مجھے بیٹا چاہیے
فیس بک پہ ایک مقولہ پڑھا جو کہ سعادت حسن منٹو سے منسوب تھا، اب یہ انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن فقرے میں بہت گیرائی اور گہرائی تھی۔ مقولہ کچھ یوں ہے کہ ”بیٹی کا جو ہم پہلا حق کھا جاتے ہیں وہ اس کے پیدا ہونے کی خوشی ہے“
جب بھی کسی لڑکا لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو ان کے والدین کی دن رات یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی جلد سے جلد اولاد ہو جائے اور اٹھتے بیٹھتے ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بہو یا بیٹی جلد از جلد لڑکے کو جنم دے تاکہ لڑکے والوں کی نسل آگے چل سکے اور لڑکی والوں کی یہ دعا اس لیے ہوتی ہے کہ لڑکی کو کسی قسم کے طعنے نہ سننے پڑیں اپنے سسرال میں۔ کئی ساس اور سسر تو اپنی بہو سے فرمائش بھی کر دیتے ہیں کہ انہیں تو بیٹا ہی چاہیے، جیسے یہ اس لڑکی کے بس میں ہے کہ وہ لڑکے والا بٹن دبائے گی تو لڑکا پیدا ہو گا اور لڑکی والا دبایا تو لڑکی پیدا ہو گی۔
لڑکا پیدا ہونے کی خواہش شاید دنیا کے تمام والدین کو ہوتی ہے، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو کہ اولاد کی نعمت کو ترستے ہیں۔ وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کو اللہ تعالی نے بیٹے کی نعمت یا بیٹیوں کی رحمت یا دونوں سے نوازا۔
اب آتے ہیں اس موضوع کہ سماجی پہلو اور اس سے پیدا ہونے والے دباؤ کے اسباب کی طرف۔ کئی بچیوں کے ہاں جب پہلی اولاد، اولاد نرینہ پیدا ہو تو ان کو کسی حد تک قلبی و ذہنی سکون میسر ہو جاتا ہے لیکن جن کے ہاں جب پہلی اولاد، لڑکی ہو جائے تو لوگ، اعزہ و اقارب باقاعدہ تسلیاں دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد اس لڑکی پہ بیٹا پیدا کرنے کا دباؤ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اور اگر دوسری دفعہ بھی بیٹی پیدا ہو جائے تو ساسیں اپنے ”چاند سے بیٹے“ کے عقد ثانی کی خواہش دبے دبے یا واشگاف الفاظ میں شروع کر دیتی ہیں۔ اب اس لڑکی پہ بیٹا پیدا کرنے کا دباو مزید بڑھ جاتا ہے۔
اب اس لڑکی پہ وہی دباو ہے جو 1986 کے شارجہ کپ کے فائنل میں جاوید میانداد پہ تھا کہ ایک بال پہ چار سکور چاہیے تھے۔ کسی عورت کا چھکا لگتا ہے کسی کا نہیں۔ اب اگر تیسری بھی بیٹی پیدا ہو جائے تو اس لڑکی پہ مہر لگ جاتی ہے کہ یہ عورت صرف بیٹیاں ہی پیدا کرتی ہے۔ گھر میں سوگ کی وہ فضا ہوتی ہے جیسے کوئی پیدا نہ ہوا ہو خدانخواستہ گزر گیا ہو۔ کئی کم عقل خاندان تو اپنے بیٹے کی دوسری شادی کروا دیتے ہیں، کئی جاہل اپنی بہو کو طلاق دلوا دیتے ہیں اور کئی الٹی میٹم دے دیتے ہیں کہ اب کی بار بیٹا ہونا چاہیے ہر صورت۔
اب اگر تو عورت اور خاوند کی آپس میں انڈرسٹینڈنگ اچھی ہو تو وہ متمول اور پڑھے لکھے لوگ (In Vitro Fertilization) IVF ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر اپنی مرضی سے بچہ یا بچی کا خواب پورا کر لیتے ہیں۔ ابھی تو یہ طریقہ علاج مہنگا ہے۔ صرف امیر لوگ یہ طریقہ علاج استعمال کر رہے ہیں جب یہ طریقہ علاج عام ہو گا تو لڑکوں کی معاشرے میں تعداد بڑھ جائے گی اور وہ صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے جو کہ اس وقت چائنہ میں ہے۔ چائنہ کے بعض علاقوں میں لڑکے کل آبادی کا ستر فیصد ہو گئے ہیں اور لڑکیاں تیس فیصد۔ یوں فطرت نے جو توازن رکھا ہوا تھا اسے ہم بیٹے کی ضد میں بگاڑ رہے ہیں۔
جو خواتین IVF سے مسئلہ حل کر لیتی ہیں ان کی زندگی تو آسان ہو گئی۔ اب جو اتنا قیمتی طریقہ علاج افورڈ نہیں کر سکتیں وہ کیا کریں۔ گھٹ گھٹ کے مر جائیں۔ مجبور ہو کر وہ جعلی پیروں فقیروں کے پاس بھاگتی ہیں۔ اور ان حجروں میں اکثر و بیشتر جو ہوس و لالچ کی جو کہانیاں رقم ہوتی ہیں، اگر ان کے مردوں کو دکھا دی جائیں، تو مرد کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں اور بیٹے کی تمنا ہی چھوڑ دیں۔ کیوں ہم عورتوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ لڑکے ہی پیدا کریں۔ کیوں ہم خدا کی عطا اور رضا پہ راضی نہیں ہوتے۔
ایسی صورت میں اس عورت پہ کیا گزرتی ہو گی اس کا احساس عورت ذات (ساس) خود بھی نہیں کرتی۔ یہاں تک کہ وہ عورت خود بھی لڑکی کو پیدا نہیں کرنا چاہتی تاکہ کل کو وہ بچی اس کرب سے نہ گزرے۔ ہم اس معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں عورت کو اہمیت بیٹا پیدا کرنے پہ ملتی ہے اس کے علاوہ نہیں ملتی۔
اب ہم اس کے مذہبی پہلو کی طرف آتے ہیں۔ آپ ﷺ کی 11 شادیوں میں سے آٹھ بچے تھے۔ چار بیٹے اور چار بیٹیاں۔ چاروں بیٹے کم سنی میں ہی اللہ تعالی کو پیارے ہو گئے اور پیچھے رہ گئی چار بیٹیاں۔ جب اللہ تعالی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے بیٹیوں کا تحفہ رکھا ہوا تھا تو ہم کیوں منہ بسورتے ہیں جب اللہ تعالی ہمیں بیٹی کی رحمت سے نوازتا ہے۔ کیا ہمارے نبی پاک نے منہ بسورا۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی بیٹیوں کی رحمت سے نوازتا ہے۔ یہ سب افعال جو بیٹے کی خواہش کو لے کر کیے جاتے ہیں اور لڑکیوں کو مجبور کیا جاتا ہے بیٹے کے لئے، یہ سب غیر اسلامی اور غیر انسانی ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محسن انسانیت ﷺ نے فرمایا ”جس کسی نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں“ انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے رحمت عالم ﷺ نے فرمایا ”تو میں اور وہ اس طرح جنت میں داخل ہوں گے“ صحیح مسلم :
کیسے لوگ ہیں کہ خدا ان کو اپنے حبیب کی قربت کا موقع دے رہا ہے اور یہ لوگ منہ بنا رہے ہیں۔
بیٹیوں کی صحیح معنوں میں پرورش، اور تعلیم و تربیت کی جائے تو وہ فاطمہ جناح، اندراگاندھی، بے نظیر بھٹو، لیڈی ڈیانا، مارگریٹ تھیچر، مدر ٹریسا، لیڈی ڈیانا، نازیہ حسن، ثانیہ مرزا، ملالہ یوسفزئی، عاصمہ جہانگیر کی طرح ماں باپ کے سر کا تاج بنتی ہیں۔
سب ماں باپ بیٹے پیدا کرنے لگ جائیں تو اگلی نسل کیا لڑکے آپس میں میل جول کر کے پیدا کریں گے۔ وسیم الطاف صاحب ایک دانشور ہیں اور فیس بک پہ بہت لوگ ان کو پڑھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”چار لڑکیوں سے شادی کرنے کو ہر مرد تیار ہے لیکن اگر کسی کے گھر میں یکے بعد دیگرے چار لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو سب کو موت پڑ جاتی ہے“ یہ دوہرا معیار کیوں۔
مشہور کرکٹر شاہد آفریدی کی پانچ بیٹیاں ہیں۔ فلمسٹار شان کی چار بیٹیاں ہیں۔ مشہور سیاستدان جاوید ہاشمی کی چھ بیٹیاں ہیں۔ یہ سب مشہور بھی ہیں، صاحب ثروت بھی ہیں، وجاہت بھی خوب ہے لیکن ان تینوں اشخاص نے دوسری شادی نہیں کی اور اللہ کی رضا پر راضی ہوئے۔ ایسے لاکھوں اور لوگ ہیں جو اللہ کی رضا پر راضی ہیں اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں اور میں ایسے سب لوگوں کا تہ دل سے احترام کرتا ہوں۔
انڈیا کی ایک سٹیٹ راجستھان کے شہر راجسمند کے ایک گاؤں پیپلانتری میں جب بھی کوئی لڑکی پیدا ہوتی ہے تو گاؤں والے مل کر مون سون کے موسم میں اس بچی کے نام پر 111 پودے لگاتے ہیں۔ ہم ایسا کام کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمیں بچپن سے ہی انڈینز کو مات دینے کا درس ملا ہے۔ آئیے اک عہد کرتے ہیں کہ جس کو بھی اللہ پاک بیٹی کی رحمت سے نوازے وہ 200 پودے لگا کر استقبال کرے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ بچہ ہو یا بچی، وہ جس آنگن میں بھی اتریں وہ اپنے والدین کے لئے باعث مسرت و فخر ہوں، خوشحال، بھرپور اور صحت مند زندگی گزاریں۔ ایک اور عہد کریں کہ اب ہم بیٹیوں کا پہلا حق، جو ان کے پیدا ہونے کی خوشی ہے، ان کو ضرور دیں گے۔


