عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں
اس تمہید کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ سب سے پہلے عسکری صاحب کے تصور روایت کو سمجھ لیں۔ عسکری صاحب پہلے بیان کرتے ہیں کہ مغرب میں کس طرح روایت کا لفظ محرف ہو کر اپنے معنی کھو بیٹھا ہے۔ اور جب مغرب کا کوئی آدمی روایت کا لفظ استعمال کرتا ہے تو دراصل وہ کس طرح صرف ایک ایسی چیز کا حوالہ دیتا ہے جو کچھ عرصہ سے کسی معاشرہ میں رائج ہو گئی ہو۔ یعنی روایت کے معنی ہیں ایک معاشرتی عادت۔ اس کے علاوہ مغرب کے لوگوں کا ایک اور تصور یہ ہے کہ معاشرہ میں مختلف روایتیں ہوتی ہیں، معاشرتی روایت، ثقافتی روایت، مغربی روایت، کھانے پینے کی روایت، لباس اور رہن سہن کی روایت وغیرہ وغیرہ۔
اور ان میں لازمی طور پر کوئی رشتہ نہیں ہوتا، یہ سب روایتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ تیسری بات مغرب والے یہ کہتے ہیں کہ روایت کوئی قائم و دائم یا مستقل چیز نہیں ہے بلکہ ایک ایسی چیز ہے جو زمانے کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہے۔ اور روایتوں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی فرق ہوتا رہتا ہے بلکہ دراصل مسلسل اضافوں کے مجموعے ہی کو روایت کہتے ہیں۔ عسکری صاحب نے اس کے مقابلے میں روایت کا ایک بالکل مختلف تصور پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ روایت کوئی ایسی چیز نہیں جسے کسی تہذیب نے کچھ عرصے سے اختیار کر لیا ہے۔
بلکہ روایت وہ چیز ہے جس پر ایک تہذیب کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس لیے روایت نہ عادت کو کہتے ہیں نہ رسم و رواج کو، نہ طور طریقوں کو بلکہ ان سب سے بنیادی چیز ہے۔ دوسری بات عسکری صاحب نے یہ کہی ہے کہ دراصل جس چیز کو حقیقی معنوں میں روایت کہا جاتا ہے وہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے اور معاشرہ کی دوسری روایتیں اس مرکزی روایت سے نکلتی ہیں۔ وہ الگ الگ نہیں ہوتیں بلکہ ایک ہی مرکزی روایت کا حصہ ہوتی ہیں جس کی بنیاد کسی آسمانی کتاب پر ہوتی ہے۔
چنانچہ روایت کے معنی در اصل ”دین“ ہی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ چونکہ روایت دین کے مترادف ہے اس لیے روایت تبدیل نہیں ہوتی نہ اس میں کوئی اضافہ ہوتا ہے نہ وہ زمانہ کے ساتھ ساتھ کچھ سے کچھ بنتی رہتی ہے۔ عسکری صاحب نے اپنے مضامین میں اتنی وضاحت سے بار بار کہی ہیں کہ مجھے تو ان کی تلخیص کرتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے۔ لیکن چونکہ غلط فہمیاں پیدا کرنے والے انہیں تصورات کو الجھاووں میں ڈال رہے ہیں اس لیے وضاحت کا یہ ناخوش گوار فریضہ انجام دینا پڑ رہا ہے۔
اب عسکری صاحب کا یہ کہنا ہے کہ جہاں تک مشرق کا تعلق ہے یہاں روایت کا یہ تصور ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ہندو ہوں یا مسلمان یا بدھ سب مانتے ہیں کہ روایت مرکزی اور بنیادی چیز ہے۔ اس کی بنیاد کسی عرفان اور الہام یا وحی پر ہے۔ معاشرہ کی تمام مروجہ روایتیں مرکزی روایت کے تابع ہوتی ہیں اور یہ کہ اس روایت میں کوئی تبدیلی یا اضافہ نہیں ہوتا۔ اس بات کو عسکری صاحب کے الفاظ میں وضاحت سے دیکھئے۔
”مشرق کی حد تک تو مسئلہ بالکل واضح ہے، مسلمان ہوں یا ہندو، یا بدھ، سب کا اتفاق دوچیزوں پر تو ہے : پہلی بات یہ ہے کہ معاشرتی روایت، ادبی روایت، دینی روایت، یہ الگ الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک بڑی اور واحد روایت ہے جو سب کی بنیاد ہے۔ اور باقی سب چھوٹی روایتیں اسی کا حصہ ہیں اور اسی سے نکلی ہیں۔ اسلامی اصطلاح کے مطابق اس بنیادی روایت کا نام ’دین‘ ہے۔ ثانوی روایتوں میں شامل ہونے کے لیے اس بنیادی روایت میں شامل ہونا لازمی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بنیادی روایت نکلتی ہے کسی آسمانی یا مقدس کتاب سے۔ پھر اس کی وضاحت کرتے ہیں اس کے مستند نمائندے اور صرف انہیں مستند نمائندوں کا قول قابل استناد ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا عبارت میں عسکری صاحب نے تین باتیں وضاحت سے کہی ہیں۔ کسی تہذیب کی مرکزی روایت اس کی دینی روایت ہوتی ہے۔ یہ دینی روایت کسی آسمانی کتاب یا مقدس کتاب سے نکلتی ہے۔ اس روایت کی تشریح اس کے مستند نمائندے کرتے ہیں۔ اب اس بات کو تفصیلاً سمجھ لیجیے کہ اسلامی تہذیب اسلام کی دینی روایت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد قرآن مجید پر ہے۔ اس کے مستند نمائندے رسول کریم ؐ، اصحاب رسول، امام، فقہاء اور علمائے کرام ہیں۔
ان میں بعض کی حیثیت مرکزی اور بنیادی ہے۔ اور ان کا کلام استناد کے مختلف مدارج رکھتا ہے۔ اسی طرح ہندو تہذیب کی روایت ہندو مذہب کی روایت ہے جو ویدوں سے نکلی ہے۔ اور اس کے مستند نمائندے برہمن ہیں۔ اسی طرح بدھ تہذیب کی روایت بدھ مت سے نکلی ہے۔ اور بدھ کے عرفانی اقوال پر قائم ہے۔ اس عبارت میں عسکری صاحب نے یہ کہیں نہیں کہا ہے کہ اسلامی، یا ہندو یا بدھ روایتیں ایک ہی ہیں۔ اور ہو بھی نہیں سکتیں۔ کیونکہ ان کی کتابیں، ان کا دین اور ان کے مستند نمائندے الگ الگ ہیں۔
اگر یہ غلط فہمیاں کچھ لوگوں میں پیدا ہو گئی ہیں تو یہ ان کی اپنی کج فکری ہے یا پھر صریحاً ایک ایسا دجل و فریب ہے جس کا سراغ صرف ا ن کی بدنیتی میں ہی مل سکتا ہے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ عسکری صاحب کے ایک خیال کی وضاحت کر دوں جس سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عسکری صاحب وحدت ادیان کے قائل ہیں۔ پہلے یہ بات دیکھ لی جائے کہ دینوں کے بارے میں قرآن کا موقف کیا ہے۔ قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس چیز پر ایمان لائیں جو رسول کریم ؐ پر نازل کی گئی ہے اور اس چیز پر ایمان لائیں جو اس سے پہلے نازل کی گئی ہے۔
اب جو پہلے نازل کی گئی ہے وہ بھی ایمان کا جزو ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔ قرآن بتاتا ہے جو پہلے نازل کیا گیا ہے ان میں سے کچھ کو ہم نے بیان کر دیا ہے اور کچھ کو بیان نہیں کیا ہے۔ لیکن ماننا انہیں بھی ہے جنہیں بیان نہیں کیا ہے۔ اور پھر بطور اصول جامع کے بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کی ہر قوم میں ہدایت دینے والے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی دنیا کے تمام سچے مذاہب ایک ہی خدا کی طرف سے ہیں اور وہی ان کا بھیجنے والاہے۔
وہ سب اپنے اپنے وقت پر برحق تھے لیکن امتداد زمانہ سے ان میں خرابیاں پیدا ہوتی گئیں اور ان کی اصلاح و تجدید کے لیے نئے نئے مذاہب آتے رہے۔ اور آخر میں خدا نے سب سے مکمل اور جامع مذہب اسلام کو بھیج دیا۔ اب اسلام کا نام بھی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تو اس مذہب کے معنوں میں جو رسول کریمؐ لائے اور دوسرا اس مذہب کے معنوں میں جو حضرت آدم ؑ سے شروع ہوا اور جس کے آخری پیغمبر نب ئی کریمؐ ہیں۔ اور دوسرے معنوں میں تمام سچے مذاہب اسلام ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


