عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

[ جب ستمبر 1982 ء میں ’الاعلام‘ میں محمد حسن عسکری مرحوم پر میرا مضمون شائع ہوا (ہم سب 25۔ 8۔ 2020 ) تو ممتاز دانشور اور نقاد جناب سلیم احمد نے حریت اخبار میں متعدد کالموں میں اس کا جواب لکھا جو بعد ازاں مئی 1983 میں جناب سہیل عمر کے مرتبہ مجلہ ’روایت‘ ۔ 1 میں یکجا طور پر۔ ”عسکری صاحب کے بارے میں چند باتیں“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ آج یکم ستمبر کو جناب سلیم احمد کی برسی ہے۔ اس موقع پر ان کی کسی قدر عسیر الحصول یہ تحریر ان کے چاہنے والوں کی نذر ہے۔ ساجد علی]

٭٭٭ ٭٭٭

آج کل پنجاب میں محمد حسن عسکری بہت زوروں سے چلے ہوئے ہیں۔ ہر مہینہ کسی نہ کسی پرچے میں ان کے خلاف کوئی نہ کوئی مضمون چھپتا ہے جس میں فاضل معترضین عسکری صاحب کی علمیت کا پردہ چاک کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہر مضمون کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ جہاں تک ادبی معاملات کا تعلق ہے عسکری صاحب اگر خود کو ان تک محدود کرتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن انہوں نے مذہب، تصوف اور فلسفہ پر گفتگو شروع کر دی جو ان کے بس کی بات نہیں تھی۔

اس کے بعد یار لوگ یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ عسکری صاحب نے کیا کیا غلطیاں کی ہیں۔ ہمارے لیے حیرت کی بات یہ نہیں ہے کہ عسکری صاحب کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے کیونکہ عسکری صاحب زندگی بھر ایک متنازعہ شخصیت بنے رہے اور ان کی ابتدائی ادبی زندگی سے لے کر ان کی موت تک کوئی وقت ایسا نہیں گزرا جب ان کی مخالفت نہ کی جاتی رہی ہو لیکن یہ مخالفت عموماً اشتراکیوں اور ترقی پسندوں کی طرف سے ہوتی تھی۔ اب پتہ نہیں عسکری صاحب نے کون سا ایسا موقف اختیار کر لیا کہ ان کی مخالفت میں اشتراکی، دہریے، آزاد خیال، جدیدیے، اور تجدد پسند اسلامیئے سب ایک ہو گئے ہیں۔

یقیناً عسکری صاحب کے موقف سے ان سب کو کوئی ایسا مشترک خطرہ لاحق ہے جس سے انہیں اندیشہ ہے کہ اگر عسکری صاحب کی بات معاشرہ میں عام ہو گئی تو ان سب کی جڑ کٹ کر رہ جائے گی۔ جہاں تک اشتراکی، دہریوں اور آزاد خیال جدیدیوں کا تعلق ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عسکری صاحب کے اس موقف سے کہ مغربی تہذیب ایک گمراہ تہذیب ہے اور اپنی روح میں دین، مذہب اور روحانیت سبھی کی مخالف ہے، ان دونوں گروہوں کو اختلاف ہونا ہی چاہیے کیونکہ اگر یہ لوگ اس بات کو تسلیم کر لیں گے جیسا کہ اپنے باطن میں وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ حقیقت یہی ہے تو پھر انہیں یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ پاکستان کے مسلم معاشرہ میں مغربی تہذیب کی حمایت کر کے گویا ایک مذہب دشمن قوت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس لئے ان کا سارا زور اس بات پر صرف ہوتا ہے کہ وہ مسئلہ کو مسئلے کی روشنی میں دیکھنے کے بجائے رد کرنے والوں کو فروعی باتوں میں الجھا دیں اور ادھر ادھر کے اعتراضات سے گویا اصل بات ہی کو غتربود کر دیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا مغربی تہذیب ایک مذہب دشمن تہذیب ہے یا نہیں۔ اور کیا مغرب کے تمام غالب فلسفوں، نظریوں اور علوم نے مذہب کی بیخ کنی کی ہے یا نہیں۔ کیا یہ جدید مغربی تہذیب ہی نہیں تھی جس نے مغرب میں مسیحیت کا خاتمہ کیا اور اس کے بعد جس معاشرے میں پہنچی وہاں اس معاشرہ کے مذہب، تہذیب، اخلاق، معاشرتی اوضاع و اطوار، خاندانی زندگی سب کو چوپٹ کرکے رکھ دیا۔

اگر یہ ایک حقیقت ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کی طرف دو ہی رویے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ایک رویہ ان لوگوں کا ہو گا مذہب، روحانیت اور دین کو نہیں مانتے اور جن کے نزدیک مذہب ایک ایسی دقیانوسی چیز ہے جس کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور ترقی کے معنی یہ ہیں کہ مغرب کی زیادہ سے زیادہ پیروی کی جائے خواہ اس کے نتیجے میں پورے معاشرے کی جڑ بنیاد ہی نہ ہل جائے۔ دوسرا رویہ ان قوتوں کا ہو گا جو اپنے مذہب کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کسی ایسی چیز کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے جس سے ان کے مذہب، اخلاق اور روحانی زندگی پر غلط اثر پڑے۔

پہلا گروہ اگر عسکری صاحب کا مخالف ہے تو یہ ایک فطری بات ہے۔ وہ دراصل عسکری صاحب کی مخالفت نہیں ہے مذہب، روایت اور دین کا مخالف ہے اور اس لیے عسکری صاحب کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ لیکن سوال ان نام نہاد اسلام پسندوں کا ہے جو عسکری دشمنی میں دہریوں اور جدیدیوں کے ساتھ ہو گئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ عسکری صاحب کے نزدیک ان نام نہاد اسلام پسندوں کا اسلام حقیقی اسلام نہیں ہے۔

یہ ایک ایسا ”جدید“ اسلام ہے جو مغرب ہی کے اثر سے پیدا ہوا ہے اور اس کی تمام شکلیں مذہب کے نام پر مذہب کی بیخ کنی کرتی ہیں۔ سر سید، علامہ مشرقی، غلام احمد پرویز، غلام احمد قادیانی اور ان جیسے وہ تمام لوگ جو ”مغرب“ کے ہمارے معاشرے میں آنے کے بعد اپنے نئے مذہبی تصورات کے ساتھ ابھرے ہیں ایسے ہی ”اسلام“ کو پیش کرتے ہیں جس کا مستند اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

روایتی طور پر اسلام کے حقیقی تصور اور جدید اسلام کے ماننے والوں میں جو فرق ہے اسے سمجھنے کا ایک عام فہم فارمولا یہ ہے کہ جب آپ ایسے فرد کو دیکھیں کہ وہ تصوف کے خلاف ہے یا فقہ کو نہیں مانتا یا احادیث کا منکر ہے یا یہ کہتا ہے کہ ہر چیز کا ثبوت قرآن سے چاہیے، وہ تفسیروں پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ سب غلط ہیں، جو کلام کی ضرورت کا انکار کرتا ہے، جو اس بات کا قائل ہے کہ مذہب میں تبدیلی ہوتی رہنی چاہیے اور جو تقلید کے خلاف دلائل دیتا ہے، جو کہتا ہے کہ اسلام کو جس طرح آج سمجھا گیا ہے پہلے نہیں سمجھا گیا تھا، یا اسلاف نے جو کچھ سمجھا تھا وہ غلط تھا اور اب جو فلاں صاحب نے سمجھا ہے وہ صحیح اسلام ہے خواہ اسلاف کے اسلام سے کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو۔

آپ جس انسان میں یہ سب یا ان میں سے کوئی بات بھی پائیں یہ سمجھ لیں کہ وہ ”جدید“ اسلام سے تعلق رکھتا ہے اور مغربیت کی براہ راست پیداوار ہے۔ عسکری صاحب نے ”جدیدیت“ یا مغربی فکر کی گمراہیاں میں اتنا ہی کیا ہے کہ مذہب کے نام پر مذہب میں جو گمراہیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور جس طرح دین کا نام لے لے کر دین کو غیر روایتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ان سب کی نشان دہی کر دی ہے۔ چنانچہ اس کی سب سے زیادہ گہری ضرب تو ان نام نہاد مذہب پرستوں ہی پر پڑتی ہے جو مذہب کے نام پر غیر مذہب کا کاروبار کر رہے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6 7 8