کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ
مرزا رسوا نے اس عہد کو پیش کیا ہے جس عہد میں وہ خود سانس لے ہے تھے جب کہ فاروقی نے زائد از ایک صدی قبل کے عہد کو اسی کی زبان میں پیش کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ناول فاروقی صاحب کی عمر بھر کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔ اس میں برصغیر کا کلچر اور کردار دکھائے گئے ہیں۔ ناول میں غالب کا سراپا پڑھنے کے قابل ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ ناول انیسویں صدی سے بھی بہت پہلے سے شروع ہو کر سال 1856 میں ختم ہوتا ہے۔ اس پورے عرصے کا بیان ہمیں ایسی دنیا کی سیر کراتا ہے جو معاشرتی اور تہذیبی لحاظ سے بے حد معمور ہے۔ یہاں کی زندگی اور اس کی اقدار نہایت مستحکم اور توانا ہیں۔ ہر طرف زندگی کی چہل پہل اور تحرک نظر آتا ہے۔ یہ دنیا ایسی ہے جس پر کوئی بھی عہد فخر کر سکتا ہے۔ یہاں کی ادبی تہذیب بھی پوری تابناکی کے ساتھ جلوہ گر ہے اور دنیا کی دوسری بڑی تہذیبوں سے خود کو کم نہیں سمجھتی۔ لیکن پھر زمانے کی بساط الٹتی ہے اور سماں بدل جاتا ہے۔
مختلف علوم و فنون کا بیان ان کی مکمل تفصیلات اور تمام باریکیوں کے ساتھ ناول کے صفحات پر دیکھا جا سکتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ مصنف کی معلومات اور مشاہدات کی وسعت کہاں تک ہے۔ عام اور معمولی چیزوں کے بارے میں بھی یہاں جس تفصیل سے کام لیا گیا ہے وہ بلا شبہ دیدنی ہے۔ بنی ٹھنی کی تصویر کا بیان ہو، کشمیر کے مختلف مقامات کا ذکر ہو، گھریلو ساز و سامان، کھانا پینا، لباس و پوشاک، عادات و اطوار، ان تمام کے بارے میں حد درجہ باریک بینی سے کام لے کر انہیں ہمارے سامنے آئینہ کر دیا گیا ہے۔ بنی ٹھنی کی تصویر کے بیان میں مصنف نے غیر معمولی باریک بینی کا ثبوت پیش کیا ہے۔
یہ ناول ظاہری سطح پر محبت کی ایسی داستان ہے جس میں کامیابی اور نا کامی و محرومی ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن اس کی تہ میں ایسی حقیقتیں بھی پوشیدہ ہیں جو انیسویں صدی کے ہندوستان کی تاریخی، سیاسی اور تہذیبی صورت حال کی بھر پور عکاسی کرتی ہیں۔ اس زمانے میں ہندوستانیوں کے ساتھ انگریزوں کا رویہ کیا تھا اور انگریز حکام اپنی طاقت کو روز بروز مزید مستحکم کرنے کے لیے کیا کیا حکمت عملی اختیار کر رہے تھے، اس کی طرف بھی بہت سے اشارے ناول میں موجود ہیں۔
ولیم فریزر کا قتل ناول کے آہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان خاص کر دہلی کی معاشرتی اور سیاسی صورت حال پر کیا اثرات مرتب ہوئے، اس کا اندازہ بھی ناول سے ہوتا ہے۔ ناول میں ہندوستان کا 1811 سے لے کر 1859 تک کا عہد بیان کیا گیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم (پیدائش 1811 ) ہیں جو مشہور اردو شاعر نواب مرزا خان داغ دہلوی کی والدہ محترمہ تھیں لیکن وزیر خانم کے اجداد دلی کے نہیں تھے بلکہ راجھستان کے گاؤں ہندالولی (ہند الولی شیخ معین الدین چشتی کے نام سے موسوم ) گاؤں کے چتیرے (مصور) تھے۔ شومئی قسمت کہ ان کے جد امجد میاں مخصوص اللہ نے ایک خیالی تصویر بنائی اورکشن گڑھ کے راجہ کی گاؤں میں آمد کی خوشی اور اپنے فن کے اظہار کے لیے آویزاں کر دی لیکن اتفاقاً تصویر ہو بہو راجہ کی بیٹی سے ملتی تھی۔ راجہ نے تصویر دیکھ کر اپنی بیٹی کو اس تصویر کے نیچے اس شبہ میں قتل کر دیا کہ اس نے شاید پاؤں گھر سے باہر نکال کر خاندان کی آن اور شان کو بٹہ لگایا ہے۔
راجہ کے حکم سے میاں مخصوص اللہ کا گھرانہ جلاوطن ہو کر کشمیر آ گیا۔ وہاں انہوں نے لکڑی پر نقاشی کا کام سیکھا لیکن اس میں دل نہ لگا تو قالین بافی کی تربیت جسے ”تعلیم“ کہتے تھے دس سال لگا کر سیکھی حتی کہ اس ہنر کے امام کہلائے لیکن راجھستانی چتر کاری کی چاہ ہمیشہ ان کے دل میں کسی شوریدہ ندی کی طرح سر مارتی رہی تھی۔ آخر ایک دن وہ اپنی ایک پرانی تصویر جس کا نام ”بنی ٹھنی“ تھا کو ہاتھ میں لئے جنگل میں جا بیٹھے اور محویت کے عالم میں سردی سے فوت ہو گئے۔ ان کے تین بیٹے تھے، داؤد یعقوب اور یحیی۔ یحیی تو فوت ہو گئے لیکن بقیہ دو کے دل میں اپنے پرانے وطن کی محبت جوش مارنے لگی تو وہ سب کچھ بیچ باچ عازم راجھستان ہوئے اور وہاں دو یتیم لڑکیوں سے شادی کر کے فرخ آباد میں جا آباد ہو گئے اور کپڑوں پر قلم کاری کا کام کر کے روزی کمانے لگے اور ان کا ایک بیٹا محمد یوسف پیدا ہوا۔
ان دنوں دلی پر مرہٹوں کا قبضہ تھا۔ انگریزوں نے فرخ آباد کے نواب مظفر جنگ پر فوجی دباؤ ڈالا تو وہ ایک لاکھ روپے پنشن کے عوض فرخ آباد سے دستبردار ہو گئے۔ فرخ آباد سے گزر کر اب انگریز دلی پر قبضہ جمانے کی کوشش کرہے تھے۔ داؤد اور یعقوب اپنے خاندان کے ہمراہ دولت حاصل کرنے کے لالچ لے کر انگریزی لشکر میں بطور سوداگر شامل ہو گئے۔ جب انگریزوں نے مرہٹوں کو دہلی سے نکالنے کے واسطے 1803 میں حملہ کیا تو مرہٹوں کی جوابی گولہ باری میں سوائے محمد یوسف کے خاندان کے باقی افراد مارے گئے۔ انگریزی فتح کے بعد محمد یوسف کی پرورش لشکر میں شامل ایک ڈیرہ دار طوائف اکبری نے کی جو دلی مقیم ہو گئی تھی۔ اکبری نے محمد یوسف کی شادی اپنی بیٹی اصغری سے کر دی اور یوں محمد یوسف سادہ کاری کا پیشہ اختیار کر کے اپنے علیحدہ گھر میں رہنے لگے۔
محمد یوسف کے ہاں تین بیٹیاں ہوئیں، انوری خانم عرف بڑی بیگم، عمدہ خانم عرف منجھلی بیگم اور وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم۔ یہی چھوٹی بیگم اس ناول کی ہیروئن ہیں۔ بڑی بیگم کی شادی مولوی نظیر صاحب سے ہوئی اور منجھلی بیگم نے رام پور کے شہزادے کے نواب یوسف علی خان کی ملازمت اختیار کی۔ البتہ وزیر خانم کے خواب بہت اونچے تھے اور اپنے حسن کا احساس بھی تھا۔ وزیر جب پندرہ برس کی تھیں تو ان کی والدہ اصغری اچانک بیمار پڑیں اور وفات پا گئیں۔ وزیر خانم اپنے والد کے ہمراہ نظام الدین اولیا کے مزار پر حاضری دے کر بہلی میں واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک ویرانے میں آندھی آ گئی اور بہلی کا دھرا ٹوٹ گیا۔ اس ویرانے اور آندھی کے عالم میں پولیٹیکل سروس کا ملازم ایک انگریز مارسٹن بلیک اپنے نوکروں کے ہمراہ سرراہ مل گیا اور انہیں بحفاظت ان کے گھر پہنچایا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


