آصفہ بھٹو کی سیاسی اننگ کا آغاز اور بدلتا سیاسی منظر نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آصفہ بھٹو زرداری کی سیاسی اننگ کے آغاز کو اگر یہ کہا جائے کہ ”وہ آئی دیکھا اور فتح کر لیا“ تو غلط نہ ہوگا۔ جس طرح انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے 30 نومبر کے سیاسی پاور شو میں کارکنوں کا خون گرمایا وہاں سے صحیح معنوں میں ملتان سے روایتی مزاحمتی سیاست کا آغاز ہو گیا۔ وہی شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسا پراعتماد لہجہ۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو جیسا جوش اور ولولہ۔ شہید مرتضی بھٹو جیسی گھن گرج۔ پپپلز پارٹی کے 54 ویں یوم تاسیس پر بھٹو خاندان پہ ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے باوجود ایک بار پھر سیاست کے میدان کارزار میں ایک نیا بھٹو آصفہ بھٹو کی صورت میں میدان عمل میں اتر آیا ہے۔

میرے مطابق پی ڈی ایم کے کامیاب پاور شو کا سب سے زیادہ کریڈٹ سابق وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کو جاتا ہے کہ جنہوں نے وفاداری کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے کمال کر دیا۔ ایک بیٹا جلسہ گاہ کارکنوں کے ساتھ پہنچ کر گرفتار ہوا تو دوسرے نے کمانڈ سنبھال لی۔ دوسرا گرفتار ہوا تو تیسرا سامنے آ گیا۔

ملتان کے گھنٹہ گھر چوک پر حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ آج عوام نے حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے اور اب سیلیکٹڈ حکومت کو جانا ہو گا۔ آصفہ بھٹو نے مزید کہا کہ ہم گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے اور اگر ہمارے بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تو پیپلز پارٹی کی ہر عورت اپنی گرفتاری دینے اور اس عمل میں جدوجہد کے لیے تیار ہے۔

جب آصفہ بھٹو تقریر کر رہی تھیں تو جیالوں اور سیاسی قائدین کی آنکھیں اشکبار تھیں جو ان میں بے نظیر بھٹو شہید کی جھلک دیکھ رہے تھے اور شاید مستقبل کی ایک کامیاب لیڈر بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالات نے بی بی شہید کی سب سے چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب وہ چاہ کر بھی غیر سیاسی نہیں رہ سکتیں جب باپ کبھی عدالت اور کبھی ہسپتال کے چکر لگا رہا ہو اور پارٹی کا سربراہ بڑا بھائی بلاول بھٹو زرداری حکومت مخالف تحریک چلاتا کورونا وائرس کا شکار ہو جائے تو پھر پارٹی کا پرچم تھامے بے نظیر بھٹو کی لاڈلی بیٹی کو ہی کار زار سیاست میں آگے بڑھنا پڑا۔

آگرچہ 27 سالہ آصفہ بھٹو زرداری نے عملی پارلیمانی سیاست میں قدم نہیں رکھا مگر اس کی سیاسی فہم و بصیرت نے ابھی سے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے شاید اسی لیے بلاول بھٹو کے بیمار ہونے کے بعد آصفہ بھٹو کو ملتان میں پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر 30 نومبر کے روز پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کے لیے چنا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی بیٹی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نوازنے ایک ہی پلیٹ فارم سے جلسے سے خطاب کیا۔

ایک اور بھٹو آج ملتان سے اٹھ کر پاکستان کی سیاست کی راہنمائی کرنے کے لئے نکلا ہے جہاں ہر قدم پر خطرات ہی خطرات ہیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سب سے چھوٹی بیٹی جن کو وہ پیار سے ”Dynamite“ کہا کرتی تھیں۔ آصفہ بھٹو زرداری میں وہ ساری خصوصیات ہیں جن سے ان کی والدہ ایک عظیم رہنما بن گئیں۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے وہ پاکستان میں صحت رضاکار بن گئیں جو ملک میں پولیو کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے سفیر کی حیثیت سے میدان میں کود پڑی جہاں پولیو جیسی بیماری سے تمام والدین بہت خوفزدہ تھے۔

اپنی ’پیاری والدہ‘ کی طرح، آصفہ بھٹو میں بھی بھرپور قائدانہ صلاحیتوں موجود ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست میں کردار ادا کرنے کے لئے بیٹوں کے بجائے بے نظیر بھٹو کا انتخاب کیا تھا جب وہ انھیں 1972 میں شملہ لے گئے تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس نے پاک بھارت خطے میں امن کو یقینی بنایا تھا۔ بالکل اسی طرح تقریباً نصف صدی کے بعد چھوٹی سی آصفہ بھی 1993 میں اپنی والدہ کے ساتھ رہی تھی جب وہ آصف زرداری کے ساتھ واشنگٹن جانے والے ایک اہم مشن پر امریکہ گئی تھیں تاکہ کانگریس کو پاکستان کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کا سخت خیال ترک کرنے پر راضی کریں۔ وہ بے نظیر ہی تھیں جنہوں نے پاکستان کو پابندیوں سے اور وزیر اعظم نواز شریف کو امریکا کے وار سے بچایا۔ وہی تھیں جنھوں نے ’پاکستان کو طوفانوں اور آگ سے نکالا‘ جیسا کہ انڈیا ٹوڈے نے بیان کیا تھا۔

کسی کو آصفہ میں بے نظیر بھٹو کی جھلک نظر آتی ہے تو کوئی اسے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے باب کا اضافہ قرار دے رہا ہے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بلاول بھٹو کے عملی سیاست میں قدم رکھنے سے بہت پہلے آصفہ کے والد سابق صدر آصف علی زرداری نے بار بار اپنے بیٹے کی سیاست میں شمولیت اور آصفہ بھٹو کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں بات کی تھی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں آصفہ بھٹو پارٹی کے چیئرمین کی مدد کرتی رہی ہیں۔ زرداری صاحب کی حالیہ بیماری اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی کے بعد، جب بلاول بھٹو نے قریب قریب اپنے بل بوتے پر گلگت بلتستان انتخابات میں پی پی پی کی قیادت کرنے کا چیلنج قبول کیا۔

میرے لئے جس نے آصفہ بھٹو کو ایک چھوٹی عمر سے اور اب ایک پختہ بالغ عورت کی حیثیت سے ترقی کرتے ہوئے دیکھا ہے، جو سمجھدار فیصلے کرتے ہوئے، بہترین طرز عمل میں پی پی پی کارکنوں کو اپنے نانا اور ماں کی طرح آمریت سے انکار کے معاشرتی اور معاشی و سیاسی عزم کی نئی بلندیوں پر اٹھنے کی ترغیب دیتی رہی۔

پاکستان کی ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ملتان کے جلسہ عام میں آصفہ بھٹو زرداری کی آمد ایک اور بھٹو کی سیاست میں باضابطہ آغاز کے طور پر یہ ایک اہم واقعہ بن گیا۔ شاید یہی وجہ ہے تحریک انصاف کی قیادت میں بڑھتی ہوئی گھبراہٹ کی۔

آصفہ بھٹو زرداری وہ رہنما ہیں جو آنے والے برسوں میں پاکستان کی سیاست میں مرکزی کردار کے طور پہ ابھریں گی۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب میں کامیابی حاصل کرنے کا اہم ٹاسک بھی آصفہ بھٹو کے حصہ میں آ سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید حسن رضا نقوی

‎حسن نقوی تحقیقاتی صحافی کے طور پر متعدد بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ کے اداروں سے وابستہ رہے ہیں، سیاست، دہشت گردی، شدت پسندی، عسکریت پسند گروہ اور سکیورٹی معاملات ان کے خصوصی موضوعات ہیں، آج کل بطور پروڈیوسر ایک نجی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہیں

syed-hassan-raza-naqvi has 9 posts and counting.See all posts by syed-hassan-raza-naqvi