بوبو جان
بنیر کی پہاڑیوں پہ اپنی بکریاں چلاتی اچھلتی کودتی وہ خوب صورت بچی جانے کب جوان ہو گئی۔ گھر میں سب ہی کی چہیتی آج ڈھولک کی تھاپ پر پورے گاؤں کو الوداع کہ کے دوسرے گاؤں بیاہ دی گئی۔
اتنی کم عمری کی شادی کہ وہ اپنے بدن کی اٹھان کو محسوس بھی نا کرسکی اور ایک بچی کی ماں بن گئی۔ مامتا بھی ایک عجیب احساس ہے بلکہ نعمت خداوندی ہے کہ اس احساس کے بعد نا بے پرواہ نیندیں رہتی ہیں نا کوئی اور فکر بس دھیان رہتا ہے تو اس معصوم جان کا جو عمرکے کسی بھی حصے میں ماں بننے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ ہستی کھیلتی اپنی زندگی میں مگن یک دم کی بد قسمتی کے پنجے میں جکڑ گئی، ایک حادثے میں شوہر کا انتقال ہو گیا اس کی دنیا ابھی پنپ بھی نا پائی تھی مامتا ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی تھی کہ بیوگی کا دکھ نصیب ہوا۔ ایک پسماندہ گاؤں کے پست ذہن لوگ اس کے شوہر کی جائیداد کو گھر میں ہی رکھنے کے لئے اس کی شادی اس کے سب سے بڑے بوڑھے جیٹھ سے کروانے کی تیاریاں کرنے لگے۔
یہ بات بوبو کو برداشت نہی ہو رہی تھی اپنی تکلیف کو اپنے اندر رکھنا اس کی مجبوری تھی یہاں کوئی اس کا ہم درد اور غمگسار نہی تھا۔ والدین اور بھائی قبائلی لوگ ہونے کی وجہ سے اس کے گھریلو معاملات میں دخل دینے کا سوچ بھی نہی سکتے تھے کچھ مالی حالات میں بھی ان سے بہت نیچے تھے۔
بوبو اپنی ساس کے ساتھ سوتی تھی۔ اسے گھر کے ہر فرد سے خوف آتا تھا اپنے بوڑھے جیٹھ کی آنکھیں اسے اندر تک زخمی کردیتی تھیں ان آنکھوں کی شہوت اسے بغاوت پہ مجبور کررہی تھی۔ روز وہ کوشش کرتی کہ حالات سے سمجھوتہ کرلے لیکن اس کے اندر ایک معصوم روح یہ ظلم برداشت کرنے کو تیار نا ہوتی اس کے سامنے اس کی بیٹی تھی۔ اس نے سوچا کہ تم اس بھیانک ماحول کو تسلیم کر کے اپنی بیٹی کو بھی اسی طرح قربانی کا بکرا بناؤگی؟
ایک جنگ تھی جو اس کے اندر جاری تھی۔ بالآخر وہ ایک فیصلہ کرنے میں راضی ہو گئی۔
لاری اڈہ گاؤں کے آخری سرے پر تھا۔ اپنا اور بچی کا کچھ سامان ایک گھٹری میں باندھ کر منہ اندھیرے وہ لاری اڈے کی جانب نکل کھڑی ہوئی۔ خوف سے قدم من من بھر کے تھے کہیں پیچھے سے کسی نے نکلتے دیکھ لیا تو قتل کر دی جاتی، بچی کے منہ کو دبائے تیز تیز قدم اٹھائے بس اڈے پہنچ ہی گئی۔ چہرے پہ اڑی ہوائیاں اسے مشکوک بنا رہی تھی، ڈر تو اسے بھی بہت لگ رہا تھا وہ جلد از جلد اس گاؤں سے دور نکل جانا چاہتی تھی۔
بس میں اسے پہلی ہی سیٹ مل گئی برابر میں بچی کو بٹھا کر اپنے شل بازو سہلاتے کچھ دیر کے لئے آنکھیں موند لیں۔
لاہور پہنچ کر بس سے اترنے کے بعد اس کا دماغ شائیں شائیں کر رہا تھا، بچی نے بھی زورزور سے رونا شروع کر دیا بھوک اس کی برداشت سے باہر تھی۔
گلناز ان دونوں کو پورے راستے دیکھتی آئی تھی اس وقت موقع پا کر وہ ان کے پاس آئی اور بچی کو بسکٹ دے کر بوبو کو گلے لگایا اوراس کے معصوم چہرے کو بوسہ دیتے ہوئے بہت ہمدردی سے اس کا اس طرح اکیلے سفر کرنے پہ استفسار کرنے لگی، بوبو پہلے تو ہچکچائی اس نے بچپن سے ایک صاف ماحول میں پرورش پائی تھی اس کی سوچ بھی اتنی ہی صاف تھی وہ گلناز کو اپنا ہمدرد سمجھ کر سب کہ بیٹھی گلناز کوئی چھوٹی موٹی عورت نہ تھی اسے چہرے پڑھنے آتے تھے وہ جس جگہ سے تعلق رکھتی تھی وہاں کئی کلیاں آتی اور بدنما پھول بنا دی جاتی تھی وہ کیونکر اپنا شکار ہاتھ سے جانے دیتی بہلا پھسلا کر بوبو کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئی۔ بوبو سفر کی تھکان اور گھر والوں کے خوف سے پوری رات سو نہی سکی تھی گلناز نے رات کا کھانا کھانے کے لئے دیا۔ کھاتے ہی بوبو ایک گہری نیند میں چلی گئی، منہ اندھیرے آنکھ کھلی تو ایک عجیب سی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی کچھ ہل چل بھی تھی جیسے سب اپنی خواب گاہ کی جانب جانے کی تیاری کر رہی ہوں۔
اس وقت تو وہ یہ سب سمجھ نہی سکی لیکن صبح اٹھنے پہ اسے گلناز نے ناشتے کے لئے بلایا اور وہ جس جگہ تھی اس کی تفصیل بتائی ساتھ ہی تنبیہ بھی کردی کہ یہاں سے قدم باہرنکالنے کی کوشش مت کرنا۔
آہ۔ اپنے بدن کو جس تپش سے بچا کر لائی تھی اسے اپنے ہاتھوں ہی ایندھن میں جھونک دیا۔
وہ مجبوراً یہ سب حالات برداشت کرتی رہی لیکن چٹانی علاقے کی رہنے والی چٹان کی طرح حالات کے آگے ہار ماننے کو تیار نا تھی۔
آخرکار ایک اندھیری رات جب گلی تاریک ہونے لگی وہ اپنی بچی اور اپنے سامان کی پوٹلی لئے چھپتے چھپاتے ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ جو ٹرین مسافروں سے بھری دیکھی اس میں سوار ہو گئی کھچا کھچ بھرے ڈبے میں کہیں جگہ نظر نہی آئی تو دروازے کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
ٹرین نے سفر شروع کیا اور ٹکٹ ٹکٹ کی آواز آنے پہ چونک کے اوپر دیکھا ٹکٹ جیکر اسے گھور رہا تھا اپنی پوٹلی سے کچھ تڑے مڑے نوٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں دیے ٹکٹ چیکر نے کوئٹہ کا ٹکٹ ہاتھ میں تھمادیا۔
ٹرین ہچکولے کھاتی رکتے رکاتی اسے اس کی منزل کی جانب لئے جا رہی تھی۔ کبھی جو کانچ کی چوڑیوں سے کلائیاں بھری رہتی تھی آج اپنا وزن ڈھو رہی تھیں۔ اپنی قسمت سے آخر کو خود ہی الجھی تھی وہ تو حالات بھی اس کے حق میں کیونکر ہوتے۔
ٹرین کے رکتے ہی دھڑا دھڑ مسافر نیچے اترنے لگے راستے میں بیٹھی بوبو لوگوں کے پاؤں اورسامان کی ضربوں سے بچنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اترتے ہی چپ چاپ اسٹیشن سے باہرآ گئی، بچی کو کبھی بسکٹ کبھی پانی دے کر بہلا رکھا تھا چھاتیاں تو کب کی سوکھ چکی تھیں نہیں تو نچوڑ نچوڑ کے دودھ سے ہی اس کا شکم سیر کرد یتی۔ چلتے چلتے قدم شل ہونے لگے کبھی سڑک کنارے بیٹھ جاتی کبھی اٹھ کر پھر چلنے لگتی، کب دوپہر ٹھلی شام ہوئی کب شام ایک تاریک رات میں داخل ہوئی اسے خبر نہی ہوئی۔
عورت زاد کمزور بدن چلتے چلتے پوش علاقے کے مابین تھری اسٹار فور اسٹار ہوٹلوں کے سامنے سے گزر رہی تھی رات کا دوسرا پہر تھا چوبیس گھنٹے بھوکے رہنے سے قدم ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ ایسے میں چکرا کے گر پڑی اور ہوش کھو بیٹھی بچی اپنی ماں کی حالت سے ناواقف زور زور سے رونے لگی۔ تاریک رات ہلکی ہلکی سردی سڑک کے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں ہو کا عالم پیش کررہی تھیں۔
قریب کے ہوٹل کا ایک بیرا اپنی ڈیوٹی ختم کر کے بچا کچا کھانا ہاتھ میں لئے سائیکل پہ اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھا کہ راستے میں بچی کے رونے کی آواز پہ اس کے قدم رک گئے وہ آوازکی جانب بڑھا قریب جاکر منظر سمجھنے میں کچھ ہی لمحے لگے۔ عورت زات کو اس حال میں رات کے اس پہر یوں پڑا دیکھ کر پہلے تو سٹپٹایا پھر بچی کے رونے نے اسے ان کی مدد کرنے پہ مجبور کر دیا۔
گال تھپتھپا کر بوبو کو ہوش میں لانے میں کامیاب ہو گیا، وہ ہوش میں آئی تو گھبرا کر اپنی بچی کو ڈھونڈے لگی بچی کو وہیں پاکر اپنے سینے میں دبوچ لیا اور خوف زدہ نگاہوں سے اس بیرے کو دیکھنے لگی۔
مت گھبراؤ میں تمہاری مدد کروں گا میرے گھر میں بھی دو بچیاں ہیں تم میرے ساتھ چلو یہاں سڑک پہ کب تک پڑی رہو گی بیرے نے اسے سمجھایا۔ بوبو اپنی حالت سے باخوبی واقف تھی وقتی سہارا پا کر انکار نا کر سکی۔
بیرا اپنے گھر میں داخل ہوا تو دو بچیاں نیم روشنی میں ایک ہی بستر پہ دبک کر سو رہی تھیں۔ بتی جلا کر وہ اسے بیٹھنے کا کہ کر کھانا نکالنے چلا گیا۔ بوبو کو آس پاس نظر دوڑانے کا موقع ملا اسے دلی اطمینان سا محسوس ہوا کچھ اپنائیت سی تھی اس کمرے کے ماحول میں۔ بکھرا بکھرا سا کمرا بچوں کی چیزیں پھیلی پڑی تھیں دیوار کے پاس دو بستے رکھے تھے۔ بیرا کھانا لے آیا بوبو کھانا سامنے پاکر چاہتے ہوئے بھی اپنا ہاتھ نا روک پائی اور کھانا کھانے میں مشغول ہو گئی۔ بیرا اسے کھانا کھاتے دیکھتا رہا بوبو کے نقوش ایسے تھے کہ نگاہ ہٹائے نا ہٹتی تھی وہ دیکھتا ہی چلا گیا۔
آج سیر ہو کر کھانا کھایا ہے میں نے۔ بوبو بیرے کو بتانے کے لئے اس کی جانب نگاہ اٹھاتے ہوئے بولی۔ بیرا اس کی نظر پڑنے پہ جھینپ گیا۔ اسے بستر کا بتا کر خود برابر والے کمرے میں سونے چلا گیا جاتے ہوئے اسے دروازہ اندر سے بند کرنے کی تلقین کر گیا۔
بوبو اپنا بستر کر کے لیٹی تو دماغ میں اس کے ساتھ ہونے والے واقعات کی فلم سی چلنے لگی اپنی بچی کو اپنی آغوش میں دبوچے وہ اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے سونپ کر سو گئی۔
دن یونہی گزرنے لگے بیرے کی بچیاں بوبو کو اپنے گھر پاکر بہت خوش تھیں اب انہیں گھر کے کام نہیں کرنا پڑتے تھے اور کھانا بھی وقت پر ملتا تھا بوبو کے ساتھ اس بچی سے بھی لگاؤ ہو گیا تھا۔ بیرا بھی بے فکر ہو کر ہوٹل جاتا تھا۔ دونوں ہی کو جیسے ایک دوسرے کی ضرورت تھی اس ضرورت کو بیرے نے ایک دن ایک رشتے میں بدل دیا اور اب وہ بیرا اس بچی کا بابا بن چکا تھا۔
قسمت کی دھارا اسے سر سبز وشاداب پہاڑوں سے روکھی چٹانوں میں لے آئی تھی لیکن وہ خوش تھی اپنے رب کی شکر گزار اپنی غریبی پہ شاکر یہاں اسے عزت و پیار کرنے والا شوہرملا تھا۔
وقت کو گزرتے کہاں دیر لگتی ہے بابا کی بچیاں جوان ہوئی شادیاں ہوئی۔ بابا کی قسمت جاگی وہ کاروبار کرنے لگا پیسہ بہت نہیں تو اتنا تو تھا کہ وہ جھومر بندے اپنی بیوی کو بنا دے۔ بچیوں کو بھی شادی کے وقت عزت سے بیاہا تھا جو جیب نے اجازت دی، وہ دیا۔
بوبو اب اپنی بچی کی شادی کرنا چاہتی تھی سوات اور بنیر کی گوندھی مٹی سے بنی اس بچی میں خوب صورتی کوٹ کوٹ کر بھری تھی رشتوں کی کمی نا تھی قسمت کو کیا کہیں ایک ایسا رشتہ آیا جو بہت مال دار تھا لیکن عمر میں بیٹی سے کافی بڑا تھا، یتیم بچی عیش سے رہے گی یہ سوچ کر حامی بھر لی اور اس معصوم کو بیاہ دیا، کچھ ہی سال خوشی خوشی گزرے ہوں گے اس دوران دو بچیوں کی پیدائش ہوئی ابھی ان خوشیوں کو سمیٹ بھی نا پائی تھی کہ اس کے سہاگ کو ٹی بی جیسے مرض نے کھا لیا۔
جوان بیٹی کے بیوہ ہونے کا غم وہ برداشت نہی کر پائی۔ یہ روگ بوبو کو ذہنی مریض بنا گیا۔ جس کرب سے وہ خود گزری تھی اس کو اپنی بچی کے ساتھ ہوتا دیکھ کر برداشت نہ کر سکی۔
شروع شروع میں کسی نے اس کی بیماری کو اہمیت نا دی اور وقت کے ساتھ صحیح ہو جائے گی سوچتے رہے۔ لیکن یہ ان کا وہم تھا بوبو کو دورے پڑنے لگے وہ ایک دم چیخنے لگتی سب اسے پکڑ لیتے پھر علاج سے وہ کچھ بہتر ہوئی۔ اس دوران اس کی بیوہ بچی کے پھر رشتے آنے لگے وہ شادی کے نام سے ہی ڈر جاتی تھی لیکن آخر کب تک جوان بچی کو اس طرح زندگی گزارنے دیتی سو پھر سے شادی کرنا پڑی۔ اس دوران بابا نے بوبو کا بہت خیال رکھا بہت پیاردیا۔
لیکن انسان کو شاید صرف پیار ہی نہیں چاہیے ہوتا وہ جن لوگوں کے درمیان پیدا ہوتا ہے وہ لوگ اسے ہمیشہ چاہیے ہوتے ہیں یہ اس کی دماغی صحت کے لئے بہت ضروری ہوتے ہیں۔
بچی اپنی دوسری شادی سے ناخوش تھی وہ اپنی ماں کو یہ کیسے بتاتی کہ اس کا شوہر اس کی دو یتیم بچیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھتا ہے وہ خود دو سوتیلی بہنوں کے ساتھ رہی تھی لیکن کبھی اسے ایسے سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔
بات صرف بد سلوکی تک رہتی تو برداشت تھی لیکن ایک دن بوبو نے وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا جو وہ کبھی سوچ بھی نہی سکتی تھی اس کا داماد سوتیلی بچیوں کو جنسی ہراساں کر رہا تھا، بوبو کو دیکھتے ہی چلانے لگا اور اپنی حرکت سے مکر گیا۔
بوبو نے اپنی بچی کو بہت کہا کہ تم اپنی بچیاں دن میرے پاس چھوڑ دو لیکن وہ اپنے شوہر کے خلاف کسی بات کو ماننے کو تیار نہ تھی۔
عجیب سے حالات تھے یتیم بچیاں جوان ہو رہی تھیں ان کا سوتیلا باپ بیوی کے ہوتے ان بچیوں کو بھی نہی بخشتا تھا، بیوی کی آنکھوں پہ پردہ پڑا تھا بچیاں نانی کو کچھ بتاتیں بھی تو سوتیلے باپ کے خوف سے بات گول کرجاتی۔ بوبو سب جانتے ہوئے بھی اس سب کو روک نہی پائی اسے وہ گھٹن زدہ وقت یاد آتا جب وہ لاہور میں گلناز کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔ کیا فرق تھا اس محلے میں اور اس کی بیٹی کے گھر میں۔
بس اب نہیں اس نے بہت جھگڑا کیا اپنے داماد سے لیکن کوئی ثبوت نا ہونے پہ اسے ہی پاگل ٹھہرایا جانے لگا۔ بابا بھی اسے سمجھاتا کہ بچی کے گھر مت جایا کرو کیوں جاکر ان کے گھرکا ماحول خراب کرتی ہو۔ وہ بے چاری اپنا ایک گھر کھو چکی ہے تو کیوں اس کا دوسرا گھربرباد کرنا چاہتی ہے۔ بوبو اس پہ خوب روتی، بے بسی پہ بلکتی۔ قسمت کے آگے آخر ہارمان ہی لی اسے پھر دورے پڑنے لگے وہ گھر سے نکل کر سڑک پہ آ کر بیٹھ جاتی کوئی نہی جانتا تھا اسے کیا بیماری ہے۔ شام کو بابا گھر آتا تو بوبو کو گھر پہ نہ پاکر سڑکوں پہ ڈھونڈنے نکل جاتا۔ کبھی کسی سڑک پہ تو کبھی کسی سڑک سے ملتی۔ گھر لاتا منہ ہاتھ دھلا کر کھانا کھلاتا ساتھ ساتھ ڈانتا جاتا۔ کیوں نکلتی ہے تو گھر سے اب نہیں لاؤں گا۔ لیکن اگلے دن پھر وہی۔
ایک دن یونہی قبرستان کے کنارے بیٹھی تھی کہ برین ہیمرج ہو گیا آس پاس کے لوگوں نے بابا کو اطلاع دی بابا دوڑا دوڑا اس کی بیٹی کو لے کر بوبو کو لینے پہنچا بوبو بے ہوش تھی لیکن اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ ہسپتال جاتے جاتے وہ ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ ہسپتال پہنچ تو گئے لیکن ڈاکٹرز نے جواب دے دیا۔ بوبو کی کھلی آنکھوں میں اب زندگی کی روشنی نہی رہی تھی۔ وہ اس بے رحم دنیا کو چھوڑ کے جا چکی تھی۔ کوئی نہی جانتا کہ کیسے کیسے دکھ جھیلے تھے اس نے۔ کیا کیا بتایا۔ کیا کیا غم پی گئی جو غم پی گئی انہی غموں نے اسے اپنے اندر غرق کر لیا۔ ایک کہانی سو نئی کہانیوں کو جنم دے کر اپنے انجام کو پہنچی۔


