عامل کا آسیب اور مامتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک مرتبہ میری بھولی ماں مجھے ایک عامل کے پاس لے کر گئی جس نے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا اور پھر اپنی پتلون کی جیب سے ایک شاخ نکالی اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی پیمائش کرنے لگا اور پھر اسے میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے مجھ سے آنکھیں بند کرنے کا کہا، میں نے ویسا ہی کیا پھر اس نے شاخ کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، جو اچانک سے چند انچ لمبی ہو کر اس کی درمیانی انگلی سے بھی قدرے بڑی ہو گئی اور میری ماں ہکا بکا دیکھتی رہ گئی۔

عامل کہنے لگا کہ مجھ پر ایک آسیب کا سایہ ہے پھر اس نے مجھے فرش پر آنکھیں موند کر لیٹنے کو کہا اور میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا پھر اس نے میری ماں کو بھی کہا کہ وہ بھی اپنی آنکھیں بند کر لیں اور میرے بازوؤں کو اپنے ہاتھوں کے شکنجے میں مضبوطی سے کس لیں۔ میری ماں نے ویسے ہی کیا۔ اور پھر میں نے اس عامل کے تر ہاتھوں کی سخت گرفت کو اپنے منہ پر محسوس کیا اور اور اس کی تمباکو سے بھری ہوئی سانسیں میرے چہرے پر محسوس ہونے لگیں اور اس کا دوسرا ہاتھ میں نے اپنے سینے پر رینگتا ہوا محسوس کیا تو میری آنکھیں باہر کو نکل آئیں اور میں نے دیکھا کہ وہ شہوت انگیز انداز میں مجھے گھور رہا تھا اور جب میں نے چلانے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھوں کی گرفت میرے چہرے پر مزید شدید ہو گئی اور پھر جب میں مچلنے لگی اور اس کی گرفت سے نکلنے کی سخت کوشش کرنے لگی تو وہ میری ماں پر چلاتے ہوئے اسے کہنے لگا کہ وہ اپنی آنکھیں بند رکھے اور بھرپور دعا جاری رکھے، کیونکہ آسیب نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ اس وقت میں بری طرح سے پیچ و تاب کھا رہی تھی اور پھر ایک شدت سے میں نے اس کی ران پر زور کی ضرب لگائی جس سے وہ چیخ اٹھا اور میں بھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔

ماں اور میں نے اک دوجے کی طرف دیکھا، ہم دونوں کی سانس پھولی ہوئی تھی اور ماں نے اس سے پوچھا کہ کیا عفریت ابھی تک میرے اندر ہی ہے یا میرا علاج ہو چکا ہے۔ عامل بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ میں ٹھیک ہو چکی ہوں۔ میری ماں نے اس سے وعدہ کیا کہ جب اگلی مرتبہ میرا باپ شکار پر جائے گا تو وہ اسے کیکڑوں کی ایک بالٹی تحفتاً بھیجے گی اور یوں ہم وہاں سے روانہ ہونے لگے۔ جب کہ عامل نے ابھی تک اپنے نازک اعضا کو پکڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنی ماں کو یہ بات کبھی نہیں بتائی کہ اس دن در حقیقت کیا ہوا تھا۔ کیونکہ اس عامل کے کمرے کے فرش پر بیٹھے ہوئے جب میری آنکھیں اپنی ماں کی آنکھوں سے چار ہوئیں تو مجھے اس کی آنکھوں میں ممتا بھری شفقت اور محبت ہی محبت نظر آئی اس بات سے قطع نظر کہ ماں نے کیا کیا تھا، میں اس دن سے ان کی پاسبان بن گئی۔

مصنف: پیٹر زاراگوزا مائیشل (فلپائن)
کتاب: فلیش فکشن انٹرنیشنل 2015
مترجم: خلیل الرحمان، میانوالی

Story: Engkanto
Writer: Peter Zaragoza Mayshle (Philippines)
Book: Flash Fiction International :Very Short Stories from Around the World (2015)
Publishers: W.W.Norton & Company New York London
Translator: Khalil Ur Rehman

Latest posts by خلیل الرحمان. میانوالی، پنجاب (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خلیل الرحمان. میانوالی، پنجاب کی دیگر تحریریں