کئی چاند تھے سرِآسمان

برطانوی راج کے دنوں میں ہندوستان میں انگریز کی تعداد ایک بحث طلب سوال رہا ہے۔ کچھ محققین کے نزدیک انتہائی ضرورت کے وقت بھی ہندوستان کے تین سو ملین لوگوں کے لئے کبھی 20 ہزار سے زائد انگریز فوج اور دیگر ذمے داران نہیں بلائے گئے۔ عام حالات میں تین سے پانچ ہزار برطانوی فوج انڈیا میں ہوتی تھی۔ بقول شمس الرحمٰن فاروقی صفحہ نمبر 505 "کمپنی کی فوج میں کٹنے مرنے والے سب ہندی تھے۔ ” اس بات کا ثبوت نواب شمس الدین احمد والی فیروزپور کی پھانسی پر ممکنہ ہندومسلم ری ایکشن کے بارے میں کیے گئے اقدام سے لگایا جا سکتا ہے کہ "میرٹھ اور کول سے فوج پہلے ہی طلب کی جا چکی تھی، جن میں سو گورے اور باقی دیسی تھے۔ ” ایک اور پیراگراف ملاحظہ فرمائیے جو اس رات کی بابت ہے جس کی صبح نواب شمس الدین کو پھانسی ہونی تھی۔ "نہ صرف یہ کہ شمس الدین احمد کو اپنے خدام اور محافظین سے محروم کر دیا گیا، انگریزوں نے یہ حکم بھی راتوں رات گشت کرا دیا کہ شمس الدین احمد کا کوئی بھی ملازم یا قرابت دار اگر شہر میں گھومتا ہوا پایا جائے گا، خواہ وہ کسی بھی ضرورت یا مجبوری سے باہر نکلا ہو، تو اسے بے درنگ قید خانے بھیج دیا جائے گا۔ لہٰذا گھڑی بھر میں شہر دہلی ایسا ہو گیا گویا وہاں شمس الدین احمد کا کوئی حامی وناصر کبھی تھا ہی نہیں۔ "
"انگریز نے آ کر طور طریق رسم و رواج، اصول و فروع، تاریخ و افسانہ، سب کی شکل بدل دی تھی۔ انگریز نے اہل ہند کو باور کرانا شروع کر دیا تھا کہ اہل ہند جن باتوں کے دلدادہ ہیں اور جن خیالوں کی روشنی میں اپنا جادہٴ حیات ڈھونڈتے ہیں وہ سب باتیں اگر غلط نہیں تو ازکار رفتہ ہو چکی تھیں۔ ” تہذیبیں راتوں رات سورج کی طرح نہیں اُگتیں۔ وہ صدیوں کی کاوشوں، ریاضتوں اور ہنرمندیوں کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ تہذیبوں کا بننا اور بگڑنا کیسا ہوتا ہے۔ تہذیبیں ملیامیٹ کیونکر ہوتی ہیں۔ بادشاہیاں مٹنا کیسا ہوتا ہے۔ اپنے ہی وطن میں بے وطنی کے دُکھ سہنا کیا معنی رکھتا ہے اورحادثات، مصائب و سانحات کو، بے چارگی کے عالم میں یوں تسلسل سے ہوتے دیکھتے چلے جانا کیسا المیہ ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب صفحہ نمبر 637 پر لکھتے ہیں، "بعد کے لوگوں نے اسے انگریز کے غلبے کی برکت قرار دیا، یا اسے دلی کا آخری سنبھالا نام دیا، یا اسلامی تہذیب کی ابدی روشنی کا کرشمہ سمجھا، لیکن حقیقت بہرحال یہی تھی کہ بہادر شاہ ثانی کی دلی میں وہ سب کچھ تھا جو دنیا کے بڑے سے بڑے شہر میں اس وقت یکجا ملنا مشکل تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہر آباد، رعایا دلشاد، امیر اپنے حال میں مست، فقیر اپنی کھال میں مست۔ دلی صحیح معنوں میں بیت المعمور تھی۔ "
کہنے کو تو یہ وزیرخانم کی حرماں نصیبی کی ایک داستان ہے، ایسی داستان جس پر کہ فلک خود مائلِ تماشا ہو۔ اوراس بدنصیب ہستی کو اوجِ ثریا تک اُٹھا کر زمین پر بار بار پٹخنا گویا کہ مشغلۂ تقدیر ہو۔ شہر بے مثال دلی کے اجڑنے کی کتھا ہے، یا تہذیب ہندوستان کے زوال کا المیہ یا پھر نواب مرزا خان داغ دہلوی کی زندگی کا احوال، تربیت اور ان کے شاعرانہ عروج کی ادبی و سماجی تاریخ۔ جو کچھ بھی ہے اُداسی کے ایک بے نام رنگ میں ملفوف ہے۔ گویا کہ دو صدیوں کی تاریخ و تہذیب، وقار وتمکنت اورعروج و زوال سے لبریز داستانِ ہوش رُبا کاغذ پر منقش و مرکوز ہو گئی ہے۔ ہو سکتا ہے کل کو جو الفاظ ڈھونڈے سے لغات میں نہ ملیں وہ اس کتاب میں مل جائیں۔ اس ناول کو پڑھ کر احساس فروزاں ہوا کہ جہاں اردو زبان پیدا ہوئی اور پھلی پھولی وہاں کی سرزمین پہ اس کی جڑیں مذید گہری اور مضبوط ہوتی جارہی ہیں۔ مختلف علاقوں اور خطوں کی بولیوں کے لفظ اسے مزید رسیلا بنا رہے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم، کئی چاند تھے سرِآسمان کو ناقدین ادب نے کس معیار پر پرکھا ہے اور سر دست اس کا کیا مقام متعین کیا ہے۔ میری رائے میں یہ ناول "آگ کا دریا” کے بعد اردو ادب کا دوسرا معجزنما ناول ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی صدی ایک سے زیادہ جینئس کا بار نہیں اٹھا سکتی۔ شاید اسی طرح کسی بھی زبان کا بڑا ناول یا بڑا ادبی شاہکارجسے Sublime کہنا چاہیے، ایک صدی میں ایک ہی تخلیق ہوتا ہے۔ اگر بیسویں صدی میں اردو کا سب سے بڑا ناول "آگ کا دریا” ہے تو گمان غالب ہے کہ اکیسویں صدی کا عظیم ترین ناول "کئی چاند تھے سرِآسمان” کہلائے گا۔ یہ ناول ادب عالیہ کا اٹوٹ انگ بن کر ہمیشہ زندہ رہے گا اور اردو زبان و ادب ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ دو اشعار از نواب مرزا خان داغ دہلوی:
سمجھا ہی نہیں کوئی کہ دنیا کیا ہے
کہتا ہی نہیں کوئی کہ دنیا کیا ہے
افلاک پہیلیاں بجھاتے ہی رہے
بوجھا ہی نہیں کوئی کہ دنیا کیا ہے
(اشاعت اول: 3 فروری 2020)

