ریپ کی اصلیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جب حیا مارچ والے عورتوں پر اپنے اعضائے تناسل لہرا رہے تھے، باوجود اس کے پوری قوم کی حمایت بھی انہی کو حاصل تھی تب سے ہی لاہور موٹر وے اور اس جیسے لاکھوں ریپ کے آنے والے دیگر سانحات کے بیج بو دیے گئے تھے۔ جب کراچی کی پانچ سالہ مروہ کے حالیہ ریپ، تشدد اور قتل کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ اعلیٰ صبح بچی کو باہر بھیجا ہی کیوں، تب اس قوم نے لاہور موٹر وے سمیت آنے والے دیگر ریپ کے سانحات کی بنیاد رکھ دی تھی۔

جب زینب انصاری ریپ، قتل پر اس کے ماں باپ کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ بچی کو چھوڑ کر عمرے پر کیوں گئے، تب ہی ان حالیہ برسوں میں تمام ریپ و قتل کے واقعات کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا۔ جب دعا منگی کے اغوا پر اوباشوں نے میمز اور مزاحیہ خاکے بنا بنا کر تمام سماجی روابط کے ذرائع پر پھیلائے تب سے ہی ان ریپ پر مائل افراد کو مکمل چھوٹ دے دی گئی تھی کہ عورت کے جسم کے ساتھ جو جی میں آئے کیا جاسکتا ہے چاہے وہ بچوں کی ماں ہو یا خود بچی ہو۔

جب اس ملک میں لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دینے کی بجائے ان میں زبردستی برقعے تقسیم کیے اور لاگو کیے گئے تب سے ہی ہر ریپ کرنے والے کو یہ آزادی دے دی گئی کہ جس کے ساتھ جیسے بھی ریپ کرے، کوئی سوال نہ کرے گا۔ جب جادو ٹونوں پر حکومت چلانے اور استخاروں پر نامزدگیاں کرنے والے وزیراعظم صاحب یو این او میں جا کر بڑی شگفتہ ڈھٹائی سے غیر پاکستانی مغربی عورتوں کے حجاب کی بات کرتے ہیں جب ان کے وفد میں وہ شخص موجود تھا جس نے اپنے گاؤں میں پندرہ سالہ لڑکی کو برہنہ گھمایا، تب سے اس ملک میں سر بازار عورت کو برہنہ کرکے من چاہے کام کرنے کی جرات مل گئی تھی۔

جب اس ملک کی نام نہاس مذہی عالمہ عورتیں اپنی مخاطب عورتوں کو کم تر اور تشدد سہنے کے ”شرعی“ طریقے بتاتی ہیں تب ہی تشدد اور ہراساں کرنے کے اطوار رائج ہو جاتے ہیں۔ جب اس دھرتی کے علماء ریپ سے متاثرہ عورت کے ظلم کو صوفیانہ رومانس کی شکل دیتے ہیں تب ہی اس ملک کے اوباشوں، غنڈوں، ڈاکوؤں، لٹیروں کو عورتوں کے ساتھ ہر طرح کی جنسی و سماجی زیادتی کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ جب اس ملک کی مذہبی جماعتوں کی عورتیں خواتین کے خلاف تشدد پر پیش کیے گئے بلوں کی مخالفت کرتی ہیں تب ہی ہر ریپ کا بوٹا لگا دیا جاتا ہے جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے تو اب ان مذہبی جماعتوں اور ریپ کے خون پر پلنے والے عوام ہمدردی کا ڈھونگ کیوں کر رہے ہیں؟

خواہش یہ نہیں کہ ریپ کرنے والے کو پھانسی ہو یا نہ ہو، ذاتی رائے میں پھانسی معمولی سی سزا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ہونی چاہیے مگر ان ریپ کرنے والوں کو کون لٹکائے گا جو سگے باپ، بھائی، مامے چاچے، شوہر، سسر ہیں؟ یا وہ ریپ جو کبھی دکھائی ہی نہیں دیتے؟ ان ہزاروں کو تو لٹکا دیں یا بھلے کاٹ کر بھوکے درندوں کو کھلا دیں مگر وہ لاکھوں جو آنسوؤں، ہچکیوں اور وحشت کے بوجھ تلے دبے ہیں، ان تمام زیادتیوں کا کہاں پرچہ کٹے گا؟

وہ قہر جو زباں سے کہے نہیں جا سکتے؟ ان مجرموں کو کون ریمانڈ پر دے گا، ان کو کہاں سے قانون کی گرفت میں لائیں گے؟ کبھی سوچا ہے کہ ظلم کو مٹانے کے لئے سوچ، تربیت، اخلاقیات، اقدار کو بدلنا پڑتا ہے؟ جن کو بدلنے کا پرچار سارا سال ہوتا رہتا ہے اور عورتیں بدستور گالیاں، دھمکیاں، بدتمیزیاں سہتی رہتی ہیں۔ کیسی کیسی بازاری ہزلیات ہیں جو یہ روایت کے غنڈے اور ان کی غلام عورتیں ہمیں نہیں کہتیں صرف اس لئے کہ ریپ اور تشدد کے خلاف زبان چلتی ہے ہماری اور ان کو تکلیف پہنچتی ہے۔

یہ لوگ اب بھی یہ کہتے باز نہیں آرہے کہ اس طرح کے واقعہ سے خود کو درست ثابت کرنے میں حقوق نسواں والیوں کو موقع ملے گا۔ آپ ایسا کچھ کیوں نہیں کرتے کہ حقوق اتنے عام ہوں کہ حقوق نسواں یاعورت مارچ کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اب بھی بات ہو رہی ہے تو مظلوم کی، وہ کیسی تھی، کیا تھی، کیوں تھی، کہاں تھی؟ اب بھی کوئی ان دو قابل نفرت مردوں کی بات نہیں کر رہا کہ وہ کیوں تھے، کیوں ہیں، کہاں تھے اور کہاں ہیں؟ وہ تو پکڑے جائیں گے اور بدترین انجام کو پہنچیں گے، ان وکٹم بلیمرز کو کون پکڑے گا جو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہمارے بیچ ہمیں کھانے، نوچنے، بھنبوڑنے کو تیار بیٹھے ہیں؟

ان کی زباں کون کھینچے گا؟ ان کو دیکھ کر رپورٹ کرنے والا ہوگا کوئی؟ یہ لہو جو اس قوم کے مردوں اور مردوں کے طفیل جہالت کے مزے لوٹنے والی عورتوں کے منہ کو لگ چکا ہے اس کو کون نوچے گا؟ دیکھنا تو یہ ہے کہ سارا سال عورتوں پر تشدد کا خون پینے والی یہ قوم کتنے دن تک زندہ رہنے کا دم بھرے گی؟ ایک عورت کو بری طرح سے ریپ ہونا پڑتا ہے بے ضمیروں اور مردہ معاشروں کو کڑوٹ لینے پر مجبور کرنے کے لئے۔ مرنا پڑتا ہے چند مردوں کو بیدار کرنے کے لئے۔

یہ ریپ ریپسٹ کچھ نہ ہوتے، ان دو بد بختوں کی جرآت نہ ہوتی اگر اس ملک کے، سماج کے، ریاست کے خداؤں کو، مردوں کو ہوس اور خون کا ناسور نہ لگا ہوتا۔ اگر ان ملاؤں، عالماؤں میں رتی بھر دکھ درد سمجھنے کی توفیق ہوتی جو بے شرمی سے ریپ کو جائز، تشدد کو فرمانبرداری، عورت کو ظلم پر چپ رہنے، اور عزت آبرو کے جھوٹ بہانے بنواتے ہیں، اگر ان جاگیرداروں، افسروں کی لگامیں کھینچی ہوتی تب یہ سانحہ ہوتا نہ یہ تشدد ہوتا۔

آج زینب بھی زندہ ہوتی، فرشتے بھی، فاطمہ بھی، اقصیٰ بھی اور تبسم و گوہر و نایاب بھی۔ یہ گلی گلی گھر گھرعبداللہ، علی عمران، واجد، جمیل، شاہین، سعید جیسے جہنم کے مکوڑوں کو بہت پہلے تلف کیا گیا ہوتا تو یہ تماشا، ظلم، ستم برپا نہ ہوا کرتے۔ مگر ان ریپ کاروں، ان وکٹم بلیمرز کے منہ کو خون لگا ہے، حیلے بہانوں کا، جواز معافیوں، حکمتوں کا، ہوس کا، گوشت کا، شہوت کا، تشدد کا، نظریے کا، رسم کا، فطرتی نفرت کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •