کئی چاند تھے سرِآسمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد بڈگامی تھا۔ محمد یعقوب اور محمد داوٴد کے والد کا نام محمد یحیٰی اور دادا کا نام مخصوص اللہ تھا جو میاں مخصوص اللہ مرقع نگار کہلاتے تھے۔ ان کے اصل نام اور تاریخ پیدائش کا ذکر ناول میں نہیں ہے۔ لیکن بقول مصنف میاں مخصوص اللہ، محمد روشن اختر شاہ بہادر غازی فردوس آرام گاہ کے عہد مبارک و باسعادت و جنت سند کے زمانے (1719۔ 1748) میں کشن گڈھ راج کے ایک چھوٹے سے گاوٴں “ہندالولی کا پروا” میں آباد تھے اس گاوٴں کا نام کثرت استعمال سے “ہندل پروا” رہ گیا تھا، جس کا اب نام ونشان تک نہیں۔ بس اغلب ہے کہ میاں مخصوص اللہ غیر مسلم تھے اور ان کا آبائی نام کچھ اور تھا۔ الگ تھلگ سے رہتے تھے اور سارا گاوٴں انہیں میاں یا بابا کہہ کر پکارتا۔ یہ وہی مصور تھے جنہوں نے وہ معرکتہ الارا تصویر بنائی تھی، جسے دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔

اکثریت کے خیال میں وہ تصویر بنی ٹھنی کی تھی۔ “سترہویں صدی کے ایک والی کشن گڈھ کی محبوب ملکہ کی تصویر” بنی ٹھنی “کی تصویر کہلاتی ہے۔ بعض لوگ اسے کشن گڈھ کی رادھا بھی کہتے ہیں۔ ” وہ تصویر ان کے حجرے کے بڑے طاق پرسجا دی گئی تھی۔ تصویر کیا تھی آئینے میں پری تھی۔ جسے مہاراول کی چھوٹی بیٹی “من موہنی” سے ملایا گیا۔

مگر اب کون جانے کہ وہ تصویر تصوراتی تھی یا کہ نہیں؟ “بنی ٹھنی” کی تھی یا “من موہنی” کی؟ حقیقت جو بھی تھی، ایک نوجوان لڑکی کی جان یوں لے گئی کہ خاندان کی پرم پرا، آن بان شان، غیرت، پرکھوں اور قبیلے کی عزت اور رسوائی سے گندھے خلط ملظ رسوم و رواج کی تیز دھار تلوار سے زمین دار مہاراول گجندر پتی سنگھ نے آن واحد میں اپنی تیرہ چودہ برس کی بیٹی، من موہنی کا تن سر سے جدا کر کے، گاوٴں والوں کو گاوٴں خالی کرنے کا حکم دے دیا۔

ہجرت پر مجبور، جگہ جگہ رکتا رکاتا، ٹھہرتا، رخت سفر کھولتا باندھتا “یہ قافلہ جب بارہ مولا پہنچا تب ہندل پروا کے بہت کم لوگ اس قافلے میں بچے تھے کہ بعضوں نے راستے میں مختلف مقام ومستقر اختیار کر لیا تھا۔ تب تک میاں مخصوص اللہ نہ صرف راجپوتانی بولی کے بہت سے الفاظ بلکہ چند ہی مہینوں میں وہ” کشن گڈھ قلم کی مصوری کے رنگ بنانا بھی بھول گیا تھا۔ “

“بالآخر مخصوص اللہ نے کاغذ اور لکڑی پر نقش و نگار بنانے اور مینا کاری کا فن سیکھ لیا اور دو ہی ایک برس میں وہ ان ہنرمندیوں کا مردِ میدان مانا جانے لگا۔ ” میاں مخصوص اللہ چتیرا اب مخصوص میاں نقاش بن گیا تھا۔ اور سب اسے فرزند کشمیر سمجھنے لگے۔ اس نے بڈگام میں رہنے والی ایک کشمیری لڑکی سلیمہ سے شادی کر لی اور وہیں منتقل ہو گیا۔ بہت کچھ وہاں تھا مگر بنی ٹھنی یا من موہنی کہاں تھی؟

ہاتھی دانت کا رواج کشن گڈھ میں تھا نہیں اور کشمیر میں جو تھوڑا بہت کانگڑا قلم رائج تھا وہ نہ ہاتھی دان کے خطوط کی باریکیوں کا متحمل ہو سکتا تھا اور نہ کشن گڈھ کی بڑی تقطیع اس کو راس آ سکتی تھی۔ پھر بھی مخصوص اللہ نقاش نے خدا جانے کس طرح ہاتھی دانت پر کانگڑا اور کشن گڈھ کے امتزاج سے ایک تصویربنا ڈالی اور اسے اپنی کارگاہ کے طاق میں آویزاں کر دیا۔ تصویر بنی ٹھنی کی ہی تھی یا کسی اور کی، کون جانے؟ کسی نے کبھی مخصوص اللہ سے کشن گڈھ کے حالات معلوم کرنے چاہے یا ہاتھی دانت پر بنی اس انوکھی شبیہ کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہا تو وہ بات کو صاف اڑا جاتا، اور بعض اوقات یہ بھی لگتا کہ ان موضوعات پر لب کشائی، اپنی یا کسی کی بھی اسے گوارا نہیں۔

پھر ایک دن مخصوص اللہ نے اعلان کر دیا کہ یہ تیل والی نقاشی مجھے بالکل نہیں بھاتی۔ تین دن اپنے گھر میں بے سدھ پڑا رہ کر چوتھی صبح مخصوص اللہ اذانِ فجر کے وقت اُٹھا۔ تین اشرفیاں فرخ سیر بیوی کے ہاتھ پر رکھیں اور “یا شیخ العالم” پکارتا گھر سے نکلا۔ کوئی غیبی طاقت اسے اُڑا کر لے جاتی رہی۔ زادِسفر کچھ نہ تھا۔ بس اک بے قراری تھی جو سدھ بدھ بھلائے دیتی تھی۔

بڈگام کی بڑی مسجد میں ایک بزرگ اسے کھانے پر لے گئے۔ “وہاں بادشاہوں جیسا اعتماد اور اولیا اللہ جیسی گہرائی والے بزرگ” نے تعلیمات کا آغاز کچھ یوں کیا کہ “تعلیم کے ہر ٹکڑے کو” الچ “کہتے ہیں اور اس کی ایک سطر کو وار کہتے ہیں”۔ اس تعلیم میں گہری اور گوڑھی علامتیں تھیں۔ رنگوں کے لامتناہی سلسلے اور بے حساب علم تھا۔ “مخصوص اللہ منہ پھاڑے ان بزرگ کو تک رہا تھا۔ یہ تو گویا کوئی خفیہ زبان تھی، جس کو جاننے کے لئے ریاضی، نقاشی، مصوری، رنگریزی اور خدا جانے اور کیا کیا قوتیں درکار تھیں۔ “

“تم تعلیم سیکھو گے۔ ” ان بزرگ نے مخصوص اللہ کو حیص بیص کرتے دیکھا تو اسے حکم دیا۔ پھر میاں مخصوص اللہ نقاش پر تعلیم نویسی اور قالین بافی کے ششدر کر دینے والے اسرار کھلتے ہیں۔ آٹھ سال کی محنتِ شاقہ کے بعد مخصوص اللہ واپس بارہ مولا اس وقت آیا، جب اس کی فنکاری کے نمونے ہندوستان اور دکن اور ایران اور کاشان تک پھیل چکے تھے۔ احمد شاہ غازی کو دسادہٴ مملکت پر پانچویں سال تھا، جب مخصوص اللہ کو اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا۔ بچے کا نام یحییٰ رکھا گیا۔ یحییٰ کی پیدائش اور مخصوص اللہ کی موت کم و بیش ایک ساتھ ہوئی۔ لیکن کوئی یہ نہ جان سکا نہ سمجھ کہ وہ کس طرح مرا “۔ بلوط کے تنے سے ٹیک لگائے، دھڑ تک برف سے ڈھکا ہوا۔ ٹھنڈی موت۔ مٹھی سے ہڈی دانت جیسا موٹا کاغذ بمشکل نکالا گیا۔ ہڈی پر بنی ٹھنی کی تصویر نقش تھی مگر” کشمیر کے رہنے والے اسے کیسے پہچانتے؟ “

پانچ برس کے محمد یحییٰ نے ماں کو فیصلہ سنا دیا کہ بے شک ابا ملک ہند سے آئے تھے مگرمیں یہیں رہوں گا۔ محمد یحییٰ نے تعلیم نویسی میں نام کمانے کے ساتھ ساتھ فارسی بھی خوب پڑھی، عربی اور ریاضی میں بھی کچھ شد بد حاصل کی۔ سلیمہ نے اٹھارہ برس کے یحییٰ کی شادی بشیرالنساء سے کروائی اور ان کے ہاں دو جڑواں بیٹے پیدا ہوئے جن کے نام محمد داوٴد اور محمد یعقوب رکھے گئے۔ بڑے ہو کر داوٴد اور یعقوب نے ریشم اور زعفران اور شہد کی تجارت کا کام کیا اور بڈگام کی نسبت سے دونوں بڈگامی کہلائے۔ مگر تعلیم نویسی، نقاشی، چوب تراشی اور قالین بافی جیسے فنون سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ہاں دونوں نے اچھے گلے پائے اور لل دید کا کشمیری عارفانہ کلام اور مُلّا طاہر کی فارسی غزلیں مہارت اور ذوق و شوق سے گاتے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *