کراچی آپریشن: 1990 کی دہائی میں کراچی میں ہونے والے ’آپریشن بلیو فوکس‘ کی دل دہلا دینے والی داستان
کراچی آپریشن میں نمایاں پولیس افسران کہاں گئے؟
سندھ پولیس کے ایک حاضر سروس ڈی آئی جی نے بتایا کہ ’درجنوں افسران کراچی آپریشن میں نمایاں کارکردگی دکھا کر اور جان پر کھیل کر نامور افسر بنے مگر اب اُن درجنوں نامی گرامی افسروں میں سے صرف چار ہی زندہ ہیں۔‘
جو نامی گرامی پولیس افسر اب بھی شہریوں کو یاد ہیں ان میں ایس ایچ او نیو کراچی بہادر علی، ذیشان کاظمی، توفیق زاہد، غضنفر کاظمی، سجاد حیدر، بہاؤ الدین بابر اور ناصرالحسن وغیرہ شامل ہیں۔
اور اُن میں سب سے بڑا نام تھا انسپکٹر بہادر علی۔
آپریشن کے وقت انسپکڑ بہادر علی تھے تو ایس ایچ او نیو کراچی مگر ان کے نام کی شہرت اور گونج پورے شہر میں تھی۔
ایس ایچ او نیو کراچی بہادر علی کو تین دیگر پولیس اہلکاروں سمیت 28 جون 1994 کو نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں ان کے گھر کے قریب ہی گھات لگا کر قتل کر دیا گیا۔
انسپکٹر بہادر علی کے صاحبزادے عرفان بہادر اب خود سندھ پولیس میں ایس ایس پی ہیں اور اپنے والد کے قتل کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیتے ہیں۔
’ہمارے خاندان کا کوئی فرد وہ دن کبھی نہیں بھول سکتا جب ہم نے اپنے والد کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔ میں پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور اس وقت میری عمر محض 17 برس تھی، سب سے چھوٹا بھائی تو سات سال کا تھا، میں تعلیمی چھٹی گزارنے شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔‘
’ہمارا گھر نارتھ ناظم آباد کے این بلاک میں ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ڈی سی آفس کے بالکل سامنے والی گلی میں تھا۔ تب روزانہ کم از کم 30، 30افراد مارے جاتے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان کے والد انسپکٹر بہادر علی صبح ساڑھے نو بجے گھر سے نکلے، ان کے ساتھ عملے کے تین ارکان یعنی گن مین بھی تھے۔
’یہ چاروں پولیس کی موبائل وین میں نکلے۔ گلی سے سیدھے ہاتھ پر مڑتے ہی سامنے لیڈی برڈ سکول تھا جو تعطیلات کی وجہ سے بند تھا۔ دہشتگرد اسی سکول اور اس کے سامنے کے ایک گھر کی چھتوں اور دوسری طرف کی مسجد کے بالائی حصے پر مورچہ بند تھے۔‘
’جیسے ہی میرے والد کی گاڑی سکول کے قریب پہنچ کر مڑنے کے لیے آہستہ ہوئی تو سکول، گھر کی چھت اور مسجد کے بالائی حصے میں پہلے سے مورچہ بند حملہ آوروں نے تین اطراف سے گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ میرے والد سمیت چاروں افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے۔‘
انھوں نے جذبات سے بھری آواز میں بتایا کہ جیسے ہی فائرنگ شروع ہوئی تو اُن کی والدہ خود باہر نکل کر گئیں۔ ’میرا سات برس کا بھائی اور میری والدہ۔ انھوں نے میرے والد کو ان ہی کے خون میں لت پت شہید دیکھا۔ اپنی آنکھوں سے۔‘
’پھر ایک لڑکا فہیم کمانڈو جو ایم کیو ایم کا کارکن تھا گرفتار ہوا اور اس نے دوران تفتیش پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ لندن سے احکامات الطاف حسین نے دیے تھے، پھر ایک دہشتگرد جاوید لنگڑا جو انڈیا میں تھا اس کی مدد سے یہاں ٹیم تشکیل دی گئی اور فہیم اور اس کے ساتھیوں کو یہ کام سونپا گیا۔‘
’قاتلوں نے کئی دن تک میرے والد کے آنے جانے کے اوقات پر نظر رکھی، کچھ لڑکے ناظم آباد کے تھے، کچھ بلدیہ کے تھے، اور پھر منظم منصوبہ بندی کی ساتھ انھیں قتل کر دیا گیا۔
’ہمارے جیسے خاندانوں نے اس بدقسمت شہر کی بدقسمتی کی قیمت اپنے پیاروں کو کھو کر ادا کی۔‘
عرفان بہادر کے مطابق ڈی ایس پی شمیم کو بھی اُسی علاقے میں قتل کیا گیا جو ان کی عقبی گلی میں رہتے تھے۔
والد کے قتل کے بعد مالی اور خاندانی مشکلات کو سب سے مشکل سوال قرار دیتے ہوئے عرفان بہادر نے کہا کہ ’کوئی الفاظ میں بتا سکتا ہے، نہ کوئی سن کر سمجھ سکتا ہے۔‘
’اب ہر برس یہ دن ہمارے لیے ایک تکلیف دہ دن ہوتا ہے اور یہ درد ساری عمر ہمارے ساتھ رہے گا۔‘
فہیم کمانڈو: ’قتل کیے بغیر مجھے نیند نہیں آتی‘
پاکستان سے ترک وطن کر جانے والے سندھ پولیس کے ایک سابق افسر نے کہا کہ ’گرفتار ہو جانے پر فہیم کمانڈو نے تفتیش کے دوران بتایا کہ مجھے تو قتل کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی، جیسے نشئی کو نشے کے بغیر سکون نہیں ملتا بالکل ایسے ہی اُسے قتل کیے بغیر نیند نہیں آتی تھی۔
’اس نے بتایا کہ وہ اپنے طور پر بھی یوں ہی رات کو کسی کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر نکل جاتا تھا، کسی پر شک بھی ہو گیا کہ یہ پولیس اہلکار ہے تو اسے قتل کر دیتا تھا۔‘
اُس زمانے میں بھی فہیم کمانڈو کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ گرفتار ہو جانے کے بعد فہیم کمانڈو نے اس سب قتل و غارت کو اپنے اعترافی بیان میں قبول کر لیا اور تفتیش کاروں کو ہر جرم کی تفصیل بتائی۔
بعد میں خود فہیم کمانڈو بھی دورانِ حراست اس وقت ہلاک ہوا جب اسے ایک نشاندہی کے لیے لے جایا گیا۔
مستقلاً پاکستان سے منتقل ہو جانے والے ایک سابق سیاسی رہنما نے فہیم کمانڈو کے قتل پر ردعمل میں کہا ’آپ کا نظام، ریاست اور اس کے ادارے انسپکٹر بہادر علی کے قتل کو قتل کہتے ہیں مگر فہیم کمانڈو کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار بھی دہشتگردی کے ایک حملے کو قرار دیتے ہیں۔
’وہاں انصاف کہاں سونے چلا جاتا ہے؟ کون جواب دے گا آج؟ فہیم اور اس جیسے ہمارے بھی تو سیکڑوں کارکن ساتھی مارے گئے ماورائے عدالت! اُن کا بھی تو خاندان تھا ناں؟ وہ کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ بتائیے۔‘
خود عرفان بہادر نے بھی تسلیم کیا کہ ساری ایم کیو ایم دہشتگرد نہیں تھی ’مگر ایک جنگ کی کیفیت تھی اور اس میں ہر دو طرف سے زیادتیوں کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔‘
’ہوئی ہو گی زیادتی پولیس کی جانب سے بھی، مگر اس کے لیے مکینزم آج بھی ہے اور اس وقت بھی تھا۔ شکایات سیل تھے، عدالتیں تھیں، ہوم ڈپارٹمنٹ تھا، پولیس افسران تھے، سب کچھ تھا، شکایتیں کی جا سکتی تھیں۔‘
سندھ پولیس کے ایک سابق سربراہ اور سابق آئی جی نے کہا ’فہیم کمانڈو کوئی معمولی مجرم نہیں تھا، میں ذاتی طور پر گواہ ہوں کہ اس کی گرفتاری اور ہلاکت دونوں کا تذکرہ وزیر اعظم اور صدر مملکت کی سطح تک ہوا تھا۔ وزیراعظم بینظیر بھٹو اور صدر فاروق لغاری کو میں نے ان معاملات پر خود بریفنگ اور دلچسپی لیتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘
فہیم کمانڈو کی ہلاکت کے وقت ڈی آئی جی کراچی رہنے والے ڈاکٹر شعیب سڈل اس معاملے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔
’میرے دور میں 149 پولیس مقابلے ہوئے، مگر یہ (فہیم کمانڈو والا) نہیں ہونا چاہیے تھا، نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ بدنامی بھی ہوئی، یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ہماری ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔‘
تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر سڈل نے کہا ’ایک روز مجھے اطلاع ملی کہ چند لڑکے کہیں بلیئرڈ کھیل رہے ہیں، جن میں فہیم بھی ہے۔ اس وقت بھی وہ قتل کی 100 کے قریب وارداتوں میں ملوث تھا۔ میں نے فورس کو بتائے بغیر ٹیم بھیجی کہ سب کو لے آؤ۔ وہ اسے لے آئے۔ مگر کوئی اس کو جانتا نہیں تھا، شناخت کے لیے کوئی تصویر نہیں تھی ہمارے پاس۔ افسروں نے آ کر بتایا کہ ان میں کوئی فہیم نہیں ہے۔‘
شعیب سڈل نے بتایا کہ ’میں نے خفیہ اداروں سے رابطہ کیا اور تصویر مل گئی اس وقت سب سے بڑی ہیڈ منی فہیم کی تھی۔ پھر ایک سیاسی شخصیت نے جا کر تصدیق کی کہ ہاں ان میں فہیم شامل ہے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے خود وزیراعظم کا فون آیا، فہیم کی گرفتاری پر اتنی بڑی کامیابی پر مبارکباد کے لیے۔ بعد میں تصدیق کرنے والے سیاستدان کو بھی قتل کر دیا گیا۔‘
ڈاکٹر سڈل کا موقف جو بھی ہو مگر اس کہانی کے لیے میری مدد کرنے والے افراد میں سے ایک نے ’ریکارڈڈ‘ گفتگو میں تسلیم کیا کہ فہیم کی گرفتاری پر ریاست کے فیصلہ سازوں میں اس بات پر غور ہوا کہ ’ہم اس کو رکھ کر کیا کریں گے؟ یہ بھاگ جائے گا اور پھر ہمارے لیے تباہی کرے گا۔ اس غور میں خود وزیر داخلہ جنرل نصیر اللّہ بابر بھی شریک تھے۔‘
اسی اثنا میں سندھ اسمبلی بلڈنگ اور سندھ سیکریٹریٹ پر راکٹ حملے کیے گئے اور ایک راکٹ سیکریٹریٹ کی پانچویں منزل پر وزیرِ اعلیٰ کے دفتر پر بھی لگا۔
ڈاکٹر سڈل سے جب اس گفتگو کا حوالہ دے کر سوال کیا گیا تو انھوں نے تردید سے گریز کرتے ہوئے کہا ’پولیس کا کردار کرائے کے قاتل کا نہیں۔
’میں نے چارج لیتے وقت بتا دیا تھا کہ میں قانون کے مطابق کام کروں گا۔ میں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی ہمیشہ بھرپور مخالفت کی، میرے دور میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘
شعیب سڈل نے کہا کہ ’14 دن کے ریمانڈ کے بعد گرفتار فہیم کو جیل بھیج دیا گیا، میں نے خود جیل حکام کو پابند کیا کہ مجھے بتائے بغیر اسے عدالت بھی مت بھیجنا کیونکہ میں خود اس کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کی نگرانی کروں گا۔‘
’کئی ماہ بعد میں صبح ناشتے پر اخبار پڑھ رہا تھا تو انگریزی اخبار ڈان کے بیک پیج پر خبر دیکھی کہ فہیم کمانڈو ایک مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا اور ہلاکت کے وقت اسے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔‘
’جس دن سیکریٹریٹ پر حملہ ہوا اسی رات ایس ایچ او راؤ انوار نے مجسٹریٹ سے رات کو ہی یہ آرڈر حاصل کیا کہ وہ جیل میں زیرِ حراست فہیم کمانڈو کو نشاندہی کے لیے کہیں لے جانا چاہتا ہے اسے اجازت دی جائے کہ فہیم کو وہاں سے لے جا سکے۔‘
ِ’فہیم کے ساتھیوں کو خبر ہو گئی اور فہیم کو چھڑوانے کے لیے انھوں نے پولیس ٹیم پر حملہ کیا اور فہیم پولیس اور حملہ آوروں کی درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہتھکڑی میں حملہ آوروں کی گولی سے ہلاک ہو گیا۔‘
بتانے والوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر سڈل کو جب یہ محسوس ہوا کہ انھیں بائی پاس کیا گیا ہے تو انھوں نے جنرل نصیر اللّہ بابر سے کہا کہ اگر مجھ پر اعتماد نہیں تو مجھے اس ذمہ داری (آئی جی کراچی کے عہدے) سے آزاد کر دیں۔
مگر جنرل بابر نے مجھ سے کہا کہ نہیں یہ میری ذمہ داری پر ہوا ہے اور اگر کہیں کوئی پوچھے گا تو میں مکمل ذمہ داری سے تسلیم کروں گا۔
ڈاکٹر سڈل کہتے ہیں کہ پریس نے رپورٹ کیا کہ ہلاکت کے وقت فہیم کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بدنامی کا باعث بنا فورس کے لیے اور اس لیے میں کہتا ہوں کہ اس نے ہماری محنت پر پانی پھیر دیا اور یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
’یہاں تک ہوا کہ جب صدر لغاری نے ایک اجلاس میں اس واقعے کے بارے میں پوچھا تو جنرل بابر نے کہا کہ میرے حکم پر فہیم کمانڈو کو نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔‘
ڈاکٹر سڈل کا ماننا ہے کہ ’زیر حراست افراد کا قتل سرخ لکیر ہے اسے کسی بھی حال میں عبور نہیں کرنا چاہیے۔‘
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


