میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سن 2020 کا آخری سورج غروب ہو رہا تھا میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کس قدر سفاک سال تھا۔ جس نے کتنے ہی پیارے لوگوں کو ہم سے جدا کر دیا۔ کچھ بہت قریبی عزیز تھے جن کی کمی شاید کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ اور کچھ مشہور شخصیات جیسے ہمارے کامیڈین امان اللہ، کمپیئر طارق عزیز، فلم سٹار صبیحہ خانم، سیاستدان میر حاصل بزنجو، جسٹس وقار احمد سیٹھ، بھارتی سیاست دان جسونت سنگھ، فلمسٹار عرفان خان، رشی کپور، سوشانت سنگھ راجپوت اور ارجنٹائن کے فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا کو بھی کبھی بھلایا نہیں جا سکے گا۔ اس کے ساتھ کورونا کی وبا سے اپنی جان کی بازی ہارنے والے پوری دنیا کے لاکھوں لوگ الگ تھے۔

اس لیے بس یہی خواہش تھی کہ یہ ظالم برس، جس میں زندہ بچ جانا ہی کسی معجزے سے کم نہیں تھا، جلدی سے ختم ہو جائے۔ اور نئے سال میں ہم ایک اچھی امید کے ساتھ داخل ہوں کہ کورونا کہ ویکسین کے دستیاب ہونے کے بعد اس وبا سے نا صرف اموات میں خاطر خواہ کمی آ جائے گی۔ بلکہ ہم اس تنہائی اور قید کی صعوبت سے بھی بچ جائیں گے۔ جس سے ہمیں گزشتہ سال گزرنا پڑا تھا۔

مگر ان سب امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب نئے سال کے پہلی ہی شب میں ایک ایسا دلخراش واقعہ رونما ہو گیا، جس کے دکھ سے دل غم زدہ ہو گیا۔ جب بائیس سال کے ایک معصوم نوجوان کو اسلام آباد کی ایک بڑی شاہراہ پر پولیس کی طرف سے بے دردی سے گولیاں چلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مبینہ طور پر ایک ناکے پر رکا نہیں تھا جس کی سزا اسے سامنے سے گولیاں چلا کر دی گئی۔ اس کے بعد روایتی قسم کے مذمتی بیانات جاری کیے گئے۔ اس کے لواحقین کو انصاف ملنے کی جھوٹی تسلیاں دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بھی چل گیا۔

مگر میں اس نوجوان اسامہ کی پیاری تصویریں دیکھتا رہا جن کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس کی آنکھوں میں کتنے خواب تھے۔ مگر جب اس کی لاش کے ساتھ اس کے غمزدہ باپ کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان خوابوں کا خون ہوتا ہوا نظر آیا۔ اس منظر نے مجھے اسی طرح پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہونے والا نقیب اللہ محسود بھی یاد کروا دیا۔ جس کا بوڑھا باپ بھی اس کے لیے انصاف کی بھیک مانگتے مانگتے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اسے کس کس فورم سے انصاف کی یقین دہانی کروائی گئی تھی، مگر اس کا اور اسے جیسے بہت سے بے گناہ لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے والا راؤ انوار آج بھی پرسکون زندگی گزار رہا ہے۔

اسامہ کی اندوہ ناک موت سے مجھے ساہیوال میں ہونے والا وہ سانحہ بھی یاد آیا جس میں اسی طرح سفاکی کے ساتھ معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین پر پولیس کی طرف سے اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں۔ ان معصوم بچوں کے چہرے بھی آنکھوں کے سامنے آ گئے جو اب پتا نہیں کس حال میں ہوں گے؟ کیونکہ ان کے پیاروں کے قاتلوں کو بھی سزا نہیں ہو سکی تھی۔ کیونکہ ایک معروف عالم دین کی مدد سے مر جانے والوں کے لواحقین کو دیت کے قانون کے تحت قاتلوں کو معافی دینے پر قائل کر لیا گیا تھا۔ اور عدالت نے تمام ملزمان کو با عزت بری کر دیا تھا۔

اور وہ ماڈل ٹاؤن کا سانحہ جس میں پولیس کی فائرنگ سے 14 بے گناہ لوگوں کی قیمتی جانیں گئیں۔ مگر ان کے لواحقین بھی ابھی انصاف کے منتظر ہیں۔ اور جو حضرت ان قیمتی جانوں کی ذمہ داری اس وقت کی حکومت پر ڈالتے نہ تھکتے تھے، آج کہیں نظر نہیں آتے، جس سے یہی لگتا ہے کہ وہ اس وقت ان جانوں کو بھی اپنی سیاست کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اور وہ لوگ جو تب ہر وقت اس واقعہ پر واویلا مچاتے رہتے تھے، آج حکومت میں ہونے کے باوجود بھی اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکے۔

اس سارے کرب سے ہی دل افسردہ تھا کہ ایک اور الم ناک واقعہ وقوع پذیر ہو گیا جس نے اس سال کے آغاز کو مزید گہنا دیا بلوچستان کے علاقہ مچھ میں مسلح افراد کی طرف سے ہزارہ کمیونٹی کے کان کن مزدوروں کو اغواء کیا گیا اور ان کو بے دردی سے گولیاں مار دی گئیں۔ اب تک 11 مزدوروں کی اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بھی بہت بد قسمت ہیں کہ ان کا شیعہ مسلک سے ہونا ہی ان کے لیے وبال جان بن گیا ہے، کیونکہ اس وجہ سے ہی ان کی نسل کشی کب سے جاری ہے۔ مگر یہ ناکام ریاست جانتے ہوئے بھی ان کے کسی ایک بھی قاتل کو نہیں پکڑ سکی۔

اور پکڑے گی بھی کیسے؟ کیونکہ قاتل بھی تو ریاست کے جانے پہچانے ہیں۔ وہ قاتل کبھی اسلام آباد اور ساہیوال کی طرح وردی میں ہوتے ہیں اور کبھی وردی کے بغیر۔ اور ریاست ان کا محاسبہ کرنے کی بجائے ان کو حفاظت بھی فراہم کرتی ہے۔ وہ کسی کو بھی ماورائے عدالت قتل کر دیتے ہیں۔ یا کسی کو ایک مخصوص عقیدے کی بنیاد پر جان سے مار ڈالتے ہیں۔

اور ان کے بد قسمت لواحقین ان کے لہو کا سراغ ہی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ مگر وہ سراغ ملتا اس لیے نہیں کہ جس کے ہاتھوں پر یہ لہو موجود ہوتا ہے اس نے دستانے پہنے ہوئے ہیں۔ لہذا ان لواحقین کو چاہیے وہ اپنے پیاروں کا لہو تلاش کرنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ ان کا یہ درد کسی غریب کی آبرو کی مانند ہے جو کسی بھی شمار میں نہیں آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •