بلوچی غیرت اور بلوچ تاریخی روایات


مکران ( انتظامی لحاظ سے نہیں، تاریخی و جغرافیائی لحاظ سے ) کو بلوچستان کے دیگر علاقوں سے معتدل مزاج سمجھا جا تا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر علاقوں کی نسبت سخت قبائلی طرز معاشرت اور روایتی سرداری نظام سے کافی حد تک یہ آزاد تعلیم یافتہ ہے اور باقی علاقوں کے بڑے جاگیرداروں کی نسبت اس کی آبادی مختلف متوسط بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ کچھ عرصہ سے گوادر میں سی پیک اور مختلف نا خوشگوار واقعات و حالات کی وجہ سے ملکی میڈیا میں اس کا نام آتا رہتا ہے۔

چند مہینوں سے مکران کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بلوچستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تربت میں ڈکیتی کے دوران خواتین ( ملک ناز بلوچ اور کلثوم بلوچ ) کے قتل کے واقعات نے اہل علاقہ سمیت تمام بلوچوں کو ایک غیر معمولی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور نوجوان شہید حیات بلوچ کے ناحق قتل نے اس تشویش اور عوامی غیظ و غضب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہید حیات بلوچ کے واقعہ کی ابھی دھول بھی نہیں چھٹی تھی کہ 5 ستمبر کو تربت میں خاتون شاہینہ شاہین بلوچ کی قتل کا المناک واقعہ رونما ہوا ہے۔

شاہینہ بلوچ بلوچستان اور ملک سے باہر بلوچوں میں ایک جانی پہچانی نام تھی۔ وہ بیک وقت شاعرہ، پینٹنگ آرٹسٹ، ادیبہ، خواتین کے لئے مخصوص پہلی بلوچی میگزین ”دزگہار“ (سہیلی) کی ایڈیٹر، مکران آرٹس اکیڈمی کی بانی و سر پرست، ٹی وی اینکر، ایکٹریس، ماڈل، سماجی کارکن، انسانی حقوق خاص کر خواتین کے حقوق کی علمبردار اور صنفی مساوات کے حوالے سے نہ صرف ایک مضبوط آواز تھی بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی تھیں۔ والد کی شفقت سے محروم (اندازہ) 28 سے 30 سال عمر کی یہ لڑکی اپنی والدہ اور چار بہنوں کی واحد کفیل تھی۔

شہید شاہینہ کے قتل سے نا صرف اس کی والدہ اور بہنیں اب بے سہارا ہو گئی ہیں بلکہ بلوچستان اور خاص کر کیچ مکران ایک روایت ساز دلیر بیٹی سے بھی محروم ہو گیا ہے۔ چشم دید گواہان اور پولیس کی جانب سے اس قتل کا الزام شاہینہ کے شوہر پر لگایا گیا ہے جس نے دو گولیاں مار کر شاہینہ کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ مگر تا حال ملزم پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ کئی لوگ اسے ”غیرت“ اور میاں بیوی کے آپسی اختلاف کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا میں بظاہر عوام کی اکثریت اس واقعہ پر انتہائی رنج و افسوس کا اظہار کر رہی ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں نے بھی اس واقعہ کو اپنی سرخیوں میں جگہ دی ہے۔ مگر اکثر علاقائی سماجی تنظیمیں اور تمام سیاسی پارٹیاں اس المناک واقعہ پر لب کشائی سے قاصر ہیں۔ سوشل میڈیا میں بھی سرگرم کئی شخصیات اور لوگ بھی غیر متوقع طور پر خاموش ہیں۔ گمان یہی ہے کہ وہ اس واقعہ کو ”غیرت“ کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک دوست نے تو سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں اس واقعہ کا ذمہ دار براہ راست ”بلوچی غیرت“ کو قرار دیا ہے۔ اگر مذکورہ دوست کا الزام اور خاموش طبقہ کا جواز ”بلوچی غیرت“ ہے تو اس کی تصحیح و تصدیق کے لئے بحیثیت بلوچ ہمیں بلوچ تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر مختلف واقعات و روایات کا جائزہ لینا ہوگا۔

بلوچستان میں نام نہاد ”بلوچی غیرت“ کے نام پر آج کل جو روایت قائم ہے بلوچ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاریخی اعتبار سے سب سے نامور بلوچ شخصیت اور بلوچوں کا سب سے طاقتور سردار چاکر اعظم جب شے مرید کی محبوبہ اور منگیتر حانی پر فدا ہوئے تو انہوں نے ایک خاتون ( سازین ) کی سازشی منصوبے کے بل بوتے پر شے مرید سے حانی کی منگنی تڑوا کر خود حانی سے نکاح کر کے اسے حاصل تو کر لیا مگر بحیثیت میاں بیوی چاکر اور حانی کے درمیان کبھی بھی ازدواجی تعلقات قائم نہیں رہے اور بلوچوں کا یہ عظیم سردار اپنی بیوی حانی کی قربت سے ہمیشہ محروم رہا۔

بلوچی رزمیہ شاعری میں چاکر اور حانی کے تعلقات کی تفصیلات بے مثال منظر کشی کے ساتھ موجود ہیں۔ مثلاً جب چاکر، شاہی محل میں حانی کو تمام شاہانہ آسائشوں سے بے نیاز خیالوں میں گم اداس دیکھتی ہے تو اس سے کہتا ہے کہ ”اے حانی! تمہیں اداس ہونے کی بجائے اپنی قسمت پر رشک کر نا چاہیے کہ تم عالیشان محل میں بیٹھی سونے کے انمول زیورات پہنتی ہو، نایاب قیمتی لباس اور دوپٹوں میں ملبوس ہو کر ہر طرح کے خوش ذائقہ کھانوں سے محظوظ ہوتی ہو“ ۔

چاکر کی یہ باتیں سن کر حانی انتہائی تلخ زبان اور بے باک انداز میں جواب دیتی ہوئی کہتی ہے ”چاکر! تیرے محل کی دیدار سے میرا دل خوش نہیں ہوتا، تمہارے دیے ہوئے زیورات مجھے بچھو کی طرح ڈستے ہیں اور تمہارے لائے ہوئے شہد مجھے نیم کے پتوں سے بھی زیادہ کڑوی لگتی ہیں۔ کیونکہ میری زندگی کی تمام خوشیوں کا محور شے مرید ہے اور شے مرید کے علاوہ نہ ہی مجھے کچھ سوجھتا ہے نہ کوئی دکھتا ہے“ ۔ یہ موقف حانی ہر مکالمے میں دہراتی ہے۔

مگر اس کے باوجود بلوچ قوم کا طاقتور سردار مایوسی اور تلملاہٹ کے علاوہ کسی بھی طرح کی سختی، بندش یا تشدد کرنے سے قاصر ہے۔ اور نہ ہی وہ حانی کو بد کرداری کا الزام لگاتا ہے اور نہ ہی یہ باتیں سن کر اس کی ”بلوچی غیرت جوش مار تا ہے کہ تم میری بیوی ہو کر کسی غیر و نامحرم مرد سے عشق کرتی ہو، اس لئے اب تمہیں زندہ رہنے کا حق نہیں۔ حالانکہ مختار کل سردار کے لئے ایک“ نافرمان بیوی ”کو قتل کر نا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

مگر قتل یا تشدد کر نا تو دور کی بات ہے، نہ چاکر حانی پر غصہ یا سختی کر تا ہے اور نہ طلاق دے دیتا۔ بلکہ وہ حانی کے موقف کا احترام کر تا ہے۔ اگر چاکر اعظم کے اس طرز عمل کا موازنہ موجودہ ”بلوچی غیرت“ سے کیا جائے تو پھر (معذرت کے ساتھ ) چاکر اعظم تو پھر بہت بڑا بے غیرت تھا۔ اور اب ہم ان سے زیادہ غیرت مند ہو گئے ہیں۔ مگر بلوچ تاریخ میں ”اس بے غیرتی“ کا مرتکب صرف چاکر شیہک (چاکر ولد شیہک) نہیں ہوئے ہیں۔

کیونکہ جب بلوچ تاریخی کردار بیبگر ( بیورغ ) اپنی محبوبہ گراناز کو بھگا کر ایک دشمن قبیلہ کے یہاں پناہ لیتا ہے تو دشمن قبیلہ نہ صرف ان کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ اپنے یہاں ٹھہراتا ہے بلکہ لڑکی اور لڑکے کے خاندان کو باقاعدہ مطلع کر کے اپنے پاس آنے کی التجا کر تا ہے اور جب گراناز اور بیبگر کے سرپرست اپنے عزیزوں کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں تو دونوں خاندان کی باہمی رضا مندی سے انتہائی خوشگوار ماحول میں گراناز اور بیبگر کا نکاح کرایا جا تا ہے اور باعزت طریقے سے ان کی رخصتی کر دی جاتی ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ نہ ہی گراناز کے خاندانوں والوں کی ”بلوچی غیرت“ جوش مارتی ہے کہ وہ اپنی لڑکی کی حوالگی یا قتل کا مطالبہ کریں اور نہ ہی بیبگر کا خاندان اس ”بھاگی ہوئی بد کردار لڑکی“ کو کسی صورت اپنے خاندان و قبیلہ کی بہو اپنانے سے انکار کرتے ہیں! اسی طرح جب مہناز پر جھوٹا لانچن لگا کر اس کی پاکدامنی پر سوال اٹھایا جاتا ہے اور مہناز کے شوہر شہداد کو یہ باور کرایا جا تا ہے کہ تمہاری بیوی بدچلن ہے، تو شہداد کی ”بلوچی غیرت“ میں بھی اتنا ابال نہیں آ تا ہے کہ وہ اپنی بیوی کا سر قلم کر دے۔

بلوچی لوک عشقیہ داستانوں اور تاریخی واقعات میں یہ انتہائی اہم اور غور طلب بات ہے کہ ایک بھی ایسا واقعہ یا مثال موجود نہیں ہے کہ جس میں کسی لڑکی کو محبت کر نے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا ہو یا غیرت کے نام پر کسی عورت کا خون بہا یا گیا ہو۔ ( اگر میں غلط ہوں تو درستگی کا طلب گار ہوں ) تو پھر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانے وقتوں کے یہ بلوچ شخصیات بے غیرت تھے جو کسی غلط فہمی، الزام یا شک کی بنیاد پر اور کسی خطا پر غیرت کے نام پر اپنی بیٹی، بہن، بیوی اور بہو کو قتل نہیں کرتے تھے؟

یا جو غیرت کے ایسے اظہار کے خلاف ہیں جو عورت کے خون بہانے کا محتاج ہو وہ بے غیرت ہیں؟ خدا نخواستہ اگر روایتی غیرت کے حوالے سے کوئی حقیقی مسئلہ پیش آئے تو اس کا واحد حل قتل ہے؟ کیا ایسے مسئلے کا کوئی ایسا حل نہیں ہے کہ جو عزت بچی ہے وہ بھی قائم رہے اور مزید غلطی و بد نامی سے بچا جا سکے؟ بلوچ معاشرے میں اب اس پر بحث ہونی چاہیے کہ کچھ لوگوں نے ”غیرت داری“ کا جو معیار اپنا یا ہوا ہے یا اپنایا جا رہا ہے کیا بلوچ تاریخی میں اس کا کوئی جواز ہے؟

کیا یہ واقعی ”بلوچی غیرت“ ہے؟ کیا دیگر کئی روایات کے ساتھ ساتھ ”غیرت مندی“ کا مروجہ روایت بھی ہم دیگر قوموں سے تو نہیں لے رہے ہیں؟ ملکی میڈیا کے ایسے نغمے کہ ”ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں، قوموں کی عزت ہم سے“ جیسے بیانیہ سے ہم اثر تو نہیں لے رہے ہیں جو انسانی وجود کے بجائے عورت کو صرف غیرت کا استعارہ قرار دیتا ہے؟

بلوچوں کی بہت بڑی آبادی ایران کے زیر انتظام بلوچستان میں بھی موجود ہے۔ جہاں مذہب کی آڑ میں انتہائی سخت رجحانات و قانونی بندشوں کے باوجود بلوچ عورت سماجی زندگی میں اور معاشی و ثقافتی طور پر زیادہ آزاد اور خود مختار ہے۔ مگر وہاں ”بلوچی غیرت“ کا ایسا مظاہرہ نظر نہیں آ تا جو سرحد کے اس پار نظر آ تا ہے۔ انبیا اور صحابہ کرام کی سر زمین عرب مملکت سلطنت آف عمان میں عربوں کے بعد دوسری سب سے بڑی آبادی بلوچوں کی ہے جو آج بھی اپنی بلوچی زبان و روایات اور خونی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں، مگر سلطنت عمان کے بلوچوں کی غیرت میں بھی اتنا ابال نہیں آتا جتنا یہاں ہے۔

نام نہاد ملکی جدید و مذہبی تعلیم اور شہری ماحول سے دور قصبوں اور دیہی علاقوں میں رہائش پذیر بلوچ مرد و زن بغیر کسی چار دیواری کے اور بغیر کسی برقعہ یا نقاب کے ایک ہی محلہ میں اکٹھے رہتے ہیں۔ ہر کسی کو دوسرے کے گھر میں راہ ہوتی ہے، کوئی کسی سے پردہ نہیں کر تا ( البتہ روایتی پرائیویسی کا خاص خیال رکھا جا تا ہے۔ خواتین اور بالغ بچیاں ننگے سر ہو نا عیب سمجھتی ہیں ) ، روایتی لباس میں ملبوس چادر نما دوپٹے پہنے بلوچ خواتین ازل سے مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی، لکڑیاں کاٹتی، بکریاں چراتی اور خوشی و غم کے تمام موقعوں میں یکساں شریک ہوتی ہیں، وہاں غیرت کا کوئی مسئلہ نہیں۔

مگر ذرائع آمدنی کے جدید ذرائع استعمال کرنے سے اور دفتر کی مخلوط ماحول میں کام کرنے اور پڑھنے سے غیرت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جن علاقوں میں گھروں کو چار دیواریوں کے حصار میں بند کر دیا گیا ہے اور یہ فصیلیں اونچی سے اونچی کر دی گئی ہیں اور ان حرم نما گھروں میں خواتین کو بند کر دیا جاتا ہے، ایسے علاقوں میں ذرہ ذرہ سی بات پر لوگوں کی غیرتوں میں ابال آتا رہتا ہے اور ان کی عزتیں ہمیشہ خطرے میں رہتی ہیں۔ مسلح پہریداروں کے حصار میں بیٹھے اور اپنے مونچھوں کو تاؤ دیتے کئی جرائم پیشہ افراد اور تمام اخلاقیات و کردار سے محروم خود ساختہ میروں کی تمام غیرت اور عزت داری کا بوجھ زندان نما گھروں میں محصور عورتوں کے نازک کاندھوں پر ہے۔

احساس کمتری، خوف و خدشات اور دیگر کئی ذہنی پیچیدگیوں کے شکار ایسے مردوں کی ذہنی حالت کا خمیازہ گھریلو ناچاقی، ذہنی و جسمانی تشدد، بلاجواز پابندیوں اور قتل کی صورت میں خواتین کو بھگتنا پڑ تا ہے۔ خوف و خدشات سے بھری اور سکون سے محروم اذیت ناک زندگی سے نجات پانے کے لئے ضروری ہے کہ بحیثیت انسان عورت کی پسند و ناپسند، جذبات، احساسات و خیالات اور اس کی وجود اور جداگانہ شناخت کو تسلیم کیا جائے اور انسانیت کے منصفانہ اصولوں پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ مرد انسان بن کر رہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ذاتی و خاندانی زندگی میں اور اسکولوں کی سطح پر صنفی مساوات کا درس لازمی طور پر دیں اور عملی مظاہرہ بھی کریں۔

میں خود بلوچ ہوں اور بلوچستان کے ایک دیہی علاقے میں بلوچ روایات کی چھتر چھایا میں پرورش پائی ہے (اور شاید کئی بلوچوں سے زیادہ بلوچ تاریخ اور روایات سے آگاہ ہوں اور ممکن حد تک عمل کر نے کی کوشش کر تا ہوں ) ۔ اس لئے اتنا آزاد خیال نہیں ہوں کہ مادر پدر آزادی کا مطالبہ کروں یا اس کے حق میں ہوں۔ مگر اتنا جانتا ہوں کہ جس نام نہاد غیرت کے نام پر شہید شاہینہ بلوچ کا قتل ہوا ہے وہ ہر گز ”بلوچی غیرت“ نہیں ہے اور نا ہی اس کا کوئی جواز بنتا ہے۔

کسی انسانی وجود کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اسے اپنے تابع کرنے کی کوشش کر نا اور ناکامی کی صورت میں قتل کرنا غیرت نہیں ہے اور یہ نا دینداری ہے، نا انسانیت ہے اور نہ ہی مردانگی ہے۔ جس طرح دور جاہلیت میں یورپ کے محقق، ادیب، دانشور اور لکھاریوں نے اپنی قدیم تہذیب و تمدن اور روایات کے مثبت اور روشن پہلوؤں کو پھر سے دریافت کر کے جہالت بھری پاپائیت کو للکار کر نشات ثانیہ کی بنیاد رکھی تھی اور جس کے بطن سے ایک منصفانہ و انسان دوست جمہوری معاشرے کا قیام ممکن ہوا، بالکل اسی طرح اگر ہم بلوچ صنفی مساوات اور خواتین کی حیثیت سمیت مثبت اقدار اور درست اخلاقیات کے حوالے سے قدیم بلوچ روایات اور تاریخ سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ”بلوچی غیرت“ کے صحیح تعین کے ساتھ ساتھ بلوچ نشاط ثانیہ کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS