کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ

دلی کی تہذیب کی اہم خصوصیت شاعری کو ذریعہ اظہار بنانا تھا کہ معزز افراد عام گفتگو میں بھی فارسی اور اردو کے اشعار جا بجا ٹانکتے تھے، ناول کی ہیروئن کی زندگی اگرچہ کشاکش میں گزری لیکن ان کا شعری ذوق بہت بلند تھا۔ تسلیم اور کورنش۔ تسلیم ادب کا ایک قرینہ تھا جس میں ملاقاتی ذرا سا جھک کر دایاں ہاتھ زمین پر اس طرح رکھتا کہ ہتھیلی کا رخ اوپر کی طرف رہتا پھر کمر کو سیدھا کرتے ہوئے ہاتھ کو اٹھا کر سر پر رکھتے تھے۔ منہ سے کچھ بولنا ممنوع تھا۔ میزبان اعلی حضرات جواب میں ایک تسلیم اور بعد میں دل پر ہاتھ رکھ کر تسلیم کا جواب دیتے تھے۔ تسلیم کا رواج عام تھا۔ تسلیم کے برعکس کورنش صرف بادشاہ کے لیے مخصوص تھی اس میں دائیں ہتھیلی کو پیشانی پر رکھتے تھے اور پھر سر کو جھکا لیتے تھے۔ اردا بیگی (پروٹوکول اسکورٹ) یا قلماقنی (خاتون باڈی گارڈ) کی خدمت پر جو عورتیں حویلیوں اور قلعہ میں نوکر رکھی جاتی تھیں وہ عموماً علاقہ سندھ یا کاٹھیاواڑ کی زنگن ہوتی تھیں۔ نہایت گٹھے ہوئے بدن کی، بنوٹ، طمنچہ بازی اور چاقو زنی میں طاق یہ عورتیں بادوی میں بھی ماہر ہوتیں اور نقش قدم اور دوسرے نشانات کی مدد سے مفرور مجرم یا چور کا پتہ لگانے میں بھی بے حد مشاق تھیں۔
بعض حویلیوں میں ترکنیں بھی رکھی جاتی تھیں۔ اردا بیگنیوں کے بر خلاف جو مردانہ لباس پسند کرتی تھیں، ترکنیں ہمیشہ اپنے ملک کا زنانہ لباس پہنتی تھیں، لمبی تڑنگی، نہایت گوری گلابی رنگت اور بڑی بڑی بادامی آنکھیں، بے حد سیاہ یا سنہرے چمکیلے بالوں والی یہ سورما عورتیں جس قدر دلکش تھیں اسی قدر جرات اور جفا کشی اور سفاکی میں بھی مشہور تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ترکن دس مردوں پر بھی بآسانی قابو پا لیتی تھی اور میدان جنگ میں غنیم پر پنجہ قابض ہو جانے پر اسے قیدی بنانے کی بجائے وہیں اس کی تکہ بوٹی کر ڈالتی تھیں۔ یہ عورتیں ازبک اور قزاق قوم کے ہی مردوں سے رشتہ مناکحت قائم کرتی تھیں اس لئے کئی نسلیں گزرنے پر بھی ان کی نسلی اور لسانی خصوصیات پہلے کی طرح برقرار تھیں۔
ناول میں یوں تو کردار دوران گفتگو کئی محاورے استعمال کرتے ہیں، بطور نمونہ دو یہاں درج ہیں، ماں کا پیٹ کمہار کا آوا کوئی گورا کوئی کالا، ایک توے کی روٹی کیا پتلی کیا موٹی۔ مشعلہ، مشعل کی لکڑی سے ذرا چھوٹی لکڑی کے ایک سرے پر پیتل کا گہرا پیالہ نصب کر دیتے تھے پھر مشعل جلانے کا سامان مثلا سرسوں کے تیل کی گاڑھی تلچھٹ یا روغن نفت میں تر کیا موٹا چیتھڑا اس میں یوں رکھتے تھے کہ پیالے کی کور اس کے لئے اوٹ کا کام کرتی تھی لہذا اس کا شعلہ ہوا سے بجھتا نہ تھا۔
کسی بھی ناول کی کامیابی موضوع، کردار، پلاٹ، واقعات، جزئیات اور منظر نگاری پر ہی منحصر نہیں ہوتی بلکہ حسن بیان اور طرز نگارش بھی شایان شان ہونا چاہیے۔ اس ناول میں زبان و بیان کا حسن، مکالمہ کی برجستگی، واقعات اور زبان کے ہم آہنگ ہونے کا گہرا احساس ہر صفحے پر نمایاں ہے۔ فاروقی نے زبان و بیان پر کافی توجہ صرف کی ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں مستعمل زبان کو ہی ناول میں جگہ دی ہے جو اس عہد میں رائج تھیں۔ انہوں نے خاص طور سے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ بیانیہ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہ آنے پائے جو اس دور میں مستعمل نہ تھا۔ عربی اور فارسی کے فقروں و محاوروں کی کثرت اس ناول میں دکھائی دیتی ہے جو اس وقت دہلی ونواح دہلی میں مستعمل تھے۔ فارسی اشعار کا مکالموں میں برمحل استعمال بھی حسن بیان کو مزید دلکشی عطا کرتا ہے۔
انہی خوبیوں کی وجہ سے قاری ناول کے مطالعے کے وقت کچھ زیادہ ہی لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا تعلق اکیسویں صدی سے ہے۔ غرضیکہ ”کئی چاند تھے سرآسمان“ تاریخ، تہذیب وتمدن، شعر و ادب، معاشرت کے آداب، عام زندگی کی جزئیات کے سچے اور زندہ بیان کی وجہ سے اردو ادب میں صرف اپنا ایک منفرد اور نمایاں مقام بنانے میں ہی کامیاب نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صدی سے کچھ زیادہ کی تہذیبی دستاویز بھی ہے۔
کہانی لکھنا اور وہ بھی کسی ناول کی صورت میں کوئی شمس الرحمن فاروقی سے سیکھے۔ یہ ناول اکیسویں صدی کا شاندار اردو ناول ہے۔
اشاعت اول: 13 جنوری 2020


