سڈنی شیلڈن: خود کشی سے مقبول ترین فکشن رائٹر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے کردار کی انٹری کا انتظار کرتے اور اس کی ہنسی سے بد مزا ہوتے سب آڈیٹوریم چھوڑ کر جانے لگے۔ حتٰی کہ سڈنی اپنی بے وقت ہنسی، خوابوں کی کرچیوں اور ڈوب مرنے کی خواہش کے ساتھ تنہا رہ گیا۔ غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ غلط فیصلے بھی، کم عقلی بھی آڑے آتی ہے اور کم ہمتی بھی، ٹھوکریں بھی لگتی ہیں اور دامن سے ناکامی بھی بار بار لپٹتی ہے مگر زندگی کی کتاب کے صفحات ہمت سے الٹتے رہنا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔

اوٹو اور نیٹیلی کے غیر مفاہمتی رویے اور روز بہ روز کے بد لحاظ جھگڑوں نے سڈنی کے بچپن اور جوانی کو بدصورت کر رکھا تھا۔ معاشی بدحالی گھر کی چار دیواری سے ہی نہیں گھر والوں کے تعلقات کی بدمزگی اور اعصاب کو شل کرتی غربت، شدید خواہش کے باوجود تعلیم سے دوری سڈنی کے خوب صورت خوابوں کی دنیا کے لیے خاصی حوصلہ شکن تھی۔ زندگی کی بگڑتی سنبھلتی گرتی پڑتی صورت حال اس کے رویوں کو بھی متزلزل اور بے یقینی کی کیفیت میں ڈھالتی جاتی تھی۔

پل پل بدلتے مزاجوں میں اس کی ذہانت کے علاوہ اس کے مقدر کے کانٹوں کا بھی حصہ تھا۔ ایک پل میں ولولے بھرے دل میں کامیابی کے ترانے بجنے لگتے تو دوسرا پل خوابوں کی زمینوں پر زلزلے برپا کردیتا۔ شخصی کمزوریاں سنبھلنے لگتیں تو معاشی کمزوریاں ہمت توڑ دیتیں۔ مشکلوں سی مشکلیں تھیں اور تکلیفوں سی تکلیفیں تھیں۔

کسی عقلمند نے کہا ہے کہ مصنف بننے کے لیے صرف ایک کاغذ قلم اور ایک ناکام خاندان چاہیے اور بدقسمتی یا خوش قسمتی کے ساتھ یہ لوازمات اپنی وسعتوں کے ساتھ اس کے پاس موجود تھے۔ تبھی صفحوں کا الٹنا دنوں کو بدلتا دکھائی نہ دیتا تھا اور اوٹو کے لفظ ایک بے کار تسلی لگتے تھے۔

معیشت کی گاڑی کو دھکا دینے اور کالج کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے سڈنی کو خود میدان میں نکلنا پڑا۔ سڈنی نے ایک ہوٹل میں ہینگ مین کی معمولی سی نوکری تین ڈالر فی رات کے معاوضے پر قبول کی۔ اس آمدی سے اس کا اسکول کا خرچ نکلنے لگا۔ تین بچے سہ پہر اسکول سے واپسی پر وہ ہوٹل کے لیے بس میں بیٹھ جاتا۔ جہاں سے واپسی کبھی آدھی رات اور کبھی صبح صادق کے قریب ممکن ہوتی اور اسے اگلے دن کے اسکول اور نوکری کے بغیر آرام کے نکلنا پڑتا۔

غربت اس کے دامن سے لپٹی تھی مگر کچھ چیزیں اس کی طبیعت کا خاصا تھیں، جس کو قدرت نے کوٹ کوٹ کر اس میں بھر رکھا تھا جیسے ایک، اس کی سخت محنت کی عادت۔ سڈنی ہمیشہ اپنا ہر کام آرام کی لذت اٹھائے بغیر پورا کرتا خواہ اس کے رستے میں کیسی ہی مشکلات اور کتنی ہی ناممکن رکاوٹیں کیوں نہ آ جائیں اور دوسری، اس کا مواقع کے لیے کھلا دامن ماسوائے چند ایک اس کے ذہنی دباؤ کی زد میں آنے والے لمحات کے، وہ کبھی کسی کام کی پیشکش کو انکار نہ کرتا چاہے وہ کتنی ہی حقیر یا ناممکن کیوں نہ ہو اور نہ کسی بھی بہانے یا عذر کو اپنے اور کام کے بیچ مداخلت کرنے دیتا۔ وہ ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہونا پسند نہیں کرتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کی زندگی میں اس کے بعد دنیا اسے جانے اور یاد رکھے۔ سڈنی کو کوکا کولا بننا پسند نہ تھا ہزاروں سا ایک! وہ ہزاروں میں ایک ہونا چاہتا تھا۔

ایک دن تنہائی نے کچھ موسیقی کی لہروں کو جنم دیا جن کو اس نے ”میری خاموش ہستی“ کے لفظوں میں ڈھال لیا۔ اس گانے کو ہوٹل کے آرکسٹرا میوزیشن کو دکھانے کی ہمت کی۔ ہینگ بوائے کا یہ گانا ہوٹل کے آرکسٹرا سے سارے امریکہ میں سنا گیا اور ٹی وی چینلز پر بہت عرصہ بجتا رہا۔

”اگر میں ایک گانا ایسا لکھ سکتا ہوں، جو ایک بڑے موسیقار کو پسند آ جائے تو میں ایک درجن بھی لکھ سکتا ہوں۔“

اور سڈنی نے ایک درجن گانے ایک موسیقار بننے کے لئے تیار کیے اور نیویارک کے لئے روانہ ہوا۔

ایک طرف گھر کی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس اور دوسری طرف خوب صورت مستقبل کے رنگین سپنے۔ فیصلہ سڈنی کرتا تو شاید نیویارک جانا ملتوی کر کے ان تین چھوٹی نوکریوں میں جتا رہتا، جو ان کے گھر کے لیے بہت ضروری تھیں۔ ایسے وقت میں محلوں کے خواب دیکھنے والی نیٹیلی کو سڈنی کے ممکنہ سہانے مستقبل کی صورت رنگین خوابوں نے مرعوب کیا اور وہی سڈنی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

”ڈاک سے ملنے والے گانوں پر کوئی نظر بھی نہ ڈالے گا۔“

بس پر سوار چار دن کا سفر طے کر کے سڈنی نیویارک پہنچا تو اسے لگا کہ وہ ایک نئی دنیا میں آ گیا ہے۔ نیویارک کی بلند و بالا عمارتوں اور پررونق بازاروں کے سامنے شکاگو قدیم زمانہ اور بدرنگ لگنے لگا۔ دنیا بھر کے بہترین گلوکاروں اور موسیقاروں کے مرکز نیویارک میں قیام کی خاطر ایک تھیٹر میں چودہ ڈالر فی ہفتہ کے ساتھ دربان کی نوکری حاصل کی۔ نیویارک نے سڈنی کو قبولیت کی سند بخش دی۔ شام اور رات میں تھیٹر کی ڈیوٹی کے ساتھ دنیا کی شہرۂ آفاق فلمیں دیکھتا اور دن بھر اپنے گانے لیے اسٹوڈیوز کے چکر لگاتا مگر کسی اسٹوڈیو کے رسیپشن سے آگے نہ جا سکا۔ آہستہ آہستہ ان چکروں سے امید اور حوصلہ ٹوٹتا چلا گیا اور مایوسی بڑھتی گئی۔ کسی لمحے دل مستقبل کے دل نشین سپنے دیکھنے لگتا اور دوسرے ہی لمحے نا امیدی کے ڈھیر پر جا بیٹھتا۔ مزاج اور خیالات کے اتار چڑھاؤ میں ایک دن ایک اسٹوڈیو مینیجر کی منت سماجت کرتے ایک مشہور گلوکار میکس رچ اس کی طرف متوجہ ہوا۔

”یہ تو بہترین نغمہ ہے۔“

نغمہ پسند کر کے اس نے سڈنی کو اگلے دن اپنے تمام نغمات کے ساتھ اسٹوڈیو آنے کو کہا۔ بالآخر سڈنی کی زندگی کا وہ خاص دن آ گیا تھا جس کے حصول کی جدوجہد میں وہ بہت دنوں سے مصروف تھا۔ قسمت کی دیوی اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ ساری رات مستقبل کے سہانے سپنوں نے سڈنی کو سونے نہ دیا اور صبح ہوتے ہی اس کا جوش بھرا حوصلہ کالے بادلوں کی زد میں آ گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *