خوشونت سنگھ اور ڈیفنس اتھارٹی کراچی کا اتوار بازار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیفنس کراچی کے فیز آٹھ میں دو سال پہلے تک ایک پررونق اتوار بازار لگا کرتا تھا۔ اب نہیں لگتا۔ بازار کا ٹھیکیدار بے ایمان تھا۔ آپ تو جانتے ہیں سویلین کی بے ایمانی خود سویلین سے برداشت نہیں ہوتی۔ دوسرے اسے کیوں کر چپ چاپ پی جائیں گے۔

ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی کے مجاز افسران کہنے کو انجئنیرنگ کور کے جوان ہی سہی مگر شیر کا بچہ بھی آخر شیر ہی ہوتا ہے۔ سو عالی مقام مالک اراضی سخت گیر و نازک مزاج نکلے۔ خالصتاً عسکری نقطہ نگاہ رکھنے والے۔

If you are not with us , you are against us.

(ہم اس کا شاعرانہ ترجمہ احمد فراز کے اس مصرعے سے کیے دیتے ہیں کہ “جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں”)۔

 جب یہ ہفتہ وار بازار سجا کرتا تھا تویہاں دور دراز سے بھی لوگ آکر خریداری کرلیتے تھے۔ جسمانی لذتوں سے آسودہ اتوار کے برنچ کے بعد قرب و جوار کے مکین۔ مختلف عمروں اور اقسام کے معشوق اور عاشق جو عبائے کو قبائے عصمت اور موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی فربہ اندام کو کرینا کپور سمجھتے تھے۔ ہم سے بے لطف و کرم کو بھی اس انبوہ ٓاوارگاں میں شامل کرلیں جن سے غالب پوچھتے مر گئے کہ

کریدتے ہوئے جو اب راکھ جستجو کیا ہے

اس ہفتہ وار ہنگام خرید و فروخت، کہ اتوار بازار کہیں جسے، سے تین بڑے فوائد تھے۔ اوّل تو بہت سے marginal -income groups  سے جڑے لوگوں کا مہنگائی کے اس دور پر آشوب میں ہفتے بھر کے لیے اس اضافی انکم کی وجہ سے دال گوشت روٹی کا بندوبست ہو جاتا تھا۔

 دوم یہ کہ فیملی کی تفریح کا اچھا سامان تھا۔ لوگ دور دراز سے آتے تھے۔ سہ پہر تک وہاں گھوم پھر کر پٹھان دکانداروں کی جھڑکیاں سن کر سستا کھانا کھا لیتے تھے۔ ان میں کچھ نوجوانان ملت ایسے بھی ہوتے تھے جو شام کو سمندر کی لہریں گن کر ڈوبتے سورج اور ہرجائی چاند کو دیکھ کر اس کا موازنہ اپنی کراچی میں باہر سے لائی ہوئی دیہاتی رفیق حیات، یا اسی دیار سے ملنے والی غیر منکوحہ دوست کے حسن جہاں تاب سے کرتے۔ اسی وارفتگی اور بے اختیاری میں اس کو کبھی ایشوریا رائے تو کبھی سیلنا گومز سے ملاتے تھے (اس موازنہ انیس و دبیر میں فیڈرل بی ایریا اور لیاری کے دل پھینک دل کے بڑے اور جیب کے چھوٹے کم خواندہ عاشق قندیل بلوچ کو بھی شامل کر لیتے مگر وہ بد احتیاط، انگارہ بر زباں، خلائی مخلوق کے ہاں غیر رجسٹرڈ، دیسی سنتھیا رچی، تب تک مُنی کی طرح بدنام نہیں ہوئی تھی۔ مفتی قوی سے ملی ضرور تھی مگر سرائیکی انارکلی کے لیے سامان ہلاکت ابھی جمع کیا جا رہا تھا۔

 اس بازار کا تیسرا بڑا فائدہ یہ تھا کہ یہاں بہت سا ایسا سامان جسے کراچی کے بازاروں میں ڈھونڈنا آسان نہیں ہوتا وہ افواج پاکستان کی دریا دلی اور غریب پروری کے چھپر کھٹ تلے با آسانی یہاں مل جایا کرتا تھا۔ مثلا ہمارے ایک دوست نے کوہ پیمائی کے پرانے مگر بے حد اعلی کوالٹی کے سامان کی ایک پوری KIT کل چار ہزار روپے میں خریدی تھی۔ دوسرے وہاں پر وہ کتابیں اور رسالے جو وزن کے حساب سے دنیا بھر سے آتے تھے وہ بھی سستے داموں مل جایا کرتے تھے۔ سنگاپور کی ایک لائبریری کی کئی کتب ایسی تھیں جو زراعت اور معاشیات کے حوالے سے پاکستان میں دستیاب نہ تھیں مگر ہمارے ایک کرمفرما نے اتوار بازار سے کوئی سو کے قریب ایسی کتابیں کل آٹھ ہزار روپے میں خریدیں اور انہیں پنجاب میں مختلف تعلیمی اداروں کو تحفتاً بھجوا دیا۔

ڈیفنس اتھارٹی کے ایڈمنسٹریٹر صاحب اور کور کمانڈر صاحب جن کے بارے سنا ہے کہ وہ کتب بینی کے شوقین ہیں۔ ان کے کافی پرانے پیشر و جنرل طارق وسیم غازی سے تو ہماری ایک دفعہ ملاقات لیاری کے ایک ایسے گودام میں ہوئی تھی جو کراچی میں پرانی کتابوں اور رسائل کے لیے بہت عمدہ مگر بے حد گمنام مرکز تھا وہیں ہم نے انہیں ایک ایسا مینول ڈھونڈ کر دیا جو Sniper Training کا جدید نصاب تھا۔ وہ وہاں سے اپنے ایک اور شوق بونسائی کے بارے میں بہت کتابیں لیا کرتے تھے۔

ایک دن جب ہم مالک کی دعوت پر پہنچے تو ان کے حفاظتی عملے نے پہلے تو ہمیں اس گلی میں بھی داخل نہ ہونے دیا جہاں وہ گودام تھا۔ اس اثنا میں ہم نے گودام کے مالک کو جو گجراتی تھا فون پر بتایا تو پھر ایک میجر صاحب بہ نفس نفیس آن کر اپنی حفاظتی تحویل میں لے گئے۔ صدیق کتب فروش نے جب کور کمانڈر صاحب کو بتایا کہ ہمیں بھی وہ کتابوں کا محمد بن قاسم سمجھیں۔ کھوڑی گارڈن جہاں یہ بازارواقع ہے اس کو بلدیہ عظمی کراچی نے مناسب بھتہ نہ ملنے اور جگہوں پر قبضہ کرکے یونٹ آفس بنانے کے لیے اجاڑنے کی سوچی تھی۔ وہ ہماری مداخلت پر باز رہے۔ کمانڈر صاحب خوش ہوکر فرمانے لگے ہمیں دیکھ کر انہیں مسرت ہوئی کہ سول سروس میں پڑھے لکھے افسر آج بھی پائے جاتے ہیں۔ جس پر ہم نے بھی منمنا کر کہا سرکار سول سروس میں تو داخلہ ہی پڑھائی لکھائی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ صدیق اگر انہیں مسالہ چائے کا اوپر گھر سے لایا ہوا کپ نہ پیش کرتا تو ممکن ہے وہ جملے کی کاٹ محسوس کرتے مگر بہت نفیس اور خوش وضع افسر تھے۔ مزاج میں شعور کی مقدار عام فوجی افسروں سے زیادہ اور رویہ بہت معاملہ فہم اور انسان دوست تھا۔ جبر و ظلم سے گریز کرنے والے ادائے دلبری پر مائل۔

ہماری یہ تحریر پڑھ کرموجودہ کور کمانڈر صاحب اگر مناسب سمجھیں تو اس بازار کے نئے مقام پر دوبارہ انعقاد سے بالخصوص سمندر کے کنارے دو دریا کے سامنے ایسا بہت بڑا خالی علاقہ موجود ہے جہاں یہ اتوار بازار آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک حصہ Student Corner ہو تو کیا ہی اچھا ہو۔ اس میں ادارے بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ بالخصوص کنسٹرکشن اور فوڈ انڈسٹری سے متعلق جو ڈیفنس میں بہت کثرت سے ہورہی ہے۔ اس میں ایک ماہ کے لیے وہ باقاعدہ طالب علم ہی سیلز مین ہوں جو غریب ہوں۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی تشکیل ایک اہم مسئلہ ہے۔ شاید یہاں کے سیکھے ہوئے سبق یہ طالب علم اپنی تعلیم کی روشنی میں کامیاب زندگی میں ڈھال سکیں۔ ہندوستان کے علاقے بنگلور اور حیدرآباد کے شہر ایسے ہی Entrepreneur کی وجہ سے آج امریکہ کی Silicone Valley پر راج کر رہے ہیں۔

سوچئے نا اس ڈیفنس بستی میں چائے خانے جو رات بھر آپ کا ناک میں دم کیے رہتے ہیں ان کو کھولنے پر کوئی قدغن نہ ہو مگر ایسا میلہ جو بہ یک وقت تفریح، حلال روزگار اور ذہنی نشونما کا مرکز ہو اسے ٹھیکیدار کی بدنیتی کی وجہ سے جڑ سے ہی اکھاڑ دیں۔ یہ مناسب نہیں اتھارٹی کے لیے۔

 ایک اتوار ہمیں اسی بازار سے خوشونت سنگھ کی چار پانچ کتابوں کا سیٹ مل گیا۔ چونکہ کتابیں دل چسپ اور آسان انگریزی زبان میں تھیں لہذا ہمارے ایک دوست جذباتی ہو کر لے گئے۔ کتاب، کرائے کا مکان اور قرضہ واپس مانگیں تو احباب ناراض ہو جاتے ہیں۔ آپ انہیں مانگتے وقت سائل کا عاجزانہ رویہ دیکھا کریں اور لوٹانے کے مطالبے پر ان کی کمینگی کا مظاہرہ بھی، ایک مقام عبرت ہوتا ہے۔ اس کا شکار داغ دہلوی بھی ہوئے تھے جنہوں نے کہا تھا

دل لے کہ مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں، احسان تو گیا

 خوشونت سنگھ کی انہیں کتابوں میں ایک کتاب تھی جس کا نام تھا ” اچھے برے اور مضحکہ خیز “” The Good, The Bad and The Ridiculous”۔ اس سے ہم نے کچھ نوٹس محفوظ کرلیے تھے۔۔ سو۔۔۔ درد اب جا کے اٹھا چوٹ لگے دیر ہوئی ۔۔۔کے مصداق، سوچا اس میں بیان کردہ کچھ خاکوں سے لیے گئے اقتباسات آپ سے شئیر کر لیں وہ تمام لوگ جو خوشونت سنگھ کے حلقہ احباب میں نہیں رہے انہیں خوش ہونا چاہیے کہ وہ اس میں مذکور نہیں۔

انسانوں کو دیوتا بنانا شاید میڈیا نے ہندوستان سے سیکھا ہے۔ خوشونت سنگھ کہتے تھے

Diefication is an Indian disease

کامیاب افراد ہوں یا عمر رسیدہ وفات شدگان سب کی بے وجہ تکریم ہم نے اپنے آپ پر لازم کررکھی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے جب پے در پے کچھ مقتدر شخصیات کے حوالے سے ہم سے تبصرہ مانگا تو ہم نے کہا ہمارے لیے کراچی کی پچھلے دنوں کورونا سے مرنے والوں سے زیادہ بڑی خبر دنیائے پورن کے سب سے بڑے مرد اداکار رون جرمی کا زنا بالجبر کا گرفتار ہونا تھا۔ پانچ فٹ نو انچ کے اس اداکار نے سولہ سو فلموں میں اپنی بدکاری کے جوہر دکھائے۔ ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند۔ اس سے بھی بڑی خبر یہ تھی کہ ان کے منیجر نے دانتے روسیو چیلی نے ان الزامات کے سامنے آتے ہی استعفی دے دیا کہ وہ ایسے بدنام شخص کے منیجر بن کر اپنی ساکھ نہیں گنوانا چاہتے۔ اسے کہتے ہیںHigh Morals

رون جرمی کا سوچیں اس کوچہءملامت میں تیس برس سے زائد جلووں کی بے انت فراوانی اور بے دریغ و بے باک رسائی کی موجودگی میں یہ مقام ذلت و پستی بھی آئے گا کہ جس جرات اظہار کی اجرت ملا کرتی تھی وہی جرات و بے باکی باعث حراست بنے گی۔

 مغرب میں جولیس سیزر کا یہ مقولہ جو ہمارے ہاں کسی بیگم، وزیر، مشیر، افسر کے کان، دماغ اور ضمیر کا بوجھ نہیں بنتا۔ کسی فیشن ڈیرانیر کے ڈیڑھ کروڑ روپے کے گھاگرے میں بار ندامت کی شکن نہیں ڈالتا۔ ’ہوا یوں کہ سیزر کی ملکہ پومپیا پرکسی خوبرو مرد سے اضافی جنسی تعلقات کا الزام لگا تو جولیس سیزر نے اسے طلاق دے دی۔ پوچھا گیا کیوں ابھی تو مقدمہ چلے گا۔ تعلقات کی ٹریل جانچی جائے گی بے چاری پر اتنا بوجھ کیوں ڈال دیا؟ حاکم روم کہنے لگا کہ

Caesar’s wife must be above suspicion

(وہ سیزر کی ملکہ ہے۔ اور اس منصب کا تقاضا ہے کہ وہ الزام سے بالاتر ہو)

کراچی کے ایک مشہور مفتی بارگاہ الہی میں بہ نفس نفیس حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے ایک نسبتاً جواں سال عزیز کی عقیدت کا ہر باب ان کی خانقاہ نیاز مندی میں کھلتا تھا۔ ہم نے ان عزیز کو ایم کیو ایم حقیقی کے آفاق احمد اور زید حامد کی ٹوئیٹ کا بتایا۔ بضد تھا اور کہہ رہا تھا کہ انتظامیہ بالخصوص متعلقہ حدود میں تعینات پولیس افسران بھی ان پر زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہونے اور بھتہ ڈیل میں شامل ہونے کے یہ الزامات عائد کرتے رہتے ہیں مگر مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آپ جیسے مغرب سے متاثر افسر کیا جانیں کہ دین بہت بڑے عالم اور خطیب سے محروم ہوگیا۔ امت کے لیے ان کے کارنامے لازوال تھے۔ ہم نے پوچھ لیا کہ کیا وہ امام ابو حنیفہ تھے، اشرف علی تھانوی تھے، سیدنا ابو اعلیٰ مودودی یا اسمائے الرجال میں دنیا کی سب سے بڑی سند مولانا اکرم ندوی تھے (جو کیمبرج یونیورسٹی کے شعبئہ اسلامی کے سربراہ تھے)۔ ان کی کوئی کتاب، کوئی تقریر جس سے پاکستان یا دین کا فائدہ ثابت ہو۔ آخری دفعہ آتش زدہ بلدیہ فیکٹری کی بھتہ ڈیل میں سامنے آئے تھے۔

ہماری اس تلخ گوئی سے بھی اس کے رنج و ماتم میں افاقہ نہ ہوا تو ہم نے کہا بھوتنی کے تیری نانی کوئی رودالی تھی۔ (رودالی راجھستان کی وہ عورتیں جو معاوضے کے عوض رونا دھونا کرتی ہیں کیوں کہ اعلی درجے کی راجپوتانیوں اور ٹھکرائنوں میں رنج و الم کا عوامی مظاہرہ تحقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈمپل کاپڑیا کی اس نام کی فلم یاد ہے نا، یارا سیلی سیلی برہا کی راتوں کا جلنا)، جب تک زندہ اور صاحب فراش تھے تو نے ایک دفعہ ہی سہی جا کر ڈائیپر بدل لیا ہوتا۔ سیل فون پر اپنی تین چار صباﺅں کو بیلنس ڈلوانے اور سالگرہ پر لان کے جوڑے کے پیسے دینے کی بجائے ان کا لیے ایک دن کے ہسپتال کا بل ادا کردیتا۔

آئیے خوشونت جی کا تجدید ذکر کریں

خوشونت سنگھ اس لحاظ سے ان چند بے باک صحافیوں میں سے ایک ہیں جن کے ہاں کوئی بلا وجہ لائق تعظیم نہیں ٹھہرتا، جو جیسا ہے اسے ویسا ہی بیان کرتے ہیں مگر صحافتی مرچ مسالے اور تڑکے کے ساتھ۔

ان کے ہاں انسان سچ مچ کا انسان دکھائی دیتا ہے۔ خریدے ہوئے مداحوں، لالچ سے جڑے میڈیا کے شیرے میں لتھڑا، عقیدت کی چادر میں لپٹا ہوا کوئی جعلی دیوتا نہیں۔ سوچیں ایسے بدلحاظ اور بے حد بے باک صحافی سے آپ سجدہ تعظیم کی کیسے توقع کرسکتے ہیں جس سے آئی سی ایس کے زبانی امتحان میں جب یہ سوال ہو کہ گورنر کے ہاں بیٹا ہو تو کتنے فائر کیے جاتے ہیں جس کا جواب وہ یہ دے کہ توپ کے فائر کا تو علم نہیں لیکن اے ڈی سی کو نوکری سے فائر کرنا لازم بنتا ہے۔ وہ جو اپنی والدہ کی آخری پکار “وہسکی” کہہ کر لفظوں میں سنائے اور یہ بتائے کہ آخری جام گٹکا کر اماں جی یہ جا وہ جا ہو گئیں۔

Mala Dayal and Khushwant Singh

یہ امر اس لیے بھی حیرت کا باعث ہے کہ یہ کتاب لکھنے کی فرمائش ان کی صاحبزادی مالا دیال نے کی تھی۔ وہ یاداشتوں کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ یہ سوچ کہ چینی دانشور کہا کرتے تھے کہ مدھم ترین روشنائی بھی طاقتور ترین یادداشت پر بھاری پڑتی ہے۔

فیض احمد فیض سے خوشونت سنگھ کا تعلق دیرینہ تھا۔ گورنمنٹ کالج کے دنوں کا۔ وہ کہتے ہیں کہ فیض صاحب کو سولہ سال کی عمر سے ہی پذیرائی ملنا شروع ہوگئی تھی۔ جب انہوں نے کسی مشاعرے میں یہ شعر پڑھا

لب بند ہیں ساقی میری آنکھوں کو پلا دے

 وہ جام جو منت کش صہبا نہیں ہوتا

 اس شعر کو سنتے ہی سخن شناس لوگوں نے ان کے آئندہ کے تیور بھانپ لیے۔ لاہور آن کر وہ اس حلقے  میں نشست و برخاست کے حق دار ٹھہرے جس میں امتیاز علی تاج، پطرس، صوفی تبسم اور ایم ڈی تاثیر شامل تھے جو سلمان تاثیر مرحوم کے والد اور فیض کے ہم زلف بھی بنے۔ فیض کی رنگت سیاہی مائل ہوا کرتی تھی، جس کی چمک پر تیل کی مالش کا شائبہ ہوتا تھا۔ قد پستہ، بہت ہی کم اور نرم گو تھے مگر شائستگی تہذیب رواداری اور دھیما پن بے مثال تھا۔ میل جول میں وہ بہت غیر جذباتی طرز عمل کے مالک تھے۔ جھیل کی مانند شانت۔  وہ کسی طور لیڈی کلر نہ تھے مگر اپنی شاعری کی وجہ سے نگاہ بن کر حسینوں کی انجمن میں رہتے تھے۔ وہ بہت انسان دوست تھے ہر قسم کے تعصب سے بلند و بالاتر۔

لیکن ان کی شخصیت ایک عجیب مجموعہ تضاد تھی۔ ایک جانے مانے کمیونسٹ ہونے کے باوجود انہیں سکون روسا اور امرا کے حلقہءاحباب میں محسوس ہوتا تھا۔ خدا کے وجود کو نہ ماننے کہ باوجود بھی ان سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا انسان کم ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ صوفیا کے نزدیک اللہ کا خوف ہی دین کی اصل ہے اور اعمال کی درستی کی ضمانت ہے۔

 اپنی تخلیقات میں وہ معاشرے کے مفلوک الحال اور غربت اور افلاس کے ہاتھوں ستائے ہوئے افراد کا دکھ سمیٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کا اپنا طرز زندگی شاہانہ تھا۔ ایک دن میں ان کا سگار اور ولایتی شراب کا جو خرچہ تھا وہ ایک مزدور کے گھرانے کو مہینے بھر خوراک مہیا کرسکتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 23 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *