محبت ایسے ہوتی ہے!
چلے جانے کے بعد تو سب ہی بھول جاتے ہیں اور بھول جانا پڑتا ہے مگرچلے جانے کا عمل بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، ابو اسی تکلیف سے گزررہے تھے۔
میں نے اور رخسانہ نے کئی طویل میٹینگیں کی تھیں، ہم دونوں میں سے ایک کا ہر وقت یہاں رہنا ضروری تھا۔ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ امی سے زیادہ ابو کو ہماری ضرورت تھی۔ امی نے تو جیسے فیصلہ قبول کر لیا تھا، اپنے طور پر تیاری کرلی تھی۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ مذہب کتنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب یکایک سب کچھ بدلنے والا ہوتا ہے، اس وقت خدا کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سی باتیں آپ اپنے شوہر، بیوی، بچوں، رشتے داروں سے نہیں کر سکتے ہیں، ان سے کچھ مانگ بھی نہیں سکتے ہیں مگر خدا سے تو کر سکتے ہیں، اس سے مانگ سکتے ہیں، گھنٹوں، پہروں عبادت کرتے ہوئے دل میں کسی چیز کی تمنا تو کر سکتے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ کوئی سن رہا ہے جس میں یہ طاقت بھی ہے کہ آپ کی تمنا، مراد، آرزو پوری کرسکے۔ میں دیکھ رہی تھی کہ وہ جب بھی جائے نماز سے نماز پڑھ کر یا اپنی خاص عبادات کرکے اٹھتی تھیں تو ان کے چہرے پرایک آسودگی ہوتی تھی۔ چوڑی پیشانی اوربڑی بڑی بزرگ آنکھوں میں گہرا اطمینان ہوتا تھا۔
ہم دونوں بہنوں نے اپنے شوہروں، بچوں اورانگلستان میں اپنے اپنے گھروں کو ضرورت کے مطابق منصوبہ بندی کرلی تھی۔ کچھ اس طرح سے پلان کیا تھا کہ دو دو مہینوں کے لیے ہم دونوں کو یہاں اور وہاں رہنا تھا۔ اپنے طور پر ہم دونوں نے انتظام کر لیا تھا۔ رخسانہ کے جانے سے دو دن قبل جب ابو گھر پر نہیں تھے تو انہوں نے ہم دونوں کواپنے سامنے بیٹھاکر دیر تک غور سے دیکھا تھا۔ پھر نہ جانے کیا پڑھ کر ہم دونوں کے چہرے پر پھونکا اور ہم دونوں کو بڑے زور سے اپنی چھاتی سے لگالیا تھا۔ ہم تینوں بے اختیار ہوکر رونے لگے تھے۔ شاید وہ یہی چاہتی تھیں کہ دل بھر کے رو لیں، آنسوؤں کا دریا بہادیں۔ جب رو رو کر ہم چپ ہوئے تو ایک عجیب قسم کا اطمینان میرے دل میں گھر کرگیا۔ رخسانہ نے بہت بعد میں ایک دن بتایا تھا کہ اس دن رونے کے بعد جو سکون اسے ملا تھا وہ پھر کبھی نہیں ملا۔
اس وقت انہوں نے ہم دونوں کے ہاتھوں کوپکڑ کر ہم سے ایک وعدہ لیا تھا۔ میں حیران رہ گئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میرے بعد تمہارے ابوزیادہ دن زندہ نہیں رہیں گے، مجھے پتا ہے یہ بات۔ پھر تم دونوں اس دنیا میں اکیلے رہ جاؤ گے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ اکیلے ہونے کے باوجود تم لوگ زندگی اچھی طرح سے گزارلو گے۔ تم دونوں کے بچے ہیں، تمہارے شوہر بھی ہیں اور تم دونوں نے اپنی اپنی دنیا بنالی ہے مگر تمہارے ابو کے لیے کچھ نہیں ہو گا، کچھ بھی نہیں۔ مجھے پتا ہے کہ وہ ٹوٹ پھوٹ جائیں گے، وہ بہت بہادر آدمی ہیں، بڑا دل ہے ان کا۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی تھیں، جیسے کچھ کہتے کہتے رک جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے جلدی جلدی کہا تھا، بس تم لوگ یہی کرنا اسی طرح سے تھوڑے تھوڑے دنوں کے لیے ان کے ساتھ مستقل رہنا۔ ان کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے تھے۔
ہم توپہلے ہی ایسا پلان بناچکے تھے۔ یہ فیصلہ توکر لیا تھا ہم لوگوں نے۔ کس طرح سے انہیں چھوڑسکتے تھے ہم لوگ۔ ہمیں پتا تھا کہ ہماری کوششوں کے باوجود وہ برطانیہ نہیں جائیں گے۔ وہ یہیں رہیں گے، اسی جگہ پر، اسی گھر میں، وہی سب کچھ کریں گے جوکرتے رہے ہیں۔ ہم دونوں انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے امی۔ آپ بالکل بھی فکر نہ کریں، جیسا آپ کہہ رہی ہیں ویسا ہی ہوگا۔
ان کی جھلملاتی آنکھوں اور اداس چہرے پر جیسے روشنی آ گئی تھی۔
رخسانہ ابو کو میرے حوالے کرکے چلی گئی۔ دوماہ امی ابو کے ساتھ خوب گزرے، مجھے ایسا لگا جیسے میرا بچپن واپس آ گیا ہو، فرق یہ تھا کہ اب کہانیاں میں سنارہی تھی۔
امی کی کیموتھریپی ہوچکی تھی اوراب دوبارہ سے ان کے سر پر بال اگ رہے تھے مگر وہ بہت کمزور ہوگئی تھیں۔ ابو بظاہر حوصلے میں تھے مگر حال ان کا بھی اچھا نہیں تھا۔ وہ بھی جیسے دھیرے دھیرے پگھل رہے تھے۔ انہوں نے باصابطہ طور پر کلینک آناجا نا شروع کر دیا تھا۔ کلینک، مریض اور ان کے مسائل میں وہ مصروف رہتے تھے۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ ان کا دل بہلا رہتا ہوگا، مگر سچ تو یہ ہے کہ وہ مریضوں کے ساتھ بھی تھے اورامی کے ساتھ بھی۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد آ جاتے تھے، مجھے پہلی دفعہ شدت سے احساس ہوا کہ میری ماں کتنی خوش قسمت تھیں۔ ابو کو امی کے بغیر جیسے چین نہیں ملتا تھا۔ ایک عجیب قسم کی بے بسی اورپریشانی نمایاں تھی ان کے جسم و جاں پر۔
دو ماہ گزار کر میں واپس پہنچی ہی تھی کہ رخسانہ کا فون آ گیا کہ امی کو نمونیا ہوگیا ہے اور شاید انہیں ہسپتال میں داخل کرنا پڑے۔ میرا دل جیسے بیٹھ گیا تھا۔ ابھی ایک ہفتہ ہی تو ہوا تھا مجھے آئے ہوئے۔ میں نے فوراً ہی ٹکٹ کا پتا کیا تھا، مجھے دوسرے دن کی پرواز مل گئی تھی۔
ابو ائرپورٹ پر موجود تھے، پریشان، حد درجہ گھبرائے ہوئے، بے چین۔ ہم دونوں ائرپورٹ سے سیدھے ہسپتال چلے گئے تھے۔ انہیں ریسپائریٹر پر ڈال دیا گیا تھا، وہ خود سے سانس نہیں لے سکتی تھیں۔
رخسانہ ہسپتال میں ہی تھی۔ ڈاکٹر ان کی حالت سے مطمئن نہیں تھے۔ انہیں بہت تیز قسم کی اینٹی بایوٹک دی جارہی تھی مگر نمونیا قابومیں نہیں آ رہا تھا۔ ابو نے کہا بھی کہ میں گھر چلی جاؤں، دور سے سفر کرکے آ رہی ہوں، آرام کرلوں مگر میرا دل نہیں مانا تھا۔
انتہائی نگہداشت وارڈ کے باہر ہم تینوں بیٹھے رہے تھے۔ باتیں کرتے ہوئے، کافی پیتے ہوئے، اونگھتے ہوئے، ہر تھوڑی دیر کے بعد اندر جا کر انہیں دیکھتے ہوئے۔ کچھ بھی کام نہیں آیا، رات دو بجے ڈاکٹروں نے بتایا ہ ان کا بلڈ پریشر بہت کم ہوگیا ہے اورنبض کی رفتار بڑھ گئی ہے۔ پونے تین بجے وہ ہم سب کو چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔
دوسرے دن ہی تدفین ہوگئی۔ رشتے دار، دوست احباب، ابو کے مریض، بے شمار لوگ ہمارے غم میں شریک ہوئے۔ لوگوں کے آنے جانے سے وقت تو گزرجاتا ہے، دل تو بہل جاتا ہے، مگرکھوئی ہوئی چیز نہیں ملتی، وہ مہربان چہرہ نہیں کھلتا، وہ ہاتھ چھوتے نہیں ہیں۔ ایک ہفتے بعد میں واپس برطانیہ چلی آئی تھی۔ ابو سے روز فون پربات ہو رہی تھی۔ پھر رخسانہ نے بتایا کہ زندگی میں ان کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے۔ ہم دونوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ کلینک ضرور جائیں مگر کوشش کے باوجود انہوں نے کلینک کا رخ نہیں کیا۔ ایسا لگ رہا تھا ان کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔
میں چار ہفتوں میں واپس آ گئی تھی۔ آنے کے دو تین دنوں کے بعدہی ایسا لگا جیسے انہیں دل کادورہ پڑا ہو۔ ہم دونوں گھر پر ہی تھے، فوراً ہی انہیں ہسپتال لے کر پہنچ گئے تھے۔ سارے ٹیسٹ نارمل تھے، ان کا دل ٹھیک تھا۔ ہم دونوں نے انہیں پانچ دن ہسپتال میں رکھ کر ہر قسم کے ٹیسٹ کرالیے تھے، بظاہر ان میں کوئی خرابی نہیں تھی۔ ہم لوگ اطمینان سے انہیں گھر لے کر آگئے تھے۔ ہمیں پریشان اور اداس دیکھ کر انہوں نے معمول کی زندگی گزارنے کی ایکٹنگ شروع کردی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

