نوشابہ کی ڈائری: بارہ مئی 2007ء

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

28 مئی 2007ء

پھر گئے دور کی ابتدا ہو گئی
کل مرے شہر میں انتہا ہو گئی

آج ’ایس ایم ایس‘ میں آنے والی نظم کا یہ آخری شعر میرے دماغ میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ 12 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ واقعی انتہا تھی۔ موت کا کھیل کھلے عام سڑکوں پر کھیلا جا رہا تھا اور کرکٹ میچ کی طرح ٹی وی چینلوں پر براہء راست دکھایا جا رہا تھا۔ جانے کون جیت رہا تھا، لیکن لوگ جانیں ہار رہے تھے۔ یہ سب ریاست کے سب سے بڑے شہر میں ہو رہا تھا۔ ریاست جانے کہاں تھی، فریق تھی یا تماشائی۔ اسلحہ بردار لڑکے پورے اطمینان سے گنیں لوڈ کرتے، پھر تاک تاک کر نشانہ لیتے۔

کیمرے نے دکھایا، ایک لڑکا دیوار کی طرف منہ کیے، نہایت سکون سے ایک ہاتھ سے قمیص اور دوسرے سے ریپیٹر اٹھائے پیشاب کر رہا ہے۔ فارغ ہو کر وہ زپ بند کرتا محاذ پر آیا اور ریپیٹر لوڈ کر کے گولیاں چلانے لگا۔ یہ سب اس فوجی حکمران کے عہد میں ہو رہا تھا، جس نے کچھ وقت پہلے ہی کہا تھا، ”پاکستان میں پاک فوج کے ہوتے ہوئے کسی سپاہ کی ضرورت نہیں۔“ اس روز شہر کا ہر راستہ بند تھا، مگر موت روشنی کی رفتار سے سفر کر رہی تھی۔

یہ سب چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی سے شروع ہوا۔ ان کی بحالی کے لیے چلنے والی تحریک جلسوں جلوسوں کی صورت میں پورے ملک میں جاری تھی۔ کراچی آنے سے پہلے افتخار چودھری نے طویل جلوس اور نعروں کے ساتھ پنجاب کا دورہ کیا تھا، لیکن ان کا کراچی آنا غضب ڈھا گیا۔ ایم کیو ایم نے نئے نظام کے تحت ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی تھی، کہ فوجی حکومت غیرآئینی ہے، جس کا دیا گیا نیا انتظام قبول نہیں، لیکن اب وہ فوجی حکمراں کے زیرسایہ بھی تھی، شانہ بہ شانہ بھی، اور پانچ دن پہلے بارہ مئی کو تو وہ فوجی حکمراں کی فوج بنی، مخالفین پر لشکر کشی کر رہی تھی۔

افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک شروع ہونے کے بعد سے الطاف حسین اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا عدلیہ کی آزادی کے نام پر سیاست چمکائی جا رہی ہے۔ افتخار چودھری کے بارہ مئی کو دورۂ کراچی کا اعلان ہوا تو ایم کیو ایم نے اسی دن اپنی ریلی نکالنے کی ٹھان لی۔ شاید پہلی بار اپنی کسی پروگرام کا اشتہار اخبارات میں شایع کرایا تھا۔ دو دن لگاتار اخبارات کے پہلے صفحے پر ایم کیو ایم کی ریلی کے بڑے بڑے اشتہارات چھپے تھے۔ کچھ دن پہلے لاہور میں افتخار چودھری کے استقبالیہ جلوسوں کی کوریج کے دوران میں سندھ میں نجی چینلوں کی نشریات اچانک بند کردی گئیں۔ ایم کیو ایم کے ابتدائی دور میں دو اشعار دیواروں پر اس کی چاکنگ کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے اور جلسوں میں بھی پڑھے جاتے تھے:

وفا کرو گے، وفا کریں گے
جفا کرو گے، جفا کریں گے
کرم کرو گے، کرم کریں گے
ستم کرو گے، ستم کریں گے
ہم آدمی ہیں تمھارے جیسے
جو تم کرو گے، وہ ہم کریں گے

افتخار چودھری کے معاملے میں ایم کیو ایم نے انتہا سے آگے جا کر وفا نبھائی اور مشرف کے کرم کا جواب، ان کے مخالفین پر ستم سے دیا۔ نشریات کی بندش پر پوری حزب اختلاف نے احتجاج کیا۔ ایم کیو ایم کو اس عمل سے لا تعلقی کا اظہار کرنا ہی تھا، لیکن ایم کیو ایم کے مرکزی انفارمیشن سیل کے انچارج مصطفیٰ عزیز آبادی نے یہ کہہ کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا کہ ”سندھ میں نجی چینل بند کیے جانے کے حوالے سے جو کچھ ہوا، وہ صحافتی بد دیانتی کے خلاف عوام کا رد عمل ہے۔

”بارہ مئی کو شہر میں عام تعطیل کردی گئی تھی۔ جامعہ کراچی اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے امتحانات ملتوی ہو گئے تھے۔ ایک دن پہلے ہی فضا میں خوف آ بسا تھا۔ حزب اختلاف کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتارریوں نے کشیدگی بڑھا دی تھی۔ صبح میں نے دودھ لینے کے لیے دروازہ کھولا تو سامنے سے گزرتے نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دیکھ کر چونک گئی۔ آخر ٹی وی دیکھ کر پتا چلا کہ یہ اسلحہ کس مقصد کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

ٹی وی پر کسی ایکشن فلم سے بھی زیادہ سنسنی خیز مناظر تھے۔ جلتی گاڑیاں، گولیاں چلاتے سورما، جان بچانے کے لیے بھاگتے لوگ۔ ہوائی اڈے کی طرف جانے والے تمام راستے کنٹینر، ٹریلر، منی بسیں، کوچیں، موٹرسائیکلیں لگا کر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیے گئے تھے۔ مجھے اس دن معلوم ہوا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا کسے کہتے ہیں۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے مشیر داخلہ وسیم اختر پوری ڈھٹائی سے چینلوں پر کہتے نظر آرہے تھے، ”یہ تو ہونا تھا۔”
رات تک پتا چلا یہ خونیں دن پچاس کے قریب زندگیاں نگل چکا ہے۔ مسلح “لڑکوں” نے زخمیوں کی جان بچانے کے لیے آنے والے ایدھی کے رضا کاروں کو بھی نہ چھوڑا۔ انھیں زد و کوب کیا گیا۔ ایدھی کی ایک ایمبولینس پر گولیاں برسائی گئیں اور دو زخمیوں کو اسپتال لے جانے کے لیے کوشاں ایمبولینس ڈرائیور اپنی جان گنوا بیٹھا۔ وہ زخمی خوش نصیب تھے، جو اسپتال پہنچ پائے۔ اسپتال، جو زخمیوں سے بھر گئے تھے۔ ایک طرف سڑکوں پر مورچے لگے تھے، دوسری طرف دہشت کے مناظر دکھانے کی پاداش میں “آج” ٹی وی چینل کی عمارت کو گولیوں کی باڑ پر رکھ لیا گیا تھا۔

اس شام جنرل پرویز مشرف اسلام آباد میں ”استحکام پاکستان“ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مکے لہرا کر کہہ رہے تھے، ”کراچی میں بھر پور عوامی قوت کا مظاہرہ کیا ہے۔“ اگلے دن ایم کیو ایم کا یوم سوگ اور حزب اختلاف کا یوم سیاہ تھا۔ اس سانحے کے خلاف ملک بھر میں ہڑتال کی گئی۔ سانحے کے تین دن بعد تک شہر میں کشیدگی تھی۔ دکانیں بازار سب بند۔ ایم کیو ایم کو کچھ روز پہلے اچانک یاد آیا تھا کہ اس کے کارکن لاپتا ہیں، جن کی بازیابی کے لیے گیارہ مئی کو اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ کے سامنے لاپتا کارکنوں کے ورثا سے مظاہرہ کرایا گیا۔ حیرت ہے کہ ایم کیو ایم نے بادشاہی اختیارات رکھنے والے صدر پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہوئے، ان کارکنوں کی بازیابی کی شرط کیوں نہ رکھی؟

اس سانحے کے ساتھ ہی گزرا دور، کہیں زیادہ بھیانک شکل میں پھر لوٹ آیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ جنرل پرویز مشرف کو خوش کرنے کے لیے ایم کیو ایم نے اس شہر، مہاجروں اور خود اپنے ساتھ کیا کر ڈالا۔ آج ایم کیو ایم پھر تن تنہا اور الزامات کی زد پر ہے۔ اس کے ساتھی بھی اس کے ساتھ نہیں۔ مسلم لیگ ق نے خود کو ایم کیو ایم کی ریلی سے دور رکھا اور بارہ مئی کے بعد بھی اس سے الگ تھلگ ہے۔ یہاں تک کہ پرویز مشرف کو کہنا پڑا کہ تمام اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم کا بھر پور ساتھ دیں۔ پرویز مشرف نے ایک ایسی بات کہی کہ مجھے لگا ہم قبائل کے زیرنگیں علاقے میں بٹے کسی افریقی معاشرے میں رہ رہے ہیں، ”اگر ایم کیو ایم چیف جسٹس کو ریلی نکالنے دیتی تو پچیس تیس ہزار لوگ کراچی میں ایم کیو ایم کے اثر والے علاقوں میں دندناتے پھرتے، جس سے یہ تاثر پھیلتا کہ ان کی طاقت ختم ہو گئی ہے۔“ پرویز مشرف نے اس سانحے کا سبب اتنے اختصار سے بیان کر کے، گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔

پتا نہیں وہ ایم کیو ایم کے نادان دوست ہیں یا دانا دشمن، حکم راں مسلم لیگ ق شاید ہی پرویز مشرف کی ہدایت مانے، مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم میں کھٹ پٹ اس وقت شروع ہوئی، جب ایم کیو ایم نے پوری سنجیدگی سے پنجاب میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ مسلم لیگ ق کی صوبائی حکومت نے پنجاب بھر میں متحدہ کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مار کر اور گرفتارریاں کر کے صاف بتا دیا کہ وہ اپنی طاقت کے مرکز میں، ایم کیو ایم کا وجود برداشت نہیں کر سکتی۔

مسلم لیگ ق کے خلاف ایم کیو ایم نے ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے کر کے اپنا رد عمل ظاہر کیا تھا۔ الطاف حسین نے کہا، اگر ہمیں پنجاب میں نہیں آنے دیا، تو کراچی میں کسی ظالم ’چودھری‘ کا جہاز نہیں اترنے دیں گے۔ لگتا ہے بارہ مئی کے بعد مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم سے مزید فاصلہ پیدا کر لے گی۔ ایم کیو ایم کو ملک بھر میں شدید رد عمل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم نے ملک کے مختلف علاقوں میں چند سال کے دوران میں قائم کیے جانے والے اپنے دفاتر بند کر دیے۔

جب سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ وہ لندن میں الطاف حسین کے خلاف معصوم لوگوں کے قتل کا مقدمہ درج کرائیں گے، اس وقت سے ایم کیو ایم والے عمران خان مخالف مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کے پتلے جلائے جاتے رہے۔ ان کے سندھ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی، اور دیواروں پر عمران خان کے لیے گالیاں لکھ دی گئیں۔ دیواریں واقعتاً سیاہ ہونے کے اگلے ہی روز، الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کو یہ گالیاں مٹا دینے کا حکم دیا۔ چند گھنٹوں بعد یہ نعرے مٹائے جا چکے تھے۔ سارنگ نے پوچھا، ”ماما! یہ زانی کیا ہوتا ہے؟“ کیا بتاتی؟ کہہ دیا گندی گالی ہے۔ کہنے لگا، ”ماما! دیواروں پر لکھا ہے عمران۔۔۔۔“ میں نے ڈانٹ کر چپ کرا دیا۔

دن کتنے شانت گزر رہے تھے۔ شہر کتنا خوب صورت ہوتا جا رہا تھا۔ کراچی کی زندگی میں ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ سڑکیں، پل، پارک۔ شہر نکھرنے سنورنے لگا تھا۔ یہ سبھی اسی پرویز مشرف کی وجہ سے تھا، جو بارہ مئی کا سبب بنا۔ پرویز مشرف نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی خزانے کا منہ کھول دیا۔ شہر پر برستا ہن ترقی کی صورت میں دکھائی دیتا تھا۔ نئے بلدیاتی نظام کے بطن سے جنم لینے والے ”شہری ضلعی حکومت“ کے پہلے ناظم نعمت اللہ خان نے، برسوں سے تباہ حال کراچی میں تعمیر و ترقی کا سفر شروع کیا تھا۔

شہر میں اتنے ترقیاتی کام ہوئے کہ لگنے لگا بلدیاتی انتخابات کا اگلا معرکا، جماعت اسلامی ہی سر کر لے گی۔ لیکن یہ طے تھا کہ اگلی باری ایم کیو ایم ہی کی ہے۔ سو انتخابات کے دن ایم کیو ایم کو کھل کھیلنے کا موقع دیا گیا۔ انتخابات سے چند روز پہلے ایک دوپہر کسی نے بڑے زور سے دروازہ دھڑ دھڑایا، دیکھا تو جماعت اسلامی سے وابستہ میری دوست شاہین کھڑی تھی، دو اور عورتیں بھی ساتھ تھیں۔ پسینا پسینا، نقاب سے جھانکتی آنکھیں ڈر سے بھری۔

میں شاہین کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی، وہ دونوں بھی ساتھ آ گئیں۔ ”ہم پمفلٹ بانٹنے نکلی تھیں، ایم کیو ایم کے لڑکے پیچھے لگ گئے۔ ڈر کر تمھارا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔“ شاہین کے ہاتھ میں جماعت اسلامی کے پمفلٹ کی تھپی تھی۔ کئی ماہ بعد شاہین سے دوبارہ ملاقات ہوئی، تو اس نے انتخابات کے دن کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا، ”ناظمہ نے ہماری ٹیم بنائی تھی، خواتین پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کے لیے۔ جہاں پہنچتے وہاں خواتین ایک طرف کھڑی ہوتیں اور ایم کیو ایم کا کوئی کارکن ووٹوں پر ٹھپے لگا رہا ہوتا۔

اس روز تمھارے گھر سے نکل کر ہم کچھ دور گئی ہوں گی کہ دو لڑکے موٹرسائیکل پر آئے، ہمارے پاس آ کر ٹی ٹی لہرائی اور کہا، ”آئندہ ادھر نظر مت آنا، ورنہ۔“ بہ ہر حال ایم کیو ایم جیت گئی۔ اب نوجوان، نہایت متحرک اور بلا کے چرب زبان مصطفیٰ کمال ناظم کراچی ہوئے۔ جنھوں نے شہر کی تعمیر وترقی کا سفر مزید تیز کر دیا۔ آج سے پہلے تک ایم کیو ایم کے مخالفین بھی ان کی تعریف کرتے نظر آتے تھے۔ پورے پاکستان میں مصطفیٰ کمال کے نام کے چرچے ہونے لگے۔ دیگر عوامل کے ساتھ مصطفیٰ کمال کی کارکردگی نے ملک میں ایم کیو ایم کو نئی پہچان دی۔ الزامات کی سیاہی ماند پڑنے لگی۔

2005ء میں قیامت خیز زلزلہ آیا تو ایم کیو ایم کے امدادی قافلے متاثرہ علاقوں میں جا پہنچے اور مالی اور عملی طور پر متاثرین کی اتنی مدد کی کہ اس کی سیاہ تصویر راتوں رات سفید ہو گئی۔ ایم کیو ایم ملک گیر جماعت بننے کی طرف تیزی سے قدم بڑھا رہی تھی۔ اندرون سندھ کتنے ہی سندھی ایم کیو ایم میں شامل ہوئے۔ الطاف حسین اندرون سندھ شہروں میں خطاب کرتے ہوئے خود کو سندھ دھرتی کا بیٹا کہتے اور شاہ لطیفؒ کے حوالے دیتے رہے۔

یہ ان کی تقریروں کا اثر تھا، سندھ کے مسائل پر ایم کیو ایم کا موقف یا مصطفیٰ کمال کی کارکردگی کہ خالص سندھی شہروں اور قصبوں میں ایم کیو ایم کے دفاتر قائم ہوئے اور ایم کیو ایم کے پرچم لہرائے۔ ”اب تو دیواروں پر سندھی میں ”جیے الطاف حسین“ کے نعرے لکھے دکھائی دیتے ہیں۔” نوشاد چچا عید پر ملنے آئے تو بتا رہے تھے۔ “پچھلے چار پانچ مہینوں کے دوران میں اندرون سندھ، پنجاب، کشمیر اور بلوچستان جانا ہوا، اب ہر جگہ ایم کیو ایم کے نعرے اور پرچم نظر آتے ہیں، کہیں کم، کہیں زیادہ۔

وہاں ایم کیو ایم کے کارکنوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ پنجاب میں کارکن الطاف حسین کے دو فی صد اور اٹھانوے فی صد کے فلسفے اور غریب و متوسط طبقے کو اقتدار میں لانے کے وژن کے گرویدہ ہو چکے ہیں۔ تھر میں ہندو کارکن اقلیتوں اور پسے ہوئے طبقات کے لیے الطاف حسین کو امید کی کرن سمجھتے ہیں۔ خیر پور میں سندھی کارکن نے کہا، الطاف بھائی چاہتا ہے کہ ہم سندھی مہاجر ایک ہو جائیں، پھر پنجابیوں پٹھانوں کو ادھر سے ڈنڈے کے زور پر نکالیں گے۔”

نوشاد چچا کی باتیں سن کر میں حیران رہ گئی۔ خوشی تھی، امید تھی کہ ایم کیو ایم کا ملک گیر جماعت بن کر اقتدار میں آنا، کراچی اور مہاجروں کے لیے سود مند ہو گا۔ پھر جب کراچی کے پٹھان، پنجابی، سندھی اور بلوچ بھی کثیر تعداد میں ایم کیو ایم کا حصہ ہوں گے تو شہر میں زبان کے نام پر فساد کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ لگتا تھا ایم کیو ایم نے اسلحہ پھینک دیا ہے۔ بانوے کے آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس افسران اور اہل کار تسلسل سے مارے جا رہے تھے، پھر بھی یہی لگتا تھا کہ اسلحہ، تشدد ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔

صاف دکھائی دیتا تھا کہ ایم کیو ایم کئی سال سے اپنی دل کش تصویر اور سافٹ امیج بنانے کے لیے بڑی محنت کر رہی ہے۔ رواں عشرے میں یہ کوششیں مزید تیز ہو گئی تھیں۔ اس مقصد کے لیے فن و ثقافت اور ادب کے شعبوں پر خاص توجہ دی گئی۔ ثقافتی پروگرام میں پاکستان کی مختلف ثقافتوں کا مظاہرہ اور علاقائی زبانوں کے نغموں نے ایم کیو ایم کے منفی تاثر کو بہت حد تک گھٹایا۔ سندھی بولنے والوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچا کر ایم کیو ایم نے سندھیوں کو اپنے قریب لانے کی کوشش کی۔

الطاف حسین کی اکثر تقریریں اور فکری نشستوں سے ان کے ٹیلی فونک خطاب پڑھ کر لگتا تھا کہ وہ خود کو ایک دانش ور اور فلسفی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس کی سائنس سمیت زندگی کے ہر پہلو پر نظر ہے، وہ اخلاقیات، طب، مذہب، جینیات پر گھنٹوں بولتے، اور سننے والے سر جھکا کر سنتے۔ ایم کیو ایم کے اجتماعات میں شہر کے نام ور اہل دانش، ادیب، شاعر اور علمائے دین شریک ہوتے اور ان کی گھنٹوں پر محیط تقاریر بڑے ادب سے سماعت کرتے۔

میں نے کبھی نہیں سنا کہ ہمارے شہر کے ان افلاطونوں اور سقراطوں نے الطاف حسین کی کسی بات سے ذرا بھی اختلاف کی جرات کی ہو۔ یہ کیسے دانش ور ہیں!؟ سچ کے بغیر دانش زہر کا پیالا تو بن سکتی ہے سقراط نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے، ایم کیو ایم نے ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اردو اور علاقائی زبانوں کی ترویج اور ترقی کے لیے انگریزی نام سے ”متحدہ کلچرل اینڈ لٹریری فورم“ قائم کیا، جس کے سر پرست اعلیٰ ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور خوش بخش شجاعت اس کی صدر۔

نائب صدور میں فاطمہ ثریا بجیا، حیدر رضوی اور اداکار سید کمال شامل تھے۔ خوش بخت شجاعت ایم کیو ایم شعبۂ خواتین کی رکن بنیں۔ فاطمہ ثریا بجیا اور اسٹیج کی دنیا کے بادشاہ عمر شریف کو ایم کیو ایم نے صوبائی مشیر بنوا دیا۔ اردو کے نام ور کالم نگار اور شاعر جمیل الدین عالی کو سینیٹ کا رکن بنایا۔ علم و ادب اور فن و ثقافت کے شعبوں کے یہ چہرے کانا، لنگڑا اور کنکٹا والی ایم کیو ایم کا نیا چہرہ لگنے لگے تھے، مگر بارہ مئی کے بعد لگتا تھا، یہ صرف میک اپ تھا، جو کراچی کی سڑکوں پر خون سے دھل چکا۔

بھائی جان کب سے کہہ رہے ہیں، امی ابو کے ساتھ تم بھی امریکا آ جاؤ۔ میں اسپانسر کردوں گا، مگر ایک تو خود داری دوسرے بدلتے کراچی کو دیکھ کر میں نے سوچا تھا کہ اب کراچی ایسا شہر ہو گیا ہے، جہاں جوانی کی طرف برق رفتاری سے بڑھتا میرا سارنگ، سکون سے زندگی گزار سکے گا، لیکن اب یہ امید خاک میں ملتی دکھائی دے رہی تھی۔ جب سے کھوکھرا پار کا راستہ کھلا اور تھر ایکسپریس چلنا شروع ہوئی، امی ابو کی انڈیا جا کر اپنا دہلی دیکھنے اور عزیزوں سے ملنے کی خواہش دو چند ہو گئی۔

میں بھی ساتھ جاؤں گی، کتنا مزا آئے گا، کراچی سے تھر اور پھر دور تک پھیلا راجستھان دیکھتے دہلی پہنچیں گے۔ وہاں سے واپس آ کر امی ابو تو امریکا چلے جائیں گے، میں ابھی کشمکش کا شکار ہوں، وہ شہر کیسے چھوڑوں جہاں ذیشان کی یادیں ہیں۔ اس کی قبر ہے۔ آخر کب تک ہم اپنوں کی قبریں چھوڑ کر ہجرت کرتے رہیں گے، سکون اور عافیت کی تلاش میں؟

ہم کراچی والوں کے لیے چین سکون بھی کسی عیاشی سے کم نہیں اور تعیشات بہت جلد اپنا عادی بنا لیتے ہیں۔ ہم بھی کچھ سال سے بے خطر گزرتے دن اور بے خوفی سے ڈھلتی راتوں کے عادی ہو گئے تھے۔ ملک کے دیگر حصوں میں فوجی حکومت کی امریکا پرستی کے خلاف پر تشدد رد عمل اور انتہا پسندی کی کارروائیاں ہو رہی تھیں لیکن کراچی میں رونق عروج پر اور زندگی رواں دواں تھی۔ خوں ریزی واقعات اس دور میں بھی ہوئے، لیکن امن کے طویل وقفوں کے بعد۔

پھر ایک برس نشتر پارک کا دل دہلاتا سانحہ ہوا۔ عید میلاد النبی ﷺ کا اجلا اجتماع، دھماکا کر کے خون میں نہلا دیا گیا۔ سنی تحریک کے سربراہ مولانا عباس قادری، مرکزی راہ نما مولانا اکرم قادری، افتخار احمد بھٹی، معروف سیاست داں حافظ تقی، سماجی راہ نما حاجی حنیف بلو اور سندھ پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ذاکر حسین شہید ہو گئے۔ شان رسالت اور عشق رسول کے نعرے لگاتے اور درود پڑھتے، پچاس سے زیادہ افراد پل بھر میں جان سے گزر گئے۔

اپنی نوعیت کا یہ سنگین اور نہایت دردناک سانحہ بتا گیا کہ دہشت کے ہرکارے ہر حد پار کر سکتے ہیں۔ اس واقعے کی متاثرہ جماعت اور تنظیموں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا، ورنہ جانے کتنے دن شہر سلگتا رہتا۔ تحریک جعفریہ سندھ کے صدر علامہ حسن ترابی کا دھماکے کے ذریعے قتل بھی ایک ایسا واقعہ تھا، جس نے ایک دن کے لیے شہر کی سڑکوں کو سنسان کر دیا تھا۔ ہاں یاد آیا، پختون ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور ہڑتال نے چند روز کے لیے شہر کے امن میں دراڑ ڈال دی تھی۔

جب دھواں چھوڑنے والی بسوں اور رکشوں کے خلاف کارروائی رکوانے کے لیے ’پختون ایکشن کمیٹی‘ قائم ہوئی اور اس انتظامی کارروائی کو پختون دشمنی سے تعبیر کیا گیا، تو میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا ان رکشوں اور بسوں سے نکلتا دھواں، پختونوں سے کترا کر گزر جاتا ہے کہ وہ کسی پختون کی بس یا رکشے سے خارج ہوا ہے؟ ان دنوں یہ سوال مہاجروں کی ہر محفل میں گردش کرتا رہا اور ایم کیو ایم کی دی ہوئی سوچ کو تقویت دے رہا تھا کہ کیا قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی صرف اس لیے کسی نسلی یا لسانی گروہ کو کچلنے کی سازش قرار پائے گی کہ اس گروہ کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس قانون شکنی میں شریک ہے؟

لیکن یہ سوال اٹھانے والے بھول جاتے تھے کہ بانوے کا آپریشن بھی قتل اور تشدد کے خلاف انتظامی کارروائی تھی جسے اسی طرح ایم کیو ایم اور مہاجروں کو مٹانے کے منصوبے کا نام دیا گیا۔ پختون ایکشن کمیٹی کی، ٹرانسپورٹروں کے خلاف اقدامات، کچی آبادیاں مسمار کرنے اور پیٹرول کی قیمتیں کم نہ کرنے کے خلاف، ’‘چابی میرے ہاتھ میں“ کے عنوان سے ہونے والی ہڑتال، حسب توقع اور شہر کی روایت کے مطابق تشدد کے رنگ میں رنگی تھی۔

ہنگامہ آرائی کا تو پہلے سے اندازہ تھا، لیکن سہراب گوٹھ پر جو کچھ ہوا، اس نے شہر میں مستقبل کے ہنگاموں کی مزید بھیانک تصویر کھینچ دی۔ سہراب گوٹھ پر اندرون ملک سے کراچی آنے والوں سے رقم، موبائل اور سامان چھین لیا گیا۔ عورتوں سے دست درازی کی گئی۔ متعدد خواتین کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ ایسا کوئی واقعہ پختون مہاجر فساد کے دنوں میں بھی نہیں ہوا تھا۔ لوگ کہتے ہیں کراچی کی عوامی نیشنل پارٹی میں باچہ خان کے نظریات پر یقین رکھنے والوں کی جگہ جرائم پیشہ عناصر کا غلبہ بڑھتا جا رہا ہے، جو اپنے جرائم کا سائبان اے این پی کے سرخ پرچم کو بنا رہے ہیں۔

پختون نام پر یہ سب پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔ تب معاملہ گاڑیوں کے دھویں کا نہیں محبت کی آگ کا تھا جو ایک مہاجر نوجوان کنور احسن اور پختون لڑکی رفعت آفریدی کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بھڑک اٹھی تھی۔ یہ 1998 کا ماجرا ہے۔ دونوں نے شادی کرلی۔ پہلے یہ معاملہ رفعت کے باپ کی غیرت کا مسئلہ بنا، پھر آناً فاناً اسے پختونوں کا قومی مسئلہ بنا دیا گیا۔ مسلم لیگ نون کے راہ نما طارق خان نے پختون جرگہ بنایا اور محبت کی دھنک رنگ کہانی میں سیاست اور احتجاج اور تشدد کے سرخ و سیاہ رنگ بھر گئے۔ گرفتار اور ہتھکڑی لگے کنور احسن کو رفعت کے باپ نے عدالت میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا۔ قسمت اچھی تھی، اس لیے زندگی بچ گئی۔ سنا ہے یہ جوڑا ملک سے باہر جا بسا۔ کاش اس بھلا دی جانے والی داستان عشق کو کوئی وارث شاہ مل جائے۔

جب بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی راکٹ برسا کر پہاڑ تلے دبا کر مار دیے گئے تو کراچی کے بلوچ علاقوں میں کئی دن تک ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ نشتر پارک کے المیے، علامہ حسن ترابی کے قتل اور دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائی پر کچھ دنوں کے رد عمل کے سوا، اس سے پہلے اور بعد کا ایک طویل عرصہ خاصا پرسکون گزرا، البتہ سڑکوں پر راہ زنی اتنی بڑھ گئی کہ شریک اقتدار اور وزارت داخلہ کی کرسی پر براجمان ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی اپنی تقریر میں اس کا ذکر کیا۔

اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے نام پر موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابند عائد کر کے خلاف ورزیوں پر گرفتارریاں کی گئیں۔ یوں اسٹریٹ کرائم تو وہیں رہے لیکن پولیس والوں کے لیے کمانے کا بندوبست کر دیا گیا۔ پچھلے سال کے دسمبر میں خبر پڑھی تھی کہ گیارہ ماہ کے دوران پچاس ہزار شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے۔ ایم کیو ایم مقامی پولیس کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہے۔ اب تو پولیس میں مہاجروں کی بہت بڑی تعداد بھرتی ہو چکی ہے، مگر پولیس کے رویوں اور کارکردگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس سے پہلے کے دور میں شہر میں حشر کا عالم تھا۔ شیعوں کا قتل معمول بن گیا تھا۔ امام بارگاہوں میں دھماکے ہوتے رہے اور انسانی جسم کھلونوں کی طرح ٹوٹ کر بکھرتے رہے۔ ابو اپنے بیمار دوست باقر انکل کی عیادت کے لیے انچولی گئے تھے۔ وہاں پتا لکھی پرچی ہاتھ میں لیے مکان نمبر دیکھ رہے تھے کہ ایک بوڑھے شخص نے انھیں روک لیا، ”اس کے لہجے میں تلخی اور آنکھوں میں نفرت تھی۔ تفتیشی انداز میں سوالات شروع کر دیے، کہاں سے آئے ہو، کیوں آئے ہو کہاں جانا ہے؟’‘

مجھے غصہ آ گیا، کچھ کہنے ہی والا تھا کہ دو نوجوان تیزی سے ہماری طرف آئے اور بڑی تمیز سے پوچھا انکل! کس کے گھر جائیں گے؟ میرے بتانے پر مجھے باقر کے گھر کی طرف لے جانے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا انکل! ان صاحب کی بات کا برا مت مانیے گا، ان کے دو بیٹے امام بارگاہ علی رضا میں ہونے والے دھماکے میں شہید ہو گئے تھے، تب سے یہ ایسے ہو گئے ہیں۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ بوڑھا دیوار کے ساتھ سر جھکائے کھڑا تھا۔

سن کر دل بوجھل ہو گیا۔ ”ابو سے یہ واقعہ سنا، تو میرا دل بھی درد سے بھر گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے قتل کی لہر بھی چلی، زیادہ تر شیعہ ڈاکٹر نشانہ بنے۔ سنی عالم دین اور افغانستان کے طالبان کی حمایت کرنے والے مفتی نظام شامزئی کی جان بھی لے لی گئی۔ عالم کی موت عالم کی موت ہوتی ہے تو اس شہر میں جانے کتنے عالم اجل کے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں۔ گلشن اقبال کی ایک امام بارگاہ میں بم دھماکے اور جانوں کے ضیاع کے رد عمل میں مشتعل افراد نے کے ایف سی ریسٹورنٹ کو آگ لگا دی اور سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں موجود عملے کو باہر نکلنے نہیں دیا اور چھے افراد زندہ جل گئے۔

یہی ہوتا ہے دہشت گردی کے واقعات میں معصوم لوگ مارے گئے پھر ان واقعات پر رد عمل کا نشانہ بھی بے، خطا شہری بنے۔ کلفٹن پل کے قریب کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل احسن سلیم حیات کے کارواں پر حملہ ایسا واقعہ تھا جس نے صورت حال کی سنگینی مزید واضح کر دی۔ اس حملے میں سات فوجیوں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ بنوریہ ٹاؤن کے مدرسے کے قریب ایک ریستوراں کے باہر موٹرسائیکل پر نصب بم پھٹنے سے 10 افراد ہلاک ہو گئے۔ مذہبی عناصر کے ساتھ بلوچستان لبریشن آرمی بھی کراچی میں کارروائیاں کر رہی تھی اور نہ جانے کون کون آگ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا تھا۔

ایک طرف دھماکے ہو رہے تھے آتشیں اسلحے آگ اگل رہے تھے دوسری طرف چھاپے اور گرفتارریوں کی خبریں تھیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے مرکز ادارہ نورحق پر بھی چھاپا مارا گیا اور 9 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد بھی 2004ء میں ڈیفنس سوسائٹی فیز ٹو کے ایک بنگلے سے گرفتار کر لیے گئے۔ الطاف حسین پیر صاحب کہلائے تو آفاق احمد کو ان کے پیروکاروں نے ”چیف صاحب“ کا خطاب عطا کیا۔ سنا ہے جب 1995ء میں گلوکار سجاد علی کا گانا، ”بس بھئی بس، زیادہ بات نہیں چیف صاب، آج کے بعد ملاقات نہیں چیف صاب“ گلی گلی چلا تو اسے حقیقی گروپ کے ”چیف صاحب“ کے لیے تڑی سمجھا گیا اور سجاد علی کو دھمکیاں موصول ہوئیں۔

الطاف حسین کا یہ دشمن نمبر ایک پرویز مشرف کے اقتدار میں تو جیل سے باہر آتا نظر نہیں آیا۔ ”دہشت گردی کے خلاف مقامی جنگ“ میں اخبارات بھی نشانہ بنے۔ منافرت پھیلانے کے الزام میں جسارت کے فرائیڈے اسپیشل، ”ضرب اسلام“ اور ”وجود“ کے اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے۔ یہ تو پتا نہیں کہ یہ اخبارات منافرت پھیلا رہے تھے یا نہیں، لیکن ٹی وی چینل خون آلود لاشیں دکھا کر خوف ضرور پھیلاتے رہے ہیں۔ یہ چینل سب کچھ دکھانے کو آزادیٔ صحافت سمجھتے ہیں۔

میرے ارد گرد کتنا کچھ بدل گیا ہے، سوچو تو لگتا ہے کسی اور سیارے پر جا پہنچے ہیں۔ کبھی لینڈ لائن فون کے لیے ترستی تھی اب موبائل فون ہر وقت ہاتھ میں ہے۔ میں نے خالہ کے گھر پہلی بار کمپیوٹر دیکھا تھا، کیسے ڈرتے ڈرتے چھوا تھا اور اب کتنی مہارت سے انٹرنیٹ استعمال کرتی ہوں، اور سارنگ تو مجھ سے بھی کہیں زیادہ ماہر ہے۔ اسی کے لیے تو کمپیوٹر لیا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے معاملے میں وہ میرا استاد ہے۔ مجھے تو پہلے پہل ٹی وی پر سی این این اور جیو چینل کی نشریات دیکھ کر لگا تھا، کسی طلسمی دنیا میں پہنچ گئی ہیں۔ کہاں وہ سرکاری سچ بتاتا پابندیوں اور احتیاطوں میں جکڑا پی ٹی وی، کہاں یہ حکومت مخالف خبریں دیتے، سیاست دانوں کو آپس میں لڑتا بھڑتا دکھاتے اور زندگی کے ہر گوشے کے حقائق سامنے لاتے نجی ٹی وی چینل۔

سی این این کی نشریات پاکستان میں شروع ہوئیں تو عجیب تماشا ہوتا تھا، جوں ہی کوئی ”ممنوع“ منظر آتا اسکرین پر چھوٹے چھوٹے خانے بن جاتے اور منظر دیکھنا ممکن نہ رہتا۔ مردوں نے اس کا حل یہ نکالا تھا کہ ململ آنکھوں سے چپکا کر ان خانوں کو توڑ کر منظر سے آنکھیں سینک لیتے تھے۔ اب تو کیبل ٹی والے جو انگریزی چینل دکھاتے ہیں ان میں وہ سب کچھ ہوتا ہے، جس کی تلاش میں میرے زمانے کے لڑکے وڈیو شاپ کا رخ کرتے اور پھر گھر والوں کے کہیں جانے کا انتظار۔

ذیشان نے مجھے بتایا تھا۔ موصوف خود بھی یہ سب کرتے رہے تھے کیسے شرماتے ہوئے اعتراف کیا تھا۔ سارنگ پر مستقل نظر رکھنی پڑتی ہے کہ ٹی وی یا انٹرنیٹ پر کچھ الٹا سیدھا نہ دیکھ رہا ہو۔ ٹی وی خبریں، معلومات، تفریح کے ساتھ کبھی کبھی کتنا دکھ دیتا ہے، جیسے ڈاکٹر عبد القدیر کو اعتراف جرم کرتے دیکھنا۔ بانیان پاکستان کی اولاد ہونے کے فخر کے بعد وہ مہاجروں کا دوسرا غرور ہیں۔ اگر پرویز مشرف کے بجائے انھیں کسی پنجابی یا سندھی حکمراں نے یوں رسوا کیا ہوتا، تو اسے مہاجر دشمنی اور تعصب کا نام دیا جاتا، لیکن ایسا کرنے والا مہاجر ہے۔ اس لیے سب خاموش ہیں۔ مہاجروں نے محبوب مشرف اور فخر قدیر دونوں کو دل سے لگائے رکھنے کی یہ ترکیب نکالی کہ مشرف کا عمل مجبوری اور ذہانت قرار پایا اور ڈاکٹر قدیر کا اعتراف قربانی۔ الطاف حسین نے ڈاکٹر قدیر کے معاملے پر جو سوال اٹھائے، وہ ہر ایک کے ذہن میں تھے، لیکن انھیں بیرون ملک مقیم کوئی شخص ہی زبان پر لا سکتا ہے۔

الطاف حسین تقریباً پندرہ سال سے بیرون ملک رہتے ہوئے، آج بھی ایم کیو ایم، کراچی اور مہاجروں کے دل و دماغ اپنی مٹھی میں لیے ہوئے ہیں۔ ”اسے سوچ سمجھ کر لندن جانے دیا گیا تھا۔ شاید ان کا خیال تھا کہ لندن میں بس جانے والا الطاف حسین ایم کیو ایم پر گرفت نہیں رکھ پائے گا، وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ خام خیالی تھی۔“ نوشاد چچا ٹھیک کہتے ہیں۔ کوئی تین سال پہلے ایک دن اچانک دیواروں پر ”اپنا قائد صرف الطاف“ کا نعرہ دیکھا تو سوچا اس یاد دہانی کی ضرورت کیوں پڑ گئی، پھر جب یہ افواہ گرم ہوئی کہ ڈاکٹر عمران فاروق انا گروپ بنا کر متبادل قیادت کے طور پر سامنے آرہے ہیں تو اس نعرے کی وجہ سمجھ میں آئی۔

عمران فاروق کے دوبارہ رابطہ کمیٹی کا کنوینر بننے کے بعد یہ افواہ دم توڑ گئی، لیکن اگر یہ محض افواہ تھی تو دیواریں نئے نعرے سے کیوں رنگ دی گئی تھیں؟ ایم کیو ایم کے نعرے بھی کیا خوب ہیں، خاص طور پر ”ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہے“ نوشاد چچا نے بتایا تھا کہ یہ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی کی ایک نظم کا شعر ہے جو انھوں نے تب لکھی تھی، جب وہ اے پی ایم ایس او میں تھے۔ اس نعرے میں ایم کیو ایم کا پورا فلسفہ اور ساری ذہنیت پنہاں ہے۔

الطاف حسین جو کہیں، کریں اس پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے سر جھکا دینا ہے۔ 2004ء میں انھوں نے بھارت کے دورے میں ”ہندوستان ٹائمز“ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی تقسیم کو سب سے بڑی غلطی قرار دیا تو ان کے نام لیوا کسی مہاجر کی پیشانی پر بل تک نہیں پڑے۔ اور بارہ مئی کے بعد جب الطاف حسین پر تنقید کی جا رہی ہے تو ڈاکٹرفاروق ستار فرماتے ہیں، ”الطاف حسین کی ذات پر حملہ در اصل قائد اعظم کے نظریے پر حملہ ہے۔“

رہے شہر کے محب وطن بزرگ دانش ور ادیب اور شاعر تو ان میں الطاف حسین سے اختلاف کی ہمت ہی کب تھی، طویل اور لایعنی خطاب سر جھکا کر سننے والوں کے سر یوں جھکے تھے کہ اٹھتے تو گردن چٹخ جاتی۔ الطاف حسین اس تقریر کے بعد بھی فوجی حکومت کے چہیتے اتحادی رہے۔ بارہ مئی کے محاذ پر دشمن کو شکست فاش دینے کے بعد تو وہ یقیناً کسی ”اعزاز“ کے حق دار ہو گئے تھے۔

یہ سب دیکھ کر ان سوالات میں الجھ جاتی ہوں کہ حب الوطنی کیا ہے؟ ملک دشمنی کسے کہتے ہیں؟ دہشت گردی کیا ہے؟ دہشت گرد کون ہیں؟

اس سیریز کے دیگر حصےنوشابہ کی ڈائری: ”نو گو ایریا“ ختم․․․ مہاجر ”اردو بولنے والے سندھی“ ہو گئےنوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •