معنی کی تلاش میں بھٹکتے افسانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افسانہ کسی ایک جملے، واقعے یا کردار پر لکھا جا سکتا ہے، یعنی آپ محض ایک جملے کو حیات بخشنے کی خاطر ایک کہانی ترتیب دیتے ہیں اور اس کہانی میں کہیں وہ جملہ ایسے پرو دیتے ہیں کہ وہ پورے متن سے رشتہ جوڑ لے۔ وہ جملہ کہلوانے کی چاہ میں ایک کردار پکڑا جاتا ہے اور اس کردار کی شخصیت، سماجی زندگی اور نفسیاتی صورت حال کو ایسے نکھارا جاتا ہے کہ وہ ایک جملہ اس کے منہ سے اجنبی نہ لگے۔ کبھی افسانہ نگار کے پاس صرف ایک کردار ہوتا ہے، ایک تنہا اور اکیلا کردار۔

پھر اس کے ساتھ کئی اور کردار تراشے جاتے ہیں اور اس کردار کی کہانی کھینچنی ہوتی ہے اور یہی کہانی درحقیقت اس کردار میں زندگی ڈالتی ہے۔ ایسا ہی کسی ایک واقعے کے افسانوی بیان کے ساتھ ہوتا ہے۔ واقعہ تو کسی خبر، رپورٹ یا مضمون کی صورت بھی تحریر ہو سکتا ہے، مگر یہ افسانوی بیان ہے جو اس کے بین السطور میں ایک ہیومن عنصر شامل کر دیتا ہے جس سے بہ ظاہر ایک معمولی سا واقعہ، ایک دھڑکتی ہوئی تحریر میں ڈھل جاتا ہے۔ شاید اسی لئے افسانے کی سب سے آسان تشریح یہی ہو سکتی ہے کہ یہ کسی سچائی کا جھوٹا بیان ہے۔

جیسا کہ میں نے پہلے کہا، افسانہ کسی ایک جملے، واقعے یا کردار پر لکھا جا سکتا ہے۔ کبھی کردار کہانی سے آگے نکل جاتا ہے، کہیں بیان تو کبھی اسلوب بازی مار جاتا ہے لیکن جہاں یہ تینوں مل کر ایک بیلنس بنا لیں تو وہ افسانہ کاغذوں اور کتاب کی حدوں کو پھلانگ کر آپ کی اور میری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

”معنی کی تلاش“ کے افسانوں میں یہ بیلنس موجود ہے۔ یہاں کہانی، کردار اور زبان مل کر ایک مثلث بناتے ہیں، اور اس مثلث میں نیر مصطفی کا افسانہ سانس لیتا ہے۔ یہ افسانے زندگی کے قریب ہیں مگر اس کے کردار کوئی معمولی یا عامیانہ زندگی گزارنے والے لوگ نہیں بلکہ سماج کے اس طبقے کے نمائندہ ہیں جن کو ہم شام و سحر کی گردش میں کسی شمار میں نہیں لاتے لیکن درحقیقت زندگی اپنی تلخیوں اور تجربات کے ساتھ انہی لوگوں پر آشکار ہوتی ہے۔

ان افسانوں کی زبان ادب میں رائج زبان سے یکسر مختلف تو نہیں مگر اس کا برتاؤ اسے مختلف اور انوکھا بنا دیتا ہے۔ یہ شاعرانہ، رواں اور بہتا ہوا اسلوب کسی سطح پر ان زندگی سے قریب تر کرداروں کی پیش کش کا موزوں ترین پیرایہ بن جاتا ہے۔ اگر کچھ لمحوں کے لئے آپ ان افسانوں کی پڑھت کے دوران ان کی زبان بدل کر ایک خاص ادبی زبان سے ری پلیس کر دیں تو یہ افسانے ایک لحظے میں دھڑام سے نیچے آ گریں گے۔

اگرچہ ہر افسانے کی ایک خاص پیس (Pace) ہے مگر مجموعی طور پر نیر کا افسانہ اپنے انجام کا سفر آہستہ آہستہ طے کرتا ہے اور اختتام سے پہلے وہ اپنے قاری کے نازک دل کا خیال رکھتے ہوئے کچھ اشارے ایسے دینے لگتا ہے کہ کہانی کے ساتھ بھی جڑت قائم رہے اور بالکل اختتام پر قاری یہ نہ سوچے، یہ کیا ہو گیا؟ کیسے ہو گیا؟ کیوں ہو گیا؟ ہر افسانے کا ایک جداگانہ مزاج ہے اور اپنے کردار، اسلوب، مکالموں اور کہانی کے ساتھ اس کا تاثر ایک بھرپور اور خوش گوار احساس کے ساتھ سامنے آتا ہے، جو کسی بھی اچھی فکشن کا خاصہ ہے۔

یہ ان افسانوں کا دوسرا جنم ہے۔ اس سے قبل یہ افسانے نیر کی پہلی کتاب ”نرکھ میں نرتکی“ کا حصہ تھے۔ جو 2006 ء میں شائع ہوئی تھی۔ ”نرکھ میں نرتکی“ افسانوں، خاکوں، خطوط اور نیر کے سماجی تبصروں پر مشتمل تھی، جو اس وقت سامنے آئی جب اسے نشتر میڈیکل کالج ملتان سے نکالا گیا۔ اسے نیر کی بد قسمتی کہیے یا اس وقت کی خوش قسمتی کہ اس کتاب پر ”غصے کی پیداوار“ کا ٹیگ لگا دیا گیا۔ یوں یہ افسانے اپنی حقیقی پڑھت اور قاری کے ملنے سے پہلے ہی دفنا دیے گئے، اور ان کا ماتم بھی نہ ہوا۔ مگر انہی افسانوں کی بدولت نیر مصطفی کے لئے افسانے کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اسے ملتان آرٹس فورم، خالد سعید، احمد ندیم تونسوی، مدھر ملک اور ساحر شفیق نصیب ہوئے، اور یہ نیا دور اس کی دوسری کتاب ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کی صورت ظہور پذیر ہوا۔

”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کے بعد نہ صرف نیر مصطفی نے نئے افسانے لکھے بلکہ اپنے پرانے کام کو نیا کرنے کا عہد بھی کیا۔ اس نے ایک افسانے کے کئی روپ نکالے، انہیں رد کیا، وقت کی بھٹیوں میں پکایا، زبان کو توڑا، کرداروں کو کھنگالا اور بہت سے جملوں، جزئیات اور الفاظ کو ردی کی ٹوکری کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ ان دونوں کتابوں اور اس کے بعد کے افسانوں کی تجدید نو کا وقت تھا۔

یہ مشکل کام تھا، اپنے لکھے کو پروف اور ایڈیٹ کرنا جان جوکھوں کا کام ہے، اور نیر مصطفی نے نہ صرف ایک ہی کہانی کئی بار لکھی بلکہ کرداروں کی نفسیات، شناخت اور شخصیت کو بھی مسلسل بدل بدل کر دیکھا۔ یہاں تک کہ مجھے شبہ ہے اسے اپنے کئی افسانے حفظ ہو گئے۔ اس سب کے دوران جس شے میں سب سے زیادہ بدلاؤ آیا وہ زبان تھی یا افسانے کی ساخت۔ اس روپ میں یہ افسانے اپنے نئے قاری کے لئے بالکل بھی اجنبی نہیں ہوں گے، بلکہ انہیں یہی زبان اور ایسے ہی کردار ان افسانوں کے لئے موزوں لگیں گے۔ مگر ان افسانوں کے پہلے روپ سے واقف لوگ، اور نیر کے افسانوی سفر کو جاننے والے اس کہنہ مشق مشقت پر اسے داد دیے بغیر نہ رہ پائیں گے۔

__________
آئیں۔ ”معنی کی تلاش“ میں ان افسانوں کے دوسرے روپ کی سیر کو چلتے ہیں۔

”مینار، گدھ اور مردے“ اس مجموعے کا پہلا افسانہ ہے جو اپنے کردار کی تقریباً پوری عمر کے دورانیے پر پھیلا ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی انسانی جبلت کو پیٹ کی آگ میں بھون کر کھا گیا مگر وہ ڈر جو کہیں اس کے لا شعور کی تہوں میں بیٹھا تھا عمر کا پیمانہ ڈھلتے ہی پھدک کر باہر آ گیا۔ کردار کی نفسیاتی کشمکش، سماجی ضرورتوں کا بوجھ اور تیزی سے بھاگتی زندگی کو کہانی کی مٹی میں ایسے گوندھا گیا ہے کہ وقت کی مجبوری کسی طرح جرم نہیں لگتی، بلکہ سماج کا المیہ بن جاتی ہے۔ مینار، اور گدھ آپس میں مل کر ایک دل خراش علامت بن جاتے ہیں، جو ایک بظاہر رواں دواں زندگی میں چھپی نفسیاتی کشمکش کا واضح اظہار ہیں کہ کیسے مردوں کے ساتھ اپنی پوری زندگی بتا دینے والا شخص، تاریخ کی تکرار کے ڈر سے اپنی ہی لاش کی فکر میں لاحق ہو کر بول اٹھا : ”مجھے پکی قبر میں دفن کرنا بیٹا!“

”ایک ہاری ہوئی کہانی“ بھی ایسے ہی معاشرتی المیے کا بیان ہے جس کے کردار ایک جگہ سماجی بوجھ تلے دبے نظر آتے ہیں تو اگلے ہی لمحے اسے پیروں کے نیچے روندتے ہوئے۔ اس افسانے میں نیر کے اکثر افسانوں کی طرح کسی ایک خاص کردار پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہاں کئی کردار مل کر کہانی کو آگے چلانے میں اپنا حصہ ڈال کر غائب ہو جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اچانک پھر آن دھمکتے ہیں۔ معاشرے میں عورت کا مقام اردو افسانے کے لئے بے شک نیا موضوع نہیں مگر اس افسانے میں جہاں بچوں کے رشتوں سے جڑے ٹیبو پر طنز کیا گیا ہے، وہاں ضرورت ایجاد کی ماں کے تحت انسیسٹ کے مسئلہ پر بھی نظر ڈالی گئی ہے۔

ایک طرف اگر یہ انسیسٹ معلوم ہوتا ہے تو دوسری جانب نسلوں پر پھیلے اس جبر کی طرف بھی ایک اشارہ ہے، جہاں ہر بار قربانی عورت کے حصے میں آتی ہے۔ افسانے کی زبان کی سادگی اور روانی ہی اس کی خوبی بن رہی ہے۔ نیر کے ہاں بھاری بھرکم اور کثیف الفاظ نہ ہونے کے برابر ملتے ہیں کیونکہ عموماً وہ اپنے عہد کی رائج زبان سے استفادہ کرتا ہے۔

”کاشی“ اس کتاب کا تیسرا اور سب سے منفرد افسانہ ہے، جو سماج میں عجز کی بجائے تفخر کو پالنے کے معاشرتی اور نفسیاتی جرم کی داستان ہے۔ ’کاشی‘ ایک کردار سے بڑھ کر ایک کیفیت کے طور پر اس افسانے میں موجود ہے۔ افسانے کی زبان ایک ایک جملے کو ایسے جوڑے ہوئے ہے کہ یہ نیم دیہی نیم شہری فضا میں پھیلی کہانی ہر سطر کے ساتھ رخ بدلتی چلی جاتی ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کیسے معاشروں میں خود ساختہ کہانیاں لافانی داستانوں اور کرداروں میں بدل جاتی ہیں۔ ’کاشی‘ بطور کردار اور بطور افسانہ پرتوں میں نہیں بلکہ یکلخت ایک جھٹکے میں کھلتا ہے، اور پڑھنے والا کاشی کی زبان میں دو گالیاں دے کر اس کی ہمدردی میں آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

”رنگ“ ایک جوان ہوتے بدن کی جنون و سرمستی سے لبریز روداد ہے۔ یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جس نے کسی ایک لمحے میں اپنے وجود سے جڑی جنسی مسرت کو کھوج لیا۔ اس افسانے کا اسلوب ابتداء میں ایک بیانیہ کے طور پر فضا بناتا ہے مگر جونہی ’سرمد‘ بازار کی بھیڑ میں گم ہوتا ایک ترشے ہوئے مرمریں سنگ سے جا ٹکراتا ہے تو یکایک ایک مسرور زبان کا چشمہ اس سنگ سے پھوٹ کر کاغذوں پر بکھر جاتا ہے۔ پھر یہ کہانی صرف نفسیاتی حقیقت نگاری یا ایک جنسی تجربہ نہیں رہتی بلکہ اس جوان ہوتے بدن کے سرور بھرے درد میں بدل جاتی ہے، جس کے اختتام پر قاری آئینے کے سامنے برہنہ کھڑا ہوتا ہے۔

”کتیا کا بچہ“ افسانہ نہیں بلکہ ایک ایسا مکالمہ ہے جو کئی نامختتم سوالوں کو جنم دے رہا ہے۔ ہر سوال اپنی جگہ ایک کہانی اور کردار سے منسلک ہے۔ یہ ان طبقاتی اکائیوں کی کتھا ہے، جو آپس میں جڑے ہونے کے باوجود کبھی ایک نہیں ہو پاتیں (مارکس دادا کی جے ہووے ) ۔

” کتیا کا بچہ“ ایک بلیغ علامت ہے، جو کسی بھی شخص، حیوان یا سماج پر فٹ بیٹھ سکتی ہے۔ کس طرح ایک ماورائے انسانی تعلق ضرورت پر غالب آ سکتا ہے، یہ اس لڑکے کے کردار نے واضح کیا ہے جو بھوکا بھی ہے، خود دار بھی اور جہاں دیدہ بھی۔ افسانہ بیان اور مکالمے کے مابین ایسے سفر کرتا ہے جیسے کتیا کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے پیچھے چل رہا ہو۔

دسمبر 2007 کی ایک گھناؤنی شام سے دسمبر 2008 تک کا سفر ایک دکھ سے زیادہ رومانس میں بدل گیا ہے۔ ”ایک ہاری ہوئی کہانی“ بے نظیر بھٹو سے ہماری نسل کی جڑت کا ایسا باب ہے جو ایک رومانوی انداز میں اپنا ابلاغ قائم کر رہا ہے۔ افسانہ ایک بیانیہ کی صورت میں چلتاہے اور کہانی واقعات کے تسلسل سے آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ افسانے کے دو حصے بی بی کی زندگی کے دو ادوار تو ہیں ہی لیکن مرکزی کردار کے بچپن سے جوانی کا سفر بھی بیان کرتے ہیں۔

’شہزادی عروسہ‘ جیسا ایک نہ ایک کردار ہم سب کے بچپن کی کہانیوں کا حصہ ہے مگر جس ’شہزادی عروسہ‘ کی کہانی نیر نے جذب کیے رکھی، وہ بناء اس احساس کے ہرگز قلم بند نہیں ہو سکتی تھی جو اس افسانے کا خاصہ ہے۔ ویسے تو ادب کی لسان معروضی پیرائے میں ڈھلتی ہے لیکن ایسے جذباتی لگاؤ میں اگر نیر کی جگہ میں ہوتا تو اپنی ذاتی تشفی کی خاطر اختتام سے ذرا پہلے ”قتل“ کا لفظ ”شہادت“ سے بدل دیتا۔

کتاب کا ساتواں افسانہ ”تکمیل“ ین یانگ (Yin Yang) سمبل میں سیاہ اور سفید کی کروٹیں بھرتی تقسیم سے پھوٹتی وہ مبہم جنسی شناخت ہے جو کسی دو کے حصے میں تو آتی ہے مگر تیسرا شخص اس لچک دار دھارے پر ساری زندگی گزار دیتا ہے۔ پہلے پہل تو وہ افسانے کی ابتداء کی طرح کبھی فطرت کو کٹہرے میں لے آتا ہے تو کبھی اپنے خاندان کو کوستا ہے، مگر جب وہ بلوغت کی سرحدوں کو چھوتا ہوا کسی لطیف احساس کی گرفت میں آ جاتا ہے تو سماج کی ہتھکڑی خود اسے ایسے ہی کسی کٹہرے میں لا کھڑا کرتی ہے۔

’ریشم‘ کا کردار اور اس کی کہانی ایسا ہی ایک اظہاریہ ہے جہاں محبت کسی جنسی شناخت کی قید سے آزاد ایک ایسا جنون بنتی دکھائی دیتی ہے، جو پلیٹونیک لوو (Platonic Love) سے بھی کئی قدم آگے جا نکلتا ہے۔ ایک تبصرے سے بیان، پھر روداد اور بالآخر ایک فیصلے تک پہنچتا ہوا یہ افسانہ اس کتاب کی باقی کہانیوں سے بالکل ایسے ہی الگ ہے جیسے ریشم کی محبت، جو دکھ سے ایکسٹیسی کشید کرتے ہوئے خود کا بلیدان دیتی ہے اور دھرتی کا بوجھ گھٹتا نہیں، بڑھ جاتا ہے۔

ایک لمحے میں سانس لیتی ساعتیں جب کسی دوسرے لمحے میں داخل ہوتے ہی بدل جائیں تو ”آخری ملاقات“ جیسی تخلیق جنم لیتی ہے۔ شاعرانہ اسلوب، منظر سے کشید کردہ جزئیات اور کسی لمحے میں ادا ہوئے دو جملے۔ یہ نیر مصطفی کے مزاج کی حقیقی عکاسی کرنے والے افسانوں میں سے ایک ہے، جو شاید اپنے لئے لکھا جاتا ہے اور ایک دن معلوم ہوتا ہے اپنا تو اب کچھ بھی نہیں رہا۔

ایسا ہی ایک افسانہ ”وہ، میں اور خدا“ ہے۔ اس مثلث میں دل کی اتھاہ گہرائیوں میں انگڑائیاں لے کر بیدار ہوتے وہ خواب ہیں جنہیں ایک دن ایک سفید سراپا پٹاخ سے نیچے دے مارتا ہے اور اپنی جوتی کی نوک سے مسلتا ہوا کہیں ہوا میں پر لگائے غائب ہو جاتا ہے۔ واردات کا کہانی میں بدل جانا اگر صرف جذبات کی عکاسی کرے تو عمر کے ساتھ ساتھ وہ تخلیق بھی نحیف ہو جاتی ہے، لیکن یہاں یہ واردات ایک ایسے المیے میں بدل جاتی ہے جو ازلی ہے اور ابد تک رہے گا۔

دسواں افسانہ ”بند پنجرے کی آگہی“ خوف سے جنم لیتی بے یقینی اور اس سے پیدا ہونے والے اضطراب میں چھپے سکون کی کتھا ہے۔ یہاں کردار اور کردار کا بین الضمیر ادراک کہانی سے کہیں آگے کھڑا نظر آتا ہے۔ ہمارے سقہ بند ناقدین ایسی تحریروں کو جذبات کی ایک قے کہہ کر افسانوں کی فہرست سے باہر لا کھڑا کریں گے، مگر اس سے کیا ہوتا ہے۔ اگر ایک تحریر آپ کو کردار کی ترجیحات کی داستان سناتے سناتے وہاں لے جائے، جہاں لفظوں کی کھوج میں گم شدہ لڑکا سر اٹھائے تو بے یقینی اور رائیگانی کا خوف اسے گونگا کر دے۔ یہ افسانہ نہیں تو اور کیا ہو گا؟

”نروان“ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی آسائشوں بھری دنیا سے نکل کر کسی انجانے سکون کی تلاش میں ان تمام راستوں پر بھٹکتا ہوا ناکام واپس لوٹ آتا ہے جو اسے نروان تک پہنچا سکتے تھے۔ بالآخر اسے وہ ایک ماں کی ممتا اور انسانی رشتوں کی اس معصوم سی جنبش میں نظر آتا ہے جس کے لئے کوئی خاص تپسیا درکار نہیں۔ ایک سادہ بیانیے میں تیز چلتی ہوئی کہانی جو کسی موڑ پر سستانے کو نہیں رکتی اور اپنے اختتام پر ایک ان مٹ فل سٹاپ لگا دیتی ہے جہاں انسان اور محبت آپس میں گندھتے چلے جاتے ہیں۔

اگلا افسانہ ایک پر نکالتی چڑیا کی اس چیخ کی آواز ہے جو تب نکلی جب اڑتے سمے ایک مٹھی میں بھینچ کر اس کے پر کاٹ دیے گئے۔ ”میٹھے چاولوں کی آخری پلیٹ“ بیک وقت سائیکلوجیکل ریلیزم (Psychological Realism) اور سوشل ٹیبوز (Social Taboos) کا المیہ ہے۔ کئی ٹکڑوں پر محیط یہ افسانہ اپنی زبان میں ایک کچی جذباتیت سموئے ہے۔ کردار ابھی اپنی پختگی اور نا پختگی کی حالت میں جلوہ دکھا ہی رہے ہوتے ہیں کہ کہانی کروٹ لے کر ایک جوان ہوتی لڑکی کے بدن کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے اور اچانک ہم پر منکشف ہوتا ہے کہ زندگی میں ایک ڈگر پر چلتے ہوئے کردار بھی ابنارمل کریکٹرز کے بغیر ادھورے ہوتے ہیں۔

”شیریں، فرہاد اور محبت وغیرہ“ سائبر سپیس کا ایسا معاشقہ ہے جو ایک طرف رومان کا استعارہ ہے تو دوسری جانب ہمارے یاسیت زدہ معاشرے کی تنگ نظری کی علامت۔ اپنی کرافٹ اور تکنیک میں یہ افسانہ نیر کی دوسری کتاب ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کے یونٹ دوم کے مزاج سے مطابقت رکھتا ہے۔ اسی لئے اس افسانے کے دو روپ دونوں کتابوں میں شامل ہیں۔ پہلی دفعہ اس افسانے کو ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ میں “Orkut.com کی ایک پروفائل“ کے نام سے جگہ ملی۔

پھر اسی افسانے کے متن نے ”شیریں، فرہاد اور محبت وغیرہ“ کو جنم دیا۔ یہ تکنیک اور اس کے برتاؤ کا چلن بتاتا ہے کہ کیسے کہانی، اس کے تاثر اور تکنیک کی بنیاد پر دو الگ الگ افسانے بنائے گئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بعض اوقات محض تکنیک ہی کسی افسانے یا ناول کی پوری شناخت بدل سکتی ہے۔ یہاں یہ افسانہ اپنے اسلوب کے زور پر اجنبی نہیں لگتا بلکہ ایک سطح پر کرافٹ کے وسیع استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک پوری نسل جو آئی سی ٹیز (ICT ’s) کے کمالات اور ڈیجیٹل میڈیا کی فضا میں جوان ہوئی ہے ایسی وارداتوں سے ہرگز اجنبی نہیں جہاں میڈیٹڈ ابلاغ (Mediated Communication) اپنے جذب ہونے کا وقت پورا کیے بغیر اختتام کو جا پہنچتا ہے۔ یہ افسانہ اس نسل کا عکاس ہے جن کی محبت اور جنسی تجربہ بھی بائنری نمبرز کی تیزی سے بدل جاتا ہے۔ جیسے ہمارے اپنے اخلاقی رویے۔

آخری افسانے ’کرائسس مشین ”کی رفتار اگر تھوڑی سی کم ہوتی تو یہ ایک ناول کا باب معلوم ہوتا۔ افسانہ حال، ماضی اور مستقبل کی گنجلتاؤں میں پھیلا ہے اور یہاں قاری کو کئی کڑیاں خود سے جوڑنی پڑتی ہیں۔ افسانہ شاید سائنس سے بیزار لوگوں کے لئے بالکل دلچسپ نہ ہو مگر کرداروں کی بنت اور کہانی کی روانی اس کی ریڈیبلٹی کو متاثر نہیں ہونے دیتی۔ یہ افسانہ نیر کے لئے سائنس فکشن کی راہوں کو کھولنے میں مدد دے سکتا ہے۔

__________

ان چودہ افسانوں کا سفر، ورسٹائل موضوعات اور بہت معمولی، مگر زندگی کے قریب تر کرداروں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ افسانے اپنی طوالت کے اعتبار سے ماڈریٹ ہیں۔ مجھے لگتا ہے آنے والے وقت میں مختصر افسانے کی قرات زیادہ موثر ہو گی، اور افسانہ اپنی شکل مزید بدلے گا۔ نیر نے یہ افسانے 2003 ء سے 2009 ء کے درمیان لکھے۔ ان میں سے کچھ افسانے اس کی پہلی کتاب ”نرکھ میں نرتکی“ کا حصہ تھے۔ 2010 ء میں نیر کی دوسری کتاب ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ سامنے آئی جس کے انیس افسانے پہلی کتاب کے دس افسانوں سے کئی اعتبار سے مختلف تھے۔

2016 ء سے 2018 ء کے درمیان نیر نے بار بار ان افسانوں کو ری رائٹنگ اور ایڈیٹنگ کے مرحلوں سے گزارا اور پھر ان سب کو یکجا کر کے ایک کتاب تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جس میں لگ بھگ تین درجن سے زیادہ افسانے تھے۔ ایسا لگا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی افسانوی کلیات کی وصیت پر کام کر رہا ہے مگر جلد ہی وہ اس کام سے باز آ گیا اور ”معنی کی تلاش“ میں نکل پڑا، جس کا منطقی جواز نیر نے خود اس کتاب کے پیش لفظ ”جہنم سے درآمد شدہ افسانوں کی روداد“ میں قلم بند کر دیا ہے۔

اگر میں اس تقسیم کی بنیاد پر دونوں کتابوں کا سراپا دیکھوں تو ”معنی کی تلاش“ میں شامل افسانے سادہ بیانیہ اور شاعرانہ اسلوب لئے بیٹھے ہیں جہاں کہانی سندھو ماں کی طرح خاموشی سے بہتی چلی جاتی ہے تو ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ ایک فیکٹری کی طرح یونٹس میں تقسیم ہے، جہاں تجربات اور ٹوٹ پھوٹ مسلسل جاری ہے او ر نیر کے افسانے اپنی تکنیک اور مکالمے کے زور پر سینہ پھیلائے غنڈہ گردی کر رہے ہیں۔ لیکن جو بات دونوں میں مشترک ہے وہ نیر کا اسلوب اور زبان کی مستی ہے کہ اس کا ایک جملہ دوسرے جملے سے یوں جڑتا ہے جیسے بہتے جھرنے کا پانی ندی کے پانی سے ملتا، وادیوں میں جا پھیلتا ہے۔

اس تمام سفر سے گزرنے کے بعد یہ افسانے اپنے اصل اور سچے مقام کو پہنچے جہاں ان کی معنویت اپنی ہی تلاش میں گم ہو جانے کی چاہ میں ایک خوب صورت تاثر کو جنم دے رہی ہے، جو بعینہ ویسا ہی ہے جیسا کسی افسانوی مجموعے کے تاثر کو ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •