یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو
جہاں لوگ شاعری کو صرف کلامِ موزوں کے پیندے میں مقید کر دیتے ہیں وہاں کچھ صاحب ہوش تخلیق کار اپنے اس کارِ فہم کو اپنے احساسات، مشاہدات، تجربات، پیشے، مقامِ ہجرت، مقامِ سکونت اوررشتوں کے بندھن سے جوڑ کر نمایاں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر یسین عاطرؔ کا علاقہ بھی موخر الذکر قبیل سے ہے۔ وہ اپنے پاؤں کی زمین سے نہ قطع تعلقی اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی اس تعلق پر ان کو کوئی سبکی ہے۔ اگر ایسا کرنے پر کسی کی سوچ ہے کہ خیال پر دقیانوسیت کا کا رنگ چڑھ سکتا ہے تو ایسی دقیانوسیت پر ڈاکٹر یسین عاطرؔ فخر کرتے ہیں جس پر رشتوں اور اپنی مٹی سے خیانت نہ ہو، ان سے تعلق بھی بحال رہے اور اپنے حرف کی حرمت کوخیال کی تازگی کی آنچ سے مزید تاب تپش مہیا کی جائے۔
ڈاکٹر یسین عاطرؔ انسانیت کے معالج بھی ہیں، استاد بھی ہیں اور شاعر بھی۔ یہ تینوں خوبیاں قلندرانہ اور صوفیانہ ہیں۔ ان کی اپنی زمان میں اس فکر کو دیکھیے :
اہل دانش ہو کہ صوفی ہو یا قلندر عاطرؔ
غور سے سنتے ہیں سب لوگ نگارش اس کی
انہوں نے جو عشق کو جادہ منزل کیا تو ثابت بھی کیا۔ کتاب ”عشق وسیلہ“ کی پہلی غزل کا آغاز وہ اپنے عشق کو تقویت دیتے ہوئے یوں کرتے ہیں :
سوچتا ہوں کہ ترے عشق میں ایسا ہو جاؤں
تو جو چھو لے مری مٹی کو تو سونا ہو جاؤں
غیر ممکن ہے کوئی دام گرا دے میرے
تو اگر ٹھہرے خریدار تو سستا ہو جاؤں
اب آگے چلیے۔ ٹھہریے پہلے ان کی اس کتاب ”عشق وسیلہ“ کا آخری شعر دیکھتے ہیں :
میں تو گم نام تھا، کم قدر تھا اور خاک بسر
اک ترے عشق نے توقیر بڑھا دی میری
اس شعر میں وہ محبوب کے وسیلے سے بھی عشق کا پرچم سر نگون نہیں ہونے دیتے بلکہ صوفی کی مانند خود کی نندیا کر کے، عاجز کر کے عشق سے سرفراز ہونے کی بات کرتے ہیں۔ چلیں یہاں کی بات یہیں روکتے ہیں مزید ان کی غزلوں میں سے عشق کے تیقن کی بات ہو جائے۔ نہیں نہیں۔ تھوڑا سا مزید رکیے اس کتا ب میں جو کل گیارہ قطعات ہیں ان کے دوسرے صفحے پر عشق کی سربراہی میں ایک قطعہ ملاحظہ ہو:
تم سے بس عشق ہے روانی میں
دل سے اظہار ذات کرتا ہوں
تم لبوں سے کلام کرتی
اور میں سینے سے بات کرتا ہوں
یہاں عشق کی روانی اور سینے سے بات کرنا اس امر کی علامت ہے کہ عامل کے خون، مزاج سانس اور سینے میں یہ جذبہ، عقیدہ، جرات اور کیفیت حلول کر چکی ہے۔ عشق کی اگر سرسری سی بات بھی کی جائے تو یہاں ”عشق وسیلہ“ کی سیکنڈ لاسٹ غزل پر انگلی آکر رک جاتی ہے جہاں وہ کہتے ہیں :
جاتی نہیں ہے پھر بھی سمندر کی تشنگی
پیتا ہے گر چہ روز وہ دریا خرید کر
اب عشق کر لیا ہے تو وحشت کے واسطے
عاطرؔ کہاں سے لاؤ گے صحرا خرید کر
اول الذکر شعر میں اگر چہ تشنگی کے لیے روز روز خرید کا سامان تو موجود ہے مگر موخر الذکر شعر میں عشق ایسا لا محدود جذبہ ہے اور وہ اگرطاری بھی ہو جائے تب بھی اس کے سلوک کی منزلوں کے لیے بہت خواری چاہیے۔ عاشق کے سر میں عشق کے سودے کی تقویت کے لیے صحرادرکار ہوتے ہیں جہاں عشق کے بھید کھلتے ہیں مگر اس صحرا کو اپنی ملکیت میں لینا شاید سات سمند پا پیادہ پار کرنے سے بھی مشکل کام ہے۔ چلیں اس بھید کو قاری پر چھوڑتے ہیں۔ اب ہو جائے بات ”عشق وسیلہ“ کے اندر عشق کی حرمت کی، تو ساتھیو! ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے اپنی اس کتاب میں بیسیوں بار حرفِ عشق برتا ہے اور ہر بار عشق کے معنی کے مختلف روپ اور شیڈ سامنے آئے ہیں جس سے یہ اسرار کھلتے ہیں کہ عشق ست رنگی کیفیت نہیں بلکہ اپنی ذات میں لکھ رنگی کیفیت رکھتا ہے۔ اس عشق کو انہوں نے ابہام سے کوسوں دور محسوس کیا ہے۔ وہ اس راستے میں کسی ابہام کا شکار نہیں ہوئے بلکہ بڑے اعتماد کے ساتھ رہروانِ عشق میں شامل ہوئے ہیں۔
حرف ِعشق کے معنی کے سلسلے میں بھی ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے بہت ورائٹی دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ذرا احتیاط سے بھی کام لیا ہے۔ ”عشق وسیلہ“ کی چوتھی غزل میں عشق کی سربراہی میں محبوب کی امامت پر بھی بہ خوشی راضی ہوکر اس کے مخلص مجاور ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یعنی یہاں محبوب سے عشق کا درجہ بہر صورت اونچا رکھا ہے :
لوگو اب کیسا گلہ، کیسی شکائت اس کی
عشق ہو جائے تو جائز ہے امامت اس کی
اس نے مجھ کو بھی بنا ڈالا کڑے دل والا
مجھ کو رونے نہیں دیتی ہے محبت اس کی
یاد رہے کہ یہاں لفظ ”محبت“ بھی ”عشق“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی غزل کا اگلا شعر ہے :
دیکھنے میں تو وہ اک عام سی لڑکی ہے مگر
عشق ہر روز بڑھا دیتا ہے قیمت اس کی
یہاں لڑکی اگر چہ معشوق کے معنوں میں استعمال ہوئی ہے مگر یہاں محبوب سے بھی عظیم درجہ ”عشق“ کا ٹھہرا ہے۔ اگر عشق کی طاقت موجود نہ ہو تو اس عام سی معشوق کی وقت اور قیمت ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ عشق ہی ایسی روشن قوت ہے جو اس کی قدرو منزلت میں اضافہ کرتا ہے نہیں تو وہ ایک مٹی کا بت رہ جاتا ہے جو دنیا میں ایک دو نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ہو گزرے ہیں۔
راہ عشق میں شوق سے بھی آیا جا سکتا ہے اور محبت سے بھی مگر ہر دو پہلو سے سنجیدگی کا عنصر محل نظر ہوتا ہے۔ یہ راہ کٹھن، منظم اور مشکل ہے۔ ”عشق وسیلہ“ کی چٹھی غزل میں اس موضوع پر اشعار دیکھیے :
اب مجھے جس طرف بھی لے جاؤ
میں تو بس آ گیا محبت تک
بن گیا جب سے عشق کا مجرم
کوئی دیتا نہیں ضمانت تک
یہاں تو ابھی عاشق نے عشق کا جادہ آغاز کیا ہے۔ عشق کے اصولوں میں یہ ہے اس سفر کے پہلے قدم میں ہی عاشق نے عشق کو خوداختیاری دے دینی ہے۔ پہلے تو اسے خوداختیاری دینا ہی بہت بڑی قربانی ہوتی ہے اور پھر لا حاصلی کا عندیہ بھی دکھائی دے۔ کسی کا ضمانت نہ دینا در اصل معاشرے کی بے حسی ہے جہاں آ کر آدم خاکی کبھی کبھی مایوسی کی باریک سی پل صراط پر سے گزر کر اپنی منزل کی جانب چلتا جاتا ہے جہاں اسے ابھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ منزل کہاں اور کتنے فاصلے پر ہے۔
”عشق وسیلہ“ کی ساتویں غزل میں عشق کا نام ”گلاب“ رکھ کر عشق سے کلام کیا گیا ہے :
اس کی رنگت ہے کیا، بدن کیسا؟
ان سوالوں کا ہے جواب گلاب
عشق میں مذہب، ذات، رنگ، نسل، خاندان، خدو خال اور قبیلہ نہیں دیکھا جاتا بلکہ عاشق کی آنکھوں پر عشق کی پٹی چڑھی ہوتی ہے کچھ اور دیکھنے کی نہ اس میں ہمت ہوتی ہے نہ وہ کچھ اور دیکھنا چاہتا ہے :
ہر نئے پھول میں تجسس ہے
کس طرح سے ہے کامیاب گلاب
ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ عشق سفر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے والے خود کو اس عشق ذات کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں اور عشق کو گلاب کا نام دے کر خو کود اس کی پتیاں محسوس کرتے ہیں۔ عشق کے پڑاؤ، منزلیں اور زینے پر چلنے والے راہی اس شعر کی گہرائی و گیرائی سمجھ سکتے ہیں :
پتی پتی بکھر گیا کیوں کر
کر نہ لے میرا احتساب گلاب
اس شعر میں ایک بڑی رمز پوشیدہ ہے۔ بھلے چاہنے والا اس سفر میں برباد ہوا، فنا ہوا یا مٹ گیا مگر اس میں ہوتا یہی ہے عاشق اپنے آپ کو مرشد کی سپردگی میں دے کر خوش ہی رہتا ہے اور اس سے دور نہیں جانا چاہتا چاہے کتنے ہی احتساب بھگتنے پڑیں۔ یہاں یہ مقام ہوتا ہے کہ :
مرشد دے ہتھ بانہہ اساڈی، کیوں کر آکھاں چھڈ وے اڑیا
اسی غزل میں لفظ ”گلاب“ کو عشق کا نام دے کرگلاب کو عشق کا پروموٹر یا روح رواں ثابت کر دیا ہے۔
ایسے لگتا ہے اہل دل کے لیے
بن گیا عشق کا نصاب گلاب
جس کو یہ نصاب ازبر ہو جاتا ہے اسے کسی اور نصاب کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہی نصاب پھر اس کی فکری اور روحانی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ کتاب کی غزل نمبر نو ہے :
کشت جاں کو یہی سیراب کیے رکھتی ہے
نہر جو عشق کے دریا سے نکالی میں نے
مل گیا عشق سے انعام میں صحرا مجھ کو
اک یہ معراجِ محبت بھی کما لی میں نے
یہ معراج ہر وہ شخص پا سکتا ہے جو اس کی تفہیم تک پہنچ جائے۔ وہ عاشق بھی ہو سکتا ہے معشوق بھی اور کبھی کبھی تو رقیب بھی اس مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ غزل نمبر بیس میں دیکھیے :
وہ عشق میں مجھے تسخیر کر کے چھوڑے گا
گلی گلی مری تشہیر کر کے چھوڑے گا
وہ چھو رہا ہے مرے روح کے اثاثوں کو
سخنوری مری جاگیر کر کے چھوڑے گا
عشق سے سخنوری پر ملکیت ہو جائے تو ہر صورت مرید کو مرشد کے رنگ میں رنگنا ہی ہوتا ہے۔ عشق کا رنگ اتنا گوڑھا ہوتا ہے کہ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ ”عشق وسیلہ“ کی غزل نمبر انتالیس میں ڈاکٹر صاحب اس بات کی تصدیق کر دیتے ہیں :
اس کی عادت مری عادت ہوتی
بے سبب میں بھی پریشاں ہوتا
عشق چہرے سے نہ چھپتا عاطرؔ
صبح کی طرح نمایاں ہوتا
عشق کا تو کوئی ایک مقام یا جگہ مخصوص نہیں ہوتی۔ اس کا راہی ریا کاری نہیں کر سکتا اس سے کی ہوئی کسی بھی طرح کی عیاری اور ہینکی پینکی فوراً سامنے آ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ مخلص رہنے والے کو عشق کبھی کمزور نہیں پڑنے دیتا اسے یہ ہمیشہ جذبوں کو توانا اور جوان رکھتا ہے۔ غزل نمبر سینتالیس میں کہتے ہیں :
دور رہ کر نہ کبھی ہجر بیانی کرتا
عشق ہوتا جو اسے نقل مکانی کرتا
گر مزاجاً وہ مری طرح کا ہوتا عاطرؔ
پھر تو اس عمر رسیدی میں جوانی کرتا
عشق اور کچھ دان کرے نہ کرے دل اور احساس کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔ اس کے باسی اور راہی اسی خزینے سے اپنی پہچان رکھتے ہیں اور اپنے جیسوں کو پر کیف رکھتے ہیں اور ان سے پر لطف رہتے ہیں غزل نمبر پچاس کے دو اشعار اسی فہم کی غمازی کرتے ہیں :
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


