سڈنی شیلڈن: خود کشی سے مقبول ترین فکشن رائٹر تک


1992: American author and playwright Sidney Sheldon smiling. (Photo by Frank Capri/Hulton Archive/Getty Images)

جنگ عظیم دوم کے دوران جب فوج میں ایمرجنسی بھرتیوں کا آغاز ہوا تو جہاز اڑانے کے شوق نے سڈنی کو بھی ائر فورس میں شمولیت اختیار کرنے پر مجبور کر دیا اور وہ اپنا کاغذ قلم لپیٹ کر ائر فورس کی ٹرینگ کے لیے چلا گیا۔ یہ شعبہ اس کے مقدر میں نہ تھا اس لیے سڈنی کامیاب ٹریننگ، بھرپور عزم اور اڑنے کے جنون کے باوجود جنگی پرواز کے لیے نا اہل قرار پایا۔ ائر فورس سے برخاستگی سے پہلے اس کے لکھنے کے ہنر کو کامیابیاں ملنے کا آغاز ہوا۔

نیویارک میں ائر فورس سے چھٹیوں کے دوران براڈوے کا ایک شو لکھنے کی آفر ہوئی، جسے اس نے اپنی عادت کے مطابق فوراً قبول کر لیا۔ ائر فورس کی نوکری اور کم مہیا وقت کی وجہ سے ایک دوست کو بھی لکھنے میں ساتھ شریک کیا۔ جسمانی نقص کی بنا پر ائر فورس سے بالآخر برخاست ہونے سے پہلے ہی سڈنی ایک وقت میں تین ڈرامے حاصل کرچکا تھا۔

چار اگست 1943 ء کو سڈنی کا پہلا خوب صورت اور مدھر ڈرامہ The merry widow کا آغاز ہوا، جس نے ابتداء سے ہی اخباروں اور رسالوں میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ ایک شاندار حیات نو اور ہنستی ہوئی پیار کہانی کہلانے والا یہ ڈرامہ جس کو قبول کرتے سڈنی کا دل خوف سے ڈوبنے لگا تھا اور دماغ خود کو یہ سمجھانے میں مصروف عمل ہوگیا تھا کہ وہ اس کام کا اہل نہیں، تین سال تک سٹیج پر شہرت اور کامیابی سمیٹتا رہا۔ یکم جنوری 1944 ء میں سڈنی کا دوسرا ڈرامہ Jackpot پیش کیا گیا۔

جو فریڈلی فیکٹری کا ایک اور چھکا ثابت ہوا۔ دو سپرہٹ ڈرامے کرنے کے بعد اب سڈنی منتظر تھا کہ تیسرا اور چوتھا ڈرامہ بھی بلاک بسٹر ثابت ہو مگر آنکھوں کو خیرہ کرنے والے ملبوسات، بہترین اسکرپٹ اور مسحورکن رقص سے سجایا ڈرامہ ایک بدترین فلاپ ثابت ہوا۔ بعد ازاں چوتھا ڈرامہ بھی کوئی خاص جھنڈے نہ گاڑ سکا، براڈوے میں دو بلاک بسٹر ڈراموں کے بعد دو فلاپ ڈراموں نے سڈنی کو پھر انہیں تاریک احساسات میں دھکیل دیا اور اسے لگنے لگا کہ کامیابی قسمت کا ایک چھکا تھی ورنہ اس کے ہاتھ میں اہلیت اور قابلیت نام کا کوئی ہنر نہیں۔ دل برداشتہ ہو کر سڈنی نے ہالی ووڈ کی طرف کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

زردی مائل کاغذات کا ایک دستہ اور قلم لیے سڈنی ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور خیالات پیدا کرنے، لکھنے اور صفحات پر اتارنے کی کوشش میں مگن ہوگیا۔ ناکامیوں کا بوجھ دماغ کو لاچار کیے دیتا تھا مگر کاغذ پر کاغذ پھاڑتے اور خیال پر خیال پرکھتے بالآخر سڈنی دو گھنٹوں میں تیس صفحات کا بنیادی مسودہ تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ Suddenly it ’s spring کا مسودہ ہاتھوں میں لیے سڈنی لاس اینجلس کے لیے روانہ ہوا۔

ہالی ووڈ میں دوسری بار قدم دھرتے صحیح معنوں میں قسمت کی دیوی سڈنی شیلڈن پر جی جان سے ریجھ گئی۔ سڈنی کے مشہور ڈراموں کی شہرت سڈنی سے پہلے ہالی ووڈ پہنچ کر اس کو شناخت کے مرحلے سے گزار چکی تھی۔ ہالی ووڈ کے پچھلے دورے میں چودہ ڈالر فی ہفتہ کمانے والے سڈنی کو پہلے ہی روز ایک ہزار ڈالر فی ہفتہ پر اسکرپٹ لکھنے کی آفر ہوئی، جسے سڈنی نے بڑی کامیابی سے پورا کیا اور تیس صفحات کا مسودہ جو دو گھنٹے میں تیار کر کے وہ ساتھ لایا تھا۔ پینتیس ہزار ڈالر میں سیلزنیک کے ہاتھ بکا جس کے لیے سڈنی نے کیرئیر کی شروعات میں سب سے پہلا اور مشکل خلاصہ چار گھنٹے میں مکمل کیا تھا اور دس ڈالر کا لفافہ دے کر اسے اسٹوڈیو کے دروازے سے لوٹا دیا گیا تھا۔ بہترین سٹار کاسٹ کے ساتھ پیش کی گئی۔ یہ کامیڈی ”بیچلر اینڈ دی بوبی سکسر“ کے نام سے دنیا کے سب سے بڑے تھیٹر radio city music میں پیش کی گئی۔ سات ہفتوں تک پیش ہونے والی یہ فلم سڈنی کا بہت بڑا شاہکار، ریکارڈ ساز اور تاریخ کی سب سے زیادہ منافع بخش فلم ثابت ہوئی۔ اخباروں اور رسالوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ فلم کو باکس آفس بلو ربن ملا اور سڈنی شیلڈن کو آسکر!

***  ***

سڈنی جانتا تھا کہ اس کے خواب حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں، اب اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ ہالی ووڈ میں کامیابیاں ایلی ویٹر کی طرح ہر وقت اوپر نیچے گردش رہتی ہیں مگر ہنر یہ ہے کہ یہ ایلی ویٹر نیچے جا کر نہ چھوڑا جائے۔

”میرے لیے ایلی ویٹر اب اوپر تھا اور میں دنیا میں سب سے اوپر تھا۔“

اپنا شاہکار پیش کرنے اور آسکر حاصل کرنے کے بعد سڈنی کے لیے کامیابی کے سب در کھل چکے تھے۔ صفحات الٹتے الٹتے وہ معجزوں سے بھرے اوراق پر پہنچ چکا تھا۔ جو کامیابی کے چراغوں اور شہرت کی خوش بو سے مہک رہے تھے۔

کامیابیوں کے عروج کو معجزہ قرار دینے والے سڈنی شیلڈن کی ہر کتاب نیویارک ٹائمز بیسٹ سیلر رہی اور اکیاون زبانوں میں ترجمہ ہو کر ایک سو اسی سے زیادہ ملکوں میں بانٹی گئی۔ سڈنی ان چند ایک لکھاریوں میں سے رہا جس کی کہانیاں بڑی تعداد میں ڈرامہ اور فلموں میں ڈھالی گئیں۔ ایک آسکر اور ٹونی ایوارڈ جیتنے والے سڈنی نے دوسو ٹی وی ڈراموں کے اسکرپٹ لکھے۔ پچیس بڑی فلمیں، چھے براڈوے، ڈرامے اور اٹھارہ ناولز لکھے جن کی تین سو ملین کاپیاں بک چکی ہیں اور وہ دنیا کا ساتواں بہترین کہانی کار سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ معجزہ ہے تو اس کے پیچھے سڈنی کی ایک دہائی کی محنت، حوصلے کی مشقت اور لگن کی آزمائش برابر کی شریک ہے۔

(صوفیہ کاشف کی کتاب ”گہر ہونے تک“ میں سے انتخاب)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4