لکھنوٴ سے آئی نظمیں


زارا کی امی نہایت سگھڑ عورت کے طور پر پورے محلے میں مشہور تھیں۔ وہ محلے کی خواتین کو سلائی کڑھائی سکھانے، کروشیا اور سویٹر بننے کے علاوہ کھانوں کی ترکیبیں بھی سکھاتی رہتی تھیں۔ تسلیم کی امی بھی ان سے شب برات وغیرہ پر مختلف مٹھائیاں اور حلوے بنانے کی ترکیبیں پوچھا کرتیں۔ اہل بیت سے نہایت عقیدت رکھنے کی وجہ سے وہ تسلیم کی امی کو یوں بھی بہت پسند کرتی تھیں کہ وہ انہیں اپنے ساتھ مجالس میں لے کر جایا کرتی تھیں۔

زارا، تسلیم کی امی کو خالہ کہا کرتی تھی۔ خالہ کے سات بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ تسلیم سے چھوٹے دو بھائی تھے اور پانچ بھائی تسلیم سے بڑے، جب کہ شمائلہ باجی سب سے بڑی تھیں۔ شمائلہ باجی کے بعد حسن بھائی تھے۔ لمبے چوڑے، وجیہہ و شکیل حسن بھائی جو تسلیم کی حرکتوں سے سخت نالاں رہتے اور جب بھی موقع ملتا اسے دوچار ہاتھ جڑ دیتے تھے۔

یوں تو زارا کے والدین زارا کو محلے بھر میں کہیں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے مگر تسلیم کے گھر جانے کے لئے زارا پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ حسن بھائی کے ساتھ جانے پر نہ تو کبھی امی کو اعتراض ہوا نہ ابا کو۔ اسکول چونکہ تسلیم والوں کی گلی میں تھا، لہٰذا چھٹی کے وقت اگر حسن بھائی کا گزر وہاں سے ہوتا تو وہ تسلیم کے ساتھ زارا کو بھی کچھ دیر کے لیے اپنے گھر لے جاتے۔

حسن بھائی کا پیار جتانے کا طریقہ بہت دلچسپ تھا۔ دونوں ہاتھ سے زارا کو اٹھا کر اپنے سے اونچا کرتے، پھر بڑے پیار سے اسے زمین پر اتارتے۔ کبھی زارا کی لمبی چوٹیوں کو سراہتے۔ کبھی اس کے سفید کینوس شوز کی ڈوریاں کس دیتے کہ کہیں گر نہ جائے۔ کبھی اسے پنسل شارپ کر کے دیتے تو کبھی اس کی کاپیوں کے کور درست کر رہے ہوتے۔ بار بار اسے کھانا کھانے کے لیے اصرار کرتے۔ یوں تو کسی سے بھی کھانے پینے کی چیز لینا یا گھر سے باہر کھانا کھانا زارا کے لیے ممنوع تھا مگر تسلیم کے گھر کے لیے پابندی کچھ نرم تھی لہاذا جب بھی حسن بھائی نوالہ بنا کر اس کے سامنے کرتے وہ منہ کھول دیتی۔ مجال ہے جو ایسے میں کبھی تسلیم قریب بھی پھٹک جائے۔ جان نہ نکال دیتے حسن بھائی اس کی۔ خالہ یہ سب ماجرا دیکھ کر ہنستی رہتیں اور تسلیم کو برا بھلا کہنے میں حسن بھائی کا ساتھ دیتیں، جس نے اس معصوم بچی کو خوفزدہ کیا ہوا تھا۔

”اماں یہ گھوڑی باز نہیں آئے گی اس غریب کو تنگ کرنے سے۔“ حسن بھائی جو زارا کا ہاتھ پکڑے گھر میں داخل ہوئے تھے، غصے سے اماں سے بولے۔

”یہ لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے نہیں مانتے۔“ اماں بھی عاجز آ چکی تھیں، اسکول اور محلے سے تسلیم کی شکایتیں سن سن کر۔

پوچھیں تو سہی اس معصوم کے ساتھ کیا کیا ہے آج اس نے؟ حسن بھائی نے تسلیم کو گھورا۔

تسلیم جو آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ان کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی، جھینپتی ہوئی حسن بھائی کے پیچھے کو ہو کر کھڑی ہو گئی۔

”کھا گئی ہو گی ندیدی اس کا کھانا۔“ امی نے تیوری چڑھا کر تسلیم کی طرف دیکھا۔

”نہیں اماں، نئی سنو۔ آج جب میں اسکول گیا تو یہ گھوڑی اپنا اسکول کا کام زارا اور اس کے بھائی سے کروا رہی تھی۔ وہ حساب کر کے دے رہا تھا اور زارا اس کی اردو لکھ رہی تھیں اور یہ نواب زادی بن کر دونوں پر حکم چلا رہی تھی۔ میں آپ کو لکھ کے دے رہا ہوں۔ بلیک میلر بنے گی ایک دن۔ محلے لڑوائے گی اور اپنے گھر میں جوتے کھاتی پھرے گی اپنی ساس اور میاں سے۔“ حسن بھائی طیش میں آ کر بولنے لگے۔

زارا چلو گڑیا تم کو گھر چھوڑ کر آوٴں پہلے، پھر گھر آ کر خبر لیتا ہوں اس چڑیل کی۔ حسن بھائی نے زارا کا ہاتھ تھاما اور تسلیم کو غصیلی نظروں سے دیکھتے ہوئے باہر نکل آئے۔ راستے میں گجک والا نظر آیا تو حسن بھائی نے ایک گجک خریدی۔ آدھی توڑ کر زارا کو دی اور آدھی خود کھائی، پھر اپنے ہاتھ سے زارا کا منہ صاف کیا اور اس کے گھر کے دروازے پہ پہنچ کر دستک دی۔ چک ذرا سی ہٹی۔ زارا کی امی کے دریافت کرنے پر کہ کون ہے۔ حسن بھائی بولے ”خالہ میں ہوں حسن۔ تسلیم کا بڑا بھائی۔“

”ہاں بیٹا کہو کیا بات ہے؟“ امی چک کی اوٹ سے بولیں۔

”خالہ میں زارا کے ساتھ ہوں۔ آپ سے کہنا تھا کہ آپ تسلیم کی کسی بات کا یقین نہ کیا کریں۔ ایک نمبر کی جھوٹی ہے وہ۔ اس معصوم کا کھانا بھی کھا جاتی ہے اسکول میں اور اسے آپ کی دھمکی بھی دیتی ہے کہ جھوٹی سچی شکایتیں لگا کر پٹواوٴں گی۔ یہ معصوم نہ لڑ سکتی ہے نہ اس چڑیل کی باتوں کا جواب دے سکتی ہے تو میں التجا کرنے آیا تھا آپ سے کہ آپ برائے مہربانی تسلیم کی باتوں میں نہ آئیں۔

امی نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ شکریہ ادا کیا اور بولیں۔ ”بیٹا تمہاری امی کئی دن ہو گئے نہیں آئیں۔ ان کو میرا سلام کہنا اور آنے کے لیے بھی کہنا۔“

”جی ضرورخالہ، شکریہ۔“ حسن بھائی نے زارا کے گال تھپتھپائے جو گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی۔

تسلیم اپنی حرکتوں سے بھلا کہاں باز آتی۔ مگر اب ماسٹر صاحب، اماں اور حسن بھائی سب اس کی طرف سے چوکنے ہو گئے تھے۔ زارا اگر اسکول میں اداس دکھائی دیتی تو ماسٹر صاحب کو گمان گزرتا کہ ہو نہ ہو یہ کارستانی تسلیم کی ہے، اور تسلیم کے گھر میں تو زارا کی خاموشی کا مطلب ہی یہ لے لیا گیا تھا کہ بچی کو تسلیم کا ڈر بیٹھ گیا ہے۔

تسلیم کی امی کا تعلق لکھنوٴ سے تھا۔ وہ صرف دو رنگوں کے کپڑے پہنتی تھیں۔ محرم میں سیاہ اور باقی دنوں میں سفید۔ اور ان دونوں رنگوں میں وہ بے پناہ جچتی تھیں۔ شاعری سے گہرا شغف، محرم کے ادب آداب سے واقف، اپنی رکھ رکھاو ٴوالی شخصیت اور قرینے والی گفتگو کے باعث بہت بھلی معلوم ہوتیں۔ شرافت ان کے چہرے سے ٹپکتی تھی۔ پردے کی بڑی سخت یہاں تک کہ اگر زارا کے گھر جاتیں اور اگر زارا کے ابا گھر میں ہوتے تو برقعہ کے نقاب سے چہرے کو ڈھانپے رکھتیں تاآنکہ وہ بیٹھک میں نہ چلے جاتے۔

ہر چھوٹے بڑے مواقع پر زارا کی امی سے مشورہ ضروری خیال کرتیں۔ اور انہیں ”زارا کی امی“ کہہ کر مخاطب کرتیں گو کہ گھر میں زارا کے دو بھائی اور بھی تھے۔ مگر زارا ان کی لاڈلی تھی اور اس لاڈ میں انھیں اپنی بیٹی بھی نظر نہ آتی تھی بلکہ بقول ان کے، ان کی لڑکی میں کوئی گن نہ تھا۔ اس کے برعکس امی تسلیم کو ذرا مختلف لڑکی سمجھ کر اس سے شفقت کا برتاوٴ کیا کرتیں۔

زارا کو تسلیم واقعی ناپسند تھی مگر اسے ان کے گھر کا دلچسپ ماحول دیکھنا بہت پسند تھا۔ تسلیم والوں کے آنگن میں ایک درخت تھا۔ گھنا، سایہ دار درخت۔ اس درخت کی مضبوط شاخوں پہ پہلی بار زارا نے کالی چڑیا اور اس کا تنکوں سے بنا دو منزلہ مکان نما سڈول سا گھونسلہ دیکھا تھا جس کے ایک طرف اندر جانے کے لیے گول دروازہ تھا تو دوسری جانب نہایت نفاست سے بنی کھڑکی۔ چڑیا اور چڑے کی متواتر آمدورفت کو دیکھنا زارا کے لئے نہایت خوش کن تجربہ ہوا کرتا جو ہر بار ایک نئی امنگ اور ترنگ کے ساتھ چونچ میں تنکے دبائے اڑتے چلے آتے۔

پھر درخت کی شاخوں پر پھدک پھدک کر اپنے گھر کی تخلیق میں منہمک و مگن ہو کر ان تنکوں کو ترتیب سے رکھتے۔ پھر ساتھ ساتھ اڑ جاتے اور واپسی میں ہر بار ان کی چونچ میں نیا تنکا دبا ہوتا۔ گھر کو حسین تر بنانے کے اس تخلیقی و عشقیہ منظر کو زارا گھنٹوں دیکھ سکتی تھی۔ خالہ اس کی محویت پہ اس کے صدقے واری ہوتی رہتیں۔ اسے داون کے بجائے چارپائی کے درمیانی حصے پہ بٹھانے کی کوشش کرتیں۔ کبھی اس کی بلائیں لیتیں، کبھی اس کے کڑھائی کیے فراک کی تعریف کرتیں تو کبھی اس کے لمبے لمبے سیاہ بالوں اور چمکدار ذہین آنکھوں کی۔ اور ایسے لمحات میں، مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی

دو تین چھوٹے بچے چڑیا کے گھونسلے میں
چپ چاپ لگ رہے ہیں سینے سے اپنی ماں کے
چڑیا نے ممتا سے پھیلا کے دونوں بازو
اپنے پروں کے اندر بچوں کو ڈھنک لیا ہے
اس طرح روزمرہ کرتی ہے ماں حفاظت
سردی سے اور ہوا سے رکھتی ہے گرم ان کو

اسے سناتیں۔ یہ نظم سنتے ہوئے زارا کا جی شدت سے چاہتا کہ وہ چڑیا کا بچہ ہوتی اور اس خوبصورت گھونسلے میں رہتی جسے ہوا آہستہ آہستہ جھولا جھلاتی رہتی تھی۔ اور یہ چڑا اور چڑیا اس کے ماں باپ ہوتے اور اس کی چونچ میں محبت سے چوگا دانہ ڈالتے۔ خالہ کو بہت سی نظمیں یاد تھیں اور وہ انہیں بہت اچھی آواز میں کبھی تحت اللفظ پڑھتیں تو کبھی ذرا اونچی آواز میں گنگناتیں۔ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی ایک دو نظمیں اردو کی اسکول کی کتاب میں ہونے کی وجہ سے زارا کو بھی یاد تھیں، مگر خالہ نے اسے ان کی دیگر کئی نظمیں سنائیں۔ جنھیں وہ مبہوت ہو کر سنا کرتی تھی۔ مولوی صاحب کی ایک نظم، ”خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں، اجالا زمانے میں پھیلا رہی ہوں“ خالہ کو اس کے منہ سے سننا بہت اچھا لگتا تھا۔

”تمہیں تو نظم اچھی طرح یاد ہو گئی ہو گی پوری؟“ انہوں نے بڑی لگاوٹ سے زارا سے پوچھا۔ ”ذرا سناوٴ تو۔“

زارا نے جھٹ چارپائی سے اتر کر لہک لہک کر نظم سنانا شروع کی، اور جب وہ اس بند پر پہنچی کہ:
میں سب کاربہوار کے ساتھ آئی
میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی
میں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی
میں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں

تو خالہ نے بے ساختہ اس کا منہ چوم لیا۔ ”اب جب وہ تمہارے حسن بھیا آ جائیں تو سنانا ان کو، بہت خوش ہوں گے۔“

”اور یہ لو۔ تمہارا انعام۔“

انہوں نے اپنا پاندان کھسکایا اور بھیگے ہوئے تروتازہ پان کے خوشبودار پتے سے تھوڑا سا پتہ توڑا اور بولیں۔ ”ہم اس پر چونا نہیں لگائیں گے۔ بس ہلکا سا کتھا، یہ سونف، ذرا سی زعفران اور باریک سی کتری ہوئی چھالیہ۔ یہ لو۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4