لال حویلی والے شیخ رشید: ٹیکنیکل سکول سے سیاست کی ابتدا کرنے والے شیخ رشید کی ملکی سیاست سے متعلق یادداشتیں

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیخ رشید
Getty Images
امریکہ کے یوم آزادی پر تقریب شروع ہو چکی تھی، ایک نوجوان سائیکل پر پیڈل مارتا ہوا بالآخر سفارتخانے پہنچ گیا۔ سائیکل پر آنے ولا شاید یہ واحد مہمان تھا جس پر انٹیلیجنس بیورو والے بھی حیران تھے لیکن اس کا نام مہمانوں کی فہرست میں شامل تھا۔ سائیکل سٹینڈ نہ ہونے کی وجہ سے سادہ لباس میں اہلکار نے نوجوان سے سائیکل لی اور پارکنگ کے لیے لے گیا۔

یہ نوجوان جب سفارتخانے میں داخل ہوا تو ایک جانب ولی خان اور مولانا شاہ احمد نورانی اپوزیشن کے لیڈروں کے ساتھ موجود تھے ایسے میں سامنے سے ایک شخص اس کی جانب بڑھا اور اسے ’قومی بدمعاش‘ کہہ کر پکارا۔ یہ نوجوان پاکستان کا سینیئر سیاست دان شیخ رشید تھا جبکہ اس کو ’بدمعاش‘ پکارنے والے ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

شیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اور اختلافات کا بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

شیخ رشید امریکی سفارتخانے میں ذوالفقار علی بھٹو سے ٹکراؤ کے واقعے کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ ’بھٹو میرے قریب آ کر کہنے لگے کہ اس دن لیاقت باغ میں میں تمھیں بچا لیا ورنہ لوگ تمہارا قیمہ بنا دیتے پھر ایک دم بولے تم کیا سمجھتے ہو کہ ایوب خان کو تم نے اتارا ہے یا بھٹو نے اتارا ہے؟

یہ بھی پڑھیے

’چپڑاسی نہ رکھوں‘ سے وزارت عظمیٰ کے لیے حمایت تک

ریل حادثے: بلاول، شیخ رشید کے دعووں میں کتنی سچائی؟

شیخ رشید کو جینے دو

’کہا تھا نا پاناما کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹے گی‘

’کان کھول کر سن لو ایوب خان کو گوہر ایوب اور اختر ایوب (صدر ایوب خان کے فرزند) نے اتارا ہے، ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ تم نے بی اے کر لیا میں نے کہا کہ ابھی نہیں انھوں نے اپنے ملٹری سیکٹری کو کہا کہ ’قومی بدمعاش‘ کو گورڈن کالج سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔‘

شیخ رشید

Getty Images

لیاقت باغ میں جب بھٹو کے جلسے میں گولی چلی

شیخ رشید احمد لکھتے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بطور چیف مارش لا ایڈمنسٹریٹر چارج سنبھال لیا تھا۔ انھوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس میں بنگلادیش کو منظور کروانے کے لیے اپنی پارٹی کا کنوینشن لیاقت باغ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا اور کانفرنس سے دو روز قبل شہید چوک میں جلسے کے دوران بھٹو کو چیلنج کیا کہ اس میں ہمت ہے تو لیاقت باغ میں جلسہ کرکے دکھائے۔

انھوں نے اخبارات میں بھی بیانات دیے کہ بھٹو ان کی لاش پر سے گزر کر ہی لیاقت باغ میں جلسہ کرے گا۔

بقول شیخ رشید اس اعلان کے بعد پورے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا پولیس نے والد اور بھائیوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا لیکن انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا آخری رات، جس کے بع صبح جلسہ ہونا تھا تو انھوں نے لیاقت باغ کے سامنے واقع دوگیز کیفے کے سامنے اپنے دوست بٹ کے گھر گزاری۔

’ساری رات ایک بٹن والا چاقو لے کر چھت پر سویا رہا اگر کوئی بلی بھی پاس سے گزرتی تو میں گھبرا جاتا تھا۔‘

شیخ رشید بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے چند جانثاروں کی ایک ٹولی کو اسلامیہ سکول کے سامنے اکٹھا ہونے کا وقت دے چکے تھے، صبح ہی سے کنوینشن میں جوق در جوق بسیں آ رہی تھیں اور ہزاروں کی تعداد میں پیپلز پارٹی کے جیالے داخل ہو رہے تھے تھوڑی دیر میں پولیس کی ایک پلاٹون دوگیز کیفے کی طرف بڑھی تو وہ گھبرا گئے لیکن پتا چلا کہ اس نے صرف اپنی حفاظتی پوزیشن سنبھالی ہے۔

شیخ رشید مزید لکھتے ہیں کہ جب بھٹو تقریر شروع کر چکے تو وہ پولیس سے بچ کر اپنے دوستوں میں پہنچ گئے اور نعرے لگاتے ہوئے مین گیٹ سے اندر داخل ہو گئے۔ جلسہ گاہ میں کھلبلی مچ گئی اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا جس کا انھوں نے پورا فائدہ اٹھایا اور جب وہ سٹیج کے قریب پہنچے تو اسیٹج سے کسی بے وقوف نے گولیوں کی بوچھاڑ شروع کردی اور جلسہ درہم برہم ہو گیا۔

’منصوبے کے عین مطابق لیاقت باغ کے باہر کھڑی گاڑیوں کو میرے دوستوں نے دو تین جگہوں پر آگ لگا دی۔ نوجوانوں نے مجھے کندھوں پر اٹھا لیا اور میں بھٹو کے سامنے بنگلادیش نامنظور، نامنظور کے نعرے لگا رہا تھا جبکہ میرے اردگرد 20، 25 نوجوانوں کا حصار تھا جب زیادہ گولیاں چلیں تو میں نے کوٹ، قمیض اور بنیان سب اتار دیے اور ننگی چھاتی دکھاتے ہوئے بھٹو کو للکارا کہ ’یہاں گولی مار‘، جلسہ درہم برہم ہو گیا۔

’لوگوں نے باہر نکل کر تین چار گاڑیوں کو مزید آگ لگا دی بھٹو پر اتنا خوف طاری ہوا کہ سکیورٹی نے گھیرے میں لے لیا اور وہ ایک گھنٹے میں گوالمنڈی سے نکل گئے۔‘

شیخ رشید

Getty Images

وہ شیخ رشید جو بھٹو کا شیدائی تھا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ذوالفقار علی بھٹو اعلان تاشقند کے بعد وزرات خارجہ سے مستعفی ہو چکے تھے اور اپنی علیحدہ جماعت پاکستان پیپلزپارٹی بنا چکے تھے اس دوران شیخ رشید ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں زیر تعلیم تھے۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ بھٹو ایوب کے خلاف مہم شروع کیے ہوئے تھے اور سات نومبر 1967 کو معلوم ہوا کہ وہ پشاور سے راولپنڈی آ رہے ہیں، انھوں نے ان کے استقبال کا فیصلہ کیا لیکن ان کی طلبہ یونین نے ساتھ چھوڑ دیا۔

اسی روز انسٹیٹوٹ اور جھنگی سیداں میں تقریر کی لیکن بھٹو دیر سے پہنچے، انھوں نے مختصر خطاب کیا اور روالپنڈی چلے گئے جہاں پہلے ہی ہنگامے ہو رہے تھے۔ وہ واپس جلوس لے کر انسٹیٹیوٹ کے گیٹ پر پہنچے تو پولیس سے مڈ بھیڑ ہو گئی اس وقت بھٹو جا چکے تھے اور پولیس نے مظاہرین پر بلاوجہ فائر کھول دیا اور ان کے ایک ساتھی ہلاک اور ایک زخمی ہو گئے۔

’لڑکے جمع ہو گئے اور انھوں نے مجھے پرل کانٹینٹل بھجوایا تاکہ میں ذوالفقار علی بھٹو کو لے کر واپس آؤں اور وہ یہ ظلم دیکھیں۔جب میں وہاں پہنچا تو پہلے ہی گورڈن کالج کے طلبہ آئے ہوئے تھے اور انھوں نے بھٹو سے ملاقات کی تھی۔ ایسے میں وہاں پولیس پہنچ چکی گئی اور طلبہ ک منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جا رہا تھا اور بعد میں آنسو گیس بھی چھوڑی گئی۔

’میں جب بھٹو کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ نیا سوٹ پہن کر کنگھی کر رہے تھے میں جذبات میں روتے ہوئے انھیں روداد سنا رہا تھا تو انھوں نے مجھے گلے سے لگایا اور کہا ضرور چلوں گا مگر وہ وقت نہ آیا۔‘

میڈیا ہاؤسز سے قربت

شیخ رشید احمد اپنے سیاسی سفر میں وزرات اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر بھی رہے چکے ہیں انھوں نے زمانہ طالب علمی سے بڑے میڈیا ہاؤسز اور نامور صحافیوں سے تعلقات استوار رکھے ہیں۔

اپنی یادداشتوں میں وہ لکھتے ہیں کہ بھٹو کا جلسہ پلٹنے کے بعد سارے پاکستان میں سیاسی شخصیات سے ان کا تعارف ہو چکا تھا انھوں نے اخراجات پورے کرنے کے لیے شہر کے مل مالکان سے چندہ لینا بھی شروع کردیا اکثر مالکان کے بیٹے گورڈن کالج میں پڑھتے تھے۔ یوں پہلی تبدیلی یہ آئی کہ وہ سائیکل سے 93 ویسپا سکوٹر پر شفٹ ہو گئے۔

’شاید ہی کوئی رات ایسی گزرتی ہو جب میں جنگ کے گوالمنڈی کے دفتر میں شورش ملک سے ملنے نہ جاتا۔ جب اخبار کی کاپی جاتی تو رات ڈیڑھ بجے ان کے ساتھ واپس آ جاتا اس طرح ایک دو دن چھوڑ کر نوائے وقت میں بھی شیخ اکرام کے پاس گپ شپ لگانے جاتا۔‘

’اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اخبار میں خبر لگ جاتی تھی اور دوسرا خبروں کا سب سے پہلے پتا چل جاتا تھا۔ شورش کشمیری مرحوم نے مجھے مجید نظامی، زیڈ اے سلہری اور عبداللہ ملک سے متعارف کروایا۔ اس طرح میں مجیب الرحمان، الطاف قریشی اور صلاح الدین تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔‘

شیخ رشید کے سیاسی فیصلوں میں صحافی اثر رسوخ بھی نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ کالج کے دوران مجیب الرحمان شامی کے توسط سے وہ جاوید ہاشمی اور حفیظ خان کے ساتھ ایک ہی دن تحریک استقلال میں شامل ہوئے اور طے یہ پایا کہ تینوں اشخاص کو تحریک استقلال کی طرف سے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا جائے گا۔ تاہم جب خاکسار تحریک قومی اتحاد میں شامل ہوئی اور ٹکٹ تقسیم ہوئے تو انھیں پنڈی سے ٹکٹ نہیں مل سکا۔

شیخ

Getty Images

گجرات کے چوہدری خاندان سے تعلق

شیخ رشید اپنے سیاسی سفر میں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کے قریب رہے ہیں اور جس حکومت میں یہ دونوں شامل رہے شیخ رشید بھی اس کا حصہ بنے۔

اپنی یادداشتوں میں اس تعلق کی بنیاد بتاتے ہوئے شیخ رشید لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کو منظم کیا تو گجرات میں ان کی چوہدری ظہور الٰہی سے شناسائی ہوئی اور وہ ان کے سیاسی مددگار ثابت ہوئے۔

’چوہدری ظہور نے 32 بور کا پستول کا لائسنس بنوا دیا اور گھر فون لگوایا جس کے اخراجات وہ برداشت کرتے تھے، یوں ساری سیاست ان سے وابستہ کرلی۔‘

شیخ رشید لکھتے ہیں کہ سنہ 1977 کے انتخابات میں ظہور الٰہی کے کڑیاں والا جلسے میں تصادم ہو گیا اور انھوں نے اسی پستول سے مقابلہ کیا اور اسی دوران ایک شخص ہلاک ہو گیا جس کے بعد انھیں اس کیس میں گرفتار بھی کر لیا گیا اور پھر ان کی رہائی اس وقت عمل میں آئی جب مارشل لا لاگو ہوا اور انھیں ضمات پر رہائی ملی۔

شیخ رشید اور پرویز مشرف

Getty Images

جب ڈی جی آئی ایس آئی کی مداخلت پر کونسلر بنے

شیخ رشید اسمبلی میں پہنچنے کے لیے کئی سال تگ و دو میں رہے لیکن انھیں ایوان میں داخل ہونے کا موقع مارشل لا میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ملا۔

وہ لکھتے ہیں کہ وہ کسی جماعت کے عہدیدار نہ تھے لیکن ان کے کاغذات مسترد کر دیے گئے اور جب انھوں نے پریزائیڈنگ افسر سے شکوہ کیا تو انھوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ سمجھدار ہیں اوپر رابطہ کریں۔

’پروفیسر واثق سے کہا کہ کسی ذمہ دار آدمی سے رابطہ کرائیں تو انھوں نے اپنے شاگرد کرنل ترمذی سے رابطہ کیا۔ کرنل ترمذی نے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان سے ملاقات کا بندوبست کر دیا۔

’پہلی ہی ملاقات میں ایسا لگا کہ میری گفتگو عبدالرحمان کو متاثر کر گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ جنرل ضیاالحق سے بات کریں گے، جنرل اختر عبدالرحمان نے ضیاالحق سے میرے کونسلر کا انتخاب لڑنے کی اجازت لی۔‘

شیخ رشید اپنے تعلقات کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ الیکشن میں شرکت دلانے کی وجہ سے اب ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان سے ان کا رابطہ ہو گیا تھا وہ ان کی رائے کو اہمیت دیتے اور اکثر انھیں ’رومیل آف پالیٹکس‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔

’جنرل عبدالرحمان کی کوشش تھی کہ میں جنرل ضیاالحق سے ملاقات کروں ایک بار ملاقات طے ہو گئی ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا تو انھوں نے ایک ہی جملہ کہا کہ تعارف کی ضرورت نہیں۔‘

’دوسری بار ملاقات ان کی وفات سے تین روز قبل ہوئی جس سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔‘

شیخ رشید اور نواز شریف

Getty Images

مشرف صدر اور بینظیر وزیراعظم کا فارمولا

شیخ رشید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بینظیر بھٹو کے بھی مخالف رہے اس مخالفت میں وہ ان پر سیاسی تنقید کے ساتھ ذاتی تنقید بھی کرتے رہے جس کا ذکر خود ان کی یادداشتوں کی کتاب میں سے ملتا ہے۔ پرویز مشرف حکومت میں وہ وفاقی وزیر تھے جب بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر مذاکرات جاری تھے۔

شیخ رشید لکھتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے محل میں بینظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات میں طارق عزیز اور لیفٹیننٹ جنرل حامد شریک تھے جنرل کیانی کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ شامل ہوں۔

’طارق عزیز ایک ایسی حکومت بنانا چاہتے تھے جس کا صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم بینظیر بھٹو ہوں اس اثنا میں طارق عزیز نے ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے بھی ملاقات کی تھی۔ ساری صدارت طارق عزیز چلا رہے تھے اور انھیں جنرل پرویز مشرف کا اعتماد حاصل تھا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بینظیر بھٹو کی واپسی میں طارق عزیز نے کلیدی کردار ادا کیا این آر او طے ہو چکا تھا بینظیر بھٹو سے تمام مقدمات واپس لے لیے گئے۔

شیخ رشید کے مطابق چوہدری (شجاعت اور پرویز الٰہی) این آر او کے حامی نہیں تھے لیکن وہ صدر مشرف اور طارق عزیز کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ چوہدری شجاعت درست کہتے تھے طارق عزیز کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ اسی دوران نواز شریف نے پاکستان آنے کی کوشش کی لیکن ان کو واپس بھیج دیا گیا۔

’سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقاتوں میں، میں صدر مشرف کے ساتھ ہوتا تھا بادشاہ عبداللہ نے ایک بات بڑی واضح کی تھی کہ اگر بینظیر بھٹو آئیں تو پھر میں نواز شریف کو یہاں روک نہیں سکوں گا۔ جنرل مشرف نے پوری کوشش کی کہ بینظیر کے ملک میں آ جانے کے بعد ایسے حالات پیدا ہوں کہ نواز شریف کو نہ آنے دیا جائے۔‘

شیخ رشید اور عمران خان

Getty Images

مشرف کی وردی اور بینظیر بھٹو کی ضد

شیخ رشید احمد لکھتے ہیں کہ صدر مشرف کا خیال تھا کہ اگلی حکومت وہ بینظیر بھٹو کے ساتھ کر سکتے ہیں یہی غلط فہمی ان کے زوال کا باعث بنی۔

’جب مشرف نے الیکشن کی بات کی تو وجیہ الدین اور امین فہیم ان کے مقابل آ گئے۔ مشرف نے کہا کہ جس دن وہ حلف اٹھائیں گے وہ وردی اتار دیں گے لیکن بینظیر بھٹو ضد پر اڑی رہیں۔‘

یاد رہے کہ پرویز مشرف نے 27 نومبر 2007 کو فوجی منصب چھوڑ دیا تھا اور اگلے ہی مہینے بینظیر بھٹو ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کا واقعہ شیخ رشید کے شہر راولپنڈی میں پیش آیا، وہ لکھتے ہیں کہ بینظیر کا خیال تھا کہ وہ 27 دسمبر کا جلسہ ہر صورت میں کریں گی چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر بھٹو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آصف زرداری کے کہنے کی وجہ سے ملتوی کی گئی اور یہ بات ان کی موجودگی میں ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16014 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp