بدلنا بہار کا دائمی خزاں میں
ہم جیپز کی طرف بڑھے اور ڈرائیورز کو تعارف کرایا۔ جیپ میں سوار ہونے لگے تو ڈرائیور کہنے لگا صاحب پہلے بازو سے سیاہ ربن اتاریں پھر گاڑی میں سوار ہو ں یہ چھاونی کا علاقہ ہے۔ ہم نے سیاہ ربن اتارے اور گاڑی میں سوار ہو گئے۔ کچھ ہی دیر میں ہم آدمجی سائنس کالج پہنچ گئے۔ کالج ویسے تو بند تھا مگر ان دنوں یہ مہاجر کیمپ بنا ہوا تھا وہاں کے حالات ہمیں پسند نہیں آئے۔ ہمارا ایک ساتھی سیعد کہنے لگا میرے ایک تعلق دار فوجی افسر ہیں جن کی فیملی گئی ہوئی ہے اور وہ خود بھی آگے تعینات ہیں ان کے گھر چلتے ہیں۔
قریب ہی ان کی یونٹ تھی وہاں معلوم ہوا کہ وہ یونٹ میں نہیں تھے مگر فون پر رابطہ ہو گیا۔ وہ کہنے لگے میرے گھر میں بہت لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں آپ کو ایک کمرہ مل سکتا ہے اور مزید یہ کہ آپ میرے بیٹ مین سے ملیں۔ ہم ان کے گھر پہنچ گئے وہاں بیٹ مین موجود تھا جسے پہلے سے ہدایات مل چکی تھیں۔ ہم تعداد میں تیرہ افراد تھے جس کے پیش نظر انہوں نے ہمیں رہنے کے لئے ڈرائنگ ڈائننگ دیا۔ وہاں سے فالتو چیزیں ہٹا دی گئیں اور یونٹ سے 13 کمبل تکیے وغیرہ بھی پہنچ گئے۔
کھانے کا انتظام یہ طے ہوا کہ ہم میں سے فائنل ایر کے طالبعلم تھے اکرم صاحب انہوں نے رضاکارانہ طور پر بطور باورچی اپنی خدمات پیش کیں اور روٹیاں لانے کا کام یونٹ کے ڈیسپیچ رائڈر کو سونپا گیا اور یوں ہمارا کم خرچ میس چل پڑا۔ اکرم صاحب شریف آدمی تھتھے اور اچھے باورچی ثابت ہوئے۔ عمر میں بڑے لگتے تھے اور سر پر بالوں کی آخری فصل بھی کٹ چکی تھی اس لیے پیار سے ان کے ساتھی انہیں اکرم ہیرا کہتے تھے۔ وہاں 13 لوگوں کا رہنا اور کھانا پینا اتنا آسان نہیں تھا اس لیے ڈیوٹیاں بانٹ دی گئیں جیسے بازار سے کھانا بنانے کا سامان خریدنا اور کمرے کی صفائی برتن دھونا بستر بنانا وغیرہ۔ مجھے تو کوئی کام نہیں آتا تھا میں نے کہا صبح جب سب اٹھیں تو میں کمبل تہ کر کے رکھ دیا کروں گا۔
اگلا مرحلہ کراچی کے لئے جہاز کے ٹکٹ خریدنے کا تھا مگر اس سے پہلے ڈھاکہ کے حالات پر ایک نظر ڈالی جائے تو مناسب ہو گا۔ ڈھاکہ ایک پر کشش شہر تھا خاص طور پر موتی جھیل ایریا میں واقع اونچی عمارات اور بڑے ہوٹلز اور شاپنگ ایریا اور مسجد بیت المکرم۔ موتی جھیل ایریا ڈھاکہ کی شان تھا۔ یہیں پر ایک فائیو اسٹار پوربانی ہوٹل ہے جہاں پر پریزیڈنٹ یحیی خان کی ایک رنگین مخفل بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا اسی شہر میں اپنے دوست روشن علی گھلو اور قربان حسین کے ساتھ ہوٹلنگ سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے مگر اب ڈھاکہ یکسر بدل گیا ہے اب تو کچھ بھی پہلے جیسا نہیں۔ شہر میں ہنگامے ہیں افراتفری ہے گھیراؤ جلاؤ ہے ہڑتالیں ہیں مظاہرے ہیں حملے ہیں اور ہر طرح کی قانون شکنی ہے اور قتل و غارت ہے۔ سیاست دانوں کا ایسا جادو چلا ہے کہ دو علاقے اور دو گروہ ایکدوسرے کے خلاف نفرت کی اونچی فصیلیں بناے بیٹھے ہیں۔
بنگالی اور غیر بنگالی جو مقامی ہیں ان کو تو وہاں رہنا تھا مگر جو غیر مقامی غیر بنگالی وہاں تھے طالبعلم یا کاروباری افراد یا ملازمت پیشہ ان کی پریشانی سوا تھی سب کچھ لٹا کر بھی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ ایسی مثالیں بھی تھیں کہ کوئی لوگ آتے ائرپورٹ گاڑی پارک کی اور گاڑی کے عوض ایک کراچی کا کنفرم ٹکٹ لیا اور چل دیے۔ ٹکٹ تو نایاب تھے۔ اور جن کے پاس تھے ان دنوں ٹکٹ پر ٹوکن نمبر لگتا تھا جس کے لئے لوگ دو دو دن لائن میں لگے رہتے تھے۔
قیام و طعام کا خاطر خواہ انتظام ہو جانے کے بعد کراچی کے لئے جہاز کے ٹکٹ خریدنے کا مرحلہ آیا۔ ہم میں سے سب کے پاس ٹکٹ خریدنے کے لیے رقم نہیں تھی۔ فیصلہ ہوا کہ جس کے پاس جتنی رقم ہے ٹکٹ خریدنے کے لئے دے دے۔ ٹکٹ کی قیمت 250 روپے تھی۔ کسی کے پاس سو روپے سے کم تھے تو اس نے بھی دیے اور کسی کے پاس چھ سات سو روپے تھے تو اس نے بھی سارے دے دیے اور کسی نے نہ دیکھا کہ کس نے کیا دیا۔ رقم پوری ہوی ٹکٹ بنوانے گئے تو معلوم ہوا کہ ٹکٹ دستیاب نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھی سعید کے واقف کاروں میں ایک پائلٹ پی آئی اے میں تعینات تھے اور کراچی ڈھاکہ سیکٹر پر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کراچی سے ٹکٹ لا کر دینے کا وعدہ کیا۔ رقم ان کے حوالے کی اور انتظار کرنے لگے۔
یہاں پر ہمارا وقت آدمجی سائنس کالج کے مقابلے میں اچھا گزر رہا تھا۔ اکرم صاحب نے ہمیں شاندار کھانے کھلائے۔ دال اور سبزی سے لے کر کوفتوں اور قیمہ بھرے کریلوں تک پلاؤ اور بریانی سے لے کر زردہ کھیر اور فرنی تک ہر چیز لذیذ بناتے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فیملی ٹھہری ہوئی تھی جب سویٹ ڈش بنتی تو ان کو بھی ایک پلیٹ بھیج دیتے۔ وہ بھی اکثر ہمیں کچھ بھیجتے رہتے تھے۔ یہ ایک بزنس مین تھے جن کا کاروبار سری لنکا اور ڈھاکہ میں تھا۔
طرض معاشرت ماڈرن تھی۔ میاں بیوی چالیس کی عمر کے ہوں گے ساتھ ایک بیٹی تھی۔ رات کو کارڈز شوق سے کھیلتے تھے اور مجھے بطور چوتھا ساتھی بلا لیتے تھے۔ ہمارے گروپ میں فائنل ائر کے مقصود صاحب بہت اچھے گائیک تھے۔ ان کو پیار سے پرا مقصود کہا کرتے تھے۔ رات کھانے کے بعد اچھی محفل سجاتے تھے خاص طور پر غزلیں اور ساتھ بہت اچھا طبلہ بجا لیتے تھے۔ یہ تقریباً ہر روز کا معمول رہا۔
دو دن کے انتظار کے بعد کراچی سے ہمارے ٹکٹ پہنچ گئے جس کی وجہ سے ہم بہت خوش ہوئے مگر خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہی کیونکہ جب ٹوکن لگوانے گئے تو معلوم ہوا کہ ہمیں مئی میں فلائٹ مل سکے گی۔ یہ کافی مایوس کن خبر تھی مگر سچ یہی تھا۔
اگلے ہی روز ہمارے سینئیرز نے یہ بات جنرل ٹکا خان تک پہنچائی کہ اس صورتحال میں تمام طالبعلم بہت پریشان ہیں اور درخواست کی کہ جو سی 130 جہاز فوجی راشن کراچی سے لے کر آتے ہیں ان میں واپسی پر طالبعلم سوار کر لئے جائیں۔ ان دنوں فوجیوں کی فیمیلیز بھی واپس جا رہیں تھیں اس لیے سیٹوں کا مسئلہ وہاں بھی گمبھیر تھا۔ خیر یہ درخواست مان لی گئی اور فیصلہ ہوا کہ ہر روز ہر کالج کے دو طالبعلم کراچی کے لئے سوار ہو جایا کریں۔
ہمارے لئے یہ بہت بڑی خوشخبری تھی۔ راجشاہی کالج کے دو گروپ تھے ایک ہمارا اور دوسرا گروپ ہمارے دو روز بعد پہنچا اور آدمجی سائنس کالج میں قیام پذیر ہوا۔ دونوں گروپوں میں سے ایک ایک طالبعلم نے ہر روز کراچی جانا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ پہلے کون اور بعد میں کون جائے گا۔ اس بارے آپس میں بہت بحث ہوئی۔ ان حالات میں جبکہ کل کو کوئی بھی مصیبت پیش آ سکتی تھی اور پی آئی اے میں مہینوں کا انتظار تھا ہمارے گروپ والوں کا ایثار دیکھنے لائق تھا۔
سینیئرز نے کہا سب سے جونئر پہلے جائے گا کیونکہ یہ ان کا حق ہے جبکہ جونئرز کا استدلال تھا سینئر ہمارے لئے قابل احترام ہیں اس لیے سینئیر موسٹ سب سے پہلے جائے گا۔ یہ سینیئرز کے لئے تعظیم اور جونئرز کے لئے شفقت والا معاملہ نہیں تھا بلکہ جب زندگی کے کٹھن دن ایکساتھ گزرے ہوں تو ایسے مواقع پر اس طرح کے جذبات موجزن ہوتے ہیں اور اسی کو کامریڈ شپ کہتے ہیں۔ سینیئرز نے ہماری بات نہ مانی اور نہ ہی وہ ہمیں قائل کر سکے اور بات قرعہ اندازی پر ٹھہری۔ اگلے روز سے آنے والی تاریخوں کی پرچیاں بنائی گئیں اور سب نے ایک ایک پرچی اٹھا لی۔ میری پرچی پر آخری تاریخ رقم تھی۔
اگلے روز ہی سے طلباء کی کراچی روانگی شروع ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی ہمارے دو ساتھیوں افتخار احمد فاروقی اور ظفر عالم کے پی آئی اے کے ٹکٹ اے کے بروہی صاحب کے پی اے کی وساطت سے کنفرم ہو گئے تھے اور وہ بھی روانہ ہو گئے۔ اب ہمیں صرف اپنی باری کا انتظار تھا۔ شام کو ہم آدمجی سائنس کالج جاتے اور دوستوں سے بھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ جس یونٹ نے ہمارے لئے انتظام کیا ہوا تھا وہاں ایک ایجوکیشن افسر تھے جو غالباً علی پور کے تھے یا شاید ارد گرد کے علاقوں میں سے۔
انتہائی ملنسار اور ہشاش بشاش طبیعت کے مالک۔ روشن علی گھلو سے ان کی بہت گپ شپ رہی۔ جب وہ روش علی سے سرائیکی بولتے تو مجھے مزہ آتا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے دو لوگوں کو سرائیکی بولتے سنا۔ سرائیکی مجھے میٹھی زبان لگی اور ملتان آنے کے بعد تو میں روشن علی سے ہمیشہ سرائیکی بولتا اور وہ ساتھ ساتھ تصحیح کرتا۔
ہمارے کمرے کی رونق روز بروز کم ہوتی گئی رات کھانے کے بعد کارڈز کھیل کر وقت اچھا گزر جاتا۔ 21 مارچ کو خبر ملی کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب ڈھاکہ پہنچ رہے تھے۔ ہم بھی ائرپورٹ گئے۔ ان کی آمد سے قبل ائرپورٹ پر بہت سے غیر ملکی اخبارات کے نمائندے بھی منتظر تھے۔ ان میں سے ایک نے چھاونی کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ پاکستان ہے اور شہر کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ بنگلہ دیش ہے۔ ہمیں یہ بات بہت بری لگی۔ فلائٹ قدرے لیٹ تھی۔
ہم واپس آ گئے۔ دن گزرتے گئے ہم کمرے میں صرف چار لوگ رہ گئے اور یہ 25 مارچ تھی۔ روشن علی گھلو جا چکا تھا میں اکیلا ہی آدمجی سائنس کالج چلا گیا۔ واپسی پر رات گہری ہو چکی تھی۔ ایک عجیب سناٹا چھایا ہوا تھا۔ سڑک پر سوائے میرے کوئی نظر نہیں آیا نہ ہی کوئی گاڑی۔ پہلے کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔ ماحول پر پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ ایسا کیوں ہے۔ کچھ ہی دیر میں میں کمرے میں واپس آیا۔ اکرم صاحب جو کھانا بناتے تھے وہ بھی روانہ ہو چکے تھے اور ہم چاروں ٹھہرے بالکل نکمے۔ میں نے ساتھیوں سے کہا ابھی تو بچا ہوا جو بھی ملے کھا لیتے ہیں البتہ صبح میں آپ کو ناشتے میں حلوہ کھلاؤں گا۔ رات کوئی نصف شب کے بعد گولہ باری کی آوازیں تسلسل کے ساتھ سنائی دیں۔
صبح اٹھے اور حسب وعدہ میں نے حلوہ تیار کیا سب کو دیا اور کہا میں آنٹی لوگوں کو دے کر آتا ہوں۔ انکل کہنے لگے رات کو گولہ باری کی آوازیں آپ نے سنیں؟ ؟ خیر چند منٹ ان سے بات ہوئی۔ جونہی میں واپس آیا گھر کے باہر ایک سٹاف کار آ کر رکی۔ ایک صاحب گاڑی سے باہر نکلے اور تیزی سے کمرے کے اندر آ گئے۔ یہ فیاض حیدر تھے ہمارے آدمجی سائنس کالج والے گروپ میں سے۔ بولے جس حالت میں ہو جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ میں نے ناشتہ کرنا چاہا مگر انہوں نے منع کر دیا۔ کہا ائرپورٹ چلو کراچی جانا ہے اور تفصیل بعد میں بتاؤں گا۔ ہم نے ساتھ والے کمرے میں انکل اور آنٹی کو خدا حافظ کہا اور دو تین منٹ میں ہم سب گاڑی میں بیٹھ گئے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




