کشمیر کو بچا لو: جبار مرزا کا کشمیری نوحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کون با ذوق قاری ہو گا جو جبار مرزا کو نہیں جانتا۔ آپ انہیں دنیائے شعر و ادب اور تحقیقی صحافت کے امام کا درجہ سکتے ہیں۔ اعلیٰ پایہ کے نثر نگا ر سینئر صحافی، محقق، مورخ، سوانح نویس، مدیر اور کالم نگار یہ آپ کی شخصیت کے مستند حوالے ہیں۔

” کشمیر کو بچا لو“ جبار مرزا کی 21 ویں اہم اور تاریخی دستاویز پر مشتمل کتاب ہے۔ جو حالیہ کرونائی عہد میں لکھی گئی ہے۔ کشمیر جبار مرزا کا عشق اور محبوب ہے۔ وہ کشمیر میں جیتے ہیں اس میں سانس لیتے ہیں اور کشمیر پر گھنٹوں بول سکتے ہیں، وہ اپنی جوانی میں کشمیر کے چپہ چپہ پر اپنے نقش قدم ثبت کر چکے ہیں اور سینکڑوں بار اپنی تحریروں اپنے اداریہ اپنے کالم کہانیوں میں کشمیر پر لکھ چکے ہیں اور کشمیر کا مقدمہ بھی خود لڑتے ہیں اور کشمیر کے مدعی بھی خود ہوتے ہیں۔

مذکورہ کتاب ”کشمیر کو بچا لو“ کی وجہ تسمیہ 5 اگست 2019 ہے۔ اگر اس منحوس تاریخ کو بھارت پورے جموں کشمیر میں غیر علانیہ مارشل لا ء نہ لگاتا تو شاید یہ کتاب منصہ شہود پر نہ لائی جاتی، یہ وہ دن تھے جب کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے گھروں میں بغیر کسی دلیل اور بغیر کسی جرم کے قید کر دیا جاتا ہے۔ اور مظلوم مسلمان کشمیری بے بسی سے اپنے عالم مسلم کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن افسوس اقوام مسلم اپنی اپنی عیاشیوں میں دنیا داری میں اور اپنے مسائل میں غرق شرم سے منہ موڑ لیتی ہے۔

یوں کشمیر کا مقدمہ کمزور ہوتا جا رہا تھا، کشمیریوں کا رابطہ پوری دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ وہ اپنے شہروں اور محلوں میں قیدی بنے رہے۔ ان پر نماز جمعہ کی ادائیگی بند کر د ی گئی لیکن آفرین ہے ان بہادر حوصلہ مند کشمیریوں پر انہیں جب بھی موقع ملا وہ پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے سینوں پر گولیاں کھاتے رہے۔

یہی وہ وقت تھا جب جبار مرزا نے مصمم ارادہ کیا کہ اب جنگ تلوار سے نہیں قلم سے لڑنی ہے اور دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ کتاب کے ذریعے سے دکھانا ہے تب انہوں نے اپنی پوری قوت اور تمام تر توانائی سے ٹھوس منطقی عقلی اور زمینی حقائق سے ڈاکیومنٹس کے ثبوت کے ذریعے بطور کیس کتاب ”کشمیر کو بچا لو“ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنی بلند آواز سے گھن گھرج کے ساتھ غفلت میں گھرے اقوام عالم، اک عالم مد ہوشی میں ڈوبی امت مسلم اور تمام سوئے پاکستانیوں کو جگا تے ہوئے کشمیری نوحہ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں کہ

”کشمیر میں ستر ہزار سے زائد افرا د جیلوں میں بند ہیں، ہزاروں لاپتہ ہیں، ہزاروں ماؤں، بہنوں، بھائیوں اور بیٹوں نے جام شہادت نوش کر لیا ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا کو بھی حقیقت حال جاننے کے لئے وادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بین الا قوامی وفود او ر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی تازہ صورتحال سے بے خبر رکھا جا رہا ہے کشمیری حریت پسندوں کی پاکستان کے ساتھ بے پناہ محبت کے باعث مقبوضہ کشمیر کو بھارت نے زبردست وحشت و بربریت کا شکار بنایا ہوا ہے اور سینکڑوں نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے اور مسلمانوں کی بستیوں کو نذر آتش کرنے کی شرمناک مہم جاری ہے، تحریک حریت کشمیر بھی اتنی ہی تیزی اور توانائی سے آگے بڑھ رہی ہے کشمیری عوام سروں پر کفن باندھ کر میدان کار زار میں نکل چکے ہیں۔“

” کشمیر کو بچا لو“ کی شان زیبائی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نشان امتیاز و ہلال امتیاز کا وہ گرانقدر تبصرہ ہے جو انہوں نے کمال محبت سے لکھ کے جبار مرزا کو نہایت احسن انداز سے ٹریبیوٹ کیا، جس کو پڑھ کے معلوم ہوتا ہے کہ خود ڈاکٹر صاحب کتنے بڑے عالم، صاحب مطالعہ اور عبقری شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ محض سائنس ہی میں نہیں بلکہ اردو نثر نگاری میں بھی ملکہ رکھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ

” جبار مرزا میرے دیرینہ دوست ہیں۔ ان کی زیر نظر تازہ تحقیق“ کشمیر کو بچا لو ”فکر انگیز معلوماتی اور بر وقت ہے۔ یہ دس ہزار سال قبل مسیح سے نریندر مودی تک کی خون آشام عہد کو محیط کرتی ہے۔“

ڈاکٹر موصوف آگے لکھتے ہیں کہ جبار مرزا نے اس کتاب میں کئی انکشافات کیے ہیں۔ ہمیں اس کتاب میں بھارت کا ایک اور شاطرانہ پہلو دکھائی دیتا ہے۔ جس کا اظہار جبار مرزا نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ 1971 ء کے بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شا کے سٹاف افسر بریگیڈئر دپندر سنگھ اپنی کتاب Soldiering with dignity میں لکھتا ہے کہ ہم نے مکتی باہنی کو پاکستانی فوجیوں کی وردیاں پہنا کر مشرقی پاکستان میں لوٹ مار اور آبروریزی کے ٹاسک دیے تھے۔ جس سے بنگالیوں میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔ ”

کتاب میں یوں تو بیشمار مقام اور عنوانات پر قاری چونک جاتا ہے لیکن چند ایک عنوان تو بالکل نئے ہیں جیسے کہ کشمیر کب آزاد ہوگا؟

اس پر جبار مرزا لکھتے ہیں کہ ”ویت نام کے عظیم راہنما ہوچی من نے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے آفس کی کھڑکی سے باہر ایک بڑا قبرستان دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر تب آزاد ہوگا جب اتنے بڑے تین چار قبرستان آباد ہوں گے ۔

جبار مرزا نے ایک اور جگہ قاری کو چونکا دیا جب وہ لکھتے ہیں کہ 1984 ء میں انہیں آزاد کشمیر کے صدر نے دس روز کے لیے بلوایا کہ وہ کشمیر پر کچھ لکھیں، وہ کشمیر کے سارے قبیلوں کے راہنماؤں سے ملے، کوئی گیلانی، چوہدری، راجے، سدھن، مغل، اعوان، جو کوئی بھی ملنے آیا اس کے پاس اپنے قبیلے کا شجرہ تھا اور ہر کسی نے ہر دوسرے سے خود کو کشمیر میں معتبر اور اصل وارث قرار دیا تھا، جتنے بھی آئے انہوں نے اپنے کنبوں قبیلوں کی بات کی مگر کشمیر کی بات کسی نے نہیں کی۔

کتاب میں ایسے بے شمار دلچسپ واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ کہ قاری کو کشمیر کی تاریخ جاننے اور اردو ادب کی اعلیٰ نثر پارے بھی پڑھنا نصیب ہوتے ہیں۔ وہ اردو نثر پارے جو اب کتابوں میں قصہ پارینہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح ایک یونیک تحریر ”راولپنڈی سے سری نگر، تانگہ سروس“ یہ بہت دلچسپ اور معلوماتی مضمون ہے۔ مختصر کچھ ایسے ہے کہ راولپنڈی سے سری نگر قریب قریب 200 میل ہے۔ وہ سفر 14 دنوں میں طے ہوا کرتا تھا۔ مگر راولپنڈی کی ایک پارسی شخصیت دھنجی بھائی نے 14 دنوں کا سفر 24 گھنٹوں میں بدل دیا تھا۔ مغربی دنیا سے آنے والے سیاح دھنجی بھائی کی تانگہ سروس سے ہی سری نگر جایا کرتے تھے۔

راولپنڈی سے سری نگر تک کوئی دس گیارہ ٹرمینل تھے، ہر ٹرمینل پر تازہ دم گھوڑا اور کوچوان موجود ہوتا تھا۔ جو سواروں اور سیاحوں کو اگلی منزل کی طرف لئے چلتا، پہلا ٹرمینل گھوڑا گلی کے قریب تھا۔ دوسر ا کوہالہ سے تھوڑا پہلے یوں سفر جاری رہتا۔

” کشمیر کو بچا لو“ میں لکھا ہے کہ مطالعہ کرتے ایک مقام پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ممتاز مذہبی سکالر شاہ نعمت اللہ ولی کی ساڑھے آٹھ سو سال پہلے کی کشمیر پر کہی گئی پیش گوئی پر حیرت سے چونک اٹھتے ہیں۔ وہیں مجھے بھی راقم الحروف ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ میں خود گزشتہ ہفتہ ہی شاہ نعمت اللہ ولی پر لکھی گئی تازہ ترین کتاب ”سچی پیش گوئیاں“ پڑھ چکا تھا۔ جسے نامور صحافی اور کالم نگار توصیف احمد خان نے لکھی تھی، اور کمال محبت سے ایک نسخہ مجھے بھی عطا کیا تھا۔

مختصر بتاتا چلوں کہ شاہ نعمت اللہ ولی نے دنیا کے مستقبل کے حوالے سے دو ہزار سے زائد اشعار لکھے تھے۔ جن میں سے اس وقت قریبا تین سو اشعار دستیاب ہیں۔ یہ اشعار حرف بحرف درست ثابت ہوئے۔

اہم بات یہ کہ شاہ نعمت اللہ ولی کا مجموعہ کلام بھی جبار مرزا صاحب کے پاس محفوظ ہے۔ جبار مرزا نے شاہ نعمت اللہ ولی کے کلام کو کھنگالتے ہوئے بلاآخر ایک پیش گوئی ڈھونڈنے میں کامیاب رہے اور اسے کتاب کی زینت بنا ڈالا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کشمیر کی پیشنگوئی کچھ اس طرح سے کی تھی۔

کہ شہر لاہور، پنجاب کشمیر دریائے گنگا اور جمنا کا علاقہ اور بجنور شہر پر مسلمان اسلام کا پرچم لہرائیں گے۔

پنجاب شہر لاہور کشمیر ملک منصور
دو آب شہر بجنور گیرند غائبانہ

جبار مرزا چونکہ ایک اعلیٰ پایہ کے نثر نگار بھی ہیں جو اپنی تحریروں میں کاٹ دار جملے، تشبہات اور مزاح سے بھرپور فقرے لکھنے اور بولنے میں بھی ملکہ رکھتے ہیں۔ ایک بارعب شخصیت ہیں۔ لیکن گفتگو اور کالم میں دلچسپ واقعات چٹکلوں سے محفل اور قارئین کو کشت زعفران سے مہکا دیتے ہیں۔ اور بعض اوقات حیرت انگیز انکشافات سے قاری کو اک طلسم کدہ میں لا کھڑا کرتے ہیں۔

جبار مرزا کے نمایاں ترین رشحات قلم مندرجہ ذیل ہیں۔
مرحلے۔ شاعری 1976۔
فاصلے۔ شاعری 1984۔
آن دا ریکارڈ۔ کالم۔ 2000۔
چھوٹے لوگ۔ ا ن بڑوں کی کہانی جو چھوٹے نکلے۔ 2001۔
خراج تحسین۔ منظوم تالیف، شعرا ء کرام کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین۔ 2006۔
راولپنڈی کا ادبی پنج تارہ۔ کالم، ادبی انٹرویوز، آواز دوستاں۔ 2014۔
قائد اعظم اور افواج پاکستان۔ 2016۔
نشان امتیاز۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے 35 برسوں کی یاداشتیں۔ 2018۔

جبار مرزا کی جہاں کتابیں دلچسپ اور حس مزاح سے بھرپور ہوتی ہیں۔ وہاں ان کے روٹین کے کالمز بھی بہت خاصے کی چیز ہوتے ہیں۔ جس میں نت نئے انکشاف اور مزاح کا پہلو لازمی امر ہے۔ برسبیل تزکرہ پچھلے دنوں ان کا ایک کالم پڑھا بہت انجوائے کیا، وہ آج بھی عہد گزشتہ کے سچے لوگوں اور کچے گھروں میں جینا چاہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ

”ستمبر 1965 ء کی پاک بھارت جنگ دراصل کفر اور اسلام کی جنگ تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مسلمان تھے اور بھارت کا وزیر اعظم لال بہادر شاستری ہندو تھا تو وہ کفر اور اسلام کی جنگ کہلائی۔ بلکہ دو سگے بھائی ایک دوسرے کے خلاف مورچوں میں اترے ہوئے تھے۔

جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا ہندو تھا۔ ہمارے علاقے کے قریب ایک بستی تھی، جسے راولپنڈی کا محلہ طہماسب آباد کہا جاتا ہے، بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے بڑے بھائی وہاں مقیم تھے۔

منیب جی ان کا نام تھا۔ مسلمان تھے۔ محلے کی مسجد اکبری میں نماز با جماعت ادا کیا کرتے تھے۔ مری کے سوراسی والے بابا لال شاہ کے وہ مرید تھے۔ بابا جی کی روحانی کرامات پر منیب جی نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ منیب جی جب خطرے کا سائرن بجنے پر گھر کے قریب کھیتوں میں بنائے گئے مورچے میں اترا کرتے تھے تو اپنے چھوٹے بھائی شاستری کو خوب خرافات سنایا کرتے تھے۔ منیب جی کے پاس دو جیپیں تھیں۔ جن میں چابیاں لگی رہتی تھیں۔ ہم محلے کے نوجوان جب چاہتے منیب جی کی جیپ نکال کر لے جاتے، دو چار چکر لگاتے اور پھر جیپ ان کے گھر کے سامنے کھڑی کر کے آ جایا کرتے۔ وہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ بلا کے سخی تھے۔

میں ان دنوں سی بی اے ایس سی ٹیکنیکل ہائی سکول چکلالہ میں پڑھتا تھا، جو راولپنڈی کے سٹیشن ہیڈ کو ارٹر کے زیر انتظام تھا۔ وہ میری نوجوانی سے ذرا پہلے کا دور تھا۔ ان دنوں جب ہم چکلالہ ائر پورٹ کے رن وے سے گزرا کرتے تھے تو رن وے پر کھڑا گن مین جو پرندوں کے ڈرانے دھمکانے کی ڈیوٹی پر ہوتا تھا، وہ ہمیں کہا کرتا کہ دوڑ کر گزر جاؤ، جہاز اترنے والا ہے اور کبھی کبھار سکول سے واپسی پر ہم رن وے پر کھڑے جہازوں کے پہیوں میں چھپن چھپائی کھیلنا شروع کر دیا کرتے کوئی کچھ بھی نہیں کہتا تھا، لیکن اب ٹکٹ لے کر بھی جائیں تو تلاشیاں لی جاتی ہیں۔ بسا اوقات کتوں سے بھی سونگھایا جاتا ہے۔ ماحول میں عجیب کتا خانی پھیل گئی ہے۔ ”

آخر میں عرض مصنف پر ایک مختصر نظر ڈالتے ہوئے اجازت چاہوں گا۔

” مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کرنے پر دنیا کے بڑوں نے کوئی خاطر خواہ کردار ادا کرنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کیا مگر رب تعالیٰ نے کورونا وائرس کی شکل میں تقریباً آٹھ ارب افراد پر مشتمل پوری دنیا کو تنہائی کے عذاب میں ڈال کر گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ کورونا دراصل مکافات عمل ہے۔ لا چار و محکوم انسانوں کی آہ و بقاء کا خمیازہ ہے، وہ کشمیر میں ہوں افغانستان، برما، شام، فلسطین یا بھارت میں ہوں۔

زیر نظر کتاب کشمیر کو بچا لو ایک یاد ہے، نوحہ ہے، نریند ر مودی کی چتا پر ماتم ہے، حال کا سانحہ ہے اور ماضی کی مختصر تاریخ ہے۔ ”کشمیر کو بچا لو“ کوئی انہونی یا پہلی کاوش نہیں ہے۔ بس اپنی بساط کے مطابق اپنے حصے کا کام کیا ہے۔ بطور قلم کار لکھاری یہی میرا حصہ تھا اور جو کوئی جہاں اور جس شعبے میں ہے۔ اسے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو دنیا جنت اور کشمیر بے نظیر ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *