انصاف کے لئے وڈیو وائرل ہونے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبریں ہیں کہ سندھ کے سرحدی ضلعے کشمور میں معصوم بچی اور اس کی والدہ سے اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ جبکہ پولیس کا موقف ہے کہ ملزم رفیق ملک کی نشاندہی پر مفرور ملزم خیر اللہ بگٹی کی گفتاری کے لئے پولیس کارروائی کرنے پہنچی تو خیر اللہ نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ ساتھی کی گولی لگنے سے گرفتار ملزم رفیق ملک ”ہلاک“ ہو گیا۔ جبکہ سوشل میڈیا پر اسے سندھ پولیس کی ”دبنگ“ کارروائی قرار دیتے ہوئے ایس ایس پی امجد شیخ کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

حالات و واقعات پر نظر ڈالیں تو بات قصور میں بچوں سے زیادتی کے واقعات اور وڈیوز بنانے والے گروہ سے میڈیا کی سرخیوں میں آئی تھی۔ اس سے قبل ہزاروں سینکڑوں معصوم بچے اور بچیاں ذہنی مریض معاشرے کے ان مریضوں کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں لیکن یہ واقعات کوئی مسئلہ نہیں تھے۔ اس لئے میڈیا دیگر اہم معاملات پر توجہ مرکوز کیے رہا۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس نے اس مسئلے کے ”مسئلہ“ ہونے کو احساس دلایا۔

قصور واقعے کے بعد سب سے زیادہ توجہ قصور ہی میں معصوم زینب سے ہونے والی زیادتی اور قتل جیسے دل دہلا دینے والے واقعے کو ملی۔ اس واقعے نے ایک نئے مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی لیکن جیسے یہ مسئلہ پہلے ”مسئلہ“ نہیں تھا ویسے ہی یہ نیا مسئلہ ابھی تک کوئی ”مسئلہ“ نہیں ہے۔ اور یہ نیا مسئلہ ہے ہماری اجتماعی ذہنی حالت، اخلاقی تنزلی، سفاک اور پرتشدد طرز فکر، اور لاقانونیت پر یقین۔

قصور سانحہ کے بعد سوشل میڈیا پر ہمارے معاشرے، ہمارے سماج کا اصل چہرا بے نقاب ہونے لگا۔ ہم نے مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ ملزمان کو مار دو، جلا دو، لٹکا دو، تیزاب کے ڈرم میں ڈال دو، جنسی مفلوج بنا دو۔ لاش کو سڑکوں پر گھسیٹو، ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دو۔

کسی نے نہیں سوچا کہ جتنا غیر انسانی فعل ان سفاک ذہنی مریضوں نے معصوم زینب کے ساتھ کیا تھا اتنا ہی غیر انسانی مطالبہ ہم خود کر رہے تھے۔ یہ سفاکی، یہ بے رحمی، ایک کے بعد ایک واقعے میں نظر آنے لگی۔ ہر نیا سانحہ سفاکیت میں پچھلے پر سبقت لیتا گیا ہے اور ہمارے رد عمل بھی اسی ڈگر پر اسی سفاکیت، بے رحمی، بربریت اور لاقانونیت ہی کا دوسرا رخ بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ کشمور پولیس مقابلہ بھی اسی اخلاقی و ذہنی پستی کا ایک ثبوت ہے۔ ارے بھئی! ہمیں کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ برائیاں سخت سزاؤں سے نہیں کرداروں سے، تعلیم سے، تربیت سے، نظام انصاف سے ختم ہوتی ہیں۔

ابھی کل ہی کی بات ہے موٹر وے سانحے پر آپ لوگ اسی طرح چیخ رہے تھے۔ آج کوئی بتا سکتا ہے کہ ملزم عابد اور اس کے ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس سے پہلے ساہیوال سانحے پر بھی تو گلے پھاڑ پھاڑ کر چلا رہے تھے بتا سکتے ہو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں، باپ اور بہن کو گولیوں کا شکار ہو کر اپنے ہی خون میں لت پت تڑپتا دیکھنے والے معصوم بچے کہاں ہیں ان کا کیا بنا! کوئی بتا سکتا ہے ان کا مستقبل کیا بنے گا؟

اچھا! چلیں چھوڑیں ان باتوں کو۔ مان لیتے ہیں کشمور کا مبینہ پولیس مقابلہ ہی ٹکاؤ، اصل اور واحد حل ہے۔ جبکی قانون وانون، عدالتیں ودالتیں، سزائیں وزائیں سب فضول اور بکواس قسم کی چیزیں ہیں۔ تو پھر یہ بھی بتادیں کہ آئندہ پیش آنے والے ہر واقعے کے بعد ایک ”نیا امجد شیخ“ کہاں سے آئے گا، کیوں کہ سب پولیس افسران ایس ایس پی امجد شیخ کی طرح دبنگ اور انکاؤنٹر اسپیشلسٹ تو نہیں ہوں گے؟ اور اگر ہوئے بھی تو کیا سب ہی پولیس والے اس طرح موت کے سوداگر بنے پھریں گے؟

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو چھوڑیں، یہ اسٹریٹ کرائم، ڈکیتی، چوری، قبضہ خوری، فراڈ جیسے جرائم میں ملوث عناصر کا کیا کروگے؟ انہیں بھی پھڑکا دو گے؟

اچھا کئی لوگ تو بڑے طاقتور ہوتے ہیں پولیس کی تو مجال ہی نہیں ہوتی کہ ان پر ہاتھ بھی ڈال سکے پھر کیا کرو گے؟ ہجوم لے کر چڑھ دوڑو گے؟ یا طاقت کے سامنے سر جھکا لو گے۔

کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ ڈر موت سے نہیں لگتا۔ کوئی بھی پیشہ ور مجرم جب کوئی واردات کرنے نکلتا ہے تب موت اس کے ذہن میں ہوتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اگر کچھ اونچ نیچ ہوئی تو موت بھی ہو سکتی ہے اور مارنا بھی پڑ سکتا ہے۔ وہ پھر بھی وارداتیں کرتا ہے۔ پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ اسے پتہ ہے کہ اگر مارا نہ گیا، تو لوٹ کے مال پر عیش کروں گا۔ کیوں کہ اسے یقین ہے کہ وہ ایک بار واردات میں بچ جائے پھر اس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔

لیکن اگر نظام انصاف ہو، پولیس پوری ذمہ داری کے ساتھ تحقیقات کرے، ثبوت اکٹھے کرے، مضبوط کیس قائم کرے، عدالتیں قانون کے مطابق تیز اور سستا انصاف مہیا کر دیں، مجرموں کو سزائیں ہوں اور بے گناہوں کو انصاف ملے تو کیا پھر بھی اس ڈاکو کو یہ یقین ہوگا کہ ایک بار واردات سے بچ جاؤں پھر لوٹ کے مال پر عیش کروں گا؟ یقیناً نہیں! کیوں کہ جب نظام انصاف مضبوط ہوگا تو ہر شخص، جرم سے پہلے یہی سوچے گا کہ اگر واردات میں بچ بھی گیا تو لوٹ کے مال پر عیش تو دور کی بات اسے چھپا بھی نہ پاؤں گا اور یقینی طور پر پکڑا جاؤں گا اور کچھ بھی کر لوں، کتنی ہی طاقت کیوں نہ استعمال کر لوں لیکن عدالتوں میں جرم ثابت ہو ہی جائے گا اور یقینی طور پر سزا پاؤں گا، عیاشی تو دور کی بات موجودہ حالت سے بھی جاؤں گا اور باقی کی زندگی جیل میں گزارنی پڑے گی۔

لیکن ہم کیوں ایسا سوچیں گے۔ ہم تو ”جذباتی“ ہیں۔ ہمیں تو فوری انصاف چاہیے سڑک پر۔ سسٹم وسٹم میں ہمارا کیا کام ہے۔ ہمارا تو مطالبہ ہے کہ سر عام پھانسیاں دو، جنسی اعضاء کاٹ دو، آگ لگا دو، تیزاب کے ڈرم مییں ڈال دو، زندہ جلادو، لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹو، کتوں کو کھلا دو۔

اوہ خد اکے بندو۔ یہ صرف ایک بندہ مارا گیا ہے۔ تمہارے ملک میں صرف پچھلے سال کے دوران 7000 سے زائد ریپ کے کیسز داخل کیے گئے تھے۔ 7 کو بھی سزائیں نہیں ہو پائی۔ سینکڑوں ہزاروں کیسز ایسے ہیں جو خاندان کی عزت، غیرت، رشتوں ناتوں، برادری، غربت، معاشی و سماجی کمزوریوں کے باعث رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

کل اسلام آباد کے بینک مینیجر کی وڈیو دیکھ کر بھی جذباتی ہو گئے تھے نہ تم لوگ۔ گرفتار کروا لیا اس مینیجر کو۔ اچھی بات ہے لیکن یہ جو ہر بازار، گلی محلے، شاپنگ سینٹر میں عورتوں کے ساتھ یہی حرکتیں کرتے پائے جاتے ہیں ان کا کیا کرو گے؟ ان کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں ہیں۔ انہیں پتا ہے نہ ان کی وڈیو وائرل ہوگی نہ پکڑے جائیں گے نہ سزائیں ہوں گی اس لئے عورتوں کی تذلیل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ یہ کہیں کسی اور سیارے سے نہیں آئے یہ سب ذہنی مریض لوگ ہم میں سے ہیں۔ ہمیں پتا ہے یہ کون ہیں۔ یہ آپ اور ہم ہیں۔ یہ اس معاشرے کا اس سماج کا عکس۔ ہمارے معاشرے، ہمارے سماج، ہماری اخلاقی اقدار اور ہمارے دین اور ایمان کا چلتا پھرتا نمونا ہیں۔ یہ آپ ہیں۔ یہ میں ہوں۔

ہر نئی وائرل وڈیو ہر نئے سانحے پر ذہنی مریضوں کی طرح جذباتی رد عمل دینے سے اچھا ہے ایک بار سسٹم میں بہتری کروا لو پھر وڈیو وائرل ہو نہ ہو، قوم جذباتی ہو نہ ہو لیکن سسٹم اپنا کام کرے گا اور ہر مجرم کیفر کردار تک پہنچے گا۔ لیکن ہم سسٹم کی بات کیوں کریں گے۔ کیوں کہ ہم سسٹم سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے سسٹم نہیں بناتے کیوں کہ ہم خود ان تمام غلاظتوں کا حصہ ہیں جن پر آج واویلا کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •