وہ دل کہاں سے لاؤں


مجھے ان کی باتوں کا مزا آ رہا تھا۔ وہ مجھے ایک ایسے کراچی کی کہانی سنا رہے تھے جو میں نے نہیں دیکھا تھا۔ جس کے بارے میں میں نے سنا بھی نہیں تھا۔ ان کی خاموشی کو توڑنے کے لیے میں نے سوال کیا تھا کہ انہوں نے کراچی کیوں چھوڑا تھا۔

وہ تھوڑی دیر اور خاموش رہے تھے۔ ”یہ بڑی ذاتی بات ہے، بہت پرسنل سوال ہے۔ تمہیں نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ میں نے تم سے نہیں پوچھا تھا تم خود ہی بولے تھے۔“

مجھے ایسا لگا تھا جیسے انہیں برا لگا ہو۔ میں نے فوراً ہی معذرت چاہی تھی۔ ”نہیں میرا مطلب آپ کا دل دکھانا نہیں ہے میں تو ایسے ہی پوچھ بیٹھا تھا۔ پرانے کراچی کی جو باتیں آپ سنا رہے ہیں اس کے حوالے سے میں پوچھ بیٹھا تا۔“ میں گڑبڑا کر وضاحت کرنا چاہ رہا تھا۔

وہ مسکرائے تھے دھیرے سے، دوبارہ سے ان کی بڑی بڑی سرخ آنکھوں میں ایک روشنی سی آ کر چلی گئی تھی۔ ”نہیں، کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو ویسے ہی کہہ رہا ہوں۔“ یہ کہہ کر انہوں نے ایک بڑا گھونٹ لیا تھا۔ تھوڑی خاموشی کے بعد خود ہی آہستہ سے بولے۔ ”اس دن میں پیلس سینما کے پاس کیفے فردوس میں بیٹھا چائے پی رہا تھا اور رحیم کا انتظار کر رہا تھا۔ کیفے فروس میں فردوس کا ہی مزا آ جاتا تھا۔

یہ کیفے تمام کا تمام ہرے رنگ کا تھا اور ہلکی روشنی میں ہم لوگ اکثر وہاں گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے۔ جلد ہی رحیم آ گیا تھا اور اس نے بتایا تھا کہ چلو صدر میں عیسائیوں کا جلوس نکلا ہوا ہے اور کہا تھا کہ چل کے دیکھنا چاہیے۔ عیسائی ہر سال یہ جلوس نکالتے تھے اور نہ جانے کتنے سال سے نکال رہے تھے۔ شاید تب سے جب سے عیسائی اس شہر میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس عیسائی لوگ مرد عورت، جوان بوڑھے، لڑکے لڑکیاں بینڈ کے ساتھ ساتھ سینٹ پیٹرک چرچ سے نکلتے تھے، ایمپریس مارکیٹ کے سامنے سے ہوتے ہوئے الفنسٹن اسٹریٹ سے ہوتے ہوئے بڑے کیتھڈرل پر جلوس کا خاتمہ ہوتا تھا۔

شہر کے دوسرے علاقوں سے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی صورت میں نئے اور خوب صورت لباس پہنے ہوئے لڑکے لڑکیاں جلوس میں شامل ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے کچھ سال تک تو یہ جلوس نکلتا رہا ہے پھر نکلنا بند ہو گیا تھا کیوں کہ کراچی کے نئے مسلمان شہریوں نے جلوس پر حملہ کر دیا تھا۔ کچھ لوگوں نے لڑکیوں کو چھیڑ دیا تھا۔

اس دن بھی وہ جلوس خوب تھا۔ الفنسٹن اسٹریٹ پر بینڈ بجاتے ہوئے لڑکے لڑکیاں گزر رہے تھے اور ان میں ہی وہ لڑکی تھی۔ سفید فراک میں ملبوس۔ ہلکی سی لپ اسٹک لگائے ہوئے۔ لانبا قد تھا اس کا اور چہرے پر ہلکا سا پسینہ آیا ہوا۔ میں نے اسے دیکھا تھا۔ اس پر پھر نظر پڑی تھی۔ دوبارہ اس پر نگاہ ڈالی تھی پھر اسے دیکھتا ہی چلا گیا تھا۔ وہ اتنی ہی خوب صورت تھی کہ میرے دل و دماغ پر چھا گئی تھی۔ رحیم کو بھی وہ اچھی لگی تھی مگر اتنی نہیں۔ آج جب میں پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو مجھے ابھی بھی وہ اتنی ہی خوب صورت نظر آتی ہے۔ سفید لباس میں ملبوس گورا رنگ اور چہرے پر ایسی کشش کہ چہرے پر سے نظر نہیں ہٹتی تھی۔

میرے خیال میں یہ کیمسٹری کا مسئلہ ہے۔ کسی کا اچھا لگنا اور کسی کا برا لگنے کا تعلق خوب صورتی سے نہیں ہے۔ یہ تو ایک طرح کی باہمی کیمسٹری کا مسئلہ ہے۔ کبھی خوب صورت سے خوب صورت چہرہ بھی اچھا نہیں لگتا ہے اور کبھی دوسروں کے لیے بدشکل صورت دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ اس کا نام تھا جوزفین ڈیرک۔ ماں اس کی گون تھی اور باپ ایک انگریز سپاہی جو کبھی کراچی میں آیا تھا اور جوزفین کی ماں سلوایا برگنزا سے شادی کی تھی۔ پاکستان بننے سے پہلے جوزفین اور اس کے دو بھائی چھوٹے ہی تھے کہ ولیم ڈیرک کو برما کے محاذ پر جانا پڑا تھا جہاں سے اس کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ جوزفین کی ماں ابھی بھی کسی ایسی صبح کا انتظار کر رہی تھی جب مسکراتا ہوا ولیم مینسفیلڈ اسٹریٹ کے کونے والی بلڈنگ پر اس فلیٹ میں داخل ہوگا۔

میں جلوس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا تھا۔ رحیم بھی میرے ساتھ تھا اور میری نگاہ مستقل جوزفین پر جمی ہوئی تھی۔ جلد ہی اسے بھی احساس ہو گیا تھا کہ میں اسے مسلسل تک رہا ہوں۔ جلوس کے ختم ہونے پر سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک گروپ کے ساتھ چلی گئی تھی لیکن جاتے جاتے اس نے ایک بھرپور نگاہ ڈال کر مجھے دیکھا تھا، بہت غور سے۔ مجھے ایسا لگا تھا جیسے کہہ رہی ہو کہ پھر ملیں گے۔

اس کے بعد میں اور رحیم ہوٹل ایکسلسیئر کے بار میں چلے گئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی برف میں لگی ہوئی وہ بیئر جیسے جسم سے لے کر روح کو تر کر گئی تھی۔ رحیم جلوس کے بارے میں اور جوزفین کے بارے میں بات کرتا رہا تھا۔ پھر ہم دونوں ہی تیز خوشبو اور سونف کا پان کھا کر گھر آ گئے تھے۔ خوشبو کے پان سے بیئر کی بدبو چھپ جاتی ہے۔ اس وقت کے بہار میں تاڑی پینا بہت غیرمعمولی بات نہیں تھی مگر کراچی میں بیئر پی کر گھر جانا کسی کو بھی قبول نہیں تھا۔

دوسرے دن یونیورسٹی میں، اس کے بعد دوستوں میں پھر شام کو گھر پر ایک عجیب قسم کی بے قراری کا شکار رہا تھا۔ کسی کام کو کرنے کا دل نہیں کرتا تھا، کسی بات میں جی نہیں لگتا تھا۔ نہ ریڈیو کے گانے اور نہ گراموفون کے ریکارڈ۔ ایک رحیم کو اندازہ تھا کہ کس قسم کی بے قراری کا شکار ہوں۔

اس شام کو میں نے اور رحیم نے میکلوڈ روڈ پر ڈاؤ میڈیکل کالج کے ہاسٹل کے پاس جو شاید چیلا رام بلڈنگ میں تھا ایک چھوٹے سے بار میں بیٹھ کر دو دو بوتل بیئر کی پی تھیں اور جہاں سے آہستہ آہستہ کراچی کی شام کی خنک ہوا میں ٹہلتے ہوئے پیلس ہوٹل گئے تھے۔ وہاں گھومتے ہوئے کمشنر کراچی کے گھر اور کراچی جمخانہ کے سامنے سے ہوتے ہوئے میٹروپول ہوٹل کے سامنے سے گزر کر پیلس سینما کے پوسٹروں کو دیکھتے ہوئے کیتھڈرل کے سامنے سے ہوتے ہوئے الفنسٹن اسٹریٹ پر جا نکلے تھے۔

یہ کہہ کر وہ رکے۔ میں نے دیکھا کہ ان کا گلاس خالی ہو چکا ہے۔ میں نے اشارے سے سروس کرنے والی لڑکی کو بلایا۔ فرسٹ کلاس کے لاؤنج میں بیٹھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ ہر چیز وافر ہے، جتنی بھی چاہے لے لو۔ زندگی فرسٹ کلاس میں بسر کرنے والوں کے لیے ممکن ہی نہیں ہے کہ سیکنڈ کلاس زندگی کا رخ کریں۔ میں نے یہ سبق آسانی سے سیکھ لیا تھا مگر سیکنڈ کلاس اور تھرڈ کلاس میں رہنے والے لوگ یہ نہیں سمجھتے ہیں۔ ویٹرس نے ان کا گلاس بھر دیا تھا۔

انہوں نے سگریٹ سلگائی، ایک زور کا کش بھرا، مسکرائے پھر بولنے لگے ”نہ جانے کیوں مرا دل کہہ رہا تھا کہ کراچی کی پرانی عیسائیوں کی آبادی کی طرف چلا جائے۔ شاید اس امید میں اس آسرے میں کہ جوزفین وہاں ہوگی، کہیں نظر آ جائے گی۔ میں اور رحیم کراچی کی شام کی ٹھنڈی ہوا میں آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے لکی اسٹار پہنچے۔ وہاں سے گون ہال کے سامنے سینٹ جوزف کالج کے پیچھے سے ہوتے ہوئے مینسفیلڈ اسٹریٹ سے گزرتے ہوئے برگنزا اسکوائر تک پہنچ گئے تھے۔ اب نہ جانے وہاں کیا ہوگا۔ اس وقت وہ جگہ بڑی خوب صورت تھی، ایک طرف سینٹ پیٹرک چرچ نظر آتا تھا اور دوسری جانب سپریم کورٹ کی خوب صورت بلڈنگ۔ ہم دونوں وہاں دیر تک ادھر ادھر گھومتے رہے تھے۔ کئی خوب صورت عیسائی لڑکیاں نظر آئی تھیں مگر وہ نہیں دکھائی دی تھی۔

جوزفین دل میں ایک کانٹے کی طرح اٹک گئی تھی۔ وقت گزرتا گیا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے، کئی مہینے گزر گئے اور میں دوبارہ سے عیسائیوں کے سالانہ پریڈ کے بارے میں سوچنے لگا تھا کہ ایک دن مجھے وہ مل گئی، ایک حادثے کی طرح۔ میں کیپٹل سینما سے نکل رہا تھا کہ میں نے اسے دیکھا تھا سیڑھی سے اترتے ہوئے۔ میں بے تحاشا بے قابو ہو کر اس کی طرف دوڑا تھا۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرائی، شاید اسے بھی میرا انتظار تھا۔ میں نے اسے کیپٹل سینما کے اوپر کیپٹل ریسٹورنٹ میں چائے کی دعوت دی تھی اور وہ میرے ساتھ چلی آئی تھی۔

ہم نے چائے اور پیٹیز کھائے تھے۔ وہ سینٹ جوزف کالج میں پڑھ رہی تھی۔ ہم دونوں کی دوستی یکایک ہوئی تھی جو بڑھ کر شدید پیار بن گئی۔ ہم روز ملتے تھے، کبھی پیلس سینما میں فلم دیکھتے تھے، ہوٹلوں میں چائے پیتے تھے اور کئی دفعہ میں اس کے گھر بھی گیا تھا۔ کراچی چھوٹا سا شہر تھا تھوڑے دنوں میں ہی یونیورسٹی میں اور میرے جاننے والوں کو میری اس بے تحاشا محبت کا پتا لگ گیا تھا۔ اب یہ محبت نہیں رہی تھی، میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ وہ بھی مجھ سے شادی پر تیار تھی مگر زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ میرے والد والدہ اور خاندان کسی کرسچن سے میری شادی کرنے کو تیار نہیں تھے۔ جوزفین کی ماں اور ماں کے رشتہ داروں کو جوزفین سے میری دوستی پسند نہیں تھی۔ زندگی یکایک مشکل ہو گئی تھی۔ اس کے خاندان کے بہت سارے کیتھولک لڑکے اس کے امیدوار تھے۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4