مجھے کیوں نکالا؟ کیوں نکالا مجھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میاں محمد نواز شریف صاحب میرے بچپن میں میرے ہیرو تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے والد صاحب مرحوم نے 90ء کی دہائی کے اوائل میں جب شریف صاحب پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، تو ایک طویل خط لکھا تھا جس میں ان کا انٹرویو کرنے کی بھی اجازت چاہی تھی۔ میرے والد صاحب پی ٹی وی میں نیوز ایڈیٹر تھے اور اس نوکری سے قبل 1970ء میں بھٹو، خان عبد القیوم خان، کوثر نیازی، مولانا بھاشانی، اصغر خان، شیخ مجیب الرحمن اور دیگر اہم سیاست دانوں کے انٹرویو کر چکے تھے۔

بعد ازاں وہ جنرل ضیا اور جونیجو کے بھی قریب رہے اور اب وہ اپنی تحقیق میں جواں سال وزیر اعظم نواز شریف کا انٹرویو بھی شامل کرنا چاہتے تھے، جو ان کی تصنیف ”پاکستان انقلاب کے دو راہے پر“ کا حصہ ہوتا۔ نواز شریف صاحب نے نا صرف والد صاحب کے خط کا جواب وزیر اعظم ہاؤس کے لیٹر پیڈ پر تحریر کر کے بھیجا بلکہ اس کے آخر میں ”آپ کا بھائی نواز شریف“ بھی تحریر کیا۔ یہ خط آج کے دن تک میرے پاس محفوظ ہے۔ میرے والد کے انتقال کو اکیس سال بیت گئے۔

ان کے انتقال کے وقت میں نویں جماعت کا طالب علم تھا مگر سیاست میں بڑی دل چسپی لینے لگا، اور والد صاحب سے اکثر میاں صاحب کے حوالے سے بحث کرتا تھا، جس پر وہ بہت غصہ ہوتے اور مجھے روایتی باپوں کی طرح ’شٹ اپ کال‘ دے دیا کرتے۔ وہ پاکستان کے قیام کے وقت 7 سال کے تھے اور ہجرت ان کو اچھی طرح یاد تھی۔ ان کو پاکستان کے ابتدائی ایام یاد تھے اور جب وہ ایک صحافی بن کر مشرقی پاکستان میں کامیابی کے سفر پر روانہ ہوئے تو سانحہ سقوط مشرقی پاکستان نے ان کو اور لاکھوں دیگر پاکستانیوں کی حیات کو تہ و بالا کر دیا۔

پھر مارشل لا اور ہنگاموں سے بالآخر جمہوری پاکستان بر آمد ہوا اور اس نئے پاکستان کے جواں سال لیڈر محترم نواز شریف صاحب تھے۔ بھٹو کے خوفناک دور کے بعد تو واقعی پاکستانیوں کی اکثریت کو ہر شے ہی بابرکت لگتی تھی اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ہر حساس پاکستانی کے لئے ہر ایسی شخصیت امید کی کرن بن جاتی جو وحدت اور وفاق کی بات کرتی ہو۔ اس تناظر میں میں با آسانی سمجھ سکتا ہوں کہ میاں صاحب کیوں میرے والد کے لئے ’سپرمین‘ بن گئے تھے۔

مگر 90ء کی دہائی کے اوائل میں، میاں صاحب کو غلام اسحق خان سے تنازع بھاری پڑا۔ 1997ء میں میاں صاحب بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہوئے۔ اب میاں صاحب نے ہر دیگر طاقت کے مرکز پر لگام ڈالنے کی سعی شروع کی اور بڑی شدت سے امریکا بہادر سے ڈکٹیشن لینے لگے۔ مقامی اسٹیبلشمنٹ کو کبھی یہ بات پسند نہیں آتی کہ کوئی سیاسی جماعت عالمی اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ پینگیں بڑھائے۔ پھر سپریم کورٹ کو لگام ڈال کر جب شریف صاحب نے فوج کا رخ کیا تو ملک دوبارہ (بالکل کھل کر) بڑے جوتے والوں کے پاس چلا گیا۔

اب کی بار شریف صاحب نے جیل کی سیر کی اور ڈیل کر کے ملک سے چلے گئے۔ مگر وقت ہر زخم کا مرہم ہے اور سعودی عرب کی مقدس فضا میں زخم بھرتے بھی جلد ہیں۔ ویسے اقتدار ہے بھی بڑی نشیلی شراب کا نام۔ جس کو اس کا چسکا ایک بار لگ جائے، وہ کبھی اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ ویسے شہنشاہ ہند شاہ عالم ثانی بھی بس دلی سے پالم تک کا ہی حقیقی حکمران تھا اور اس پر بھی یہ سانحہ گزرا کہ روہیلہ اس کو نابینا کر کے چلا گیا مگر وہ بھی ”عجائب القصص“ کے شروع میں ایک حمد تحریر کرتے ہوئے، اس میں خدا سے التجا کرتا ہے کہ ”درست کیجیے یارب میرے امور شاہی“۔

کیسی شاہی اور کون سے امور؟ مگر صرف نام کا اقتدار بھی کس قدر نشیلی شے ہے۔ ویسے شریف صاحب کو اپنا بھاری مینڈیٹ یاد تھا۔ اس لیے شریف صاحب واپس آئے اور اب کی بار دوبارہ بھاری مینڈیٹ کا انتظار کرنے لگے۔ وقت نے اور سعودی عرب میں کی گئی دعاؤں نے اب کی بار پھر محترم کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔ اب روہیلہ بیک فٹ پر کھیل رہا تھا۔ یہاں سے میرے بچپن کے ہیرو، محترم میاں محمد نواز شریف کو یہ لگا کہ اب روہیلے کی ہمت وہ نہ ہو گی، جو 1999ء میں تھی۔ پھر شریف صاحب نے اپنے ”سیریمونیل“ تاج کو ملک کا سب سے بالادست تاج بنانے کی کوشش کی۔ شاہ عالم ثانی کے پوتے، بہادر شاہ ظفر نے خدا سے شکوہ کیا تھا۔
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا میرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

اف کمزور بادشاہوں کے آنسو کتنے خوفناک ہوتے ہیں! جب غرناطہ کے کمزور حاکم عبد اللہ محمد آل نصر کو فرنیڈنڈ اور ازابیلا نے ہسپانیہ سے نکل جانے کا حکم دیا تو وہ ایک مقام پر کھڑا ہو کر بہت دیر رویا۔ مڑ کر اپنے شہر کو رنج سے دیکھا اور مراکش کی طرف گامزن ہو گیا۔ یہ مقام آج تک The Moor ’s Sigh یعنی مسلم کی آہ کہلاتا ہے۔ مگر یہ تو دراصل ایک بے ہمت اور کمزور شاہ کے آنسو ہیں۔ جب واجد علی شاہ نواب اودھ سے اودھ چھین لیا گیا اور ان کو کلکتہ میں مٹیا برج جانا پڑا تو بڑے دکھ سے یہ غزل سنایا کرتے۔
’جب چھوڑ چلے لکھنو نگری مت

پوچھو ہم پر کیا گزری!‘

اف کمزور حاکموں کے آنسو! خیر! میرے بچپن کے ہیرو، وہ ہیرو کہ جس نے ”افسر شاہا“ ہوتے ہوئے میرے غریب باپ کو نہ صرف خط کا جواب بھیجا تھا بلکہ خود کو ان کا بھائی بھی کہا تھا، وہی نواز شریف جس کا میرے بیمار والد صاحب بڑے جذباتی طور سے دفاع کرتے اور جسے وہ پاکستان کی آخری امید سمجھتے ہوئے ہی دار فانی سے رخصت ہوئے، وہی نواز شریف کہ جن کو تین مرتبہ ایوان اقتدار ملا، وہ اب روہیلے کے پنجے میں ہیں۔

اب کی بار اس ”بہادر“ شاہ کو طشت میں بیٹوں کے سر نہیں پیش ہو سکیں گے، اس لئے کہ دونوں نے فرنگ کی پناہ لے لی ہے۔ شاہ جہاں نے اورنگ زیب سے ایسے قید خانے کی فرمائش کی تھی کہ جس سے تاج محل نظر آتا ہو۔ قید میں شاہجہاں کی بیٹی اپنے والد کی سوانح لکھا کرتی تھی۔ ایک ایسے شاہ کی سوانح جو اپنے لئے ایک سیاہ تاج محل بنوانا چاہتا تھا اور اپنے پیر و مرشد حضرت میاں میر ؒ کے لئے ایک سرخ پتھروں کا وسیع مزار۔ مگر یہ دونوں ہی خواب پورے نہ ہو سکے۔

معلوم نہیں اڈیالہ جیل کے کسی روزن سے موٹر وے یا میٹرو بس کا Elevated Platfarm نظر آتا تھا، یا نہیں؟ معلوم نہیں رنگون میں بہادر شاہ کو ہند کا کوئی درباری کبھی ملنے آیا تھا یا نہیں۔ معلوم نہیں کہ کبھی بہادر شاہ کو رنگون میں یہ امید ہوتی تھی کہ ہند کا اقتدار کبھی دوبارہ اسے ملے گا؟ معلوم نہیں جان عالم نے یہ شعر مٹیا برج میں کیوں کہا؟
وہاں جنگل ہے اب، پر اس سے آگے
چمن تھا، گل تھے، ہم تھے، باغباں تھے

اف بے قوت شاہوں کے آنسو! جب شاہ بے بس ہو جاتے ہیں اور کبھی آسمان کی طرف منہ کر کے کبھی ارد گرد دیکھ کر چلاتے ہیں۔ ”مجھے کیوں نکالا؟ کیوں نکالا مجھے؟“ اور آسمان خاموش رہتا ہے، اور زمین بھی نہیں کانپتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •