وہ دل کہاں سے لاؤں


وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے تھے جیسے کچھ سوچ رہے ہوں، پھر انہوں نے سوال کیا تھا ”تم نے سینٹ پیٹرک چرچ دیکھا ہے؟“

میں نے جواب دیا ”ضرور، پیٹرک اسکول کے سامنے سینٹ جوزف کالج کے ساتھ کئی دفعہ جیکب لائن اور ایبے سینا لائن سے گزرتے ہوئے وہاں نظر پڑی ہے۔“

”تم وہاں کبھی رات میں تو نہیں گئے ہو گے۔“
”نہیں، کبھی نہیں۔“ میں نے جواب دیا۔

کبھی جانا اور جب چودھویں کی رات کا چاند نکلا ہوا ہوتو اس چرچ پر نظر ڈالنا۔ اس وقت کے کراچی کا حسین ترین منظر تھا۔ نہ جانے اب کیسا ہوگا۔ میں نے سنا ہے بڑی بلڈنگیں بن گئی ہیں اور زیادہ تر کرسچن وہ جگہ چھوڑ کر آسٹریلیا اور امریکا چلے گئے ہیں۔ ایسی ہی ایک چاندنی رات تھی جب اس چرچ کی سیڑھیوں پر میں اور جوزفین بیٹھے ہوئے تھے اور زندگی کی مشکلات سے نمٹنے کے پلان بنا رہے تھے۔ مجھے یاد ہے اس دن اس نے اپنا پرس کھول کر ایک ہار مجھے دیا تھا۔ انہوں نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک پرس نکالا جس کے اندرونی خانے میں پرانے اسٹائل کا ایک سونے کا چھوٹا سا دل تھا۔ ”یہ دیکھ رہے ہو دل، یہ ایک ہار میں پرویا ہوا تھا۔ وہ ہار تو میں نے کھو دیا، مگر یہ دل ہر وقت میرے پاس ہوتا ہے۔“

میں نے اس دل کو اٹھا کر دیکھا۔ اس کے ایک طرف بہت ہی خوب صورت انداز سے انگلش کا حرف جے جے کھدا ہوا تھا۔ میں وہ دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ بولے ”جاوید جوزفین“ یہ مطلب ہے اس جے جے کا ۔ یہ جوزفین کا پہلا اور آخری تحفہ تھا۔ اس رات کے بعد سب کچھ بہت تیزی سے ہو گیا تھا۔ میرے والد نے مجھے بلا کر کہہ دیا تھا کہ جوزفین سے میری شادی نہیں ہو سکتی ہے۔ جوزفین بہت روئی تھی مگر اس کے بھائی، ماموں، ماں اور کیتھولک پادری کوئی بھی اس رشتے پر تیار نہیں تھے۔ میری یونیورسٹی کا آخری سال تھا اور رحیم کے مشورے سے میں کورٹ میرج کا پلان بنا ہی رہا تھا کہ وہ یکایک مر گئی۔ مجھے کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ کیا ہوا تھا نہ کوئی خط نہ کوئی پیغام۔

اس کی دوست لوریٹا مجھے کئی دنوں بعد ملی تھی اس بس نے اتنا بتایا تھا کہ جوزفین بہت پریشان تھی۔ اس کی ماں سے بھی جھگڑا ہوا تھا۔ اس کے ایک انکل کالج میں آئے تھے پھر کالج کی پرنسپل مس این میری جوزفین سے کچھ باتیں کرتی رہی تھیں۔ اس دن اس نے لوریٹا کو بتایا تھا کہ وہ شام کو مجھ سے ملے گی۔ لوریٹا نے ہی بتایا تھا کہ وہ بہت پریشان تھی بار بار گلے میں پڑے ہوئے کراس کو ہاتھ میں دبا دبا کر دعائیں مانگتی رہتی تھی۔ وہ فیصلہ کرنے سے قاصر تھی، وہ میرے ساتھ بھاگنا بھی چاہتی تھی اور اس کو اپنی ماں کا بھی خیال تھا۔ وہ مسلمان بننا چاہتی تھی مگر اس کو مجھ سے بھی پیار تھا۔ کشمکش کے دو پلڑوں کے درمیان وہ نہ جانے کیا فیصلہ کر بیٹھی تھی، میری زندگی کا وہ معمہ آج تک مجھے حیران کر رہا ہے۔

میں اس سے ملاقات کا انتظار ہی کرتا رہ گیا تھا، مگر وہ مجھ سے نہیں ملی تھی۔ دوسرے دن بھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ایک ہفتے بعد جب میں اسے تلاش کرتا ہوا مینفسیلڈ اسٹریٹ کے اس مکان میں پہنچنا تھا تو اس کی ماں نے بتایا تھا کہ جوزفین مر چکی ہے۔ اس کو مرے ہوئے بھی پانچ دن ہوچکے تھے۔ اسے ڈرگ روڈ کے عیسائیوں کے قبرستان میں دفن کیا جا چکا تھا۔ اس کی ماں مجھ سے بار بار پوچھتی رہی تھی۔ یہ کیسے ہوا، یہ کیسے ہوا اس کا غم میری سمجھ میں آ رہا تھا مگر میرے غم کی شدت کا اندازہ کوئی نہیں کر سکا تھا۔

سلویا برگنزا کا ہاتھ پکڑ کر میں بہت دیر تک روتا رہا تھا۔ پھر مجھے احساس ہو گیا تھا کہ سلویا کے علاوہ کسی کو بھی میری موجودگی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ میں بوجھل قدموں سے سیڑھیاں اتر کر اپنے گھر پہنچا تھا۔ پھر کراچی میں میرے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ یونیورسٹی سے فارغ ہو کر میں لندن چلا آیا تھا۔ میری ماں اور باپ میری بہن سے ملنے بہار گئے تھے۔ جہاں میرے والد کی موت ہو گئی تھی اور میری ماں پھر کراچی واپس گئی ہی نہیں تھی۔ میرا کام بڑھتا گیا، بڑھتا گیا اور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کئی انگلش اور اسکاٹش لڑکیاں زندگی میں آئیں مگر میں ان میں بھی جوزفین کو تلاش کرتا رہا۔ جوزفین نہیں ملی، وہ تو مر گئی تھی یہ دل مجھے دے کر ۔ میرے دل میں اتنا بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے، لگتا ہے جیسے ساری کائنات اس میں سما جائے گی۔ ”

انہوں نے اس دل کو بڑے زور سے اپنی مٹھی میں بھینچا ہوا تھا اور ان کی سرخ سرخ آنکھوں میں قطرے جھلملا رہے تھے۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد وہ پھر بولے ”کیا ہے کراچی میں میرے لیے۔ نہ ایکسلسیئر ہوٹل، نہ کیپٹل سینما، نہ کیفے فردوس نہ برگنزا اسکوائر اور نہ ہی جوزفین، میں کراچی کی پرانی تصویر کے ساتھ ایڈنبرا میں ایک دن کہیں کھو جاؤں گا۔“

سنگاپور ائرلائنز کی فلائٹ دبئی کے لیے تیار تھی۔ ہم دونوں ہی ساتھ جہاز پر بیٹھے تھے، دونوں ہی کھانا کھا کر سو گئے۔ دبئی پر جب آنکھ کھلی تو وہ کافی ہشاش بشاش تھے اس کے بعد ان سے پھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ابھی بھی جب کبھی ہیتھرو کے فرسٹ کلاس لاؤنج میں بیٹھتا ہوں تو وہ یاد آتے ہیں۔ جن کی جیب میں ایک پرس ہے، پرس میں سونے کا بنا ہوا ایک دل اور دل پر لکھا ہوا ہے جے جے۔ جاوید جوزفین۔ جو بچھڑ گئے اور اس دل کا شہر جو روٹھ کر کہیں چلا گیا۔

……………………O……………………

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4