عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں
اب جہاں تک میری رائے کا تعلق ہے عسکری صاحب کے تصور روایت کے دو پہلو ہیں اور ہر چند عسکری صاحب نے کہیں وضاحت نہیں کی ہے لیکن ان کا تصور روایت یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے ایک مخصوص صورت حال میں پیش کیا گیا ہے۔ وہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب اور روایتیں مغربی تہذیب کی زد میں ہیں۔ اس لیے ان کا ایک مقابلہ تو تہذیب مغربی سے ہے لیکن دوسری طرف وہ اسلام کے مقابل بھی ہیں۔ تو جب اسلام کی جہت سے بات کی جائے گی تو کہا جائے گا کہ یہ منسوخ روایتیں ہیں۔
لیکن جب ایک ایسی تہذیب کے حوالے سے گفتگوکی جائے گی جو کسی روایت اور مذہب کو مانتی ہی نہیں تو مسئلہ کا پورا تناظر بدل جائے گا اور مغربی تہذیب کے مقابلے پر یہ ساری روایتیں مبنی بر حق ہیں۔ اب اس کو اسلامی اصول کی روشنی میں دیکھئے۔ قرآن حکیم نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ یہودی اور عیسائی گمراہ ہوئے اور انہوں نے اپنے انبیاء کو ناحق قتل کیا، کتابوں میں تحریف کی، اور شرک کے مرتکب ہوئے۔ لیکن کفر صریح کے مقابلے پر وہ انہیں ترجیح دیتا ہے اور اہل کتاب کا تصور پیش کرتا ہے۔ یعنی جب مقابلہ کھلے ہوئے کفر سے ہو گا تو یہودیوں اور عیسائیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر مقابلہ کھلی ہوئی دہریت اور لادینیت سے ہو اس کے مقابلے پر تمام مذاہب اور دین قابل ترجیح بن جائیں گے اور یہ کہا جائے گا کہ کفرصریح کے مقابلہ پر وہ مبنی برحق ہیں۔
عسکری صاحب اسلام کو خدا کا آخری اور مکمل ترین دین سمجھتے ہیں۔ اور ہرگز اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ اس میں اور دوسرے دینوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یا وہ دوسرے دینوں میں کوئی مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے تو صرف یہ ہی بات کہی ہے کہ جہاں تک مغرب کی مذہب دشمن، مبنی بر کفر و الحاد لادینی تہذیب کا تعلق ہے اس کے مقابلے پر تمام روایتیں اور تمام مذاہب صرف اس بنا پر کہ ان میں توحید کا تصور موجود ہے مبنی برحق ہیں۔
گویا یہ پورا مقدمہ ہی مغربی تہذیب کے مقابلے پر بنایا گیا ہے۔ رینے گینوں جن سے عسکری کا تصور روایت ماخوذ ہے مسلمان ہو گئے تھے اور فرانس چھوڑ کر مصر آ گئے تھے۔ جہاں وہ غریب مسلمانوں کی زندگی بسر کرتے تھے۔ پھر ان کا حلقہ زندگی میں جہاں جہاں تک پھیلا بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور ان کے ہم نواؤں کا ایک پورا گروہ تیار ہو گیا جو بحمد اللہ مسلمان ہے۔ اب اگر رینے گینوں یہ سمجھتے ہوتے کہ مسیحی روایت اپنی جگہ بالکل سچی اور اسلام کے مساوی روایت ہے تو وہ اسلام کیوں قبول کرتے۔ ان کے لیے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ مسیحی روایت پر قائم رہتے یا پھر جیسا کہ ان کی علمی دلچسپیوں کا تقاضا ہے ویدانتی بن جاتے۔ لیکن وہ مسلمان ہوئے اور انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ظہور اسلام کے بعد اور موجودہ صورت حال میں وہ اسلام ہی کو دین برحق سمجھتے ہیں۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ مقابلہ اگر الحاد اور دہریت سے ہو تو ہم گاندھی کا ساتھ دیں گے کیونکہ گاندھی خدا کا منکر نہیں تھا اور کسی نہ کسی مذہب پر یقین رکھتا تھا۔ یعنی مجرد کفر پر مذہب کو ترجیح دی جائے گی۔ عسکری صاحب جب مغربی تہذیب کے مقابلے پر ساری روایات اور مذاہب کی حمایت کرتے ہیں اور توحید کی بنا پر انہیں روایتی اور مبنی بر حق قرار دیتے ہیں تو دراصل ان کے پیش نظر یہی اصول ہوتا ہے۔
اس مسئلے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ جدید مغربی تہذیب تمام مذاہب کی دشمن ہے اور خاص کر اسلام سے تو ایسی کد ہے کہ وہ ہندو مت کی طرف دوڑ سکتی ہے، بدھ کو سر پر بٹھا سکتی ہے، لاؤزے کا کلمہ پڑھ سکتی ہے لیکن اگر اسے دشمنی ہے تو صرف اسلام سے۔ اس لیے حقیقی معنوں میں تو مغربی تہذیب اسلام ہی کی حریف ہے۔ رینے گینوں نے اس صورت حال میں یہ تصور پیش کیا ہے کہ مغربی تہذیب سے صرف اسلام ہی کو خطرہ نہیں ہے بلکہ تمام روایتیں اس کی زد میں ہیں۔
اس لیے ہر روایت اور مذہب کے آدمی کا فرض ہے کہ اس تہذیب کا مقابلہ کرے اور اس کے زیر اثر آنے سے بچنے کی کوشش کرے۔ پتہ نہیں مجھے ایسے الفاظ استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن یہ مغربی تہذیب کے مقابلے اور تہذیبیں اسلام کے زیر اثر مغرب کی لادینی تہذیب کا مقابلہ کریں گی اور اس طرح دور سعادت کے لیے راستہ ہموار کرے گی جو انجام کار اسلام اور صرف اسلام کے غلبے کا دور ہو گا۔
دوسرے لفظوں میں خالص اسلامی تصور کے مطابق عسکری کا تصور روایت مسلمانوں، اہل کتاب اور مشابہ اہل کتاب قوموں کے درمیان ایک متحدہ مقصد پر اشتراک کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی اور روایتی ہونے کی بنیاد پر جس صداقت کے حامل ہیں اس کی حفاظت کرنے کے لیے مغرب کی لادین اور مذہب دشمن تہذیب کا مقابلہ کریں۔
محمد حسن عسکری کے تصور روایت کی طرح بعض لوگوں کو ان کے تصور مابعد الطبیعیات پر بھی اعتراض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عسکری مابعد الطبیعیات وحدت الوجود پر مبنی ہے جو ایک غیر اسلامی تصور ہے اور ویدانت یا فلاطینوس کے فلسفہ سے مسلمانوں میں آیا ہے۔ وحدت الوجود اسلامی ہے یا غیر اسلامی، صحیح ہے یا غلط، فی الحال ہمیں اس بحث سے سروکار نہیں۔ ابھی تو صرف یہ دیکھئے کہ عسکری صاحب پر اعتراض کی نوعیت اب شخصی نہیں رہی۔
یعنی معترض کا کہنا یہ نہیں ہے کہ عسکری مابعد الطبیعیات کا ایک ذاتی تصور رکھتے ہیں جو غلط ہے۔ بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ عسکری ایک مخصوص تصور کو مانتے ہیں جنہیں معترض نہیں مانتا۔ اب دنیا میں کون سا عقیدہ، کون سا ایسا مسئلہ موجود ہے جس پر اعتراض کرنے والے نہ ہوں۔ ہر مذہب والے دوسرے مذہب والوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ہی مذہب کے اندر مختلف فرقے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ لیکن اس سے کیا حاصل ہوتا ہے۔ مناظروں نے آج تک کسی بھی مذہب کے ماننے والوں پر کیا اثر ڈالا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے معقول رویہ تو وہی ہے جو قرآن حکیم نے پیش کیا ہے یعنی تم ہمارے مسلک کو نہیں مانتے۔ تمہارے لیے تمہارا مسلک اور ہمارے لیے ہمارا مسلک۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


