عورت کی جنسی زندگی اس کا پرلطف اثاثہ ہے، بوجھ نہیں
حال ہی میں جس دن سعودی عرب سے باہر سفر کرنے پر سے پابندی ہٹی، سینکڑوں خواتین ملک چھوڑ گئیں۔ مذاہب میں خواتین کے بارے میں کچھ باتیں بالکل حقیقت کے متضاد ہیں جو نسل در نسل بار بار دہرائی جارہی ہیں۔ بہت سارے لوگ ان خیالی باتوں کو باربار سن کر سچائی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ اس کے الٹ ہیں۔ جیسا کہ خواتین کے کم عقل ہونے کی کہانی، چادر اور چاردیواری کی حفاظت کی کہانی۔ خواتین کم عقل نہیں ہیں بلکہ دنیا کے تمام انسانوں میں ذہانت ماں کے ذریعے ہی منتقل ہوتی ہے۔ چونکہ ہر انسان میں مایٹوکونڈریا ماں سے ہی آتے ہیں جن میں وہ جین ہوتے ہیں جن پر ہماری ذہانت کا دارومدار ہے، نہ صرف یہ کہ خواتین ذہین ہیں بلکہ تمام انسانیت کو یہ ذہانت دینے کی ذمہ دار بھی ہیں۔
سب سورج کی روشنی انسانوں کے جسم پر پڑتی ہے تو ان الٹرا وایولیٹ شعاعوں سے جلد میں کولیسٹرول سے وٹامن ڈی بنتا ہے۔ خواتین میں خاص طور پر وٹامن ڈی کی کمی سے ان کے کولہوں کی ہڈیاں سکڑ جاتی ہیں اور بچہ پیدا کرنے میں مشکل پیدا ہوتی ہے۔ خواتین کا لباس کسی خدا یا خلائی مخلوق نے نہیں بلکہ آدمیوں نے طے کیا ہے۔ قدرتی دنیا اور خیالی دنیا میں فرق کرنا سیکھنا ہوگا۔
ایک عجیب و غریب کام جو آدمی کرتے ہیں وہ اپنی حاملہ پارٹنر کا قتل ہے۔ دنیا کے دوسرے جانور ایسا نہیں کرتے۔ حاملہ خواتین کی موت کا دنیا میں سب سے بڑا سبب اپنے شوہروں کے ہاتھوں ان کا قتل ہے۔
اگر ایک مہذب معاشرے میں ایک خاتون کے پاس تعلیم ہے اور اپنے پیسے بھی تو نہ ہی ان کو شادی کرنے کی ضرورت ہے، نہ بچے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی آدمی کے سہارے کی ان کو کوئی ضرورت ہے۔ وہ جب چاہیں سو سکتی ہیں، جب چاہے جاگ سکتی ہیں، جو دل چاہے کھا پی سکتی ہیں، جہاں دل چاہے سفر کرسکتی ہیں، مردوں، عورتوں یا دونوں سے جنسی تعلقات رکھ سکتی ہیں۔ نہ چاہیں تو کسی سے بھی نہیں۔ اصل میں تو دنیا میں ایسا ہی ہے۔ سارا نظام انسانوں کا اپنا بنایا ہوا ہے اور وہ جانتے بھی ہیں اور خوفزدہ ہیں کہ اگر یہ سب کچھ نہ چلتا رہا تو دنیا کا کیا بنے گا؟ حالانکہ دنیا اس نظام سے پہلے بھی چل رہی تھی اور اس کے بعد بھی چلتی رہے گی۔
یہ بات ہم روز ہی دیکھتے ہیں کہ لوگ غریب لڑکیوں کو سہارا دینے کے بہانے ان سے شادیاں کرتے ہیں۔ حالانکہ غریب لڑکیوں کو سہارا دینے کے لیے ان کی اسکول کی فیس دینا زیادہ مناسب ہو گا ان کے ساتھ سونا اس کے لیے ضروری نہیں ہے۔ عورت میں معاشی طور پر کمزوری پیدا کرنا اس نظام کو سہارا دیتا ہے جس میں آدمیوں کو محنت کیے بغیر زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے۔ چونکہ بچے پیدا کرنے کا نظام عورت کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی، خواتین کے جسموں پر اس طرح کنٹرول ہے کہ ایک طرف بچے باپ کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں اور دوسری طرف ابارشن اور برتھ کنٹرول سے محروم خواتین کی صحت جواب دے دیتی ہے۔ تیس چالیس سال کی عمر میں وہ خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگتی ہیں۔ جن خواتین کی صحت ٹھیک نہ رہے اور وہ جنسی تعلق ایک مذہبی اور ازدواجی ڈیوٹی سمجھ کر ہی نبھاتی رہیں ان کو کیسے پتا چلے گا کہ زندگی میں کیا ممکن تھا؟ یہ نظام ہزاروں سالوں سے کام کر رہا ہے اور بہت سی خواتین خود کو گوشت پوست کا نہیں بلکہ پلاسٹک سے بنا ہوا سمجھتی ہیں۔
یہ بات لوگ سمجھ گئے تھے کہ وہ ناکافی اور کمزور ہیں، وہ ایک عورت کو بھی خوش نہیں رکھ سکتے اس لیے انہوں نے شادی کا نظام ترتیب دیا جس میں جنسی تعلقات، بچے پیدا کرنے اور گھر کی دیکھ بھال کے معاوضے میں مالی سہارے کا وعدہ کیا گیا۔ شروع سے خاتون کو ایسی تعلیم دینی شروع کی جس سے وہ جنسی تعلق کو ذاتی خوشی کے بجائے ازدواجی تعلق اور اولاد پیدا کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے۔ اسی وجہ سے چھوٹی چھوٹی بچیوں کو شروع سے بہت سے لباس پہنائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان ملبوسات کی تہوں کے بغیر خود کو برہنہ محسوس کریں۔ ان کو شروع سے بتایا جاتا ہے کہ اپنے جنسی اعضاء کو چھونا گناہ ہے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان کا جسم کسی اور کی امانت ہے۔ سوچئیے تو یہ کتنا مضحکہ خیز خیال ہے لیکن بہت ساری خواتین اس بات پر یقین کرتی ہیں کہ ان کا جسم ان کا اپنا نہیں ہے۔
عیسائی خواتین کے علاج سے مجھے معلوم ہوا کہ کچھ مذہبی خواتین جنسی مسرت کو گناہ سمجھتی ہیں اور کچھ اس کو گندہ کام بھی کہتی ہیں۔ تمام خواتین کو اپنے جسم کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کا آپ کی زندگی، آپ کی صحت اور آپ کی مسرت سے گہرا تعلق ہے۔ خواتین کے لیے اسپورٹس کھیلنا اور رقص سیکھنا اچھا ہے اس سے آپ کے اندر اپنے جسم کے بارے میں عزت نفس میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ خواتین کی جنسیت کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کے لیے تمام سنجیدہ طالب علم سنجیدہ ویب سائٹس سے رجوع کرسکتے ہیں۔ پورن ایک بیچنے کے لیے ڈرامہ ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ پورن سے کچھ سیکھنے کے بجائے غلط معلومات اور توقعات میں مزید اضافہ ہوگا۔
OMGyes۔ com۔ The Science of Women ’s Pleasure<https://www۔ omgyes۔ com/؟ hv= 2 &pv= 2 <d=true&utm۔ expid=۔ VmnOIp۔ IR 2 afu 5 LRN 0 fc 4 A۔ 1 &utm۔ referrer=>
خواتین کی جنسیت کو قابو میں کرنے کے لیے پتھر مارنے اور کوڑے مارنے کی سزائیں قائم کی گئیں حالانکہ دو برابر کے بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے جنسی تعلق ان کا نجی معاملہ ہے۔ دنیا کے کافی علاقوں میں شادی کی رات کنوار پن کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو کہ ایک اور ذلیل رواج ہے جس کی کوئی سائنسی بنیاد بھی نہیں ہے۔ لوگ نئی دلہنوں کو شک کی بنیاد پر جان سے بھی مار دیتے ہیں۔
جینڈر سیگریگیشن یعنی لڑکے اور لڑکیوں کو الگ الگ پالنے اور ان کو اپنی ملکیت سمجھنے کی وجہ سے یہ بچے بڑے ہو کر جب مرد اور عورتیں بنتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ نارمل تعلقات نہیں رکھ سکتے۔ کچھ کے بچپن میں ریپ ہوجاتے ہیں، کچھ نے محبت کی ہوتی ہے، کچھ کے بچے ہوتے ہیں، کچھ کی پہلے بھی شادی ہوچکی ہوتی ہے۔ کچھ ماضی کے جنسی صدمات کے بعد پی ٹی ایس ڈی کی مریضہ ہوتی ہیں لیکن جہاں یہ بات خفیہ رکھنی ہو وہاں ذہنی علاج حاصل کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اس بارے میں بات نہیں کرسکتے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


