ریپ کے تازہ واقعات: معاشرے کی ذلت آمیز پستی
پنجاب میں موٹر وے پر پیٹرول ختم ہونے کی سزا میں ایک نہتی خاتون کی بچوں کے سامنے آبرو ریزی کی خبر نے ہمارے معاشرے کی جڑوں کے کھوکھلے پن کی قلعی ایک بار پھر کھول دی ہے۔ ویسے یہ قلعی بھی اتنی بار کھلی ہے کہ اس کا ذکر کرتے ہونے بھی شرم آتی ہے۔
پشاور میں خواجہ سزا گل پانڑا کے قتل اور اس کی ساتھی کی زخمی کیے جانے کی شرمناک کہانی بھی ذہن کو جھنجھوڑ رہی ہے۔
مذکورہ بالا دو واقعات کا دکھ کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ملک کے ہر کونے اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ان واقعات کے بعد انگشت بدنداں ہیں کہ یہ معاشرہ کس نہج پر پہنچ گیا ہے؟ کیا اس کا کوئی تدارک بھی ممکن ہے یا نہیں؟
سرکاری سازوں کی لئے پر سر دھنتا نام نہاد قومی میڈیا تو شاید معاملے کو دبا ہی دیتا مگر سوشل میڈیا کے ذریعے معاملے کے خلاف بھرپور آوازیں چین کی بانسری بجاتی حکومت اور اداروں کے آرام میں بھی مخل ہوئی اور سرکاری ترجمانوں نے ”نوٹس“ کے ٹکرز چلوا دیے۔
متاثرہ خاندان کو انصاف ملنا تو شاید ممکن نہ ہو مگر اتنا تو ہوا کہ سرکار نامدار کے علم میں ایک ظلم کی داستان تو آئی۔ ورنہ چھوٹے صوبوں میں ہونے والے مظالم پر تو حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
بلوچستان میں خاتون صحافی کو خون میں نہلا کر اس کے کیمرے کو بھی خون آلود کر دیا جائے یا سندھ میں 5 سالہ مروہ کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا جائے، حکومت بھنگ کے نشے سے نہیں جاگتی۔
اب جب سوشل میڈیا کے دباؤ میں آنے کے بعد پولیس سے رسمی طور پر کچھ پوچھا گیا تو حکمرانوں کے چہیتے سی سی پی او الٹا متاثرہ خاندان کو پیٹرول کم بھروانے اور رات کو باہر نکلنے پر ایک طرح سے مجرم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی پولیس افسر اپنی ذمہ داری پوری کرنے بجائے ایسی گری ہوئی بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا مگر یہاں چونکہ ایسے افسران کو نہ شرم ہے نہ فرائض میں کوتاہی پر کسی بازپرس کا خوف تو جو منہ میں آئے بول دیتے ہیں۔
ایسے میں انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جب سماج اس حد تک ذہنی طور پر دیوالیہ ہوچکا ہے تو آخر ہوگا کیا؟ اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟
کچھ لوگ ایسے درندوں کو سرعام پھانسی دینے کے مطالبے کر رہے ہیں، کچھ سخت قوانین بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ بھئی آپ کوئی بھی قانون بنا لیں، عمل کون کرائے گا؟ یہی عدالتیں نہ جن کو کوئٹہ میں طاقتور شخص کی گاڑی تلے کچلے گئے ٹریفک اہلکار کے واقعے کا کوئی ثبوت نہیں ملا؟
آپ سرعام پھانسی کے مطالبے کس سے کر رہے ہیں، اس پولیس اور اداروں سے جنہوں نے جرائم کو اپنا کاروبار اور کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے؟
کچھ لوگ تعلیم کی کمی کو مسائل کا سبب بتا رہے ہیں، اگر تعلیم کا مطلب ڈگریاں ہیں تو وہ آپ تھوک کے حساب سے دے رہے ہیں، ہاں علم نہیں دے رہے، علم دینا تو دور آپ تو علم کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے لوگ ہیں۔ آپ تو ہر سوچنے والے کو غدار قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایسے لوگوں کو عہدے اور ایوارڈز دیتے ہیں جو ذہنی پستی کے ایک چھوٹے سے دروازے سے ناک رگڑ کر گزرنے کے مشاق ہوں، آپ کو تعلیم اور شعور سے کیا لینا دینا۔
ہاں اگر ذمہ داران کا تعین کرنا ہے تو اس کے لئے حکومت پر ہی تنقید کی جائے گی مگر کیا حکومت یا پارلیمنٹ کوئی پالیسی بنانے اور ان پر عمل کرانے کی سکت رکھتی ہے؟ جب حکومت کے بس میں کوئی پالیسی بنانا بھی نہیں تو نظام کی خرابی کے ذمہ داری صرف ان پر کیوں؟
ہمارا معاشرہ ذہنی اور اخلاقی ہستیوں کی جس ذلت آمیز حدوں کو چھو رہا ہے، یہاں تک محض افراد کی کوتاہیاں نہیں پہنچا سکتی۔ اس معاشرے کو 73 سال سے ہانک ہانک کر اس نہج تک پہنچایا گیا ہے، جہاں سے واپسی کے لئے دنوں، مہینوں اور سالوں کا نہیں بلکہ نسلوں کا سفر درکار ہے، وہ بھی تب جب ہم واپسی کا فیصلہ کریں۔ بدقسمتی سے اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے لئے علم اور شعور کی جو سطح چاہیے، ہم اس سے کوسوں دور ہیں۔


