کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ
وزیر خانم اور مارسٹن بلیک کی آشنائی بڑھی تو وزیر خانم اپنے والد سے ضد کر کے بلیک کے ہمراہ جے پور آ گئی جہاں بلیک اسسٹنٹ پولیٹیکل آفسر تھا۔ اس وقت وزیر خانم کی زندگی عیش و عشرت سے معمور تھی، عالی شان گھر، اٹھاون نوکر اور روپے پیسے کی فراوانی کے علاوہ بلیک وزیر خانم سے شادی رچانے کا بھی وعدہ کر چکا تھا۔ پولیٹیکل افسر جب چھٹی گئے تو بلیک قائم مقام بنا، انہیں دنوں مقامی راجہ کی وفات ہوئی اورراجہ کی جانشینی کے مسئلے مارسٹن بلیک رعایا کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ کمپنی نے وزیر خانم کو بلیک کی جائز منکوحہ ماننے سے انکار کر دیا، بلیک کے بہن بھائیوں نے وزیر سے اس کے بچے مارٹن اور صوفیہ لے لئے اور اس کے عوض اسے کچھ سامان اپنے ہمراہ لے جانے کی اجازت دے دی۔ وزیر واپس دلی پہنچ کر بیوگی کے دن کاٹنے لگی اس وقت اس کی عمر انیس سال کچھ مہینے تھی۔
نواب یوسف علی خان کی مرضی سے وزیر بیگم دلی کے ریذیڈنٹ ولیم فریز کی کوٹھی پر ایک دعوت میں شریک ہوئی جہاں اس کی ملاقات مرزا غالب، ولیم فریزر، کچھ انگریز خواتین اور والی فیروزپور جھرکہ نواب شمس الدین سے ہوئی۔ نواب شمس الدین نے ملاقات کے دوسرے ہی دن وزیر کے گھر آ کر تعلق کو بڑھاوا دیا اور کچھ عرصے بعد 1830 میں وزیر نے نواب کی ملازمت اختیار کر لی نواب سے وزیر کے ہاں مرزا داغ دہلوی نے جنم لیا۔ ولیم فریزر بھی وزیر کو حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن وزیر نے اسے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا تھا۔ رنج میں ولیم نے نواب شمس الدین کی سرعام تضحیک کی جس کا بدلہ لینے نواب شمس الدین نے ولیم کی کوٹھی پہنچ کر اسے دھمکانے کی کوشش کی۔ ولیم نے نواب سے فیروز پور کی ریاست لے لی تو نواب شمس الدین نے ولیم کو اپنے ایک وفادار کے ذریعے قتل کروا دیا۔ بعد از تفتیش نواب کو پھانسی ہوئی تو وزیر ایک بار پھر بیوہ ہو گئی۔
کچھ عرصے بعد 1442 وزیر کا نکاح رام پور کے داروغہ فیل خانہ تراب علی سے ہو گیا جس سے ایک بیٹا شاہ محمد آغا پیدا ہوا لیکن تراب علی ہاتھی خریدنے کے سلسلے میں 1844 میں دوران سفر ٹھگوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے تو وزیر ایک بار پھر بیوہ ہو گئی اور اپنے بیٹے کو لے کر دلی آگئی۔ یہاں مرحوم نواب شمس الدین کے حریف نواب ضیا الدین نے سلسلہ جنبانی کی کوشش کی لیکن وزیر نے ٹھکرا دیا۔ بہادر شاہ ظفر بادشاہ کے تیسرے بیٹے مرزا فتح الملک بہادر عرف مرزا فخرو نے وزیر کے حسن کے چرچے سنے تو شاہی چترکار سے کہ کر وزیر کی تصویر بنوائی جو کہ کسی پرانی تصویر کی نقل تھی۔
تصویر دیکھ کر شہزادہ وارفتہ ہو گیا۔ مرزا فخرو نے بادشاہ سے اجازت لے کر وزیر سے نکاح کر لیا اور یوں وزیر شاہی محل میں آ گئی۔ لیکن بادشاہ کی نو عمر بیگم زینت محل کو وزیر بیگم اس لئے پسند نہیں تھیں کہ اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانا چاہتی تھیں۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ پہلے اور دوسرے ولی عہد وفات پا گئے تو 1852 میں مرزا فخرو ولی عہد بن گئے۔ زینت محل کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی لیکن مرزا فخرو بھی 1856 میں ہیضہ میں مبتلا ہو کر ملک راہی عدم ہوئے تو زینت محل نے وزیر بیگم اور مرزا داغ کو محل سے نکال دیا اور وہ رام پور چلے گئے۔
ناول کیا ہے تاریخ کی چادر میں بنا ہوا انیسویں صدی کی ہند اسلامی، انسانی اور تہذیبی و ادبی سروکاری کا مرقع ہے۔ مصنف ہر منظر کو اتنی تفصیل اور وضاحت سے پیش کرتا ہے کہ اس زمانے کا نقشہ آئینہ ہو کر سامنے آ جاتا ہے اور محرم کی مجالس کا احوال، دربار اور محلات کی سازشیں، شاعری اور موسیقی کی محفلیں، شکار اور خاصہ تناول کرنے کے طریقے، اردو اور فارسی زبان کی نزاکتیں، ٹھگوں کی کارستانیاں، یوان حافظ سے فال نکالنا، امام ضامن باندھنا وغیرہ اور اس زمانے کی اشیا کے وہ نام جو اس زمانے میں مستعمل تھے یوں بیانکیے ہیں کہ انسان ناول کے کرداروں کے ہمراہ انہیں گلیوں، حویلیوں، بازاروں اور درباروں میں چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے جو اب خس و خاشاک ہو چکے۔
آج کے قاری کی آنکھ میں آپ ان ہندوستانی کرداروں کے لئے کہیں ستائش اور کہیں تضحیک بآسانی محسوس کریں گے جو شاید انگریز ان کے لئے محسوس کرتا تھا۔ مثلا ایک جگہ مسٹر بلیک وزیر بیگم سے کہتا ہے کہ ہندوستانی چور اور جھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بادشاہ سلامت نے زبردست کا ٹھینگا سر پر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرہٹہ سپہ سالار مادھو راؤ سندھیا کو فرزند دلبند، وکیل مطلق، مدارالمہام، عالی جاہ کے خطابات اور نائب السلطنت مقرر کیا۔ اسی طرح ذرا تھامس مٹکاف ریذیڈنٹ دہلی کو عطا کیے گئے کے خطابات ملاحظہ فرمائیے۔ فدوی خاص و فرزند ارجمند سلطانی معظم الدولہ امین الملک اختصاص یار خان ٹامس تھیا فلس مٹکاف صاحب بہادر فیروز جنگ ایجنٹ نواب گورنر جنرل بہادر مختار امور سرکار دولت مدار کمپنی انگریز بہادر و صاحب کمشنر بہادر مال و دائر سائر علاقہ دارالخلافہ شاہجہان آباد۔
وہ زمانہ ایسا تھا کہ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی، جس کا بس چلتا تھا جو شے چاہتا تھا اپنے تصرف میں لے آتا تھا۔ محل سے نکلنے کا حکم سن کر وزیر بیگم اپنے بیٹے کے اس اصرار پر کہ وزیر کو اپنے حق کے لئے ضرور کوشش کرنی چاہیے تو زہر خند لہجے میں کہتی ہیں ”حق کیا شے ہے صاحب عالم؟ ساری زندگی حق کی ہی جویا رہی ہوں، وہ پہاڑوں کی کھوہ میں کہیں ملتا ہو تو ملتا ہو ورنہ اس آسمان تلے تو کہیں نہیں دیکھا گیا“ اس زمانے کے لوگوں کو احساس ضرور تھا کہ گزری ہوئی شان و شوکت اب واپس نہیں آ سکتی اور انگریز کو اس ملک سے نکالنا اب ممکن نہیں ہے۔
نواب شمس الدین کا مقدمے میں طلبی کے سلسلے میں روانگی سے پہلے اپنی بیگم کو جواب ایسے ہوتا ہے ”آپ نے شاید اس معاملے کو ٹھیک طرح سے خاطر نشین نہیں کیا ہے، میں کہیں اور بھی چلا جاؤں تو آپ رحم و کرم پر فرنگی کے ہی رہیں گی سارے ہندوستان جنت نشان پر شیطان کا سایہ ہے، میں جہاں جاؤں گا یہ سایہ مجھ پر مسلط رہے گا۔ میں اگر یہاں رہا تو لٹیرے فرنگیان آج نہیں تو کل چڑھ دوڑیں گے، لوہارو تو وہ لے ہی چکے ہیں، فیروزپور مقابلہ ان کا کیا کرے گا، مگر تابہ کے؟ ایک دن سپر ڈالنی ہو گی۔ اس دن میں نہ ہوں گا۔ پھر وہ سلوک بھی آپ لوگوں کے ساتھ نہ ہوگا جو ٹیپو شہید کے گھر والوں کے ساتھ ہوا“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


