یا اللہ! یا رسول! عاصم باجوہ بے قصور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سی پیک پاکستان کے عوام کی خوش حالی کا وہ منصوبہ ہے، جس کا سن کے بھارتی پردھان منتری مودی کو ایک رات بھی چین کی نیند نہیں آئی۔ ادھر اسرائیل نے بھی امریکا کو دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبہ مکمل ہو گیا، تو تمام یہودی امریکا سے اپنا سارا سرمایہ نکال لیں گے۔ یہ تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، امریکا کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، تو امریکا نے سی آئی اے میں اینٹی سی پیک سیل قائم کر دیا، تا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر روکا جا سکے۔ اس سیل نے سب سے پہلے کرپٹ سیاست دانوں سے رابطہ کیا۔ نواز شریف بہ ظاہر تو سی پیک کے حامی تھے، لیکن درون خانہ وہ مودی کے عزائم کی تکمیل کرنا چاہتے تھے۔ ایسے کہ سی پیک خبروں میں تو رہے، لیکن ایک انچ بھی آگے نہ بڑھے۔ 25 جولائی 2018ء کا سورج پاکستان کے دشمنوں کے لیے ذلت کا گولا بن کر ابھرا۔

اس سے پہلے سی پیک کا شور تو بہت تھا لیکن کام ایک آنے کا نہیں ہو کے دے رہا تھا۔ جس دن عاصم باجوہ صاحب کو سی پیک اتھارٹی کا چیئر مین لگایا گیا، تبھی دشمن کے کان کھڑے ہو گئے، مودی کی نیند پھر سے حرام ہو گئی ہے۔ ہنود و یہود کو صاف نظر آنے لگا ہے کہ اب سی پیک منصوبہ نا صرف مکمل ہو گا، بل کہ پاکستان کا بچے بچے کو تعلیم، روز گار، صحت، حتا کہ بے روز گاری الاونس بھی ملے گا۔ پاکستانی عوام کی یہ متوقع خوش حالی، دشمن کو کیوں قبول ہونے لگی۔ یوں را، موساد اور سی آئی کے یونائٹڈ اینٹی پاکستان سیل نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے  عاصم باجوہ کے اثاثوں کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد، من گھڑت باتیں پھیلائیں کہ ان کے فلاں فلاں ملک میں فلاں فلاں دھندے ہیں، تا کہ اس کی آڑ میں سی پیک منصوبے کو ٹارگٹ کیا جا سکے۔

اول تو یہی بہتر ہے کہ آپ میری زبان پر بھروسا کر لیں، میں ببانگ دُہل کہتا ہوں، یہ سب الزام جھوٹے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے ذمہ دار میڈیا نے ایسے لغو الزام کو نشر کرنا پسند نہیں کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب جنرل عاصم باجوہ سی پیک اتھارٹی کے چیئر پرسن نہیں بنے تھے تو اس وقت ایسی باتیں کیوں نہ سامنے لائی گئیں؟ یہ نکتہ بہت اہم ہے، اسی پہ غور کریں تو ایک یہی نکتہ الزام لگانے والوں کے ڈھول کا پول کھول کے رکھ دیتا ہے۔ ٹائمنگ کا تو آپ نے سن رکھا ہو گا کہ ٹائمنگ کتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ان الزامات کی ٹائمنگ سے عیاں ہے، دشمن کا ہدف جنرل عاصم سلیم باجوہ نہیں، سی پیک منصوبہ ہے۔

تیسری بات یہ کہ جن بے بنیاد خبروں کو ہمارے آزاد میڈیا نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے نشر ہی نہیں کیا، انھی ٹی وی چینل پر آ کے جناب عاصم سلیم باجوہ نے خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا۔ احتساب کی ایسی مثال پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ جنرل صاحب کی دو ٹوک انداز میں تردید کہ کاروبار ان کی فیملی ہی کے ہیں، لیکن مسز باجوہ ان کے بھائیوں کے کاروبار سے اپنے شیئر الگ کر  چکی ہیں، کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ ایک فرض شناس افسر کو یہی کرنا چاہیے کہ جب وہ ذمہ دار حکومتی عہدے پر ہو، وہ اور اس کی اہلیہ کوئی کاروبار نہ کریں۔

مخالفین کی جانب سے یہ بھی کہا جا ر ہا ہے، ایک رٹائرڈ جنرل کے پاس بزنس کے لیے یہ رقم کہاں سے آئی، تو سر باجوہ نے یہ واضح کر کے ان کے منہ بند کر دیے کہ ان کی اہلیہ نے جنرل صاحب کی محدود آمدن کے باوجود بچت کر کے انیس ہزار ڈالر جمع کیے۔ اسی محدود آمدن سے بچوں کو پردیس میں پڑھایا بھی اور اسی رقم کو کاروبار میں بھی لگایا۔ ہمارے یہاں خواتین کو وہ عزت نہیں دی جاتی جو مہذب معاشروں اسرائیل و امریکا وغیرہ میں دی جاتی ہے۔ مسز باجوہ پاکستانی خواتین کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ اب ہماری خواتین منہگائی کا رونا چھوڑ کے سگھڑ پن کا مظاہرہ کریں تو ان کے شوہر ترقی کرتے کہیں سے کہیں پہنچ سکتے ہیں۔ نیز اسی معمولی بچت سے اپنی اولاد کو بھی بیرون ملک سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ حلال کے رزق میں بہت برکت ہوتی ہے۔ اور پھر آپ میں سے کسی نے کبھی اس درد کو سمجھا ہے کہ پردیس میں پڑھنے والے بچے، کیسے ماں باپ سے دور رہے ہوں گے؟ کب کب ہوم سکنس کا شکار ہوئے ہوں گے؟ نہیں سوچا ہو گا، کیوں کہ یہ درد وہی سمجھ سکتا ہے، جس نے خود پر دیس کاٹا ہو۔

ہمارے یہاں وہ طبقہ جس کا سینہ ہر وقت فوج کے خلاف بغض سے بھرا رہتا ہے۔ اس کا بس چلے تو یہ سیاست دانوں کو ملک تھما کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ یہ لبرل، یہ طالبانی، جمہوریے جانتے ہیں، جس دن ہماری فوج نہ رہی (کہنے والوں کے منہ میں خاک)، یہ ملک بھی نہیں رہے گا۔ اسلام کے نام پر ہماری فوج نے قائد اعظم کے شانہ بہ شانہ یہ پاکستان بنایا، جسے ہم نے اسلام کی تجربہ گاہ بنانا تھا اور ہر ممکن کوشش بھی کی۔ اس کے لیے ہم جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ بغضی اور ‌دل جلے جمہوریوں کا خیال ہے کہ پاکستان ووٹ کی طاقت سے بنا۔ زرا سوچیے، بریانی کی پلیٹ پر بکنے والے ووٹر بھلا پاکستان بنا سکتے تھے، جو آج بھی کسی ایمان دار و اہل شخص کو ووٹ نہیں دے سکتے؟ اور پھر عوام کے ووٹ سے ہوتا بھی کیا ہے۔ حکمران وہی بنتا ہے، جسے اللہ عزت دے، اور وہی نا کام ہوتا ہے، جس کی قسمت میں خدا کی طرف سے ذلت لکھ دی گئی ہو۔

ایک طرف یہ وڈیرے ہیں، جاگیر دار ہیں، جنھوں نے ہمیشہ عوام کے نام پر عوام کا استحصال کیا، اور اپنے گناہ چھپانے کے لیے فوجی حکومتوں کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ ایک نسل کے بعد ان کی دوسرے نسل ملک پر مسلط کر دی جاتی ہے۔ ایوب خان ہوں، یحیی خان، ضیا الحق ہوں یا پرویز مشرف، آپ دیکھیے گا ان کی حکومتوں میں کرپشن نام کو نہ تھی۔ اگر کوئی کرپٹ تھا بھی، تو وہ سیاست دان ہی نکلا۔ مملکت خدا داد کے ان بیٹوں نے بار ہا کوشش کی کہ مقبول اور کرپٹ قیادت کو نا اہل کر کے نیک نام قیادت کو آگے لایا جائے، لیکن جونہی ان نیک ناموں نے زرا کل پرزے نکالے، نمک حرام اپنی اوقات دکھانے لگے۔

فلم ”مولا جٹ“ میں ایک مقام پر سفاک ولن ‘نوری نت’ کو خبردار کیا جاتا ہے، ”ات خدا دا ویر ہوندا، نتا۔“ یہی بات ہمارے سیاست دانوں پر صادق آتی ہے۔ حق ہے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جن سیاست دانوں کو عوام میں مقبولیت حاصل ہو جائے، خدا ان کی کرپشن کو بھی عوام کے سامنے لے آتا ہے کہ اے لوگو! یہ دیکھو یہ ہیں تمھارے کالے منہ والے نمایندے، جنھوں نے تمھیں لوٹ کھایا۔ ان کے بزنس ملک سے باہر ہیں۔ ان کے بچے بیرون ملک رہتے ہیں۔ یوں ہر بار خدا ان سادہ لوح عوام کو بال بال بچا لیتا ہے۔ مجبورا اللہ کی نصرت بن کے ایک کے بعد ایک مسیحا آئین شکنی کرتے ملک کی باگ ڈور سنبھال لیتا رہا۔ سوچیے! آپ کے گھر کو کوئی تباہ کرے تو آپ آئین و قانون دیکھیں گے یا گھر کو محفوظ بنانے کی تگ و دو کریں گے؟ یقینا گھر بچانا ہی اہم ہوتا ہے۔

جنرل مشرف ہوں، جنرل پرویز کیانی، راحیل شریف یا عزت مآب عاصم باجوہ، آپ دیکھتے ہیں، یہ عام گھروں کے عام سے بچے ہیں۔ ان کے دل وطن کی محبت سے سرشار ہیں۔ انھوں نے اپنی تعلیم، قابلیت، دیانت داری سے ملک کی خدمت کی۔ ان میں سے کسی کا باپ جنرل نہیں تھا کہ بیٹے کو بھی ڈائریکٹ جنرل بنا دیتا۔ یہ سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے فوج میں بھرتی ہوئے اور پھر محکمانہ امتحانات پاس کرتے اگلے سے اگلے عہدوں تک پہنچتے رہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، سیاست دانوں نے پاکستان کے سبھی محکموں کو کرپٹ کر کے رکھ چھوڑا ہے، ایک فوج ہی جس میں میرٹ کے شفاف نظام کے باعث کوئی بد دیانت شخص بلند عہدے تک نہیں پہنچ  سکتا۔ خود احتسابی کا فوج کا اپنا نظام ہے، جو پل صراط سے گزرنے جیسا ہے۔ اس پل صراط کو وہ کیسے پار کر سکتا ہے، کیسے کام یاب ہو سکتا ہے، جو چور راستے کا انتخاب کرے! جیسا کہ سیاست دان اپنے بعد اپنی اولاد ہی کو چور راستے سے آگے لے آتے ہیں۔ کرپشن کرتے ہیں، لوٹ مار کرتے ہیں۔ ملک کو قرضوں کے جال میں جکڑ دیتے ہیں۔

افواج پاکستان کے حاسدین نے سوشل میڈیا پر جس طرح عاصم باجوہ کے خلاف مہم چلا رکھی ہے، اس سے اور بھی واضح ہو جاتا ہے کہ دشمن جو ریاست مدینہ کی مماثل مملکت خدا داد پاکستان، اور اسلام کے نام لیواوں سے بغض بھی رکھتا ہے، ففتھ جنریشن وار کو تیز تر کر چکا ہے۔ عاصم باجوہ ان بزرگ مہروں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے ففتھ جنریشن وار کے اس خطرے کو بہت پہلے سے بھانپ لیا تھا۔ آج جب کہ ریاست مدینہ پر ففتھ جنریشن وار مسلط کر دی گئی ہے، تو یہ ہماری جنگ ہے، جسے ملک کے بچے بچے کو لڑنا ہو گا۔ فرائض کی بجا آوری کو جناب باجوہ نے دشمن کے خلاف سوشل میڈیا محاذ پر مورچہ سنبھالا۔ سوشل میڈیا کے اس مورچے سے دشمنوں کے ٹھکانوں پہ وہ وہ کاری ضرب لگائی کہ دشمن کے کمانڈر غیر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ آج وہ وہاں بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ اب اسی دشمن کو بھارت، اسرائیل، امریکا کی مدد حاصل ہے۔ یہ رذیل، پاکستان کے تشخص کو مسخ کرنے کی مہم پہ ہیں۔ دھرتی ماں کا سودا کیے ہوئے ہیں۔ جنرل عاصم باجوہ کے خلاف حالیہ مہم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جب دشمن پاکستان کی سرحد میں بیٹھ کے کچھ نہیں کر سکا تو دوسرے ممالک کی سرحدوں میں چھپ کے حملہ آور ہوا چاہتا ہے۔

محب وطن پاکستانیوں کو پاک فوج اور اس کے کسی سابق افسر کے خلاف مہم کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ کس دشمن قوت کی کارروائی ہے۔ عاصم باجوہ تردید کر چکے، وزیر اعظم ان کی تردید پہ اطمینان کا اظہار کر چکے، اور پھر عدلیہ اہم سمجھتی تو از خود نوٹس لیتی، لیکن ہماری عدلیہ کو بھی قانون و آئین کا ویسا ہی لحاظ ہے جیسا کہ پاک فوج اور کسی محب وطن شہری کو ہوتا ہے، تو باقی کیا بچ رہتا ہے، جس پر بات کی جائے؟ میرا خیال ہے، ایسی باتیں کرنے والوں اور شر انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف، قانون کے مطابق کارروائی ہونا چاہیے۔ اگر حکومت وقت سستی دکھائے تو اعلا عدلیہ کو چاہیے، وہ ایسی بے بنیاد باتیں پھیلانے والوں کے خلاف از خود کارروائی کریں۔

میں جانتا ہوں، حاسدین کے حلقوں میں ٹھٹھا اڑایا جائے گا کہ میرا یہ کالم کسی ”لفافے“ کی مرہون منت ہے، تو مجھے اس ہرزہ سرائی کی چنداں پروا نہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے، یہ افواج ہماری ہیں، ہم اس کی وکالت کے لیے کسی لفافے کے محتاج نہیں۔  چوں کہ بغض کا کوئی علاج نہیں ہوتا، لہاذا بغضیوں کو اپنی آگ میں خود ہی جلنا ہے۔ ان کے لیے میرا پیغام ہے: سڑ بغضی سڑ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 317 posts and counting.See all posts by zeffer-imran