پچاس سال کی عمر کے ٹھرکی بڈھے اور اس عمر میں صحت مند جنسی زندگی

چالیس سال کی عمر میں بندے کی جنسی زندگی پیٹرول سے سی این جی پر شفٹ ہو جاتی ہے۔ اور پچاس کی عمر میں دھکا سٹارٹ۔ اس فقرے پر میں نے اپنا ایک سابقہ کالم، نامردی اداکارہ میرا کی انگلش اور جدید میڈیکل سائنس، ختم کیا تھا۔ جس میں نوجوانی کے مسائل زیادہ ڈسکس ہوئے تھے۔ اب آ جاتے ہیں۔ چالیس پچاس سال کی عمر کے لوگوں کی طرف۔ جن کی جنسی زندگی تو ہوتی ہے سو ہوتی ہے۔ حسرتیں بے پناہ ہوتی ہیں

نوجوان اب ان کو بوڑھا سمجھتے ہیں۔ لیکن جب یہ نوجوانوں سے کہ رہے ہوں تم تو ابھی جوان آدمی ہو۔ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ تھوڑے سے بیوقوف بھی ہو۔ ایسا آدمی زیادہ کام کا ہوتا ہے۔ اور یہ چالیس پچاس سال کے یہ جوان ہی لوگ ٹھرکی لوگوں کی فہرست میں سب سے اونچا مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو باور کرایا ہوتا ہے کہ لڑکیاں میچور مردوں میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ لڑکوں کے معاملے میں انہوں نے کچھ ناقابل اشاعت محاورے بھی بنا رکھے ہوتے ہیں۔ گھر کی گھاس ایک تو کھانے کے لیے حالات سازگار نہیں رہے ہوتے دوسرا ان کا بھروسا اپنے دانتوں پر بھی زیادہ مضبوط نہیں ہوتا۔

باہر بھی یہ اس ڈر سے کچھ نہیں کرتے کہ کہیں کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے والا معاملہ نہ ہو جائے۔ صاحب ثروت دوستوں نے اگر سیکرٹری یا گرل فرینڈ رکھی بھی ہو تو اسے یہی کہیں گے شمیم میں کوئی بدکردار آدمی نہیں ہوں۔ صرف تم سے گپ شپ کرنا اچھا لگتا ہے۔ تم بہت اچھی کمپنی ہو۔ تھوڑی بہت چھیڑ چھاڑ کر بھی لیں۔ تو ایک خاص حد سے زیادہ اس لیے نہیں بڑھتے کہ کہیں اس عاشقی میں رہی سہی عزت سادات بھی نہ گنوا بیٹھیں۔

ان میں سے جن لوگوں کو اپنا سماجی مقام عزیز ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی کچھ حدود و قیود ضرور طے کر لی ہوتی ہیں۔ یہ فیملی، فیملی فرینڈز اور اپنے محلے میں اپنے امیج کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ اس حدود سے باہر ہی اپنا ذوق پورا کرتے ہیں۔ اور جس کو یہ ذوق کہتے ہیں۔ وہ قصائی والی نظر ہوتی ہے۔ یہ صرف گوشت ہی تولتے ہیں۔ حرام ہے جو ان کو عورت کے سینے یا کولہوں کے علاوہ اس کا باقی جسم نظر آ جائے۔ بلکہ کچھ دور اندیش دوست تو اگر کوئی ایسی خاتون دیکھ لیں۔ جس نے کھلے چاک اور کم لمبائی والی قمیض پہن رکھی ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر ہوا چلنے کا انتظار کرتے بھی پائے گے ہیں۔ لیکن عام طور پر ان کی اس امید کا حشر بھی موجودہ حکومت سے توقعات رکھنے سے کچھ مختلف نہیں ہوتا۔

ان میں سے کچھ ادب شناس لوگوں کو اگر ٹوک بھی دیا۔ جائے کہ قبلہ اس عمر میں تاڑنے کی کیا افادیت ہے۔ تو غالب کی باقی شاعری یاد ہو یا نہ ہو۔ جواز کے طور پر غالب کا یہ شعر ضرور سنا دیں گے۔ گو ہاتھوں میں نہیں جنبش آنکھوں میں تو دم ہے، رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے۔ سننے والے کو اس شعر کا جو قابل مذمت مفہوم یہ سمجھانا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ وہ اس خباثت سے آشنا نہ بھی ہو سکے۔ چپ ضرور ہو جاتا ہے۔ ادیب لوگوں کا تو ویسے بھی مسئلہ تھوڑا سا شدید ہوتا ہے۔

یہ بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت سے بھی مالا مال ہوتے ہیں۔ ہم نے بہت ساری ادبی محفلوں میں بیچاری سٹیج پر بیٹھی خواتین کو پاؤں تک ڈھانپنے کی کوشش کرتے بھی دیکھا ہے۔ یہ تو ہو گیا ٹھرک پن کا کچھ بیان اب سنجیدگی سے اس عمر کی جنسی ازدواجی زندگی، اس کی اہمیت اور مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس عمر میں اکثر مرد پیشہ وارانہ تفکرات اور خواتین گھریلو کام کاج اور بچوں کی وجہ سے لاپروا ہو جاتے ہیں۔ جس کا ایک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو ماں اور باپ تو میسر رہتے ہیں۔ لیکن یہ دو افراد ایک ہی گھر دو افراد الگ الگ زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔

ماں بیٹیوں کے ساتھ الگ کمرے میں بیٹھ کر وقت گزار رہی ہوتی ہے۔ اور باپ ٹی وی یا موبائل کے سہارے الگ اپنا وقت بتاتا ہے۔ یہ صورتحال کچھ زیادہ قابل تعریف نہیں۔ ماں باپ کا باہمی اشتراک، پیار ایک دوسرے کو بھی وقت دینا۔ یہ سب بچوں پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ اور اس سے گھر کا ماحول پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایسا ماحول میاں بیوی کے خوشگوار ازدواجی تعلقات کے بغیر ممکن نہیں۔

اب ظاہر ہے وہ جوانی کے دن یا جوش تو رہا نہیں۔ اس عمر کی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے کچھ بنیادی سنجیدہ تبدیلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مردوں کے لیے سب سے پہلی ذہن نشین کرنے والی چیز یہ ہے کہ بیوی آپ کی شریک حیات ہے کوئی جنسی اوزار نہیں۔ خاص کر اس عمر میں۔ اس کو آپ کے وقت توجہ اور پیار کی اب پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ باقی چیزیں اس کے لیے ثانوی ہیں۔

اپنے لائف سٹائل اور عادات میں معمولی تبدیلیاں لا کر ہی آپ اپنی زندگی کو رنگین بنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنے اردگرد کے ماحول کو سازگار بنائیں اور اپنی شخصیت کی طرف توجہ دیں۔ دوستوں میں جانے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ تو بیوی اس کی زیادہ حقدار ہے۔ جسم کو غیر ضروری بالوں سے پاک رکھیں۔ ناک، کان مونچھوں کے غیر ضروری بالوں سے باقاعدگی سے نجات حاصل کریں۔ بیڈ پر جانے سے پہلے نہا دھو کر (اور اگر سر پر بال ہیں تو شیمپو بھی ضرور کریں ) بیڈ پر جائیں۔ اور ہاں بیڈ پر جانے سے پہلے دانت برش کرنا مت بھولیں۔ پرائیویسی کو یقینی بنائیں۔

ابھی صرف ماحول سازگار ہوا ہے۔ شوگر، بلڈ پریشر یا ان کی بہت سی ادویات مردانہ طاقت میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔ اس بارے میں اپنے ڈاکٹر کو بلا جھجک اعتماد میں لیجیے۔ ہو سکتا ہے آپ کی کچھ ادویات تبدیل کر دے یا اضافی طور پر کچھ ملٹی وٹامن وغیرہ لکھ دے۔ چالیس کے بعد ویسے بھی ملٹی وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی ڈاکٹر کے مشورے اور اس کی مقرر کردہ مدت تک ہی لیں۔

کوشش کریں ذہنی تفکرات بیڈ روم میں لے کر نہ جائیں۔ پچاس فیصد تو صاف ستھرا ہوتے ہوئے پانی کے ساتھ ہی نالی میں چلی جائیں گی۔ اب خاتون خانہ کے بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی موبائل یا کتاب ہاتھ سے رکھ دیں۔ ٹی وی آف کر دیں۔ آپ بہت سالوں سے ٹاک شوز دیکھ رہے ہیں۔ اس سے ملکی حالات پر کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑا۔ اب بھی کچھ نہیں ہو گا۔ یہ مرحلہ میرا خیال ہے۔ زیادہ تر مردوں کے لیے مشکل ہو گا۔ لیکن بھائی میوہ کھانا ہے تو سیوا تو کرنی پڑے گی۔

اب اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ آپ اب بائیس سال کے نہیں رہے۔ آپ پچاس کے ہیں تو آپ کی شریک حیات بھی چالیس پینتالیس کی ہو چکی ہوں گی۔ گویا کہ دونوں طرف ہی ٹھنڈک ہے برابر بڑھی ہوئی۔ اب راکھ تسلی سے کریدیں گے تو بجھے شعلے آنچ دینے لگیں گے۔ اور اگر آگ نہیں بھی جلتی تو دھواں تو ضرور نکلے گا۔ اور یہی دھواں کچھ ہفتوں میں دہکتے شعلوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یقین رکھیں۔ اپنی نصف بہتر کو بھی اعتماد میں لیں۔

اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کا اشتراک میسر آ جائے گا۔ جو کام ایک آدمی نہیں کر سکتا۔ اس کو دو مل کر بہت آرام سے کر لیتے ہیں۔ ان ہدایات پر عمل کرنا یا معمول بنانا ہو سکتا ہے۔ شروع میں آپ کو مشکل لگے۔ لیکن بعد میں یہ سب شاید آپ کو بہت اچھا اور مفید لگے۔ یاد رکھیں صحت مند جنسی زندگی، صحت مند جسم اور صحت مند سوچ دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اضافی فائدہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی آپ پر بلاوجہ شک بھی نہیں کرے گی۔ ہو سکتا ہے آپ کو دونوں میں بظاہر ربط نظر نہ آئے۔ لیکن اس کی مثال ایسے ہی ہے۔ جیسے جو مرد گھر کی ضروریات مناسب طور پر پوری کرتا ہے۔ اس کی بیوی اس کے دوستوں پر خرچے گے۔ پیسوں کا حساب نہیں لیتی۔

اگر یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی کچھ دوستوں کو کچھ مسئلہ رہتا ہے۔ تو کوالیفائیڈ فزیشن یا سائیکاٹرسٹ سے رجوع ضرور کریں۔ ان کے پاس جنسی مسائل کا حل بغیر سائیڈ افیکٹ کے موجود ہے۔ بلا جھجک رابطہ کریں۔ گھر کی دال سے بھی اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو بندہ ہر کھانے والی دکان کی طرف للچائی نظروں اور لپلپاتی زبان کے ساتھ نہیں دیکھتا۔ آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ سماج میں بھی بہتری آ جائے گی۔ یہاں ہمارے بچوں نے رہنا ہیں۔ اگر بچے پیدا کیے ہیں۔ تو انہیں ایک صحت مند سماج بھی دے کر جائیے

نامردی، اداکارہ میرا کی انگلش اور جدید میڈیکل سائنس

Comments - User is solely responsible for his/her words