محبت ایسے ہوتی ہے!
روزانہ شام کوکھانے کی میز پر ہم تینوں ساتھ ہوتے۔ نہ جانے کب کب کے قصے، امی کی باتیں، بچپن کی باتیں کرتے رہتے، ایسی باتیں جوہم بھولے بیٹھے تھے، ہمیں یاد بھی نہیں تھیں مگر اب یاد آ رہی تھیں۔ کیسی عجیب بات ہے ان کے جانے کے بعد کتنی بے شمار باتیں یاد آئیں، جن کا کوئی شکریہ میں نے انہیں نہیں کیا تھا۔ چھوٹی چھوٹی اسکول، کالج یونیورسٹی کی باتیں، ہمارے شادی کے رشتوں کی باتیں، پھر شادی اورشادی کے بعد ان کے نواسوں نواسیوں کی باتیں۔ انہوں نے ہم سب کو صرف دیا تھا اورجاتے جاتے بھی کتنی پریشان تھیں ابو کے لیے۔
اور اب وہ کہہ رہے تھے کہ امی کو ان سے محبت نہیں تھی۔ مجھے پہلی دفعہ وہ اچھے نہیں لگے تھے۔ مجھے بھی رخسانہ کو بھی۔
انہوں نے محسوس کر لیا تھا۔ وہ خاموشی سے ہم دونوں کودیکھتے رہے تھے پھر آہستہ سے بولے، میں غلط نہیں کہہ رہا ہوں شاید میں تم لوگوں کوبتاتا بھی نہیں مگر تمہاری ماں کی خواہش تھی کہ ہماری زندگی کا یہ رخ بھی تم لوگوں کوبتادیا جائے۔ صرف اس لیے بتارہا ہوں۔
میں جب تمہاری ماں سے ملا تھا تو ان کا نکاح میرے بہترین دوست طالب سے ہوچکا تھا۔ اس نے ہی مجھے تمہاری ماں سے ملایا تھا، تمہارے نانا کے گھر پر۔ وہ خوبصورت نہیں تھیں مگر ان میں غضب کی کشش تھی، مکمل طور پر نسوانیت میں ڈوبی ہوئی، ایسی پرکشش لڑکی میں نے زندگی میں کبھی بھی نہیں دیکھی تھی۔ مجھے طالب کی قسمت پر رشک آیا تھا۔ وہ طالب سے شدید محبت کرتی تھیں، ایک ہی برادری تھی اور بچپن سے رشتہ طے ہوچکا تھا۔
اس ملاقات کے بعد کئی اور ملاقاتیں بھی ہوئی تھیں اور جب بھی اس سے ملا تو ایسا ہی لگا تھا جیسے دل کا کوئی اورٹکڑا کہیں پہ چھلنی چھلنی ہوگیا ہے۔ انسان کیوں ایسے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اوپرکی جانب دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔ ہم دونوں کوہی کچھ عجیب سا لگا تھا۔ سالوں پہلے ہماری پیدائش سے قبل ان کی زندگی میں کیا ہوا تھا شاید اس میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر اب پیدا ہوگئی تھی۔
ہم دونوں ہی ڈاکٹر بن گئے تھے۔ طالب بہت ذہین تھا، اس نے امریکن امتحان دیا تھا جس میں اس کے بہت اچھے نمبر آئے اور وہ امریکا چلا گیا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک سال کے بعد آئے گا پھر شادی کے بعد روشن کو لے کر امریکا واپس جائے گا۔ چار سال تک مجھے اس کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔ میں اپنی ٹریننگ کے آخری سال میں تھا کہ اس رات روشن تمہارے نانا کو لے کر آئی تھیں۔ انہیں دل کادورہ پڑا تھا اور راستے میں ہی وہ انتقال کرگئے تھے۔ مجھے بعدمیں پتا چلا کہ دل کا دورہ اس وقت پڑا جب امریکا سے کوئی خبر لے کر آیا تھا کہ طالب نے کسی امریکی لڑکی نینسی سے شادی کرلی ہے۔ اس نے طلاق نامہ بھی ساتھ بھیج دیا تھا۔
مجھے پچھلے چار سالوں کا کچھ پتا نہیں تھا، میں تو سمجھتا تھا کہ طالب آیا ہوگا، روشن کی شادی ہوگئی ہوگی، وہ امریکا چلی گئی ہوگی، کتنے ہی کلاس فیلو امریکا سے آتے اور بغیر ملے چلے گئے۔ عملی زندگی میں تو یہی ہوتا ہے مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔
یہ ایک ایسا حادثہ تھا جس کی وجہ سے روشن میری زندگی میں آ گئی تھیں۔ میں نے بہت ڈرتے ڈرتے اپنی ماں کوان کے گھربھیجا تھا ان لوگوں نے رشتہ تو قبول کر لیا تھا مگر روشن نے پیغام بھجوایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ اس نے مجھے اپنے گھر بلالیا تھا۔
اس پورے گھرمیں بڑی اداسی تھی۔ روشن کی ماں نے میرا استقبال داماد کی ہی طرح کیا تھا اور ہم دونوں کوچھوڑ کر اندر چلی گئی تھیں۔ مجھے ابھی تک روشن کا روشن مگر کمھلایا ہوا چہرہ یاد ہے۔ اس نے کہا تھا کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی ہوں مگرمجھے شادی کرنا پڑے گی۔ کیوں کہ میں اپنی ماں کواتنا اداس اتنا پریشان نہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن اس رشتے سے پہلے مجھے یہ بتانا ہے کہ میں نے طیب سے ٹوٹ کر محبت کی ہے، مجھے پتا ہے اس نے مجھے چھوڑدیا ہے لیکن میں اسے نہیں چھوڑسکوں گی۔
میں آپ کودھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی ہوں، یہ جاننے کے باوجود اگر آپ نے مجھ سے شادی کرلی تو یہ میرے خاندان پر تو احسان ہوگا مگرمیں آپ کو خوش نہیں رکھ سکوں گی۔ روشن کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں، میرے دل میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ پھر ہماری شادی ہوگئی تھی، مجھے تو روشن سے ہی شادی کرنا تھی۔ میں نے اسے چاہا تھا، میں نے اس سے محبت کی تھی اورمیں نے اسے ایسے پایا تھا، جیسے کسی بچے کو کوئی سکہ مل جاتا ہے، جیسے کوئی مزدور کسی جگہ پر سونا پالیتا ہے۔
روشن سے مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ساری عمر میرے ساتھ میرے سائے کی طرح رہی، مجھے اچھے وقتوں کا پتا نہیں ہے لیکن وہ میرے برے وقتوں کی بہترین ساتھی تھی۔ میری ہم دم، میری دم ساز، میری آواز، میرا سب کچھ۔
ہم دونوں انہیں غور سے دیکھ رہے تھے، چند مہینوں میں کتنے بوڑھے ہوگئے تھے وہ، امی کے بعد ان کی زندگی تو جیسے ویران ہوگئی تھی۔ یہ کیسا پیار تھا، یہ کیسی محبت تھی، کیسے ہوتے ہیں انسان شاید ہم دونوں ہی یہ سوچ رہے تھے۔
مرنے سے تھوڑے دن پہلے اس نے مجھ سے معافی مانگی تھی کہ وہ مجھے وہ پیار نہیں دے سکی جو میرا حق تھا، کتنا بڑا الزام لگایا تھا اس نے اپنے آپ پر۔ مجھے کیا نہیں دیا تھا روشن نے، تم دونوں جیسی پڑھی لکھی بیٹیاں، رہنے سہنے کا ڈھنگ، بے شمار محبتیں پھر وہ کہہ رہی تھی کہ اس نے مجھ سے محبت نہیں کی، ساری عمر محبت کی اداکاری کرتی رہی، کیوں کہ اپنے دل سے اپنی پہلی محبت کو جدا نہیں کرسکی کبھی بھی۔
ان کے ہونٹ ہل رہے تھے جیسے وہ اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بڑی مضبوطی سے ہمارے ہاتھ پکڑلیے تھے پھر بڑی دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولے معلوم ہے میں نے روشن سے کیا کہا تھا، میں نے کہا تھا کہ مجھے تو ایسا کبھی بھی نہیں لگا، کبھی بھی نہیں لگا، مجھے پتا تھا وہ سچ بول رہی ہے اورمیں جھوٹ بول رہا ہوں۔ جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ اسے مجھ سے محبت نہیں ہوگی مگر مجھے تو محبت تھی اس سے، میری زندگی میں اہم صرف یہی تھا ایسے میں، ایسا جھوٹ میں سو دفعہ بولنے کو تیار تھا۔
روشن نے میرا ہاتھ پکڑلیا تھا اور آہستہ سے بولی تھی یہ بات میرے بعد میری بچیوں کو ضرور بتا دینا۔ پتا نہیں کیوں وہ ایسا چاہتی تھی۔ پھر وہ اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے تھے۔ آنسوؤں کا دھارا بری طرح سے برسا تھا۔ ہم دونوں کواحساس ہوگیا تھا کہ اس دن کینسر کے علاج کے دوران مرنے سے چند دن پہلے وہ ہمارے گلے لگ کر کیوں روئی تھیں۔

