عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں


اور ارباب ظواہر کی طرف سے اہل باطن کی مخالفتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اب جہاں تک ظاہری روایت کا تعلق ہے وہ مذہب میں مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے۔ لیکن باطنی روایت تمام مذاہب میں مشترک طور پر موجود رہی ہے اور ہر زمانے میں ایک ہی رہی ہے۔ اس باطنی روایت کو عسکری صاحب نے تصور حقیقت کا نام دیا ہے اور کبھی مرکزی روایت کا۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ تمام مذاہب کی اصل مابعد الطبیعیات، اس کا تصور حقیقت ہوتا ہے اور یہ تمام مذہبوں میں مشترک ہے۔

تمام مذاہب میں نہ صرف یہ کہ تصور حقیقت ایک ہے بلکہ اسے بیان کرنے کی علامتیں بھی ایک ہیں مثلاًمرکز اور دائرے والی علامت۔ عسکری صاحب نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہر مذہب میں صورت حال موجود رہی ہے اسلام کے بارے میں یہی موقف اختیار کیا ہے کہ اس میں باطنی اور ظاہری روایت موجود رہی ہے۔ ظاہری روایت شریعت کہلاتی ہے اور باطنی روایت طریقت۔ اور اسلام کی تخصیص یہ ہے کہ مثلاً چینی طریقت یعنی تاؤازم اور چینی شریعت یعنی کنفیوشس ازم کی طرح اسلامی شریعت و طریقت الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کا تکملہ کرتے ہیں۔ تاہم اسلامی تاریخ میں بھی اہل ظواہر اوراہل باطن کے درمیان اختلافات رہے ہیں اور صوفیا اور علمائے ظواہر کے درمیان کشمکش ہوتی رہتی ہے۔

بہر حال یہ ایک اصول مسلمہ کے طور تسلیم شدہ بات ہے کہ عالم انسانیت کا کسی بات پر متفق ہونا اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ اور جو بات جتنی زیادہ متفقہ ہو وہ اتنی ہی زیادہ صداقت سے قریب سمجھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کریم نے حضورؐ کی صداقت اس دلیل سے ثابت کی ہے کہ محمد رسول اللہ کوئی نیا دین لے کر نہیں آئے ہیں۔ یہ تو وہی کہتے ہیں جو ان سے پہلے ابراہیمؑ نے کہا تھا، یعقوبؑ نے کہا تھا، موسیٰؑ نے کہا تھا، عیسیٰؑ نے کہا تھا۔

گویا ان کا پیغام مشترک ہے اور اگر ان پر کتاب نازل ہوئی ہے تو اس سے پہلے دوسرے انبیاء پر کتابیں نازل ہو چکی ہیں۔ اور اگر ان پر جبرئیل نازل ہوتے ہیں تو یہودی اور عیسائی دونوں اس ناموس اکبر کو مانتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اسلام کی صداقت کی دلیل یہ ہے کہ یہ صداقت دوسرے مذاہب اور اسلام میں مشترک ہے۔ اس اصول کی بنا پر جس مابعد الطبیعیات کو عسکری صاحب پیش کرتے ہیں اس کی صداقت کی یہ دلیل بہت کافی ہے دنیا کے تمام مذاہب اس مابعد الطبیعیات پر متفق ہیں۔

اور اس ہم آوازی کے ساتھ بولتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو مختلف زبانوں میں ادا کیا جا رہا ہو۔ عسکری صاحب نے اپنے کئی مضامین میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق کی روایات میں ایک ہی تصور حقیقت پایا جاتا ہے۔ اب جن لوگوں کو عسکری صاحب کی بات سے اتفاق نہیں ہے انہیں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ مذاہب عالم اور خود اسلام میں یہ دونوں مکاتب موجود نہیں ہیں اور تاریخی طور پر عسکری صاحب کا دعویٰ غلط ہے۔

ہم نے گزشتہ سطور میں چند بزرگوں کا ذکر کیا تھا جو وحدت الوجود کو ماننے والے ہیں۔ اس فہرست کو مکمل کیا جائے تو اس میں ہزاروں نام آئیں گے اور نام بھی ایسے جن کی دینی اہمیت اور حیثیت مسلم سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ آخر میں صرف اتنی بات کہنی مقصود ہے کہ عسکری صاحب کا مسلک ایک پوری جماعت بلکہ ملت کی اکثریت کا مسلک ہے اس لیے اسے شخصی طور پر ہدف تنقید نہیں بنایا جا سکتا۔

مطبوعہ ”روایت۔ 1“ مرتبہ محمد سہیل عمر، مئی 1983 ء

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8