عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سچے مذہب کی پہچان کیا ہے۔ قرآن نے اس کا اصول جامع پیش کیا ہے کہ سچا مذہب وہ ہے جو توحید پر قائم ہے۔ جس مذہب میں توحید موجود ہے خواہ اس میں کتنی خرابیاں اور گمراہیاں جگہ پا گئی ہوں، اصولی طور پر وہ ایک سچا مذہب ہے۔ یہ ایک ایسی پہچان بتا دی گئی ہے جس سے رسول کریمؐ سے پہلے کی رسالتوں، کتابوں اور صحائف پر ایمان لانے کا حکم ایک قابل فہم حکم بن جاتا ہے اور مختلف تہذیبوں کے بارے میں مسلمانوں کے اصولی موقف کو معین کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اب ان معنوں میں عسکری صاحب کا موقف اسلام کے بنیادی عقیدے کی مطابقت میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے سچے دینوں کا خالق ہے، اور سچے دین وہ ہیں جن میں توحید پائی جاتی ہے۔ اور یہی توحید کا اشتراک مشترک بنیاد ہے جسے عسکری صاحب التوحید واحد ’‘ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس وحدت ادیان کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ ان کی اخلاقی تعلیمات ایک ہیں اور اس لیے ان میں آپس میں کوئی فرق نہیں۔ ہر مذہب ہر جگہ اور ہر زمانے کے لیے یکساں حیثیت رکھتا ہے۔ گویا کسی بھی شخص کے لیے کسی خاص مذہب کا اختیار کرنا ضروری نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک باطل عقیدہ ہے جس کا عسکری صاحب سے کوئی تعلق نہیں۔
عسکری صاحب کے تصور روایت میں ایک چیز جو سب سے زیادہ نزاع کا باعث بنی وہ ان کا زبانی روایت کا اصول ہے۔ عسکری صاحب کے نزدیک ”صرف اسلام“ ہی نہیں مشرق کے سارے ادیان کا انحصار زیادہ تر زبانی روایت پر ہے، لکھی ہوئی کتابوں پر نہیں۔ ہمارے نزدیک کسی دین کے زندہ ہونے کامعیار یہ ہے کہ روایت شروع سے لے کر آج تک کلی حیثیت سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی چلی آ رہی ہے۔ پتہ نہیں اس تصور میں ایسا کون سا زہر ملا ہوا ہے کہ دہریے، جدیدیے، تجدیدیے سب اس کے خلاف یک زبان ہو کر بولنے لگے ہیں۔
حالانکہ زبانی روایت کے معنی صرف ایک ہی ہیں، انسانوں کے زندہ حافظے میں موجود ہونا۔ جب ہم کہتے ہیں کہ روایت کا انحصار زبانی روایت پر ہے تو اس سے اس کے سوا اور کچھ مراد نہیں کہ وہ پوری روایت زندہ انسانوں کے حافظے میں پوری کی پوری موجود ہوتی ہے۔ اس میں یہ خلط مبحث پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں کہ لکھی ہوئی کتابوں سے انکار کیا جا رہا ہے۔ یا ان کی اہمیت کو کم کیا جا رہا ہے۔ وید لکھے ہوئے موجود ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت شرتی ہے، یعنی سنی ہوئی چیز۔
قرآن حکیم لکھا ہوا موجود ہے لیکن اس کی بنیاد وحی ہے جو سنا ہوا کلام ہے۔ پھر یہ بات دیکھنے کی ہے کہ جن لوگوں نے تحریری ثبوت ہی کو حقیقی ثبوت سمجھا انہوں نے دراصل اس اصول کی مدد سے دین ہی میں کیا کیا رخنے ڈالے۔ عیسائی مذہب کے بارے میں ایسے محققین پیدا ہوئے جنہوں نے ثابت کیا کہ حضرت عیسیٰ کے وجود کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جس سے ان کی مراد کسی تحریری ثبوت سے تھی۔ ہندو مذہب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں کہ ویدوں کے لکھنے والے کون تھے اور وہ کس زمانہ میں لکھے گئے۔
خود بدھ کے بارے میں یہ تنازعہ موجود ہے کہ آیا وہ ایک تاریخی شخصیت یا صرف ایک اسطوری شخصیت۔ اب اسلام کو دیکھئے تو اس تحریری ثبوت والی بات نے عجیب عجیب بحثیں پیدا کی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ تاریخ غیر مستند ہے۔ کیونکہ ہم عصر زمانے میں لکھی گئی ہے [کذا]۔ ڈیڑھ دو صدیوں کے بعد لکھی گئی ہے۔ یہی سوال حدیثوں کے بارے میں اٹھایا گیا ہے کہ ان کا زمانۂ تدوین بھی بعد کا ہے۔ مطلب یہ کہ اس اصول کا انکار کیا گیا ہے کہ تاریخی روایات اور احادیث زبانی طور پر معاشرے میں موجود تھیں۔
اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان زندہ زبانوں میں روایتوں کو کس وقت مدون کیا گیا۔ ایک صاحب نے بہت دور کی کوڑی پیش کی ہے اور کہا ہے کہ قرآن تو کتاب ہے اور کتاب لکھی ہوئی چیز ہوتی ہے۔ لیکن کتاب اوراق پریشاں کو نہیں کہتے۔ اگر کتاب کے یہی معنی ہوں جو ان صاحب کے پیش نظر ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کتاب کی شکل میں لکھا لکھایا رسولؐ کو ملا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قرآن تئیس برس کے عرصے میں مختلف مقامات اور اوقات میں نازل ہوتا رہا۔
اور ہڈیوں، چمڑے اور کھجور کی پتیوں پر لکھا جاتا رہا اور اس کو یکجا کرنے کا کام بہت بعد میں اور بہت سی زبانی شہادتوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک کتاب موجود تھی جس پر سب متفق تھے یہ ایک کتاب ہے۔ بلکہ زبا نی اور زندہ حافظے کی روشنی میں مختلف شہادتوں کی بنیاد پر قرآن کو یکجا کیا گیا اور ایک کتاب کی شکل دی گئی۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ اصول تو وہ زندہ زبانی روایت ہے جو ہمارے معترضین کو اتنی تکلیف پہنچا رہی ہے۔ کتاب کی تصدیق زندہ انسانوں سے ہوتی ہے۔ اگرصرف تحریری مواد پر مذہب کا انحصار قرار دیا جائے تو دنیا کے مذاہب کا تین چوتھائی غائب ہو جائے گا۔ اور یہ تک ثابت نہیں ہو سکے گا کہ کون سی مذہبی شخصیت حقیقی ہے۔ کون سی کتاب مستند ہے۔ کون سی تعلیمات حقیقی ہیں اور کون سی غیر حقیقی۔ دراصل یہ مذاہب کی اندرونی داخلی اور حافظے پر بنیاد رکھنے والی زبانی روایت ہی ہے جو ان مذاہب کی اصلیت کو برقرار رکھتی ہے۔
آخر میں ایک اور مسئلہ قابل توجہ ہے۔ کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ عسکری صاحب نے مستند نمائندوں پر اتنا زور کیوں دیا ہے۔ اور کیا اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جس طرح ہندوؤں میں برہمن مستند شارح ہیں اس طرح اسلام میں بھی کوئی نسلی گروہ شارحین کا درجہ رکھتا ہے۔ اس بات کے جوابات ہیں۔ مثلاً اہل تشیع میں مستند شارح امامین معصوم ہیں جو ایک نسلی منصب ہے۔ لیکن اسلام کے دوسرے فرقوں میں نسلی منصب نہ ہونے کے باوجود عملاً یہ ہوا کہ جو مقام اسلام کی فقہی تشریحات میں آئمہ اربعہ کو حاصل ہوا وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔
اسی لیے امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابوحنیفہ اپنے اپنے فقہی مکاتب کے بانی سمجھے جاتے ہیں جن کی تقلید لازم ہے۔ جن کا قول سند کا درجہ رکھتا ہے۔ جو لوگ تقلید کے قائل نہیں ہیں وہ اس پر کتنے ہی اعتراض کیوں نہ کرتے ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امت مسلمہ کی اکثریت اسی اصول تقلید پر یقین رکھتی ہے اور آئمہ اربعہ کے متعلق ان کے بعد آنے والے کسی بھی ”ماہر“ کو وہ درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


