جیسندا آرڈن: جس سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر زندہ وہی رہتے ہیں جو دنیا میں نام کمانا جانتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے کام کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں اور لوگوں کی دلوں میں اعلیٰ مقام پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو اس وقت لیڈی ڈیانا انگلینڈ کی شہزادی تھیں، وہ خوب صورتی کی مالک تھیں۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں، تو ہمارے یہاں بھی ایسی عورتیں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنے کام اور کردار کی وجہ سے دنیا میں نام کمایا ہے۔ رعنا لیاقت علی، محترمہ فاطمہ جناح جنہیں ہم مادر ملت کہتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ وہ مرد کے گلے کا ہار نہیں بننا چاہتی، مگر اسے پاؤں کی جوتی بنانے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل لڑکیوں کو پڑھانے میں کافی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ لیکن اب تمام تر مسائل کے با وجود لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھا لکھا معاشرہ پیدا کر سکتی ہے۔

جب میں نے سیاست کے موضوع میں دل چسپی لینا شروع کی تو میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو دیکھا۔ وہ واقعی بے نظیر تھیں۔ ایک با ہمت اور پر اعتماد خاتون۔ جس نے اپنے وطن اور لوگوں کی خاطر جان قربان کر دی۔ انہوں نے اپنی پارٹی پیپلز پارٹی کو بہت ہی اچھے طریقے سے سنبھالا۔ وہ عوام کے حقوق کی خاطر لڑتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

بالکل اسی طرح ڈاکٹر رتھ فاؤ بھی تھیں، جو کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے اسی مرض میں مبتلا لوگوں کا علاج کر کے انسانیت کی خدمت کی۔ ہمارے معاشرے میں شروع سے لے کر ایسی عورتیں پائی گئی ہیں، جو مردوں سے دو قدم آگے ہیں اور انہوں نے مختلف شعبۂ حیات میں مردوں کو پیچھے چھوڑا، لیکن بد قسمتی سے ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں، جہاں عورت کی آزادی بالکل بھی برداشت نہیں ہوتی۔ ہم اسے نیچا دکھانے کے لیے کوئی نا کوئی حربہ ضرور استعمال ضرور کرتے ہیں۔ کبھی راہ چلتے اسے رنڈی بلاتے ہیں، تو کبھی اسے بد کردار کہہ کر معاشرے میں، اسے متعارف کراتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہمارا معاشرہ کب عورت کو انسان سمجھ کر وہ مقام دے کا جس کی وہ مستحق ہے۔

مجھے اپنے بچپن کے وہ دن بھی یاد ہیں، ہم جب محلے میں کھیلا کرتے تھے اور پڑوس والی آنٹی اپنے بیٹوں کو اچھے کپڑے اور جوتے دلاتی تھیں مگر بیٹیوں کے لیے ہمیشہ ان کے پاس ایک ہی ڈائلاگ ہوتا تھا، کہ بیٹا ان کے ابا تو کماتے ہی نہیں ہیں۔ مطلب بچپن سے ہی لڑکیوں کو اہم نہیں سمجھا جاتا ہے۔ سعادت حسن منٹو نے کہا ہے، ہم عورت اسی کی سمجھتے ہیں، جو ہمارے گھر کی ہو۔ باقی ہمارے لیے تو کوئی عورت نہیں ہوتی۔ بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں، جس کی ہوس زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ٹکی رہتی ہے۔

سعادت حسن منٹو ایک سچے اور حقیقت پسند افسانہ نویس تھے۔ انہوں نے جس طرح اپنی کہانیوں میں ہمارے معاشرے کو پیش کیا، اسی طرح کسی نے تصویر کشی نہیں کی۔ عورت کو ہر دور میں پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے با وجود، عورتوں نے اپنا نام روشن کیا ہے۔ اس کی زندہ مثال نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن ہیں، وہ نا صرف ایک لیڈر ہیں بلکہ اچھی دل کی مالک بھی ہیں، اور انسان دوست کردار ہیں۔ ان کی مقبولیت میں تب اضافہ ہوا جب انہوں نے سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد، وہاں آباد مسلمان کمیونٹی کو گلے لگایا اور انہیں اس بات کا یقین دلایا کہ قاتل کو سزا ضرور ملے گی۔ انہوں نے مقتولوں کے وارثوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سر پر دوپٹہ اوڑھ کر انہیں گلے لگایا۔ انہوں نے اس دوران میں دیگر ممالک کے وزرائے اعظم اور عہدیداران سے بات کی اور دہشت گردوں کو سزا دلانے کے تمام تر کوششیں شروع کر دیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے فوراً اسلحہ رکھنے کے قاعدے قوانین تبدیل کر دیے۔ سیاہ لباس پہن کر انہوں نے تمام تر متاثرین سے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ جمعے کی نماز کے خطبے کے دوران میں انہوں نے بھی وہاں شرکت کی اور مسجد میں آتے وقت انہوں نے سلام بھی کیا۔ قرآن اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے وہاں پر مختصر تقریر بھی کی۔ گو کہ مسلمان نہیں ہیں مگر جس طرح انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ وہ مذہب سے زیادہ انسانیت کی قائل ہیں۔

سانحہ نیوزی لینڈ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جیسنڈا آرڈن کا کال کی اور پوچھا تھا کہ امریکا کیا مدد کر سکتا ہے، جس کے جواب میں جیسنڈا نے کہا تھا کہ مسلمان کمیونٹی سے محبت اور ہمدردی کا اظہار ہی بہت بڑی مدد ہو گی۔ جب کہ جیسنڈا سے بات کرنے سے قبل ٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا، جس میں مسلمان کمیونٹی کے جذبات کو بھڑکایا گیا تھا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے دوسرا ٹویٹ کیا، جس میں انہوں نے مسلمان کمیونٹی سے ہمدردی اور اظہار یکجہتی کیا۔ اس سانحے کے بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا، میں نے جو کچھ بھی کیا وہ ایک لیڈر کے ناتے سے نہیں بلکہ لوگوں کو انسانیت کا پیغام دیا ہے۔ جیسنڈا کیٹنی لورل آرڈن 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ میں پیدا ہوئیں اور وہ اس وقت نیوزی لینڈ کی 40 سالہ صدر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لیبر پارٹی کی بھی لیڈر رہی ہیں۔ انہوں نے بخوبی اپنے تمام تر فرائض پورے کیے ہیں، جیسا کہ کووڈ۔ 19 نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی، ہر ملک اپنے ملک سے وائرس کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے بھی اپنے ملک کے صحت کے وزیر اور سائنسدانوں کو اعتماد میں لیا اور اس وائرس نے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کیے ان میں کامیابی ملی۔ آج پوری دنیا میں نیوزی لینڈ وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا نہیں ہے۔

8 جون کو انہوں نے سب کے ٹیسٹ کروائے جس میں کوئی بھی کورونا کا کیس ان کے سامنے نہیں آیا۔ اس کے علاوہ چار ہزار لوگوں کے سترہ روز قبل ٹیسٹ ہوئے اس کے علاوہ 1504 کورونا کیس اس کے قبل وہاں موجود تھے۔ اور 22 لوگ موت کی آغوش میں چلے گئے۔ یہ ملک پانچ ملین لوگوں کا ملک ہے اور جہاں مکمل لاک ڈاؤن ہو رہا ہے۔ اور اس میں دوبارہ چہل پہل شروع ہو گئی ہے۔ لوگ اپنی روٹین میں آ رہے ہیں۔ مگر دیگر ممالک جو خود کو اس کی نسبت بہتر سمجھتے تھے یا ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے سپر پاور سمجھتے ہیں۔ آج وہ بھی نا کام ہو گئے ہیں۔ آج کل کی عورت مردوں سے کندھا نہیں بلکہ مردوں سے آگے جا رہی ہیں۔ اور اپنا ٹیلنٹ سے یہ ثابت کر چکی ہے کہ وہ کوئی مظلوم وجود یا گوشت کی دکان نہیں ہے۔

آج کی عورت عالمی دنیا کی عظیم ترین عورتوں میں گنی جاتی ہے اور اس طرح تمام عورتیں آگے بڑھتی رہیں تو یہ ان لوگوں کے لیے ایک کھلا جواب ہو گا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ عورت محض گھر اور گھر کی چار دیواری کے لیے بنی ہے۔

حالیہ دنوں میں وہ نا صرف اپنے ملک کی بلکہ دنیا کی ایک بہترین لیڈر ثابت ہوئی ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو عورت کو صرف بچہ پیدا کرنے والی مشین سمجھتے ہیں، مگر یہ ایک عورت ہی ہے جو نا صرف گھر کے معاملات بلکہ ریاستی معاملات بھی اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدف شیخ

صدف شیخ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہیں سندھی اور اردو رسائل و اخبارات میں کالمز لکھنا پسند ہے۔

sadaf-shaikh has 9 posts and counting.See all posts by sadaf-shaikh