مشرقی شرفا کے بارے میں ایک خط: ڈاکٹر خالد سہیل کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہما جمال کا ادبی محبت نامہ

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! آج بہت عرصہ بعد آپ سے خط و کتابت کا خیال دل میں ابھرا۔ لوگ آپ کو خط لکھتے ہیں اور باتوں باتوں میں آپ سے نفسیاتی الجھنیں کا حل معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوچا کیوں نہ میں آپ سے ایک اہم مسئلے پر ادبی گفتگو کرلوں لیکن ڈاکٹر صاحب ادبی گفتگو میں اگر بے ادبی کی بات ہو جائے تو کیا یہ اعلیٰ ادب کہلائے گا؟ جیسے سعادت حسن منٹو جو تمام تر معاشرتی بے ادبیاں ادب میں ظاہر کر کے اپنا ایک اعلیٰ مقام بنا گئے، ہم بھی اگر معاشرتی برائیوں پر بات کر لیں تو شاید کچھ نہ بھی ملے تو کتھارسس تو ہو ہی جائے گا۔

سعادت حسن منٹو کو میں نے بہت زیادہ تو نہیں پڑھا لیکن جتنا پڑھا اور سنا اس سے یہی پتہ چلا کہ وہ بہت سے شرفاء کے چہروں سے نقاب اتار کر ان کے کردار پر پڑے دبیز پردے کھینچ کر انہیں عریاں کر گئے۔

ڈاکٹر صاحب! آپ ایک عرصے سے پاکستانی اور مسلم معاشرے سے دور رہ رہے ہیں اور آپ کے خیال میں یہ جائز ہے کہ جو لڑکا جس لڑکی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہے وہ باہمی رضامندی کے ساتھ رہ سکتا ہے۔ یورپ میں اس کلچر کو گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کلچر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہاں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ رکھنے کے شاید وہی اصول ہیں جو یہاں میاں بیوی کے ہوتے ہیں یعنی جب تک دو اشخاص کھلم کھلا بغیر کسی رازداری کے ایک خاص تعلق میں ہوتے ہیں کوئی دوسرے کے ساتھ بددیانتی نہیں کر سکتا۔

اگر کوئی بددیانتی کرتا ہوا پایا گیا تو پھر تعلق کے خاتمے کا وقت آن پہنچتا ہے۔ یہاں ایسا کلچر ممکن نہیں کہ دو اشخاص بنا نکاح ایک دوسرے کے ساتھ رہ لیں۔ یہاں ساتھ رہنے کے لئے شرط شادی ہے۔ کیونکہ ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں اور آپ جانتے ہیں ناں اسلامی معاشرے میں شرفاء کس قدر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ شرفاء لڑکپن سے ہی انتہائی شریف ہوتے ہیں۔ ان کا کردار دنیا والوں کے لئے مثالی ہوتا ہے وہ شرافت کے اس مینار پر کھڑے ہوتے ہیں کہ نیچے سے انہیں دیکھنے والے ان جیسا بننے اور ان کا ساتھ پانے کی خواہش دل میں پالنے لگتے ہیں۔ بات اگر مخالف جنس کی ہو تو وہ بھی آنکھیں بند کر کے ان کے کردار کی بلندی میں کہیں کھو جاتی ہے۔

دور حاضر کے شرفاء اس قدر شریف ہوتے ہیں کہ وہ منٹو کے کرداروں کی طرح بازاری لڑکی کے لئے کسی بازار کا رخ نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ دوستی کے لئے کسی انتہائی شریف لڑکی کا انتخاب کرتے ہیں۔ انتخاب کی وجوہات میں زیادہ تر کی ترجیح شریف لڑکی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ اس دوستی کو ایک خفیہ راز سمجھ کر سینے میں دفن کر لے گی اس دوستی کے دوران وہ ہر قسم کی سہولیات دل لگی، ہم بستری ہر چیز فراہم کرے گی۔ لڑکیاں شریف ہوں یا نہ ہوں شرفاء کی اس عارضی دوستی کو دائمی محبت سمجھ کر ہمارے معاشرتی اصولوں کے مطابق جینا چاہتی ہیں لیکن کچھ عرصے بعد ہی یہ بھید کھل جاتا ہے کہ شریف صاحب اس لڑکی کو جسے دوست سمجھ کر دل بہلا رہے تھے، اسے معاشرتی و مذہبی کسی شرط کے مطابق نہیں اپنا سکتے۔ اب مرحلہ شروع ہوتا ہے اس لڑکی سے پیچھا چھڑانے کا جس سے عارضی دوستی رکھی گئی تھی۔ لڑکی جو شریف صاحب سے شرافت کے سوا کوئی امید نہیں رکھتی اللہ رسول کے واسطے دیتی ہے اور دوستی کے دوران بولے گئے ہر قسم کے جذباتی ڈائیلاگز یاد دلاتی ہے۔

اب یہاں شرفاء کی بھی اقسام پائی جاتی ہے

اول درجے کے شرفاء۔ وہ جو صرف اپنی مجبوریاں گنواتے ہیں، اپنی محرومیاں بتاتے ہیں پھر بھی لڑکی نہ مانے تو خود تک آنے والا ہر راستہ مسدود کر کے بے اعتنائی برت لیتے ہیں

دوئم درجے کے شرفاء۔ وہ جو کسی بھی قسم کی مجبوریاں نہ تو گنواتے ہیں اور نہ ہی سمجھاتے ہیں بلکہ سیدھا تعلق پر چھری چلا کر رابطے ختم کر دیتے ہیں۔

سوئم درجے کے شرفاء۔ یعنی تیسرے درجے کے تھرڈ کلاس شرفاء لڑکی سے پیچھا چھڑانے کے لئے اس سے کی گئی ہر قسم کی گفتگو۔ جو دوران دوستی محبت کہلاتی ہے۔ سرعام نشر کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ اگر خاندان یا لڑکی کی کسی قریبی سہیلی سے رابطہ ہو تو اسے سب دکھا کر لڑکی کو تنبیہ کرنے کا کہتے ہیں کہ اس کی حرکتیں دیکھ کر اسے سمجھا دو کہ میرا پیچھا چھوڑ دے۔ ایسے میں وہ شریف لڑکی جو شریف صاحب کی کچھ عرصہ کی محبت، دوست کی صورت میں رہ چکی ہوتی ہے اس کا حال نہ زندوں میں ہوتا ہے اور نہ ہی مردوں میں۔ لیکن لڑکی کی حالت سے بے اعتنائی برتتے ہوئے اور اس بات کا یقین رکھتے ہوئے کہ یہ لڑکی کسی پر ہمارا راز کھولنے کی اہل نہیں پھر سے کسی خفیہ دوستی کی جانب بڑھ جاتے ہیں

ڈاکٹر صاحب!

میری نظر میں مغربی معاشرہ کبھی آئیڈیل نہیں رہا لیکن مشرق میں جس قدر خفیہ شرافت برپا ہے اس پر آپ کی ماہرانہ رائے اور علاج درکار ہے کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ہمارے معاشرے اور اس کے مزاج کو سمجھتے ہوئے کوئی نسخہ ہدایت تجویز کریں جو کہ بلا چوں چرا عقل میں اتر جائے

ہما جمال

24 نومبر 2020

٭٭٭                ٭٭٭


محترمہ ہما جمال صاحبہ!

’ہم سب‘ کے حوالے سے اب تک مجھے جتنے خطوط موصول ہوئے ہیں آپ کا ادبی محبت نامہ ان سب سے زیادہ دلچسپ اور فکر انگیز ہے کیونکہ اس میں ادبی چاشنی کے ساتھ ساتھ شرفا کا نفسیاتی تجزیہ بھی شامل ہے۔ آپ کے ادبی محبت نامے کا تعلق انفرادی نفسیات بھی بھی ہے اور سماجی نفسیات سے بھی۔ ویسے تو آپ کے سوال کا تسلی بخش جواب کئی کالموں کا متقاضی ہے لیکن میں ایک ہی کالم میں ان کا جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ میرے جواب کے دو حوالے ہیں۔ ذاتی حوالہ اور سماجی حوالہ۔

ذاتی حوالہ

جب میری ملاقات بے ٹی ڈیوس BETTE DAVIS سے ہوئی تو ہم دونوں نیوفن لینڈ میں طالب علم تھے۔ ہم دونوں کی عمر پچیس برس تھی۔ ہم دونوں نفسیات اور سائیکوتھراپی کے طالب علم تھے اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ اس لیے ہم دونوں کی دوستی ہو گئی۔

پچیس برس کی دوستی کے بعد بے ٹی ڈیوس نیوفن لینڈ سے ٹورانٹو آ گئیں اور ہم دونوں ایک دوسرے کے محبوب بن گئے۔ ہم نے نہ مذہبی شادی کی نہ قانونی شادی۔ ہم دونوں پندرہ سال ایک گھر میں دو دوستوں اور دو محبت کرنے والوں کی طرح اکٹھے رہے۔ ہمارے ساتھ بے ٹی کی بیٹی ایڈرئینا ADRIANA بھی رہی۔ بے ٹی نے ایڈرئینا کو رومینیا سے اس وقت گود لے کر adopt ایڈوپٹ کیا تھا جب اس کی عمر دو ہفتے تھی۔ جب میں ایٖڈرئینا سے ملا اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی۔

بے ٹی ڈیوس اور میں اس لیے پندرہ سال ساتھ رہے کیونکہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ ایڈرئینا بھی ہمارے ساتھ پندرہ برس رہیں۔ وہ میرے لیے میری بیٹی کی طرح تھیں۔ میں اس سے شفقت سے پیش آتا تھا اور وہ میرا احترام کرتی تھی۔

پندرہ سال ساتھ رہنے کے بعد میں اور بے ٹی جدا ہو گئے۔ بے ٹی نے کہا کہ وہ کینیڈا کے سرد موسم سے تنگ آ چکی ہیں اور وہ سردیوں کا موسم کیلی فورنیا میں گزارنا چاہتی ہیں۔ جدائی کے بعد ہم پھر سے دوست بن گئے۔ اس جدائی میں نہ کوئی غصہ تھا نہ تلخی، نہ جھگڑا اور نہ بدکلامی۔

جدا ہوتے وقت ہم دونوں نے ایڈرئینا کو بلایا اور میں نے اس سے پوچھا

’ بٹیا! تمہاری امی اور میں جدا ہو رہے ہیں اور گھر بیچ رہے ہیں۔ اب ہم علیحدہ رہیں گے۔ تم اپنی امی کے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا میرے ساتھ؟‘

ایڈرئینا نے میری طرف دیکھ کر کہا ’آپ کے ساتھ‘

میں نے بے ٹی کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگیں ’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ وہ آپ سے ایک بیٹی کی طرح محبت کرتی ہے‘

چنانچہ میں نے ایک تین بیڈ روم کا کونڈومینیم کرائے پر لیا جس میں پہلا کمرہ میرا ہے۔ دوسرا کمرہ ایڈرئینا کا ہے اور تیسرا کمرہ مہانوں کے لیے ہے۔

ایڈرئینا کا ’جو اب سوشل ورک میں ماسٹرز کر رہی ہے اور اپنی قابل ماں کی طرح ایک تھراپسٹ بننا چاہتی ہے‘ اب ایک بوائے فرینڈ ہے جو بلغاریہ کا ایک اکاؤنٹنٹ ہے۔ اس کا نام GIORGI گیورگی ہے۔ وہ ایک نہایت ہی نیک فطرت مہذب انسان ہے۔ وہ مجھ سے بڑے احترام سے پیش آتا ہے اور ایڈرئینا کا بہت خیال رکھتا ہے۔ جب کرونا کا بحران شروع ہوا تو ایڈرئینا نے کہا کہ وہ شادی کیے بغیر گیورگی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ میں نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اب وہ دونوں کئی ماہ سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ’ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں اور خیال بھی رکھتے ہیں۔ میں پیار سے انہیں love birds کہتا ہوں۔

یہ تو تھی خالد سہیل کی کینیڈا میں غیر روایتی محبت کی کہانی۔

اس کے مقابلے میں میری بہن عنبرین کوثر جو پاکستان میں روایتی زندگی گزارتی ہیں انہوں نے ارشاد میر سے شادی کی ان کے چار بچے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے بھی اور اپنے چاروں بچوں سے بھی محبت کرتے ہیں اور وہ چاروں بچے اپنے ماں باپ کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح ایڈرئینا میرا احترام کرتی ہے۔

عنبرین کوثر اور ارشاد میر میاں بیوی ہی نہیں ایک دوسرے کے بہترین دوست بھی ہیں۔ بے ٹی ڈیوس اور میں اب بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں۔

ہما صاحبہ!

میرا موقف یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں میں سب سے اہم اور محترم رشتہ دوستی کا ہے۔ ایسا رشتہ جس میں دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوں۔ اگر اس دوستی میں رومانس بھی شامل ہو جائے تو کیا کہنے۔

IN LOVING RELATIONSHIPS FRIENDSHIP IS THE CAKE AND ROMANCE IS THE ICING

مرد اور عورت کی دوستی کا تعلق نہ مشرق سے ہے نہ مغرب سے ’نہ شمال سے نہ جنوب سے۔ یہ انسان کی فطرت ہے وہ دل کی بات کہنے اور سننے کو دوسرے انسانوں سے دوستی کرتا ہے ایسی دوستی جس میں وہ محفوظ محسوس کرتا ہے۔ جس سے وہ انسپیریشن حاصل کرتا ہے۔ یہ دوستی مردوں سے بھی ہو سکتی ہے عورتوں سے بھی۔

میری نگاہ میں ہمیں اپنے بیٹیوں اور بیٹوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا اور ایک دوسرے سے دوستی کرنا سکھانا ہے۔

میری بہن عنبریں کوثر میری دوست بھی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ اپنی بہن کا احترام کرنا میں نے بچپن میں اس دن سیکھا جس دن میری بہن نے میرے والد عبدالباسط سے میری شکایت کی کہ کھیلتے ہوئے وہ گر کر زخمی ہو گئی تھی۔ میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اپنی چھوٹی بہن سے معافی مانگو اور جب میں نے کئی طویل لمحوں کے توقف کے بعد سر کھجاتے اور اپنی انا اور تھوک نگلتے ہوئے معافی مانگی تو انہوں نے عنبر سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے بھائی کو معاف کر دیا ہے۔ عنبر نے کہا ’ہاں‘ اس مختصر ’ہاں‘ سے عنبر نے عزت نفس کا اور میں نے عورت کے احترام کا سبق سیکھا۔

عنبر سے دوستی نے میری دیگر عورتوں سے دوستی آسان کر دی۔ آج بھی میری بہت سی مشرقی اور مغربی دوست ہیں جو صرف دوست ہیں ہمارا کوئی رومانوی تعلق نہیں ہے۔

اب ہم مشرق کے سماجی پہلو کی طرف آتے ہیں۔

آپ نے سعادت حسن منٹو کا ذکر کیا ہے۔ میں نے منٹو سے سیکھا کہ ہم اپنے سچ کا اس لیے برملا اظہار نہیں کر سکتے کیونکہ ہم ایک منافق معاشرے میں رہتے ہیں۔ منٹو نے ہمیں اپنے سچ کو قبول کرنا سکھایا۔

منٹو نے کہا ’میں شراب پیتا ہوں تو منہ میں الائچی نہیں ڈالتا اور ویشیا کے پاس جاتا ہوں تو مفلر لپیٹ کر نہیں جاتا۔‘

منٹو نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ ’ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے‘

منٹو نے ہمیں یہ راز بتایا کہ ویشیا ایک شریف عورت سے کہیں زیادہ باکردار ہو سکتی ہے کیونکہ وہ منافق نہیں ہوتی۔

انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سنجیدگی سے غور کریں کہ
شرافت کا معیار کیا ہے؟
اخلاقیات کی کسوٹی کیا ہے؟
کیا شرافت اور اخلاقیات کا واحد معیار مذہب ہے؟
کیا شرافت اور اخلاقیات کا کوئی انسانی معیار اور کسوٹی بھی ہے؟
میری نگاہ میں
دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان۔
محبت ایک فطری جذبہ ہے جو دو انسانوں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتا ہے۔

اور محبت رومانس اور جنس دو عاقل و بالغ انسانوں کا ذاتی معاملہ ہے۔ جب ہم ہر چیز کو مذہب کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو پھر جنس کو محبت ’پیار‘ اپنائیت ’خلوص اور دوستی کے اظہار کی بجائے گناہ و ثواب میں الجھا دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں تو دو محبوبوں کے لیے نام بھی نہیں ہیں۔ جیسے مغرب میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی اصطلاحیں ہیں ویسے ہی ہمارے ہمسایے مشرقی ملک ایران میں پسر دوست اور دختر دوست کے نام ہیں۔ ایسے نام جن سے محبت پیار اور دوستی کی روشنی پھوٹتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں زنا بالجبر اور زنا بالرضا کی اصطلاحیں مروج ہیں ایسی اصطلاحیں جن سے گناہ و ثواب اور جارحیت کے تاریک سائے اور شعلے نکلتے رہتے ہیں۔

ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں دو شریف اجنبیوں کو ایک مولانا صاحب نکاح پڑھوا کر میاں بیوی بنا دیتے ہیں اور وہ شریف شوہر عورت کے نازک جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے اور اپنے بے قابو جنسی جذبات پر عمل کرتے ہوئے پہلی رات ہی اس اجنبی شریف بیوی سے ہمبستری کرنا چاہتا ہے۔ میں جب پشاور کے زنانہ ہسپتال کے ایمرجینسی روم میں کام کیا کرتا تھا ان دنوں میں ایسی دلہنوں سے مل چکا ہوں جو شادی کی پہلی رات کی بالجبر مباشرت کے درد سے بے ہوش ہو گئی تھیں اور دلہن کے رشتہ دار خون میں لت پت عورت کو ہسپتال لے آئے تھے۔

میری نگاہ میں محبت ایک فطری اور سچا جذبہ ہے چاہے وہ شادی کے اندر ہو یا باہر۔ ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے۔

ساری دنیا میں دو محبوب اسی وقت پیار کو چھپاتے ہیں جب وہ ایک منافق معاشرے میں زندہ ہوں۔ انہیں خطرہ ہوتا ہے کہ اگر ان کے پیار کا برملا اظہار ہو گیا تو ظاہری مولوی جن کے چہرے پر داڑھی ہے اور خفیہ مولوی جن کے پیٹ میں داڑھی ہے ان کے پیار کو سنگسار کر دیں گے۔

جب لوگ گناہ و ثواب کی دلدل میں ڈوبنے لگتے ہیں تو انہیں معصوم اور محبت بھرے رشتوں میں بھی گناہ ہی نظر آتا ہے۔ پچھلے سال مجھے مغرب میں ایک مشرقی دانشور ملے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ میں ایڈرئینا کے ساتھ رہتا ہوں تو کہنے لگے۔ کیا آپ نے نہیں سنا کہ جب ایک مرد اور ایک عورت تنہا ہوں تو ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ میں نے کہا وہ میری بیٹی کی طرح ہے اور میں ایک انسان دوست ہونے کے ناتے کسی شیطان کو نہیں مانتا۔

مشرق میں محبت کو اکثر اوقات خلق خدا کے خوف سے چھپا کر رکھا جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ مشرق میں پیار کا کھل کر اظہار نہیں ہوتا۔

اگر مغرب میں سیماں دی بوا اور ژاں پال سارتر بغیر نکاح اور شادی کے ایک دوسرے سے ہفتوں ’مہینوں‘ سالوں بلکہ دہائیوں محبت کرتے رہے تو مشرق میں بھی امرتا پریتم اور امروز شادی اور نکاح سے بے نیاز ایک دوسرے سے عشق کرتے رہے۔

یہ بجا کہ ہمارے ہاں اب بھی غیر روایتی محبت بھرے رشتوں کے رول ماڈلز کی کمی ہے۔

ہما صاحبہ!

آپ نے جن شریف لڑکیوں اور سادہ لوح عورتوں کا ذکر کیا ہے جو کسی مرد کے عشق کے جال میں پھنس جاتی ہیں اور پھر ساری عمر پچھتاتی رہتی ہیں۔ میری نگاہ میں ہمیں ان سادہ لوح لڑکیوں اور شریف عورتوں کو بہادر اور دلیر بنانا ہے تا کہ وہ مرد سے برابری سے مل سکیں۔ اپنی محبت پر فخر کر سکیں اور اگر مرد انہیں بدنام کرنے کی کوشش کریں تو ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔

جس عورت میں خود اعتمادی ہو، خود داری ہو اور عزت نفس ہو اس کا کوئی مرد کسی حال میں استحصال نہیں کر سکتا۔

بچپن میں میرے نانا جان نے امرتسر کی ایک شادی کا واقعہ سنایا تھا جو مجھے آج تک یاد ہے۔ کہنے لگے وہ ایک بارات میں شامل ہوئے۔ جب نکاح ہونے لگا تو دولہا نے کہا کہ وہ دلہن دیکھنا چاہتا ہے۔ دلہن کے رشتہ داروں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا۔ شادی میں ہنگامہ ہو گیا۔ دلہن نے شور سنا تو پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔ لوگوں نے کہا دولہا نکاح سے پہلے دلہن دیکھنا چاہتا ہے لیکن دلہن کے رشتہ دار اجازت نہیں دے رہے۔ ان کی غیرت آڑے آ رہی ہے۔ دلہن نے کہا دولہا کو اندر بھیج دو میں اس سے خود ملنا چاہتی ہوں۔
دولہا زنانے میں آیا۔ دلہن اس سے ملی۔ دولہا خوش ہو گیا۔ اس نے واپس مردانے میں جا کر مولانا صاحب کے سامنے ہاں کر دی۔ جب مولانا صاحب زنانے میں دلہن کے پاس آئے تو اس نے انکار کر دیا۔

وہ دولہا ذلیل و خوار ہو کر بارات کے ساتھ واپس چلا گیا اور اس خوددار دلہن کی سارے شہر میں عزت بڑھ گئی اور بے شمار اچھے گھرانوں کے رشتے آنے شروع ہو گئے۔

یہ پاکستان بننے سے کئی سال پہلے کی بات ہے۔

میرے افسانے ’دو کشتیوں میں سوار‘ جو ’ہم سب‘ پر چھپ چکا ہے، کی ہیروئن فوزیہ کو جب اس کا محبوب اشوک رشتہ ختم ہونے بعد بدنام کرتا ہے اور وہ اسے ایک پارٹی میں مل جاتا ہے تو وہ اسے سب لوگوں کے سامنے بہادری اور دیدہ دلیری سے چیلنج کرتی ہے

”اشوک ادھر آؤ۔“ میں نے اسے سب کے سامنے بلایا۔ وہ ڈرا ڈرا سب کے قریب آ گیا۔ ”تم میں کچھ غیرت ہے یا نہیں۔ میں نے تمہاری عزت کی تمہیں مخلص انسان سمجھا اور تمہیں گھر لائی، میں ہر کسی کو اپنے گھر نہیں لاتی۔ اپنی بیٹی سے ملوایا اور تم بے غیرت انسان مجھے ذلیل کرتے رہے تمہیں ایک انیس سال کی سادہ لوح لڑکی کی ضرورت تھی، تمہیں ایک تیس سال کی تجربہ کار ماں ملی تو گھبرا گئے کیا یہی مردانگی ہے۔“

اشوک کی گھگھی بندھ گئی۔ ”فوزیہ مجھے معاف کردو، مجھ سے غلطی ہوئی۔“

”اس دفعہ تو معاف کر دیا لیکن آئندہ کسی عورت سے ایسا سلوک نہ کرنا، تم مرد لوگ عورتوں کی عزت کرنا کب سیکھو گے؟“

ہما صاحبہ! ہماری تاریخ اور ہمارا ادب ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ چاہے سسی پنوں کی کہانی ہو ’ہیر رانجھا کی کہاوت ہو یا یوسف زلیخا کا قصہ۔

ہر محبت قربانی مانگتی ہے۔
عابدہ پروین کی پراعتماد اور کھنک دار آواز میں مصطفیٰ زیدی فرماتے ہیں
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارا نہیں ملا

ہمیں اپنی بچیوں اور بیٹیوں کو سکھانا ہے کہ وہ کیسے محبت اور ہوس میں فرق کریں تا کہ وہ کسی مرد ’کسی محبوب اور کسی شوہر سے دھوکہ نہ کھائیں۔ جب مرد ان کی عزت کرنا چھوڑ دے تو وہ اسے چھوڑ دیں۔

جس دن مشرقی عورت نفسیاتی طور پر آزاد اور معاشی طور پر خود مختار ہو جائے گی اس دن وہ کسی بھی مرد سے تذلیل برداشت نہیں کرے گی۔

مغربی عورتوں نے ڈگری اور ڈرائیونگ لائسنس کے راستوں سے گزرتے ہوئے خودغرض ’آمر اور جابر مردوں سے آزادی حاصل کی ہے۔

ہما صاحبہ!
اگر مذہب اور شادی کی اخلاقیات ہیں تو محبت اور انسانیت کی بھی اخلاقیات ہیں۔ محبت اور انسانیت کی اخلاقیات میں جدائی کے بعد بھی دوسرے انسان کا احترام واجب ہے۔ افتی نسیم کا شعر ہے

ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
زباں پہ اچھے دنوں ہی کا ذائقہ رکھنا
ہم دوستی اور محبت کے راز اپنے والدین سے سیکھتے ہیں۔ وہ ہمارے رول ماڈل ہوتے ہیں
میرے افسانہ نگار دوست سعید انجم پاکستانی مردوں سے کہا کرتے تھے

’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا بیٹا شہزادہ بنے تو تمہیں اس کی والدہ سے ملکہ جیسا سلوک کرنا ہوگا۔ اگر تم اس سے کنیزوں جیسا سلوک کرو گے تو جان لو کہ کنیزوں کے بچے شہزادے نہیں بنا کرتے‘

ہماری ماؤں کو بھی چاہیے کہ بیٹوں اور بیٹیوں سے برابر کا سلوک کریں۔ بدقسمتی سے بہت سی مشرقی مائیں بیٹوں سے پہلے درجے کا اور بیٹیوں سے دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کرتی ہیں۔

مشرقی مرد اور عورت نے آقا اور کنیز۔ میاں اور بیوی بننا تو سیکھ لیا ہے لیکن ابھی برابر کے محبوب اور دوست بننا نہیں سیکھا۔

اتنا دلچسپ خط لکھنے اور مجھ پر اعتماد کرنے کا شکریہ۔

مخلص

خالد سہیل

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 391 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail