ت سے ترکی۔ ش سے شیم لیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیم لیس ایک امریکن ٹی وی کامیڈی ڈرامہ ہے جس میں ایک چھ بچوں کے باپ کو شرابی اور خاندانی زندگی سے لاپروا فرد دکھایا گیا ہے، بچوں کی ماں بھی ایک ایسی عورت ہے جو گھریلو زندگی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری کے بجائے اپنی دنیا میں مگن رہتی ہے، اکثر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

ڈرامہ سن دو ہزار گیارہ سے آن اسکرین ہے، آخری سیزن بوجوہ وبائی صورتحال شوٹ نہیں ہو سکا ہے، ڈرامے کے تین سیزن دیکھے ہوئے ہیں مزید بھی دیکھوں گی، ڈرامے میں شرابی باپ اور بے پرواہ ماں کی ذمہ داریاں ان کی نوجوان بیٹی اٹھا رہی ہے اپنے پانچ بہن بھائیوں کو مشکلات کے ساتھ پال رہی ہے، امریکن فیملی ڈراموں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بڑی خوبی کے ساتھ انسانی نفسیاتی و خانگی برتاؤ دکھاتے ہیں جب ان کے معاشرے میں فیملی نظام ٹوٹنے لگتا ہے تو ستر کی دہائی میں وہ بولڈ اینڈ بیوٹی فل جیسا ڈرامہ بنا کر خاندان کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔

جب سماج میں سیکس یعنی جنس اور جنسی تعلقات، مرد و عورت کے متعلق باہمی غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں تو وہ نوے کی دہائی میں ”سیکس اینڈ دا سٹی“ جیسا ڈرامہ بناتے ہیں اور عوام میں جنسی تعلقات کے بارے مہذب آگاہی پھیلاتے ہیں۔ نوجوانوں میں خاندان کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے شیم لیس ایک اچھا ڈرامہ ہے گو کہ مجھے کہیں کہیں مزاح بے تکا محسوس ہوا، لیکن وہ امریکن سماج کے حساب سے ہے۔

اسی ڈرامے کو کاپی کیا ہے ترکی نے۔

میں اس ڈرامے کو اردو ترجمے کے ساتھ پاکستانی چینل اردو ون پر ”ہماری کہانی“ کے عنوان سے دیکھ رہی ہوں روز رات نو بجے۔ اور صرف یہی ڈرامہ باقاعدگی سے دیکھ رہی ہوں۔ ڈرامہ بلا، شبہ اچھا ہے ڈبنگ بھی اچھی کی ہے۔

ترکی ڈرامے کی بھی بالکل وہی کہانی ہے جو امریکن ڈرامے شیم لیس کی ہے، لیکن ترکی ڈرامے میں مزاح نظر نہیں آتا بلکہ سنجیدگی سے ڈرامہ بنایا گیا، خاندان کی اہمیت کو دکھایا گیا ہے، خاندان کیسے قائم رکھنا ہے وہ بتایا گیا ہے۔ نوجوان لڑکی اور اس کا بوائے فرینڈ بہت محبت و محنت کے ساتھ بچوں کو پال رہے ہیں۔ والدین کی بے حسی اور بچوں کی غربت پر کئی سین ایسے فلمائے گئے ہیں کہ افسردگی طاری ہو جاتی ہے۔

ڈرامہ اب کافی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کیونکہ ڈرامے میں مافیا کا ایک غنڈہ بھی داخل ہو گیا ہے جو ہیروئن کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ غنڈے کا دل بھی خاندان بنانے کو چاہنے لگا ہے وہ زندگی میں اچانک در آنے والی اس غریب و خوددار لڑکی کی عزت کرنے پر مجبور ہے اور اس کے محبوب بوائے فرینڈ سے جیلس ہونے کے باوجود مصافحہ بھی کر رہا ہے۔

ایک برے فرد کا دل زندگی کی حقیقی رنگینیوں سے آشنا ہو چکا ہے۔ گھر بنانے کی فطری خواہش اس کے اندر انگڑائی لے کر بیدار ہو گئی ہے۔

ترکی کو اس ڈرامے کو اپنی زبان و قوم کے لئے بنانے کی ضرورت کیوں آئی، اس کی وجہ بہت سادہ ہے کہ انسانی نفسیات دنیا کے ہر خطے میں ایک جیسی ہے، خاندانی نظام ٹوٹنے نہ دینا باشعور امریکیوں کی کوشش ہے، یہی کوشش ترکی کے مہذب افراد بھی کرنا چاہتے ہیں، وہ مذہب سے زیادہ انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ شدید قوم پرست بھی ہیں، چونکہ ترکی کی سیر کر چکی ہوں، اور اچھی طرح مشاہدے کے بعد سمجھ سکی ہوں کہ دنیا کے گلوبل ولیج بن جانے کے بعد انسانی برتاؤ میں تبدیلیاں آئیں لیکن ان تبدیلیوں پر شدت پسندانہ بحث کے بجائے انہوں نے گلوبل طرز زندگی اپنا لیا اور اپنے عوام کو بھی ان کی ریاست اور میڈیا یہی سکھا رہا ہے جو کہ عین انسانی فطرت کے مطابق ہے لگے ہاتھوں وہ ایک تاریخی ڈرامہ بھی بنا کر اپنے نوجوانوں کو اپنی تاریخ بھی گلیمرائز کر کے دکھاتے رہتے ہیں۔

ہمارے یہاں بد قسمتی سے نہ ایسا میڈ یا ہے نہ ہی ریا ست کے پاس وسائل اور نہ ہمارے عوام ایسے ڈرامے قبول کریں گے۔ ہم رائٹ لیفٹ کے چکر میں پھنسے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ ترکی کے مقابلے ہمارا الیکٹرانک میڈیا تو بالکل ہی گاؤدی ہے۔ اور اب پرنٹ میڈیا بھی اسی گاؤدی پن کے نقش قدم پر ہے۔

دنیا بھر میں انسانی رویوں پر مختلف مہمات چلائی جاتی ہیں فلمیں و ڈرامے بنتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے خطے کی صدیوں پرانی غیر انسانی رسموں یا پھر دوسرے خطے سے ہمارے یہاں در آنے والی نام نہاد روایتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ ہر مثبت بات پر منفی مباحث ہمارے سماج کا حصہ ہیں۔

بین الاقوامی سطح پر چلائی جانے والی مہمات ہمارے خطے میں آکر ہمارے خطے کے حساب سے بدل جاتی ہیں۔ خطے کی شدت پسندی کا جواب شدت پسندی سے نہیں بلکہ ترکی کے اصلی لبرل و سیکولر دانشوروں کی طرح حکمت و دانشمندی کے ساتھ دینا سیکھنا ہوگا۔

ہمارے یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں جنسی آزادی ہونی چاہیے کیا آپ ”سیکس اینڈ دا سٹی“ جیسا، ڈرامہ بنا کر اپنے لوگوں کو سکھا سکتے ہیں کہ مہذب جنسی برتاؤ اور جنسی تعلقات کیسے رکھے جا سکتے ہیں کہ نہ اپنی زندگی خراب ہو نہ دوسرے کی، ہم تو اپنے ڈراموں میں میاں بیوی کے جسمانی تعلقات پر بات نہیں کر سکتے جب کہ ہمارے سماج کی اس وقت اشد ضرورت یہی ہے کیونکہ شادی کا ادارہ کمزور ہو رہا ہے، سسرالی جھگڑوں کے علا وہ خوابگاہی جھگڑے بھی شادیاں ٹوٹنے کا سبب ہیں۔

کیا ہم شیم لیس جیسا ڈرامہ بنا کر خاندانی نظام کی اہمیت بتا سکتے ہیں؟ یا برٹش ٹی وی شو ”ڈاؤن ٹاؤن ایبے“ جیسا ڈرامہ بنا کر اپنے لوگوں کو اپنی تاریخی و تہذیبی اغلاط سے سبق سیکھنا سکھا سکتے ہیں؟ سماج میں مثبت تبدیلیوں کے لئے فنون لطیفہ سے مہذب انداز میں مدد لے کر کام کرنا ہی ہمارے سماج کی بقا کا ضامن ہے۔

Latest posts by مطربہ شیخ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply