گُم شدہ منظر


Nighthawks by Edward Hopper 1942

بادل کے نئے فلیٹ کا ڈرائنگ روم اسے بادل کی شخصیت کی طرح صاف و شفاف اور نفیس معلوم ہوا۔ بیگ کو صوفے کے قریب رکھ کر وہ بیٹھ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سر کی پشت پر رکھ دیں اور صوفے پر نیم دراز سا ہوکر آنکھیں بند کرلیں۔ کچھ دیر بعد لاؤنج سے آنے والی کوئی ہلکی آہٹ سن کر اس نے آنکھیں کھول دیں، لیکن دروازے کی طرف دیکھنے کے بجائے اس کی نگاہ کتابوں کے ریک کے اُوپر رکھی اپنے بیٹے کی تصویر پر اٹک گئی۔ وہ کئی لمحے اس تصویر کو دیکھتا رہا اور پھر اُٹھ کر فریم اُٹھا لیا۔ اس کے چہرے پر شفقت کی چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔

 ”بادل گذشتہ دو برسوں میں اور ہینڈ م ہو گیا ہے۔ ’‘ اس نے سوچا اور فریم کو واپس اپنی جگہ پر رکھ کر، قریب رکھا ہوا البم اُٹھا لیا۔ جیسے ہی اس نے البم کھولا، چہرے پر پھیلی ہوئی چاندنی سمٹنے لگی۔ جیسے مسکراتے ہوئے چاند کے سامنے اچانک اُداسی کے بادل چھا گئے ہوں۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے وجود میں اماوس کی تاریک رات اُترنے لگی ہے۔

البم میں اس کی پندرہ برس پرانی تصویر تھی۔ اس کے ساتھ زرینہ بھی بیٹھی تھی۔ زرینہ اس کی سابقہ بیوی تھی، جسے وہ چاندنی کہتا تھا۔ وہی زرینہ، وہی چاندنی، جو اس وقت بھی اس کے قریب تھی، اسی گھر میں موجود تھی لیکن اسے روشنی کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ اس کے وجود میں اماوس کی رات اُتر آئی تھی، ہر طرف دُھند ہی دُھند تھی۔ دل کے نہاں خانوں میں درد کی صدائیں گونجنے لگیں۔

زرینہ نے پانی کی بوتل اور گلاس لاکر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔ اس نے گہری سانس لے کر البم بند کیا اور واپس ریک پر رکھ دیا۔ زرینہ ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئی۔ وہ آہستہ آہستہ صوفے پر بیٹھ گیا اور بوتل کھول کر پانی کے دو گلاس پی گیا۔

 ” آپ چینج کرنا چاہیں تو میں نے باتھ روم میں ٹاول رکھ دیا ہے۔ ’‘ دروازے کی طرف سے زرینہ کی آواز آئی۔ پھر اس کے قدموں کی آہٹ دُور ہوتی چلی گئی۔

وہ باتھ روم میں جاکر، منھ پر دوچار پانی کے چھینٹے مار کر واپس ڈرائنگ روم میں آگیا۔ صوفے پر بیٹھ کر اس نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا ہی تھا کہ زرینہ چائے لے کر آ گئی۔ اس کے سامنے برتن رکھتے ہوئے دھیرے سے بولی: ”آپ اب بھی سگریٹ پیتے ہیں؟ “

وہ سگریٹ کے پیکٹ کی طرف دیکھتے ہوے بولا: ”کوئی روکنے والا ہی نہ رہا تو۔ ۔ ۔ “

اس کا جملہ ابھی مکمل ہی نہیں ہوا تھاکہ زرینہ اُٹھ کر جانے لگی۔ جیسے اس نے بے دھیانی میں غلط سوال کر دیا ہو، جس کا جواب سننے کا اسے حوصلہ نہیں۔

 ”آپ چائے نہیں پیئں گی؟ “ اس نے سر اُٹھا کر زرینہ کی طرف دیکھا۔

 ” میں باہر پی لوں گی۔ ’‘ زرینہ رُکی اور چہرہ گھما کر اس کی طرف دیکھا۔

 ”یہیں بیٹھ کر پیجیے۔ “ اس نے جواب کا انتظار کیا لیکن زرینہ باہر چلی گئی۔ اس نے چائے کے کپ کی طرف ہاتھ بڑھانے کے بجائے سگریٹ سلگایا۔ چند لمحوں کے بعد زرینہ کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔ وہ اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کے چائے کا کپ اُٹھایا۔ دونوں خاموشی سے چائے پیتے رہے۔ صدیوں جیسے طویل لمحات گزر گئے۔ اس نے کپ واپس میز پر رکھتے ہوئے وال کلاک کی طرف دیکھا: ”چھے بجنے والے ہیں۔ ’‘

زرینہ نے کوئی جواب دینے کے بجائے کپ میز پر رکھ دیا۔

 ”کیا بادل آج کل دیر سے گھر آتا ہے؟ “

 ”نہیں، عام طور پر پانچ بجے آ جاتا ہے“ زرینہ نے جواب دیا: ”آج شاید اسے زیادہ کام تھا۔ کَہ کر گیا تھا کہ بینک سے دیر سے نکلے گا۔ ’‘

 ”بینک کی نوکری بھی مصیبت ہے“ وہ بڑبڑایا۔

 ”اور دوسری بات یہ کہ۔ ۔ ۔ “ زرینہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔

 ”بولیے! آپ رُک کیوں گئیں؟ “ اس نے پوچھا۔

 ”باد ل کے ساتھ آفس میں ایک لڑکی کام کرتی ہے۔ ’‘

 ”ہاں! اس نے کسی خط میں مجھے لکھا تھا۔ کیا نام ہے اس کا۔ ۔ ۔ ؟ “ اس نے نام یاد کرنے کی کوشش کی۔

 ”صوفیہ! ’‘ زرینہ نے بتایا۔

 ”ہاں! صوفیہ۔ ’‘

 ”بادل آج صوفیہ کو مجھ سے ملانے کے لیے یہاں لائے گا۔ ’‘ زرینہ نے کہا۔

 ”اچھا! “ وہ مسکرایا: ”تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے۔ بڑاگھنّا ہے بادل۔ ’‘

 ”بادل اسی لیے مجھے کراچی لے آیا تھا۔ ’‘ زرینہ نے بتایا:“ صوفیہ ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی، اور اب تووہ بالکل تنہا ہوگئی ہے۔ آج کل ہاسٹل میں رہتی ہے۔ ’‘

 ”ہوں۔ ۔ ۔ کیا آپ بادل کے ساتھ نہیں رہتیں؟ ’‘

 ” نہیں! میری طبیعت پہلے سے زیادہ خراب رہنے لگی ہے اور کراچی کا موسم میرے لیے موافق نہیں ہے۔ ’‘

 ”آپ کو یہاں دیکھ کر میں سمجھا تھاکہ آپ بادل کے پاس شفٹ ہو گئی ہیں۔ ’‘

 ” جی نہیں! میں بھائی جان کے ساتھ حیدرآباد میں رہتی ہوں۔ ’‘

 ”اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ “

 ”بہتر ہوں۔ ’‘ زرینہ نے کپ اُٹھاتے ہوئے جواب دیا۔ پھر اُٹھتے ہوئے بولی:“ اگر آپ چاہیں تو سگریٹ پی سکتے ہیں۔ ’‘

 ” لیکن پہلے تو آپ مجھے سگریٹ پینے سے منع کرتی تھیں؟ “

زرینہ نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے چہرے پر ییلوروز جیسی اُداس مسکراہٹ آ کر لوٹ گئی۔ دوسرے ہی لمحے اس نے جلدی سے دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔

اگرچہ اسے سگریٹ کی شدید طلب ہو رہی تھی لیکن نہ جانے کیوں لمحے بھر کے لیے اس کے دل میں یہ خواہش جاگی کہ کاش، وہ اسے سگریٹ پینے سے منع کرتی۔ وہ اپنی اس معصوم خواہش پر مسکرا دیا۔ وہ جانتا تھا کہ اب ایک دوسرے کو کسی عمل سے روکنے کے حقوق وہ دونوں کھو چکے ہیں۔ اس نے سگریٹ نکال کر سلگایا اور ہلکے ہلکے کش لیتا ہوا کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ جب سگریٹ کی تپش اس نے اپنی اُنگلیوں پر محسوس کی تو چونک کر گویا سوچوں کی بھنور سے نکل آیا۔ سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر وہ ڈرائنگ روم سے نکل کر لاؤنج میں آگیا۔ اس نے دیکھا کہ ڈائننگ ٹیبل پر کہنی ٹکائے، ٹھوڑی کے نیچے ہتھیلی رکھے زرینہ گم صم بیٹھی تھی۔ وہ ڈائننگ ٹیبل کی دوسری طرف زرینہ کے سامنے بیٹھ گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9