گُم شدہ منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیب سندھی کا یہ افسانہ کوئی ربع صدی پہلے سندھی زبان میں لکھا گیا۔ محمد ابراہیم جمالی نے اسے اردو کا پیراہن دیا۔ جیسا دل کو چھو لینے والا افسانہ ہے، ویسا ہی کانٹے کی تول ترجمہ ہے۔ ایسی تحریر قلم سے نہیں، انگلیوں سے لکھی جاتی ہے۔

***      ***

وہ ٹیکسی سے اُتر کر ٹریول بیگ کو سنبھالتا ہوا، باؤنڈری وال کے گیٹ سے ہو کر بلڈنگ کی حدُود میں داخل ہو گیا۔ گیٹ پر بیٹھے ہوئے پٹھان چوکی دار نے عینک کے شیشوں سے گھور کر اسے دیکھا، لیکن وہ اسے کسی بھی طرح سے مشکوک نہ لگا۔ عمارت کی حدُود میں داخل ہونے والے شخص کے چہرے پر چھوٹی سی گھنی ڈاڑھی تھی، جو اس پر خوب جچ بھی رہی تھی۔ اس کے سر اور ڈاڑھی کے بالوں میں کالے اور سفید بالوں کا تناسب برابر تھا۔ چوکی دار نے سٹول پر بیٹھے بیٹھے ایک طویل جمائی لی اور پھر دائیں ہاتھ کی چھوٹی اُنگلی کان میں ڈال کر ہلانے لگا۔

وہ گیٹ سے اندر داخل ہو کر، فلیٹس کے مختلف بلاکس کر طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ بالکل ناک کی سیدھ میں ایک بلاک پر ”ایف ’‘ لکھا دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ“ ایف ’‘ بلاک کے تیسرے فلور کی کھڑکیوں کی طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھا۔ ”ایف ’‘ بلاک کی سیڑھیوں کے پاس جاکر وہ لمحے بھر کے لیے رُکا اور دیوار پر لکھے ہوئے ایک تا سولہ نمبر کے ہندسوں کو دیکھا، پھر اس نے ٹریول بیگ کو ہلکا سا جھٹکا دے کر پشت پر کر لیا اور دوسری سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ سیڑھیوں کے ساتھ ہی دیوار پر لکھے ستائیس نمبر کی طرف دیکھ کر ایک بار پھر وہ مسکرا دیا۔

وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ اس کی نظریں اپنے اُٹھتے ہوئے قدموں اور سیڑھیوں کے زینوں پر جمی ہوئی تھیں۔

 ”ہیلو انکل! “ ابھی وہ دوسرے فلورکی سیڑھیوں پر ہی تھا کہ دوسرے فلور کے ایک فلیٹ کے دروازے پر کھڑا ہوا معصوم بچہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا: ”انکل! آپ ہمارے گھر آ رہے ہیں؟ “

اس نے قریب جاکر بچے کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کی آنکھوں میں شفقت کے کنول کھل اُٹھے :

 ”نہیں بیٹا! فی الحال تو میں اُوپر جا رہا ہوں۔ اگر تیسرے فلور پر آ کر تم مجھے دعوت دو گے تو میں ضرور تمھارے گھر آؤں گا۔ ’‘

اسی لمحے فلیٹ کے دروازے پر ایک عورت نمودار ہوئی، جس نے بچے کا بازو پکڑ لیا، اس ادھیڑ عمر شخص نے مسکرا کر عورت کو سلام کیا۔ عورت جواب دینے کے بجائے عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی، پھر اس نے بچے کو فلیٹ کے اندر کھینچ کر دروزاہ بند کردیا۔

وہ ایک لمحے تک ساکت کھڑا دھماکے سے بند ہونے والے دروازے کو گھورتا رہا۔ پھر وہ سر جھکا کر تیسرے فلور کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

تیسرے فلور کی سیڑھیوں کے پاس ہی ایک دروازے پر ستائیس نمبر لکھا ہوا تھا۔ دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے بیگ اپنے قدموں کے پاس فرش پر رکھا، اور اپنی تیز تیز چلنے والی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔ تھوڑی دیر بعد کال بیل کا بٹن دبا کر انتظار کرنے لگا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا عجیب سا تآثر تھا۔ گویا ہونٹوں کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں، بلکہ پورا چہرہ مسکرا رہا تھا۔

جب کئی لمحے گزرنے کے بعد بھی دروازہ نہیں کھلا تو اس نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پر نظر ڈالی۔ پانچ بج رہے تھے۔ اس نے ایک بار پھر کال بیل کا بٹن دبایا۔ ابھی اس نے ہاتھ نیچے ہی کیا تھا کہ دروازے کے دوسری طرف چٹخنی کھلنے کی آواز سن کر اس کے چہرے کی مسکراہٹ گہری اور واضع ہوگئی۔ دوسرے ہی لمحے، جیسے دوازہ کھلا، مسکراہٹ اچانک ہی اس کے چہرے سے غائب ہوگئی اور وہاں پشیمانی کے سائے لہرانے لگے۔ جیسے اچانک کوئی دیوار اس پر آن گری ہو۔ دورازے پر کھڑی ادھیڑ عمر عورت کو دیکھ کر پریشان ہوگیا، وہ بری طرح اُلجھ گیا: ”آپ۔ ! “

 ”آپ کو کس سے ملنا ہے؟ “ عورت نے پوچھا اور دوسرے ہی لمحے سامنے کھڑے ہوئے شخص کی سفید ہوتی ہوئی ڈاڑھی کے عقب میں ایک شناسا چہرے کو شناخت کر کے وہ ہکا بکا رہ گئی۔ عورت کے چہرے پر اُداسی اور حیرت کی لکیریں اُبھر آئیں :

 ” آ۔ ۔ ۔ آپ۔ ۔ ۔ ؟ “

 ” مم۔ میں بادل کے لیے آیا تھا۔ ’‘ اس نے گردن جھکا کر کہا۔

 ”بادل تو ابھی تک نہیں آیا۔ ’‘ عورت کی نظریں بھی خود بہ خود فرش میں گڑ گئیں۔

 ”بادل آئے تو اسے میرے بارے میں بتا دیجیے گا۔ ’‘ اس نے بیگ اُٹھاتے ہوئے کہا :“ میں پھر کبھی آؤ ں گا۔ ’‘

وہ واپس جانے کے لیے پلٹا۔ عورت دروا زہ تھامے کھڑی رہی۔ ابھی وہ دو سیڑھیاں اُترا تھا کہ اسے اپنے عقب میں عورت کی آواز سنائی دی : ”بادل آنے ہی والا ہو گا۔ ’‘

وہ رُک گیا۔ اس نے مڑے بغیر ہی جواب دیا: ”میں پھر کبھی آؤں گا۔ ’‘

 ” لیکن یہ آپ کے بیٹے کا ہی گھر ہے۔ ’‘ عورت نے کہا۔

اس نے گردن گھما کر دروازے پر کھڑی عورت کی طرف دیکھا لیکن زبان سے کچھ نہ کہا۔

عورت نے کچھ سوچ کر کہا: ”آپ کو اپنے بیٹے کے گھر میں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے کا پورا حق ہے۔ ’‘

 ” حقوق کے درمیان کبھی کبھی مجبوریوں کی دیواریں حائل ہوجاتی ہیں۔ ’‘ اس نے پہلی بار دروازے پر کھڑی عورت پر بھرپور نگاہ ڈالی۔

 ” رشتوں کی سچائی کے سامنے کوئی بھی دیوار قائم نہیں رہ سکتی۔ ’‘ عورت نے دروازے سے ہٹ کر راستہ چھوڑتے ہوئے کہا:“ آپ اپنے بیٹے کا انتظار کر سکتے ہیں۔ ’‘

وہ چند لمحے تذبذب کی کیفیت میں کھڑا رہا، جیسے وہ فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہا ہو۔

 ” آئیے نا! “ عورت کے لہجے میں التجا تھی: ”پلیز آپ آئیے۔ ’‘

وہ گردن جھکائے اُتری ہوئی دو سیڑھیاں دوبارہ چڑھ گیا۔ دروازے پر کھڑی ہوئی خاتون دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ وہ اندر داخل ہوگیا۔ اس نے اپنے عقب میں دروازہ بند ہونے کی آواز سنی۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا لاؤنج میں پہنچ گیا۔ لاؤنج میں ایک طرف دو بند دروازے تھے اور دوسری جانب ایک کھلا ہوا دروازہ تھا جس میں سے اندر داخل ہوکر اسے احساس ہوا کہ وہ ڈرائنگ روم میں پہنچ چکا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •