند اشعار اس سلسلے سے ملاحظہ ہوں :

ہو اقلیم شہنشاہی کہ جمہوری ولایت

رعایا کی کبھی ہوتی نہیں سرکار دل سے

اگر محکوم ہی رہنا تھا ہم کو

تو کیا جمہوریت، کیا بادشاہت

بہت بھاگے تھے باصر آمروں سے

ملی دنیا میں ہر جا بادشاہت

اس مرحلے میں ’میر کارواں‘ زیر بحث آتے ہیں۔  اقبال نے یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کے اوصاف پہچانے تھے۔  دوسری جگہ ’خوے دل نوازی‘ کی اصطلاح ظاہر کی۔ اقبال نے کہا کہ اس کے بغیر کوئی کارواں سے ٹوٹا اور کوئی حرم سے ہی بدگماں ہو گیا۔ باصر سلطان کاظمی کے یہاں کوئی مذہبی اصطلاح اکثر و بیشتر نظر نہیں آتی مگر اقبال کی اس اصطلاح کے نئے معنیٰ تلاش کرنے میں وہ گریز نہیں کرتے۔  ان کا تجزیہ بڑا سفاک ہے اوراس میں ہر دل کی آواز پیوست ہو گئی ہے :

رہتا ہے کارواں سے الگ میر کارواں

اے اہل کارواں یہ عجب رہبری ہوئی

جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصر

کچھ ایسے لوگ یہاں میر کارواں بھی رہے

باصر اس نظام کی نا اہلی پر بڑے سلیقے سے اپنی منطقیں پیش کرتے ہیں۔  طنز میں زہر افشانی سے ان کا زیادہ سرو کار نہیں۔  وہ اسی سا دہ انداز میں اپنی نہایت مشکل باتیں بھی پیش کر دیتے ہیں۔  حالات کی بے یقینی اور اس بے یقینی میں جرم کس کا ہے، اس پہلو کو غورو فکر کا موضوع کچھ اس طرح سے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔  ملاحظہ ہوں چند اشعار:

کبھی سزا بھی ملے گی اسے مگر فی الحال

یہی بہت ہے برے کو برا کہا تو گیا

سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب

یارو کہاں کی خوبیاں، کیسی خرابیاں

باغ اک ہم کو ملا تھا مگر اس کو افسوس

ہم نے جی بھر کے بگاڑا ہے، سنوارا کم ہے

آج ہم ٹھیک ہیں مگر یارو

مستقل کون رہ سکا ہے ٹھیک

دیس کی کایا پلٹنے کے لیے

ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت

شاخ زیتون جس کے ہاتھ میں ہے

اصل میں ہے وہی فساد کی جڑ

سیاسی امور پر تحلیل و تجزیہ کا یہ رنگ باصر کی شاعری میں اور بھی کئی انداز سے دیکھنے کو ملتا ہے۔  وہ بڑی محنت اورمحبت سے نئی توجیہات پیش کرتے ہیں۔  کبھی ہم زیر لب مسکراتے ہیں اور کبھی ہماری آنکھیں بھر جاتی ہیں۔  ذیل کے اشعار ملاحظہ کریں جہاں چوتھے شعر تک پہنچتے پہنچتے باصر کہنے کی ایک نئی بات سامنے لے آتے ہیں اور عوام کی عدالت میں یہ سوال اٹھا دیتے ہیں کہ لوگ ادیبوں شاعروں اور مفکر وں کی بھی کبھی سنیں گے یا صرف سیاست دانوں کے چکر میں ہی ہلکان ہوتے رہیں گے۔

وہ جن کو ہونا تھا رخصت بڑی خموشی سے

کیے گئے ہیں بڑی دھوم دھام سے فارغ

گلشن کی فضا میں بھی ہم آزاد کہاں تھے

صیاد سے کرتے جو تہ دام شکایت

ہے اتنا کچھ جہاں دل میں ہمارے ناخداؤں کے

خیال خلق بھی ہوتا اگر خوف خدا ہوتا

کب تک کروگے اہل سیاست پہ اعتبار

یارو کبھی سنو کسی شاعر ادیب کی

باصر اس احتساب میں کسی حصولیابی کے لیے نہیں آئے۔  وہ ذاتی نفع نقصان سے الگ اپنے عہد اور زندگی کے مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔  زندگی سے ان کا معاملہ ایک قناعت پسند اور فقر و فاقہ کو حرز جاں بنائے رکھنے والے انسان کا ہے۔  انھوں نے انسان کے تذ بذب اوراس کی وابستگیوں کو بھی نگاہ میں رکھا مگر آخری طور پر وہ طمع و حرص سے دورایک گو شئہ عافیت ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔  چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :

رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا

مسافروں کی طرح ہم رہے، جہاں بھی رہے

مرا اعمال نامہ مختصر ہے

تہی دستم و لیکن شادمانم

مل گئی دنیا ہی میں ہمیں

باصر سزا جزا کافی

آسائش دنیا کا سامان کچھ ایسا ہے

چھوڑا بھی نہیں جاتا ’ڈھویا بھی نہیں جاتا

باصر سلطان کی شاعری کے موضوعاتی مطالعے میں اگر دوستی دشمنی کا موضوع شامل نہ کیا جائے تو یہ بے انصافی ہوگی کیوں کہ ان کے یہاں عصر حاضر کے تناظر میں اس آفاقی رشتے کی طرح طرح سے جانچ پڑتال ملتی ہے۔  جدید یت کے زمانے میں مظہر امام کا یہ شعر لوگوں کی زبان پر تھا:

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے

یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

سلطان اختر نے بھی اپنے ارد گرد کا جب جائزہ لیا تو یہ شکایت کی:

اس سے ملنے کی بات تھی لیکن

دوستوں نے اچک لیا اتوار

باصر کاظمی نے نئی دنیا کے اس مسئلے کواپنے طور پر دیکھا اور سمجھا ہے اور پھر مسئلے کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔  دوستوں اور دشمنوں کو ایک انداز سے پانے کے عذاب میں آج شاید سب مبتلا ہے ں مگر با صر نے اس اجتماعی تکلیف کو گہرائی سے محسوس کیا اورایسے پر اثر اشعار پیش کیے :

پھر ہمیں جستجو ہوئی اس کی

دشمنی جس کی دوستی جیسی

ویسے تو وہ دوست ہیں سبھی کے

کام آتے ہیں پر کسی کسی کے

کیا بات کرتے ہو دوستی کی

قابل نہیں وہ تو دشمنی کے

دوستی میں تو کوئی شک نہیں، اس کی پر وہ

دوست دشمن کا زیادہ ہے، ہمارا کم ہے

ایک ہی دوست رہ گیا تھا مرا

وہ بھی دشمن سے جا ملا ہے، ٹھیک

دشمن کی نہیں کوئی ضرورت

آپس ہی میں ہم لڑیں مریں گے

میں راہ دیکھتا رہا یاروں کی صبح تک

باصر بھرے بھرائے مرے جام رہ گئے

ایک دشمن کی کمی تھی باصر

وہ بھی اک دوست نے پوری کر دی

دوستی میں دیکھتے ہیں وہ بس اپنا فائدہ

پھول پھل سے ان کو دل چسپی ہے، پودے سے نہیں

ہے دوستی کی طرح دشمنی کا اپنا لطف

حریف بن کے ملے ہو تو یاریوں بھی سہی

باصر کی شاعری کے غیر رومانی اور ظریفانہ انداز و اطوار پر اس مقالے کے آغاز میں جو بحث کی گئی ہے، اس کا ایک پر لطف ذائقہ ان کی شاعری میں استعمال شدہ محاورات اور ضرب الامثال کے ساتھ ساتھ تعداد اور ہندسوں کے استعمال میں نظر آتا ہے۔  ہر بڑے شاعر کے یہاں کلاسیک سے استفادہ کی یہ ایک عمومی صورت ہے مگر باصر سلطان کاظمی نے جس بڑی تعدادمیں انھیں استعمال کیا ہے، اس پہ حیرت ہوتی ہے اور فی زمانہ ایسی مثالیں کم یاب ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10