یہ مقام ہے بابا عشق کا، یہاں ننگے پاؤں چلا کرو


ہم فقیروں کے مقرب ہیں فقط دل والے

پاس دولت ہے نہ گھر ہے جو ہمیں چاہتے ہیں

عشق والوں سے ہے پر کیف ہماری محفل

ان پہ اک بار دگر ہے جو ہمیں چاہتے ہیں

یاد رہے کہ مندرجہ بالا شعر میں جو ’بارِ دگر‘ کی ترکیب آئی ہے یہ اس پر کیف کیفیت کو مزید دوبالا کرتی ہے جس میں سچے عاشقین دل و جان سے زلف یار یا خیال دوست سے اپنی نگاہ دور نہیں کرتے، چاہے ان پر کتنی ہی قیامتیں برپا ہو جائیں۔ ان پر گرمی سردی خزاں بہار گوتم بدھ کی طرح کچھ اثر نہیں چھوڑتی۔ یہی لوگ عزم کے پکے اور من کے سچے ہوتے ہیں اور اس پر کیف کیفیت کو خوش پوشی سمجھتے ہیں۔ غزل نمبر ترپن کے شعر دیکھیے :

اس نے با ہوش کر دیا ہے مجھے

جب سے خاموش کر دیا ہے مجھے

ایک پتھر تھا جس کی چاہت نے

نرم آغوش کر دیا ہے مجھے

جبہء عشق تھا عطا اس کی

جس نے خوش پوش کر دیا ہے مجھے

یہ جبہء عشق در اصل عشق مسلسل ہوتا ہے جس کو ملبوس کر نے والا ہمیشہ ہی سرخرو رہتا ہے۔ غزل نمبر چون میں عشق کس طرح خسارے کو سونا کرتا جاتا ہے۔ یہاں پر عشق کپاس کی کھیتی کی مانند شان و شوکت میں اضافہ کرتا ہے :

اسی سے بُنتا ہوں عاطر غزل کا پیراہن

بس اک کپاس کی کھیتی ہے اس کسان کی شان

وقارِ عشق میں مطلق کمی نہیں آتی

خسارا اور بڑھاتا ہے اس دکان کی شان

یہ خسارا کوئی بہت تن آسانی سے بھی خزینہ نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے پہلے قدم پر ہی جان دان کرنا پڑتی ہے۔ غزل نمبر پچپن دیکھیے :

کچھ نہ اس کام میں کفایت کی

میں نے دل کھول کر محبت کی

سستے داموں کہاں میں بکتا ہوں

بس ترے واسطے رعایت کی

کام اس شہر میں یہ مشکل تھا

پر ترے عشق کی حفاظت کی

عشق وہ کار خیر ہے کہ جو اس کی حفاظت کرلیتا ہے وہ اعتماد سے قدم اٹھاتا ہے اسے کسی سہارے کہ ضرورت نہیں رہتی۔ یہ وہ سانحہ ہے جو دل کی بھڑاس نکالنے میں مدد گار ثابت ہوتا۔ ”عشق وسیلہ“ کی غزل نمبر چھیاسٹھ کے ان اشعار سے اس عقدے کی تفہیم ہوتی ہے :

بات کرتی ہے اعتماد کے ساتھ

جیسے مدت سے جانتی ہے میاں

عشق بھی ایک سانحہ ہے عجب

وہ گلے مل کے رو رہی ہے میاں

ڈاکٹر یسین عاطرؔ اپنے اس عشق پر اتراتے نہیں بلکہ وہ جانتے ہیں کہ اس راہ میں کڑے مراحل آتے ہیں اور ابھی وہ وقت نہیں آیا جب دعویٰ ہو سکے کہ اس کی پر پیچ پگڈنڈیوں کو عبور کر لیا ہے۔ غزل نمبر انہتر میں کہتے ہیں :

اک غزل بھی کہی نہیں ہے یہاں

آنکھ وہ سر مئی نہیں ہے یہاں

ہم تھے بدنام تیری گلیوں میں

اک بھی تہمت لگی نہیں ہے یہاں

عشق ہوتا تو اس پہ اتراتے

یہ بھی پونجی بچی نہیں ہے یہاں

عشق کی تہمت توعبادت کا درجہ رکھتی ہے مگر اس میں دربدری اور فنا ہونے کی ہمت چاہیے۔ وہ ہمت جو ”عشق وسیلہ“ کی غزل نمبر بانوے میں دکھائی دیتی ہے :

عشق میں اس کو اک نظر دیکھو

اور پھر خود کو در بدر دیکھو

سائے کا راز جاننا ہے اگر

دھوپ میں بیٹھ کر شجر دیکھو

کس میں اتنی ہمت ہے کہ وہ تن کی ٹھنڈک اور سکون ترک کرے، اس کے سامنے سمندر ہو اور وہ تشنگی کی آخری حد کو چھو چھو کر جینے کی تمنا کرے۔ پھر وہاں ڈگمگانے کی بھی اجازت نہ ہو۔ وہاں تو حواس کی گمشدگی کا عمل بھی عیب شمار ہوتا ہے۔ یہاں تڑپنے اور سی کرنے کی مجال کسے ہو سکتی ہے :

غش نہ آجائے دیکھ کر عاطرؔ

اس پری وش کو بیٹھ کر دیکھو

یعنی تسلسل، توجہ اور تیقن کی زنجیر ہے جو دل کی دھڑکن اور آنکھ کی جنبش سے بندھی ہے۔ اس نازک کیفیت کو سانس میں بسانا بھی کڑی شرط ہے اور سانس کی ڈوری کو ٹوٹنے بھی نہیں دینا، یہ اس سے بھی کٹھن مرحلہ ہے۔ اس سرخروئی سے ہی عشق کا سراغ ملنے کا امکان ہو سکتا ہے ورنہ یہ آسانی سے پکڑائی نہیں دے گا۔ ان شرائط کا اطلاق عشق اپنے ماننے والوں پر خود لاگو کرتا ہے۔ اگر کوئی عشق کے سنگ ہائے میل طے کر لے تو پھر وہ شخص اس کے ثمرات سے بھی مالا مال ہو جاتا ہے۔ غزل نمبر چورانوے کے چند اشعار سے شاید یہ بات سمجھ میں آ سکے گی:

عشق رکھتا ہے جو پابند تجھے دیکھنے میں

دل نہ ہو جائے کہیں بند تجھے دیکھنے میں

میری آنکھوں میں بسی ہے ترے جلوے کی مٹھاس

روح ہو جائے شکر قند تجھے دیکھنے میں

روز کرتا ہے ترا ہجر ادھورا مجھ کو

روز ہو جاتا ہوں دو چند تجھے دیکھنے میں

تیرے دم سے ہی بنے شعر توانا میرا

لفظ ہو جائے تنو مند تجھے دیکھنے میں

ڈاکٹر یسین عاطرؔ اپنے پیشے، خاندان، روایات اور اخلاقیات سے انتہائی مخلص ہیں لہذا انہوں نے عشق مذہب میں بھی ثابت قدمی دکھائی اور باوجود اس کے کہ کئی مواقع پر عشق وسیلہ نے ادھورا کر کے چھوڑا مگر ان کے پایہء استقامت میں لغزش نہ آئی یہ بات ان کی اکلوتی غزل جس میں عشق کو ردیف کیا ہے، دیکھی جا سکتی ہے :

میٹھا لذیذ شہد بھرا عشق ہے مرا

بے داغ، پاک صاف، کھرا عشق ہے مرا

جھک جائے گا وزن سے لچک دار ہے بہت

پھل دار شاخ جیسا ہرا عشق ہے مرا

پھر سے محبتوں کے نئے قافلوں میں ہے

پھر سے مثالِ بانگ درا عشق ہے مرا

تیرے لیے سخن کوسجانے پہ کاربند

تیرے لیے ہی نغمہ سرا عشق ہے مرا

ہر لمحہ تیرے پاس ہے، تجھ سے قریب ہے

تیرے ہی زانوؤں پہ دھرا عشق ہے مرا

”زانوؤں پہ عشق دھرنے“ کی ترکیب کا احسن استعمال دیکھیے کہ جس سے عشق حقیقی اورعشق مجازی دونوں کے معنی پر بھی حرف نہیں آنے دیا اور شاید ہی اس سے قبل کسی نثر نگار یا شاعر نے یہ ترکیب استعمال کی ہو۔ اس کی حسنِ جمالیات کے پہلو ؤں پر اگر غور کیا جائے تو شعر کا پر لطیف معنی روح کو سرشار کر دیتا ہے۔

عشق وسیلہ کے مندرجہ بالا مندرجات کے علاوہ آپ پوری کتاب پڑھ دیکھیے وہاں ڈاکٹر یسین عاطرؔ نے نہ تو کوئی بھرتی کا شعر گھڑا ہے اور نہ ہی لا یعنی معنویت کو فروغ دے کر اپنا اور اپنے قاری کا وقت ضائع کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک تحریر میں اپنے بارے میں بھی ایسے سب شک و شبہات جو اگر چہ نہیں تھے مگر پیدا ہونے کا امکان تھا، دور کر دیے ہیں۔ وہ خود کہتے ہیں :

”جیسے ایک پرندہ اپنے پروں سے اپنی چونچ کو صاف کرتا اور سنوارتاہے، اسی طرح میں نے بھی ہر شعر کو خود ہی آراستہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجربات میرے مشیر، کتابیں میرے اتالیق اور احباب وجہ تحریک رہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کا فضل و کرم مجھ پر رہا جس کی بدولت مجھے اپنے کسی ہم عصرسے اصلاح لینے کی نوبت نہیں آئی۔ خود لفظوں ہی نے مجھ پر نئے نئے مطالب کے انکشافات کیے اور میرے غم ہی نے میرا شعری آہنگ مرتب کیا۔ “

یوں قاری، ڈاکٹر صاحب کی اس سعادت مندی پر ان کا شکر گزار بھی ہے کہ انہوں نے دیار غیر میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو کسی تنظیم، سینئر، جونیئر، رائٹ ونگ، لیفٹ ونگ یا کسی گروپ سے نتھی نہیں کیا اور نہ ہی کسی بزرگ کی سند یا مہر چاہی جس کا شکار ہمارے بہت سے بیرون ملک ساتھی ہو جایا کرتے ہیں جس سے ان کو اپنی تخلیق کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے اس لحاظ سے ڈاکٹر یسین عاطرؔ خوش بخت اور ذہین بھی ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو ایسے جھمیلوں سے بچائے رکھا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی کتاب ”عشق وسیلہ“ کی سوائے ایک غزل کے (وہ بھی کتاب کے آخر میں جا کر۔ شاید اس لیے کہ عشق کو اپنے ”عشق“ کی یقین دھانی کرانا مقصود تھی) کسی غزل کی ردیف ”عشق“ نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انہوں نے روایتی شعرا کی طرح لفظ ”عشق“ کی جگالی نہیں کی بلکہ اس کی بجائے اس کو معیار کیا، اس کو سربلند کیا، اس کے معانی کو وسعت دی، اس کی تفہیم پرت در پرت بیان کی اور ایک احترام اور وقار کے ساتھ اس کیفیت کو محسوس بھی کیا اور اس کو بھرپور برتا بھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4