گُم شدہ منظر


 ”آپ سے اچانک مل کر خوشی ہو رہی ہے انکل! “ صوفیہ نے کہا : ”سچ، مجھے آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔ ’‘

 ”حیرت ہے، آپ کو ایک گھامڑ کے باپ سے ملنے کا شوق تھا! “ اس نے مسکرا کر جواب دیا تو صوفیہ نے ہلکا سا قہقہہ لگا یا۔

زرینہ نے صوفیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا: ”آؤ بیٹی! “

وہ دونوں ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئیں۔

 ”اچھا ہوا بابا! آج آپ بھی آ گئے۔ ’‘ بادل باپ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔

 ” اس کے لیے تمھیں اپنی امّی کو تھینکس کہنا چاہیے، جس نے اصرار کرکے مجھے یہاں بٹھایا۔ ورنہ میں تو دروازے سے ہی واپس جا رہا تھا۔ ’‘

پھر وہ سفر کی باتیں کرنے لگے۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کی باتوں کا موضوع صوفیہ بن جاتی ہے۔

لاؤنج میں سے زرینہ اور صوفیہ کی باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ساتھ ہی ڈائننگ ٹیبل پر برتن رکھنے کی آوازیں بھی وہ سن رہے تھے۔

 ”آئیے! کھانا لگ گیا ہے۔ ’‘ زرینہ ڈرائنگ روم کے دروازے پر آکر بولی۔

کھانا کھانے کے دوران وہ اپنے سفر کے لطیفے سنا کر صوفیہ اور بادل کو بہلانے کی کوشش کرتا رہا لیکن اسے محسوس ہونے لگا کہ وہ ایک ایسا جوکر ہے جو اپنے ظاہری وجود کے عقب میں پوشیدہ طوفان کو چھپانے میں ناکام ہو رہا ہو۔ جس لمحے وہ اپنے اندر کی تاریکی کو اپنے لہجے میں نمایاں ہوتا ہوا محسوس کرتا، اس وقت خاموشی اختیار کرکے نہ چاہتے ہوئے بھی چھوٹے چھوٹے نوالے حلق سے اُتارنے کی کوشش کرتا، جیسے سوچ ساگر کے سامنے بند باندھنے کے جتن کر رہا ہو۔

 لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ یہ ٹی وی سٹوڈیو نہیں ہے، جہاں وہ کامیاب اداکاری کرتا تھا بلکہ اس کے بیٹے کا گھر ہے، جہاں وہ انتہائی ناکام اداکاری کر رہا ہے، تب وہ ڈائننگ ٹیبل سے اُٹھ کر اپنی ناکام اداکاری کا آخری ڈائیلاگ ادا کرتے ہوئے بولا: ”کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ معدہ بھی بوڑھا ہوگیا ہے۔ کھانے کا زیادہ بوجھ برداشت نہیں کرتا۔ ’‘

وہ باتھ روم میں جاکر ہاتھ دھونے لگا۔ تب اسے احساس ہوا کہ اس کی پلکیں بھیگ چکی ہیں۔ تولیے سے ہاتھ اور آنکھیں صاف کر کے وہ باتھ روم سے نکل کر ڈرائنگ روم کی طرف بڑھا۔ لاؤنج سے گزرتے ہوئے اس نے قصداَ ڈائننگ ٹیبل کی طرف نہ دیکھا۔ لیکن اس نے محسوس کر لیا کہ اس وقت کوئی بھی، کچھ بھی نہیں کھا رہا تھا۔ تینوں خاموش بیٹھے تھے۔

اس نے صوفے پر بیٹھ کر گردن جھکا لی۔ گویا پوری کائنات گم صم ہوگئی ہو۔ اس نے اپنے وجود میں رشتوں کی ایسی پھانس چھبتی ہوئی محسوس کی جسے دیکھا نہیں جاسکتا۔ آہٹ پر اس نے گردن اُٹھا کر دیکھا۔ زرینہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔

 ”بادل، صوفیہ کے بارے میں آپ سے کچھ کہتے ہوئے جھجھک محسوس کر رہا ہے۔ ’‘ زرینہ نے کہا:“ وہ اس سلسلے میں آپ کی رضامندی چاہتا ہے۔ ’‘

 ” مجھے اپنے محدود ہو جانے والے حقوق کا احساس ہے۔ ’‘ اس نے جواب دیا:“ فیصلے کا اختیار بادل اور آپ کے پاس ہے۔ ’‘

 ” ایک باپ کی حیثیت سے آپ کو اپنی رائے دینے کا پورا اختیار ہے۔ ’‘ زرینہ نے اسے قائل کرنے والے لہجے میں کہا۔

 ”خشک پتّے کی طرح ٹوٹنے والے رشتے کے بعد مجھے کسی قسم کی حجّت کا اختیار تو نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود اس موقع پر میں آپ سے حجّت کرتے ہوئے یہی کہوں گا کہ آپ کا فیصلہ ہی میرا فیصلہ ہوگا۔ ’‘ بات مکمل کرکے اس نے سر جھکا لیا۔

 ”میرا کیا ہے! “ زرینہ نے کہا، ”میری خوشی بادل کی ہستی سے منسلک ہے۔ ویسے بھی صوفیہ سلجھے ہوئے ذہن کی اچھی لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ ’‘

اس نے صوفے کے قریب رکھے ہوئے بیگ کو کھسکا کر اپنے سامنے رکھتے ہوئے کہا:

 ” اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ ’‘

 ”کہاں جائیں گے آپ؟ “ زرینہ کے اس مختصر جملے میں سیکڑوں سوالات کی گونج تھی۔

 ”دس بج رہے ہیں۔ گیارہ بجے کی ٹرین سے لاڑکانہ چلا جاؤں گا۔ ’‘ اس نے جواب دیا:“ کچھ دیر پہلے میں نے فون کر کے ٹائم کنفرم کر لیا تھا۔ ’‘

 ”لیکن۔ ۔ ۔ کیا اس وقت تکلیف کرنا ضروری ہے؟ “ زرینہ کے لہجے میں درد کا تآثر اُبھرا۔

 ”ہمارے ہاتھوں سے تمام کارڈز نکل چکے ہیں۔ ’‘ اس نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا :“ اتفاق کی ڈور میں بندھے ہوئے لمحات کو قید تو نہیں کیا جا سکتا نا! ویسے بھی ایک چھت کے نیچے اب مزید وقت گزارنے کا میر ے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ ’‘

زرینہ نے ہونٹوں پر دانت گاڑ کر گردن جھکا لی، جیسے وہ اندر ہی اندر اُٹھنے والی درد کی لہر پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہو۔

اس کے اندر بھی کوئی احساس سسکنے لگا، لیکن وہ درد کے باوجود خود پر ہیومر کی چادر تان کر بلند آواز میں بولا: ”بادل! یہاں آؤ بیٹا۔ ’‘

بادل ڈرائنگ روم کے دوازے پر آکر کھڑا ہوگیا۔ خاموش، کھویا کھویا سا، کیوں کہ اس نے اپنے باپ کے جانے کے متعلق سن لیا تھا۔ اسے معلوم تھا وہ کسی بھی طرح باپ کو جانے سے نہیں روک سکے گا۔ وہ اس کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھا۔

 ”صوفیہ کو بلا لو اور تم بھی یہاں آ کر بیٹھو۔ ’‘

بادل نے وہیں سے گردن گھما کر لاؤنج میں بیٹھی ہوئی صوفیہ کو اشارے سے بلا لیا اور خود باپ کے قریب بیٹھ گیا۔ صوفیہ ان کے سامنے زرینہ کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے بیگ کی زپ کھولتے ہوئے بادل کی طرف دیکھا اورہلکا سا قہقہ لگا کر بولا، ”اب دو گانا گانے کا وقت ہو گیا ہے۔ اچھا تو ہم چلتے ہیں۔ ’‘

اس نے بیگ سے پرفیوم کی دو شیشیاں نکال کر ایک بادل کی طرف بڑھا دی۔ پھر اُٹھ کر وہ صوفیہ کے قریب آ گیا اور پرفیوم کی شیشی دینے کے بعد اس کے سرپرہاتھ رکھ کر شفقت سے بولا:

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9