پاکستان اور امریکہ میں مختلف سماجی رویوں کا موازنہ اور سوشل میڈیا پر بحث

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

'رن مرید ہے، بیوی تھلے لگا ہے'

‘باپ بھائی کی عزت مٹی میں ملائے گی’

‘نوکری کرنے والی لڑکی گھر نہیں بسا سکتی’

یہ وہ چند جملے ہیں جو معمول میں سننے کو ملتے ہیں لیکن گذشتہ چند دنوں سے یہ باتیں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔

انڈیا اور امریکہ کے درمیان مختلف سماجی اور معاشرتی رویوں کے موازنے کا سوشل میڈیا پر چلنے والا ٹرینڈ پاکستان تک پہنچا تو یہاں بھی سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان اور امریکی جھنڈے استعمال کرتے ہوئے میم اور مزاحیہ پوسٹ بنانی شروع کر دیں۔

پاکستان اور امریکہ کے لوگوں کی سوچ کے مابین موازنہ کرنے والے بیشتر صارفین نے اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ پاکستانی سیدھی بات کو الٹے اور منفی انداز میں کیسے کرتے ہیں۔

اس ٹرینڈ میں مزاح کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشرے میں پائے جانے والی چند تلخ حقیقتوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں خصوصی طور پر خواتین کے لیے معاشرے میں پائی جانے والی مشکلات اور وہ باتیں ہیں جو انھیں کچھ منفی سوچ رکھنے والے لوگوں کی جانب سے سننی پڑتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس ٹرینڈ میں مردوں، نوکری پیشہ افراد، ذہنی صحت سمیت دیگر موضاعات بھی شامل ہیں۔

https://twitter.com/ZoyaBadar/status/1345654588184006658?s=20

یہ بھی پڑھیے

’یہ معاشرہ نہ طلاق یافتہ عورت کو قبول کرتا ہے، نہ اس کی دوبارہ شادی کو‘

پاکستان میں شادی عورت کی ’کامیابی‘ کا پیمانہ کیوں

’طلاق یافتہ عورت خوش کیوں نہیں رہ سکتی‘

طلاق کے بعد خود سے پیار کرنا سیکھا

بڑی عمر کی لڑکی سے شادی! ’یہ شادی تو ٹوٹ جائے گی‘

‘اینو لہور لے جاؤ (اسے لاہور لے جائیں)

ایک فیس بک صارف نے اس ٹرینڈ سے متعلق پوسٹ کیا کہ ’امریکہ میں شدید بیمار مریض کو اس وقت تک آئی سی یو میں رکھا جاتا ہے جب تک وہ صحیح طریقے سے ٹھیک نہ ہو جائے جبکہ پاکستان میں ایسی صورتحال میں ڈاکٹروں کی جانب سے مریض کو لاہور لے جانے اور وہاں سے علاج کروانے کی تجویز دے دی جاتی ہے جو چھوٹے شہروں میں میڈیکل سہولیات میں کمی اور فقدان کی عکاسی کرتا ہے۔‘

مزاحیہ انداز میں پوسٹ کرتے ہوئے قندیل زیدی لکھتی ہیں کہ ’امریکی جب کوئی مہنگا سوٹ نہیں خرید سکتے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اسے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے لیکن پاکستانی سیدھی بات کرنے کے بجائے کہیں گے کہ ‘بھائی ہم آگے سے ہو کر آتے ہیں’۔

کُڑی نو جِن پے گئے نے’ (لڑکی پر جن کا سایہ ہے)

ڈپریشن، دماغی اور نفسیاتی صحت ایک حقیقت ہے۔ لیکن پاکستان میں عام تاثر ہے کہ اس معاملے پر آگاہی کی ضرورت ہے کیوں کہ اس مسئلے پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ڈپریشن اور تناؤ کا شکار یا ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کو عموماً ارد گرد سے مدد ملنے کے بجائے اکثر عجیب باتیں سننے کو ملتی ہیں۔

اسی موضوع پر پوسٹ کرتے ہوئے مریم سرفراز لکھتی ہیں کہ ’امریکہ میں اگر یہ کہا جاتا ہے کہ اس لڑکی کی ذہنی صحت اچھی نہیں ہے تو پاکستانی لڑکی کو کہتے ہیں کہ ‘کڑی نو جن پے گئے نے’ یعنی اس پر جن کا سایہ ہے۔ جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم ذہنی صحت سے جڑے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتے۔‘

اسی بارے میں کنزہ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ میں ڈپریشن کے شکار مریض کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کسی ماہرِ نفسیات کے پاس جائیں جبکہ پاکستان میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈپریشن کچھ نہیں ہوتا، یہ صرف دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔‘

https://twitter.com/MichelleNaeem1/status/1345431840845418496?s=20

‘رن مرید ہے بیوی تھلے لگا ہے’

ہمارے ہاں بیوی کی زیادہ بات ماننے اور خیال رکھنے والے مردوں کو تنقیدی انداز میں ’رن مرید‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے کیونکہ معاشرے کے ایک طبقے میں پائے جانے والے تاثر کے مطابق خاوند بیوی سے درجے میں زیادہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس لیے اگر وہ اپنی بیوی کو اہمیت دیتے ہوئے اس کی بات مانتا یا سنتا ہے تو اسے رن مرید یا بیوی کا غلام کہا جاتا ہے۔

عمارہ رياض اسی معاشرتی سوچ کی بات کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ امریکہ میں والدین کہتے ہیں کہ ’ہمارا بیٹا اپنی بیوی کا بہت خیال رکھتا ہے جبکہ پاکستان میں والدین ہی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں ہمارا بیٹا رن مرید ہے، بیوی تھلے لگا ہے۔‘

معاشرے میں پائی جانے والی خواتین سے جڑی تلخ باتیں

جہاں سوشل میڈیا پر اس ٹرینڈ سے متعلق طنز و مزاح کیا جا رہا ہے وہیں پاکستانی معاشرے میں خواتین کی زندگی کے چند پہلوؤں کے حوالے سے پائی جانے والی منفی سوچ اور تلخ حقیقتوں پر بھی بات کی جا رہی ہے۔

لڑکی گوری ہونی چاہیے، میرے معصوم بیٹے کو اس تیز لڑکی نے پھنسا لیا، لڑکی ہاتھ سے نکل گئی ہے، اس کے چلن اچھے نہیں ہیں، ہم نے رشتے سے انکار کر دیا کیونکہ لڑکی کالی، موٹی اور چھوٹی ہے، لڑکی ہے لحاظ کر کے جانے دیا، ماڈرن لڑکی ہے ہمارے بیٹے کو لے کر الگ ہو جائے گی، وکیل بہو نہیں لے کر آنی کیونکہ وہ تو طلاقیں کرواتی رہے گی، رشتے والوں کے سامنے چائے تم ہی لے کر آنا۔

یہ باتیں بہت سی خواتین آئے روز سنتی ہیں۔

https://twitter.com/_safiamahmood/status/1345068333092265985?s=20

اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے بیشتر خواتین نے شکوہ کیا کہ ہمارے ہاں ’نوکری کرنے والی خاتون کو اچھا نہیں سمجھا جاتا‘ یا پھر ’غیر شادی شدہ لڑکی پر بھی تنقید کے تیر برسائے جاتے ہیں‘۔

اگر کوئی لڑکی پڑھی لکھی، خود کفیل، غیر شادی شدہ یا اپنے مستقبل پر زیادہ توجہ دینے والی ہو تو اس کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ’ہاتھوں سے نکل گئی ہے‘۔ آزاد خیال ہے یا پھر ’اس کی شادی اس لیے نہیں ہو رہی کیونکہ اس میں کوئی کمی ہوگی‘۔

دوسری جانب اس پر بھی بات ہو رہی ہے کہ ’جب کوئی لڑکی اپنی پسند کی شادی کے بندھن میں جڑنا چاہے تو اس کی کردار کشی کی جاتی ہے‘۔

اس کی مثال دیتے ہوئے بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ امریکی والدین خوش ہو کر بچوں کو پسند کی شادی کرنے دیتے ہیں جبکہ پاکستان میں لڑکے کے گھر والے ہی سب سے پہلے لڑکی پر تنقد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ ’اس چڑیل نے ہمارے بیٹے کو پھنسا لیا یا پھر اس نے ہمارے لڑکے پر جادو کروایا ہے۔‘

یہ تلخ رویے یہاں ختم نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس ٹرینڈ میں ان خواتین نے اظہار رائے کیا جنھیں شادی اور بچوں کے بعد عجیب باتیں سننی پڑتی ہیں۔

فیس بک صارف عائشہ لکھتی ہیں کہ امریکہ میں بچے کی پیدائش پر ماں کو مبارکباد دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ ’آپ کا بچہ بہت پیارا ہے‘ جبکہ پاکستان میں کئی لوگ اس پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بچے کا سر صحیح نہیں بنایا، اپنا دودھ نہیں پلا رہی، بچہ کا رنگ نہیں صاف، کپڑے زیادہ پہناو وغیرہ وغیرہ۔۔۔‘

بچے کی پیدائش کے موضوع پر ہی سحر بٹ لکھتی ہیں کہ ’سب کی طرف سے یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ فوری دوسرا بچہ بھی کر لو ایک ساتھ بڑے ہو جائیں گے۔‘

https://twitter.com/SMaimoona25/status/1346003983526072321?s=20

مزید پڑھیے

’سیاسی جماعتوں نے خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا‘

سپریم کورٹ: جیلوں میں خواتین قیدیوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کا حکم

کیا یہ رویے صرف پاکستانی معاشرے میں ہی پائے جاتے ہیں؟

جہاں ایک طرف پاکستان میں پائے جانے والے رویوں اور سوچ پر بات کی جا رہی ہیں وہیں دوسری جانب بہت سے صارفین کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ مخصوص اور منفی سوچ رکھنے والے لوگ دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔

https://twitter.com/AkhiMakhi_tw/status/1345674279652831232?s=20

یہاں یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ ہم اس ٹرینڈ کے ذریعے اپنے معاشرے کو برا ثابت کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ چند لوگوں کا عمل پورے معاشرے کا عکاس نہیں ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے علاوہ انڈیا میں چلنے والے اسی ٹرینڈ میں کافی حد تک ملی جلتی باتیں موجود ہیں۔

مغربی معاشرے پر بات کرتے ہوئے عائشہ اعجاز لکھتی ہیں کہ ’میں نے کئی برس مغربی ملک میں گزارے ہیں اور میں لوگوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ چوری، دھوکہ، جھوٹ، گھریلو تشدد اور اس قسم کی تمام باتیں یہاں بھی موجود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکہ یا دیگر ممالک ان منفی سوچوں اور اقدامات سے پاک ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے ملک کے منفی پہلوؤں کے علاوہ مثبت پہلوؤں کو بھی دیکھنا چاہیے جو مغربی ممالک میں موجود نہیں ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17357 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp